مملکت کے شیروں پر حملے نہ کرنا، ورنہ دشمنوں کے کتے تمہیں کھا جائیں گے

 تحریر: سید زید زمان حامد

ہم جس فتنوں کے دور میں آج رہ رہے ہیں، اس کے بارے میں سیدی رسول اللہﷺ نے ہمیں پہلے ہی آگاہ فرما دیا تھا کہ جن کا مفہوم ہے کہ: ”علم اٹھا لیا جائے گا، جہالت عام ہوگی، فتنے علماءمیں سے اٹھیں گے، قرآن کے الفاظ رہ جائیں گے، ہدایت اٹھا لی جائے گی۔“بے شک سچ فرمایا سیدی رسول اللہﷺ نے!!!
ایک مثال دیتے ہیں۔اگر ایک فوجی اپنی پوسٹ پر کھڑا بے جگری سے دشمن سے جنگ کررہا ہو، قربانیاں دے رہا ہو، گولیوں کی بوچھاڑ کا سامنا کررہا ہو، اور عین اسی وقت کوئی شخص اس کے پیچھے کھڑے ہو کر اسے گالیاں دینے لگے، اس پر اعتراض کرنے لگے۔۔۔ تو پھر اگر وہ سپاہی پیچھے مڑ کر اس شخص کو ڈپٹ دے تو اسے آپ کیا کہیں گے؟؟؟
کل جب میں نے کچھ ٹویٹس کیں کہ جن میں خاص طور پر انہی لوگوں کو مخاطب کیا گیا تھا کہ جو دشمنوں کی زبان بولتے ہوئے ہم پر اور ہمارے مشن کے خلاف حملے کررہے ہیں، تو حسب توقع ایک مرتبہ پھر طوفان بدتمیزی کھڑا کردیا کہ آپ بداخلاق ہیں، خودنمائی چاہتے ہیں، اپنی تعریفیں کرتے رہتے ہیں۔
بابا اقبالؒ نے قرآن پاک کی آیات کا مفہوم بیان کرتے ہوئے بندہ مومن کی صفات کچھ اس طرح بیان کی ہیں۔
ہو حلقہءیاراں تو ابریشم کی طرح نرمرزم حق و باطل ہو تو فولاد ہے مومن
اللہ کا شکر و احسان ہے اور سیدی رسول اللہﷺ کے نعلین مبارک کا صدقہ کہ ہماری پوری زندگی کی ڈیوٹی اسی شعر کے مطابق ہے۔بے شک ہم سخت ہیں، مگر ہماری سختی اللہ اور اسکے رسولﷺ کے دشمنوں، مشرکوں، خوارج، غداروں، صیہونیوں، منافقین اور جاہلوں کے خلاف ہے، کہ جو اس پاک سرزمین کو دانستہ یا نادانستہ نقصان پہنچاتے ہیں۔ اگر ہم نے آپ پر کبھی سختی کی ہے تو اس کی ضرور ایک جائز وجہ ہوگی۔جس کو جاہل خودنمائی کہتے ہیں، وہ اللہ کے فضل و کرم کا اظہار ہے، کہ جس نے اپنے اس فقیر بندے کو اس بابرکت اور اہم ترین ڈیوٹی کیلئے چنا ہے۔ جاہلوں کو نہ ہماری ڈیوٹی کا اندازہ ہے، اور نہ ہی وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ان کی فضول بکواس سے پاکستان اور ہماری مسلح افواج کو کتنا نقصان پہنچ رہا ہے۔ لہذا ہم سے ڈپٹ کھاتے ہیں۔استغفراللہ! اگر اس فقیر کو خودنمائی کا شوق ہوتا تو آج حکومت میں ہوتا، کسی بڑی سیاسی جماعت میں ہوتا، کسی بڑے ٹی وی چینل پر ہوتا، مال و دولت جمع کرتا، اہل اقتدار کا طواف کرتا۔خودنمائی کے شوقین وقت کے فرعونوں کو للکارتے نہیں ہیں، ظالموں کے سامنے کلمہءحق بیان نہیں کرتے، جان ہتھیلی پر لے کر نہیں پھرتے۔
جیسے پہلے کہا کہ ہمارے معاشرے سے علم و ادب اٹھا لیا گیا ہے۔ 20-20 سال کے چوزے اپنے آپ کو ”امام وقت“ سمجھتے ہیں، جو منہ میں آیا بکتے ہیں، جو سامنے آیا اس کی داڑھی نوچتے ہیں۔ قصور ہمارے علماءکا بھی ہے، والدین کا بھی، تعلیمی نظام کا بھی اور امت کے دور زوال کا بھی۔ہمیں بار بار اپنے مشن کی اہمیت کا احساس اس لیے دلوانا پڑتا ہے کہ نادان اور جاہل اپنی حماقت میں بلاوجہ ہمارے لیے مشکلات کھڑی کررہے ہوتے ہیں۔ جاہلوں کو بات سمجھانے کیلئے اپنی ڈیوٹی کی اہمیت بتانی پڑتی ہے۔ ہماری بات سمجھنے کیلئے بھی اللہ کا فضل ہونا ضروری ہے۔
اگر کسی پر اللہ کا فضل نہ ہو، دلوں پر مہر لگی ہو، اندھا، گونگا اور بہرا ہو۔۔۔ تو پھر اگر سیدی رسول اللہﷺ بھی سامنے تشریف رکھیں تو انسان ابوجہل ہی نکلتا ہے۔اللہ سے اس کا فضل طلب کرو، فراست و حکمت طلب کرو، اس بات سے پناہ مانگو کہ تمہاری آنکھوں اور دلوں پر مہریں لگا دی جائیں۔ مہریں گستاخوں کو لگائی جاتی ہیں!
لوگ ہم پر اعتراض کرتے ہیں کہ آپ پاک فوج پر کیوں نکتہ چینی نہیں کرتے؟میرا دماغ خراب ہے کہ میں عین میدان جنگ میں، اپنے ان بھائیوں اور بیٹوں پر حملے کروں کہ جو میرے دفاع میں بے جگری سے لڑرہے ہیں؟ اگر میں بھی ایسا کروں تو مجھ میں اور ہندو مشرک میں کیا فرق رہ جائے گا؟یہ بات بہت اچھی طرح سمجھ لیں کہ پاک فوج پر یا اللہ اور اسکے رسولﷺ کا دشمن حملہ کرے گا، یا جاہل اور نادان احمق، کہ جس کو نہ زمانے کی نزاکت کا علم ہے، نہ حالات کی سنگینی کا ادراک۔یہ بھی سمجھ لیں کہ جو بھی پاک فوج کے خلاف بات کرے گا، ہمارے ہاتھوں بے عزت اور رسوا ہوگا۔بے شک پاک فوج میں بہت سی باتیں درست ہونے والی ہیں اور اس کیلئے ہم انہیں نصیحتیں کرتے رہتے ہیں۔ نہ وہ نصیحتیں سوشل میڈیا پر بتائی جائیں گی، نہ ہی آپ سے مشورہ کیا جائے گا، اور نہ ہی آپ کو ان رازوں میں شریک کیا جائے گا۔لہذا بہت ادب سے ہماری بات سنیں، عمل کریںیا پھر خاموش رہیں۔
اپنے دل سے پوچھیں، آج تک پاکستان کیلئے آپ نے کیا کیا ہے؟کتنا روپیہ اور پیسہ پاکستان پر قربان کیا ہے؟کتنا وقت آپ روز پاکستان کو دیتے ہیں؟کتنا خون اور جان کی قربانی آپ نے پاکستان کیلئے دی ہے؟
پاکستان کے کتنے دشمنوں کو آپ سے چوٹ پہنچی ہے؟ذرا غور کریں۔!
ہماری قوم کی اکثریت کا حال یہ ہے کہ یہ پاکستان کو دینے والے نہیں، پاکستان سے لینے والے ہیں۔ ساری زندگی خود غرضی اور خود فریبی میں گزارتے ہیں، حقوق مانگنے میں جلد، فرائض ادا کرنے میں صفر۔ نہ پاکستان کو کچھ دیا، نہ اس کی حفاظت کی، نہ اس کے دشمنوں کو تکلیف پہنچائی۔ صرف پاکستان پر بوجھ!
جب کہتے ہیں ناں کہ صرف ایک فیصد لوگ انکم ٹیکس ادا کرتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ ایک فیصد سے بھی کم اس پاک سرزمین کے دفاع میں اپنا سر ہتھیلی پر رکھے جان و مال و عزت قربان کرنے کیلئے ہر وقت حالت جنگ میں رہتے ہیں۔ باقی پوری قوم ان مجاہدوں کی کمائی کھاتی ہے، اور اکثریت تو صرف حرام کھاتی ہے۔زمانے کی نزاکت کو سمجھیں۔ پوری امت مسلمہ تباہی کے دہانے تک پہنچ چکی ہے۔ منگول حملے میں بھی امت مسلمہ کی اتنی تباہی نہیں ہوئی تھی کہ جتنی آج ہورہی ہے۔ اس کے باوجود اس قوم کے حکمرانوں، اس کی اشرافیہ، اس کے علمائ، اس کے نوجوان، اس کا میڈیا، اس قدر شرمناک حد تک غافل اور جا ہل ہے کہ اللہ کی پناہ۔
مصر کے شہید صدر مرسی نے کہا تھا ناں کہ اپنی مملکت کے شیروں پر حملے نہ کرنا، ورنہ دشمنوں کے کتے تمہیں کھا جائیں گے۔یہ بات انہوں نے پاکستان کے ان بیغیرتوں کیلئے کہی تھی کہ جو ہر وقت پاک فوج کا احتساب مانگتے رہتے ہیں، فوج پر تہمت و بہتان لگاتے رہتے ہیں۔
ہم اپنی ڈیوٹی کررہے ہیں، نہ آپ میں سے کسی کا کھاتے ہیں، نہ آپ میں سے کسی کا ہم پر احسان ہے، نہ ہم آپ پر اپنا احسان رکھتے ہیں۔ نہ ہم آپ سے کوئی عہدہ مانگتے ہیں، نہ پیسہ مانگتے ہیں، نہ عزت مانگتے ہیں، اور نہ ہی یہاں اپنے ”فین“ جمع کرنے بیٹھے ہیں۔سخت ڈیوٹی ہے، حکم پر کررہے ہیں۔
آخر میں یہ فقیر آپ سے ایک دفعہ پھر کہے گا، ہماری مخالفت نہ کریں، ہمارے کام پر اعتراض نہ کریں، ہماری کمر میں خنجر نہ گھونپیں۔۔۔ اگر آپ ایسا کریں گے تو اللہ اور اسکے رسولﷺ اور پاکستان کے دشمنوں میں شمار کیے جائیں گے، کہ ہماری ڈیوٹی اللہ کے فضل و کرم سے شروع ہوئی ہے، اور اسکے کرم سے ہی جاری ہے۔
یہ تکبر نہیں، اللہ کی نعمت کا اظہار ہے!!!٭٭٭٭

مرد آزاد اور مرد غلام

تحریر: سید زید زمان حامد

خادم الحرمین الشریفین حرم مکہ کی حدود میں عیسائی طوائفوں اور بدکارعورتوں کی رقص و سرور کی محفلیں سجارہے ہیں۔ امت پر پہلے بھی زوال اور ظلمت طاری ہوئی ہے، مگر جو فحاشی و بدکاری آج دیکھنے کو مل رہی ہے، اس پر تو شاید آسمان پھٹ جائے، یا زمین ان کو نگل لے۔کہاں ایک جانب پوری امت مسلمہ پر ملت کفر اس کر ٹوٹ کر حملہ آور ہورہی ہے کہ جیسے بھوکے دستر خوان پر گرتے ہیں، اور دوسری جانب خادم الحرمین الشریفین طوائفوں اور بدکاری عیسائی عورتوں کے جھرمٹ میں دین و شریعت کی دھجیاں اڑارہے ہیں۔
یااللہ رحم۔۔۔! یا اللہ کرم۔۔۔! یا اللہ استغفار۔۔۔!
دوسری جانب چین میں سنکیانگ کے کروڑوں مسلمانوں کی جان و مال و عزت کی دھجیاں اڑائی جارہی ہیں، مگر پوری ملت اس لیے خاموش ہے کہ نہ تواسے چینی مسلمانوں کی کوئی پرواہ ہے، اور دوسری طرف چین کی جانب سے ملنے والی دولت نے امت کی آنکھیں خیرہ کی ہوئی ہیں۔
انا للہ و انا الیہ راجعون۔………………..
تیسری جانب بھارتی صیہونی مشرک تو اب کھل کر 25 کروڑہندوستانی مسلمانوں کے بے دریغ قتل عام کیلئے تلواریں تیار، تیز اور تقسیم کررہے ہیں۔ ہندوستانی مسلمانوں کیلئے اب بہت دیر ہوگئی۔ حسین احمد مدنی اور ابوالکلام آزاد جیسے پلید حرام خوروں نے امت رسولﷺ کو فروخت کردیا۔اب کیا ہوسکتا ہے جب چڑیاں چگ گئیں کھیت۔
امت کے زوال اوراس افراتفری کے دور میں اب ترکی بھی بری طرح دشمنوں کے گھیرے میں آچکا ہے۔ صدر اردگان کی حکومت اور پارٹی خود اندرونی طور پر ٹوٹ پھوٹ کا شکارہورہی ہے۔ اس داخلی انتشار کا سب سے بڑا فائدہ اسرائیلی، خوارج اور ترکی کے دشمن اٹھائیں گے۔ مغرب میں امت مسلمہ کی چٹان پر مسلسل ضربیں لگائیں جارہی ہیں۔
عرب دنیا اب مکمل طور پر تباہ ہوچکی ہے۔ ”تباہی ہے عربوں کیلئے، تباہی ہے عربوں کیلئے۔“
”اور تم میں کوئی خیر باقی نہیں رہے گی، کہ جب شام والے تباہ و برباد ہوجائیں گے۔“”تم دیکھو گے کہ اونٹوں کو چرانے والے اونچی اونچی عمارتیں بنائیں گے، اور ان میں موٹاپا عام ہوجائے گا۔“

امت مسلمہ جس نازک ترین اورتاریک ترین دور سے گزرہی ہے، اس میں صرف یہ پاک سرزمین، یہ مدینہ ثانی پاکستان، ہی اب امت کی واحد اور آخری امید باقی بچی ہے۔ مگر پاکستان کی قیادت، اشرافیہ اور عوام جس قدر غفلت اور گمراہی میں غرق ہیں، اس سے بڑی بدنصیبی نہ تو پاکستانیوں کی ہوسکتی ہے اور نہ ہی امت مسلمہ کی۔یہ پاکستان جو اللہ کے رازوں میں سے ایک راز ہے، کہ جس سے لیا جانا تھا کام دنیا کی امامت کا، کہ جس کے بارے میں سیدی رسول اللہﷺ نے اپنی سندھ، ہند اور خراسان والی احادیث میں غزوہ ہند کی بشارت دی ہے، وہ آج تک اس روحانی قیادت کا منتظر ہے کہ جو نگاہ بلند بھی ہو، سخن دلنواز بھی اور جاں پرسوز بھی۔اللہ اپنا کام تو اس پاکستان سے لے کر رہے گا۔ غزوہ ہند بھی ہوگا، امت مسلمہ کی قیادت بھی ہوگی، مسلم دنیا کا اتحاد بھی ہوگا اور بیت المقدس شریف بھی آزاد کرایا جائے گا۔مگر یہ خوش نصیبیاں نہ تواس جمہوری غلاظت کے نصیب میں ہیں، نہ اس کے پجاریوں کے۔ یہ بدنصیب لوگ اللہ کے فضل کوچاہتے ہی نہیں!
پاکستان کا ایک شاندار مستقبل ہے۔ لیکن وہ شاندار مستقبل خوش نصیب ترین لوگوں کے نصیب کا ہے، کہ جنہوں نے اللہ کوچنا ہوگا اور پھر اللہ انہیں چنے گا۔ ان کے آنے میں ابھی تھوڑا وقت ہے۔ اس وقت تک اس قوم کو سخت ترین آزمائشوں، سزاﺅں اور مشکلات سے گزرنا ہوگا۔
اگر پاکستانی قوم خود توبہ نہیں کرے گی، تو اللہ اسے دشمنوں کی تلواروں کے ذریعے توبہ کرنے پر مجبورکرے گا۔ مودی جیسے درندے کو کسی وجہ سے فطرت بھارت پر حکمران لے کر آئی ہے۔ ہندوستان کے مسلمان، پاکستان کے مسلمانوں کو بیدار کرنے کیلئے قربان کیے جائیں گے۔ 
مسلماں کو مسلماں کردیا طوفان ’مشرک‘ نے۔۔۔!

آہ ! اردو۔۔۔ ہوتا ہے دل سیپارہ

سید زید زمان حامد

آپ کو معلوم ہے ناں کہ اردو زبان کو شروع کرنے کا حکم حضرت نظام الدین اولیائؒ نے حضرت امیر خسروؒ کو دیا تھا۔حضرت نظام الدین اولیائؒ کس دور میں تھے؟سن 1300 ءکے آس پاس، یعنی اردو کو شروع ہوئے تقریباً 750 سال ہوچکے ہیں۔تاریخی طور پر ہمیں یہ معلوم ہے کہ ٹیپو سلطان نے بھی اردو زبان کی سرپرستی کی تھی۔ مرزا دبیر اور مرزا انیس کے مرثیے 1750 ءکے آس پاس کے ہیں، کہ جو آج بھی محرم کی مجلسوں میں پڑھے جاتے ہیں۔انگریزوں نے 1801 ءمیں فورٹ ولیم کالج میں ”اردو کالج“ قائم کیا تھا۔تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ اردو اپنے آغاز سے لیکر 1857 ءتک تقریباً 550 سال پرانی اور مستند زبان بن چکی تھی، کہ جس میں اعلیٰ ترین کلام، تاریخ، شاعری اور ادب اپنی معراج کو پہنچ چکا تھا۔ مرزا غالب اور میر تقی میر کا دور بھی 1857 ءکے آس پاس کا ہی ہے۔1300ءسے لیکر 1857 ءتک اردو زبان میں پوری تاریخ اسلام، قرآن و حدیث و تفسیر، اور دیگر معاشرتی علوم مسلمانوں کو پڑھائے جاتے رہے۔ یقیناً ہزاروں لاکھوں کتابیں ان 550 سالوں میں لکھی گئی ہونگی۔
ذرا غور کریں۔ یہ لاکھوں کتابیں آج کہاں غائب ہوگئیں۔۔۔؟
یہ ہماری تاریخ کا ایک ایسا دردناک پہلو ہے کہ جس کی تاریخ ہی مٹا دی گئی ہے۔ 1857 ءکی جنگ آزادی کے بعد انگریزوں نے لاکھوں کی تعداد میں اسلامی کتب کہ جس میں عربی، فارسی اور اردو کی لاکھوں قیمتی، ہاتھ سے لکھی ہوئی دستاویزات تھیں، کو جلا کر راکھ کردیا تھا۔آج پوری دنیا میں آپ کو 1857 ءکے بعد کی چھپی ہوئی تو اردو کی کچھ کتابیں تو مل جاتی ہیں، مگر 1857 ءسے پہلے 550 سال کی تاریخ میں ہاتھ سے لکھی گئی اردو کی کوئی کتاب ہی نہیں ملتی۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ کتابوں کو آسمان کھا جائے، یا زمین نگل جائے۔جنگ آزادی کے بعد انگریزوں نے مسلمانوں سے جو انتقام لیا اس میں پوری اسلامی تہذیب کو ہی جلا کر راکھ کردیا گیا۔ ہزاروں علماءاور اشرافیہ کو قتل کیا گیا، مدرسے تباہ کیے گئے، لاکھوں کتابیں جلائیں گئیں اور اس ظلم کی تاریخ لکھنے پر بھی پابندی لگادی گئی۔انگریزوں کے دور میں تو پورے ہندوستان میں کسی کی مجال نہیں تھی کہ مسلمانوں کے خلاف ہونیوالے ظلم کو تحریر کرکے کوئی کتاب لکھ سکتا۔ جنہوں نے اپنی آنکھوں سے اس ظلم کو ہوتے دیکھا، وہ چند سالوں میں اس دنیا سے گزر گئے۔ آنے والی نسلوں نے صرف انگریزوں کی غلامی دیکھی۔علامہ اقبالؒ اسی بات پر آنسو بہاتے تھے کہ:
وہ علم کے موتی وہ کتابیں اپنے آباءکیجو دیکھیں ان کو یورپ میں تو دل ہوتا ہے سیپارہ
عیسائیوں نے اندلسیہ میں مسلمانوں کی لکھی سائنس کی کتب تو ترجمہ کرلیں، مگر ہندوستان میں اردو زبان کو مکمل تباہ کردیا۔ہوسکتا ہے کہ اردو زبان کی ہاتھ سے لکھی ہوئی پرانی کتب کسی کتب خانے میں، عجائب گھر میں یا کسی کی ذاتی لائبریری میں ایک آدھ رکھی ہو۔۔۔ مگر انتہائی تلاش کے باوجود مجھے ذاتی طور پر 1857ءسے پہلے لکھی گئی اردو کی کوئی کتاب آج تک نہیں ملی۔اور قوم کو اس ظلم کا احساس ہی نہیں ہے۔
آج اردو زبان اس ظلم کے باوجود بھی عالم اسلام کی دوسری بڑی نمائندہ زبان ہے۔ بنگلہ دیش سے لیکر ہندوستان، پاکستان، افغانستان، سری لنکا اور اب خلیج کے تمام ممالک میں بولی اور سمجھی جاتی ہے۔مگر المیہ یہ ہے کہ پاکستان میں یہ زبان ظلم کی حد تک رسوا کی جارہی ہے۔
زبانیں بھی پھلدار درختوں اور باغیچوں کی طرح ہوتی ہیں۔ ان کی آبیاری کی جائے تو پھلتی پھولتی ہیں، اپنی خوشبو اور پھل دیتی ہیں، ورنہ اجڑنے لگتی ہیں اور آخر میں سوکھ کر مر جاتی ہیں۔ہمارے پاس اب جو اردو باقی ہے، وہ صرف 1857 ءسے لیکر آج تک کی ہے۔1947 ءکے بعد جو بچی کھچی اردو زبان ہمارے حوالے کی گئی، ہم اس کا بھی حق نہ ادا کرسکے۔
سائنس اور ٹیکنالوجی کی جدید اصطلاحات کو اردو میں ترجمہ نہ کیا، لہذا انگریزی کے محتاج رہے۔حالانکہ تمام حکومتی معاملات اور معاشرتی علوم بہت آسانی سے اردو زبان میں چلائے جاسکتے تھے۔
دنیا کی تمام قوموں نے سائنس اور ٹیکنالوجی کو اپنی اپنی زبانوں میں ترجمہ کرکے اپنی قوم کو اپنی ہی زبان میں تعلیم دی ہے۔روسی ہوں یا چینی، ترک ہوں یا عرب، ایرانی ہوں یا ہسپانوی۔۔۔ کسی کو یہ شکایت نہیں ہے کہ ان کی قومی زبان سائنس اور ٹیکنالوجی کے معاملے میں مجبور و مسکین ہے۔
ہمیں یاد ہے کہ اپنے بچپن میں ہمارے سکول میں کلاس ون، ٹو اور تھری وغیرہ نہیں ہوتے تھے، بلکہ جماعت اول، دوئم، سوئم، چہارم اور پنجم ہوتے تھے۔ہم نے پہاڑے بھی اردو میں یاد کیے تھے، جیومیٹری بھی اردو میں تھی۔زاویہءقائمہ، Right Angle Triangle تھا۔ 80 کی دہائی کے بعد تو اردو زبان کو پاکستان میں مکمل طور پر یتیم کردیا گیا۔ اب اردو کو عزت دینا تو دور کی بات، اسے سرکاری طور پر سربازار رسوا کیا جاتا ہے۔”کانسٹیٹیوشن ایونیو“ ہے۔۔۔ مگر ”شاہراہ دستور“ نہیں۔اردو لکھنا تو دور کی بات، یا رومن اردو ہے یا اردو میں انگریزی۔
کسی بھی قوم کا عروج و زوال اور دنیا میں اس کی عزت و غیرت، اس کے زر مبادلہ کے ذخائر کی وجہ سے نہیں، بلکہ اس وجہ سے ہوتی ہے کہ وہ کس قدر اپنی تاریخ، نظریہئ، روایات، اقدار، زبان، ثقافت اور تہذیب کے معاملے میں حساس ہے۔ہر عظیم قوم میں آپ یہ خوبی پائیں گے، اورہر خوار قوم ان سے محروم ہوگی۔جو قوم اپنی تاریخ گم کر بیٹھے، اپنی زبان کو ترک کردے، پھر چاہے کتنی مالدار ہی کیوں نہ ہوجائے، اس کے نصیب میں صرف ذلت و رسوائی ہی ہوتی ہے۔انگریزی زبان سے ہمارا رشتہ صرف غلامی کا ہے۔ جبھی ہماری پارلیمان کا اسپیکر ملکہ کو مخاطب کرکے کہتا ہے:”ہم آج بھی آپ کے غلام شہری ہیں“۔
ریاست مدینہ دنیا کی سب سے مسکین اور غریب ترین ریاست تھی، مگر دنیا کی سب سے زیادہ معزز، غیرت مند، دلیر اور عدل و انصاف کی حامل ریاست۔ریاست مدینہ کا مطلوب معیار زندگی بلند کرنے کی بجائے، معیار انسانیت کو بلند کرنا تھا۔
اپنی تاریخ، زبان، تہذیب، تمدن، اخلاقیات اورروایات کی حفاظت کرنے کے لیے کوئی مال و دولت کی ضرورت نہیں، صرف نیت و غیرت و حکمت چاہیے۔ اگر اردو ہم سے گم گئی، تو سمجھو سب کچھ ہم سے گم گیا۔اردو ایک زبان نہیں، ہماری غیرت، ہماری شناخت اور ہمارے دین و تہذیب و تمدن کی محافظ ہے۔انگریزی ضرور سیکھیں، مگر یہ کس بدبخت نے کہا ہے کہ اردو کو تباہ کردیں؟انگریزی کی ضرورت ہمیں فی الحال صرف سائنس و ٹیکنالوجی کیلئے ہے، کہ اردو کو یہاں پھلنے پھولنے کی ضرورت ہے۔ ورنہ ریاست و عدالت و حکومت کا تمام کام اردو زبان میں کیا جاسکتا ہے۔
جس دن آپ یہ دیکھیں کہ ریاست پاکستان کا پورا نظام اردو زبان میں چلایا جانے لگا ہے، اس دن آپ یہ سمجھ لیں کہ صحیح معنوں میں آزاد اور غیرت مند حکمران آج اس ملک کو ملے ہیں۔غلاموں، بے شرموں، بے غیرتوں اور ملکہ کے نوکروں کے نصیب میں یہ سعادت ہے ہی نہیں۔۔۔!!!
٭٭٭٭٭

اے خاصہ، خاصان رسل وقت دعا ہے

سید زید زمان حامد

قرآن پاک کی کئی آیتوں میں اللہ تعالیٰ واضح فرماتا ہے کہ جس کا مفہوم ہے کہ: اللہ کی زمین بہت وسیع ہے، تو کیا وجہ ہے کہ تم نے دارالکفر کو چھوڑ کر دارالاسلام کی جانب ہجرت نہیں کی۔کفر کو چھوڑ کر ایمان کی جانب ہجرت کرنا سیدی رسول اللہﷺ کی سنت مبارکہ بھی ہے اور حالات کا تقاضا بھی۔
مگر ہندوستان کے مسلمان اب بہت دیر کرچکے ہیں۔ اب ان پر توبہ کا دروازہ بند ہوچکا ہے۔اب ان پر اللہ کا عذاب، مشرکین کے ہاتھوں، بدترین ظلم و ستم کی شکل میں نازل ہونا شروع ہوچکا ہے۔ نہ وہ اب ہجرت کرسکتے ہیں، نہ ہی اس قدر طاقت رکھتے ہیں کہ اپنی جان و مال و آبرو و ایمان کی حفاظت کرسکیں۔73 سال بہت بڑا عرصہ ہے۔ نہ انہوں نے 47 ءمیں ہجرت کی، نہ ان 73 سالوں میں اور مشرکوں کا غلام بن کر ر ہنے کو ترجیح دی۔
ہزاروں کی تعداد میں ہندوستانی مسلمانوں کی جانب سے ہمیں مدد کے پیغامات موصول ہورہے ہیں۔میرے پاس اس قدر خوفناک ویڈیوز پہنچ رہی ہیں کہ مجھ جیسا شخص بھی کہ جس نے برسوں میدان جنگ کی سختیاں دیکھی ہیں، انہیں دیکھ کر ایک دفع توکانپ ہی جاتا ہے۔بے بس مسلمانوں کی زبانیں کاٹی جارہی ہیں، ہاتھ اورپاﺅں کاٹے جارہے ہیں، ان کی آنکھیں نکالی جارہی ہیں۔RSS کے غنڈے ان ویڈیوز کو بنا کر پورے ہندوستان میں کروڑوں ہندوﺅں میں بڑے فخر سے پھیلا رہے ہیں۔
ہندوستان کے مسلمانوں پر تو اب اللہ کا عذاب آ ہی رہا ہے، مگر یہ اس سے بڑھ کر پاکستان کے مسلمانوں کی آزمائش بن جائے گا۔پاکستان بناتے وقت ہم نے اپنے بڑوں کے صدیوں کے گناہوں کا کفارہ پچاس لاکھ شہداءکی شکل میں دیا تھا۔اب بھارت کے مسلمان اپنے بڑوں کے گناہوں کا کفارہ دیں گے۔پاکستان میں موجود بے شرم لبرل طوائفوں، دلالوں اور خوارج کے جہنمی کتوں نے پاکستان کے قیام سے لیکر آج تک قیام پاکستان کو تسلیم ہی نہیں کیا تھا، اور اس کوشش میں لگے رہے کہ پاکستان دوبارہ بھارت میں ضم ہوجائے۔بھارت کے کروڑوں مسلمانوں کی قربانی شاید اب ان حرام خوروں کوہمیشہ کیلئے چپ کرادے۔
پاکستان کی حکومت و ریاست ابھی تک ہندوستان میں اٹھنے والے طوفان کو نظر انداز کیے ہوئے ہے، مگرزیادہ عرصہ پاکستان کی اشرافیہ کیلئے بھی اس ظلم سے نگاہیں چرانا ممکن نہ رہے گا۔بھارت میں مسلمانوں پرہونیوالے ظلم کا انتقام یہ نہیں ہونا چاہیے کہ ہم پاکستان میں بسنے والے ہندوﺅں پرظلم ڈھانے لگیں۔
بھارت سے ”امن کی آشا“ اب قیامت تک کیلئے دفن ہوچکی ہے۔ وہ تمام لوگ کہ جو جنگ سے بچنے کیلئے ذلت و رسوائی کا راستہ قبول کررہے ہیں، جلد ہی ان کے نصیب میں ذلت بھی ہوگی اور جنگ بھی۔اب تو اندھے، گونگے اوربہروں کو بھی نظر آرہا ہے کہ ”غزوہ ہند“ کا آغاز خود مشرک کریں گے۔غزوہ ہند کے انجام کی خوشخبری تو خود سیدی رسول اللہﷺ عطا فرماچکے ہیں۔ مسلمان ایک مرتبہ پھر مشرک ہندوستان پر غالب آئیں گے، اور مودی سمیت اس جیسے غلیظ کتوں کو زنجیروں میں لپیٹ کر پاک فوج گھسیٹی ہوئی لائے گی۔ مگر اس حتمی فتح سے پہلے کروڑوں نہیں تولاکھوں مسلمانوں کی قربانی لازماً دینی پڑے گی۔
ہندوستان کے مسلمانوں سے ہم کہیں گے کہ اگر ہجرت کرسکتے ہو تو ابھی بھی وقت ہے، بھارت سے نکل جاﺅ، ورنہ گجرات کے مسلمانوں کی طرح زندہ جلا دیئے جاﺅ گے۔پاکستان کے مسلمانوں سے ہم کہتے ہیں کہ ہندوستان کے مسلمانوں کا انجام دیکھ کر اللہ سے توبہ کرو اور اپنے آپ کو ان کی مدد کیلئے تیار کرو۔
اب مرضی اللہ اورا سکے رسولﷺ کی چلے گی۔ نہ مشرکوں کی چلے گی، نہ منافقوں کی چلے گی، نہ ”امن کی آشا“ والے کمینوں کی چلے گی، نہ بھارت سے ”خیر سگالی“ کرنے والوں کی چلے گی۔جو فیصلے اللہ کرچکا ہے، اس نے ان کو پوری شدت سے ظاہر کرنا تو شروع کر ہی دیا ہے۔
حکومت پاکستان، بھارت میں مسلمانوں پر ہونیوالے ظلم پر کب تک خاموش رہے گی، یہ اب ہم دیکھیں گے۔ بات اب کشمیر سے بہت آگے جاچکی ہے۔ ہماری ذمہ داری صرف کشمیر کے مسلمان نہیں، پورے ہندوستان کے مسلمان ہیں۔ ان کو اگر کتوں کے حوالے کردیا تو کل سیدی رسول اللہﷺ کوکیا جواب دینگے۔۔۔؟

بھارت کا کشمیر پلان

تحریر: سید زید زمان حامد

آج میں مسئلہ کشمیر پر اہم ترین باتیں کرنے جارہا ہوں۔ یہ ہماری قوم کیلئے ایک اذان مومن بھی ہے، حکمرانوں کے سامنے کلمہءحق بھی اور دشمنوں کیلئے مجاہد کی للکار بھی۔عالمی طاقتوں نے کشمیر کو فروخت کردیا ہے۔ بھارت جو کچھ کررہا ہے، عالمی طاقتوں کی مرضی سے ہورہا ہے۔
بنیادی طور پر یہ بھارت، امریکہ اورا سرائیل کی سازش ہے اور اس میں چند خلیجی ممالک بھی شامل ہیں۔ پلان یہ ہے کہ بھارت کشمیر کو اپنے اندر ضم کرلے گا جیسا کہ اس نے اب کرلیا ہے۔دوسری جانب عالمی طاقتیں پس پردہ پاکستان پر شدید دباﺅ ڈال رہی ہیں کہ پاکستان خاموش ہو کر اسے قبول کرلے۔اس وقت پاکستان کی حکومت اور وزیراعظم پر شدید عالمی دباﺅ ہے کہ وہ بھارت کے خلاف کوئی سنجیدہ اور تباہ کن کارروائی نہ کریں۔ بھارت کو موقع دیا جائے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں تمام تحریک مزاحمت کو انتہائی بے رحمی کے ساتھ کچل دے۔ یہ عمل اس وقت جاری ہے۔
بھارتی فوج کے پلان کے مطابق پہلے دو تین ہفتے تک تباہ کن کرفیو لگایا جائے گا، تاکہ کشمیر کے ہر گھر میں بسنے والے لاکھوں مسلمان بھوک اور پیاس سے ادھ موئے ہو جائیں اور ان میں مزاحمت کی کوئی طاقت باقی نہ رہے۔اور پھر جب کرفیو اٹھایا جائے تو بچی کچھی مزاحمت کو سختی سے کچل دیا جائے۔بھارتی فوج کا اندازہ ہے کہ اسے مقبوضہ کشمیر کو مکمل طور پر قابو میں لانے کیلئے پچاس ہزار سے ایک لاکھ تک، کشمیری مسلمانوں کو کرفیو اٹھنے کے بعد قتل کرنا پڑے گا۔ بھارتیوں کا خیال ہے کہ اس سفاکانہ قتل عام کے بعد، کہ جس کا کوئی نام و نشان باہر کی دنیا کیلئے نہیں چھوڑا جائے گا، کشمیری مزاحمت مکمل طور پر دم توڑ دے گی۔ایک دفعہ جب کشمیری مزاحمت مکمل طور پر دم توڑ جائے، تو مودی کے پلان کا دوسرا حصہ عمل میں لایا جائے گا، کہ جس کے مطابق بھارت آزاد کشمیر پر بھرپور طور پر حملہ آور ہوگا اور آزاد کشمیر کے کئی علاقوں پر قابض ہوجائے گا۔اب یہ موقع ہوگا کہ جب عالمی طاقتیں بیچ میں آکر مصالحت کرانے کیلئے کود پڑیں گی۔
پاکستان کو مجبور کیا جائے گا کہ آزاد کشمیر کے وہ علاقے کہ جن پر بھارت قبضہ کرچکا ہوگا، واپس لینے کیلئے پاکستان لائن آف کنٹرول کوا یک مکمل عالمی سرحد کے طور پر قبول کرلے۔دوسری جانب عالمی طاقتیں پاکستان کو کسی بھی قسم کی جوابی کارروائی سے روکنے کی ذمہ دار ہونگی۔
جب مقبوضہ کشمیر میں تحریک مزاحمت دم توڑ چکی ہوگی، اور آزاد کشمیر کے بھی بڑے علاقوں پر بھارت کا قبضہ ہوگا، اورعالمی طاقتیں پاکستان کو بین الاقوامی سرحد کے پار کوئی بڑی کارروائی کرنے سے بھی روک رہی ہونگی، توا یسے میں پاکستان کے پاس اور کوئی چارہ نہیں ہوگا کہ بچے کھچے آزاد کشمیر کو لے کر ہی چپ کر جائے۔
یہاں تک پہنچنے کے بعد بھارت کشمیر سے مسلمانوں کے انخلاءکا سلسلہ شروع کرے گا۔ لاکھوں کی تعداد میں ہندو لا کر وادی میں آباد کیے جائیں گے۔ کشمیری مسلمانوں کو یا تو قتل کردیا جائے گا یا دھکیل کر بچے کھچے آزاد کشمیر کی سرحد سے پار بھیج دیا جائے گا۔ کشمیر مکمل طور پر ہندو اکثریتی علاقہ بن جائے گا۔
میں آپ کو صاف بتارہا ہوں کہ عالمی طاقتوں کی اس سازش میں زرداری اور نواز شریف مکمل طور پر شامل ہیں، اور ان کے ساتھ تمام وہ پاکستان کی سیاسی جماعتوں کے ناپاک و پلید غدار، جیسے فضلو، اچکزئی، اسفندیار وغیرہ۔۔۔ یہاں تک کہ خود پی ٹی آئی کی حکومت کے اندر اہم لوگ اس ناپاک کھیل کا حصہ ہیں۔
یہ جو کچھ ہم نے آپ کو اوپر بتایا ہے کہ یہ وہ عالمی سازش ہے کہ جس کے تحت اس وقت بھارت کشمیر میں کارروائی کررہا ہے۔اس تمام سازش کو پلٹنے کا صرف ایک ہی طریقہ ہے:پاکستان آزاد کشمیر سے آگے بڑھ کر مقبوضہ کشمیر میں داخل ہوجائے اور وسیع ترین علاقے کو آزاد کرالے۔اگر پاکستان مقبوضہ کشمیر میں داخل ہو کر ایک بھاری علاقے کو آزاد کرالیتا ہے تو پھر بازی بھارت کے خلاف پلٹ جائے گی۔وادی کے اندر کشمیر کی تحریک آزادی بھی بھڑک کر طوفان بن جائے گی اور مودی سرکار کو جو ذلت و رسوائی اٹھانا پڑے گی، وہ پوری بھارتی ریاست کو ہلا کر رکھ دے گی۔
بھارت کے سارے پلان کا انحصار دو باتوں پر ہے، اورا گر ہم ان دو باتوں پر ہی بازی پلٹ دیں تو یہ سارا پلان ناکام ہوجائے گا۔-1 وادی میں کرفیو اور قتل عام کے ذریعے تحریک آزادی کومکمل طور پر کچل دینا۔
-2 عالمی دباﺅکے ذریعے پاکستان کو مجبورکرنا کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں داخل نہ ہوسکے۔
اور یہی دو کام آج ہر حال میں پاکستان کوکرنے ہیں۔ ہمارے پاس وقت بالکل بھی نہیں ہے۔ وادی میں کرفیو کو تین دن گزرچکے ہیں۔ لاکھوں کشمیری مسلمان بھوکے پیاسے اپنے گھروں میں محسور ہیں۔ ان پرکیا گزررہی ہے، وہ دنیا میں کسی کو نہیں معلوم۔دوسری جانب عالمی طاقتیں ہمیں مقبوضہ کشمیر میں داخل ہونے سے روک رہی ہیں۔
پاکستان کے وزیراعظم نے ہمیشہ یہ دعویٰ کیا ہے کہ نہ وہ ڈرنے والا ہے نہ جھکنے والا۔ اب یہ اس کا حتمی امتحان ہے۔ ایک ایک لمحہ قیمتی ہے۔ وادی کے اندر کشمیری مسلمان ذبح کیے جارہے ہیں، بھارتی فوج کا سارا پلان آزاد کشمیر پر حملہ کرنے کا ہے۔ ہم نے ان دونوں چالوں کو دشمن کے منہ پر واپس پلٹنا ہے اورفوری۔اگر ہم نے مقبوضہ کشمیر میں داخل ہو کر بھارتی فوج کے آزاد کشمیر پر حملے کے پلان کو ناکام نہیں بنایا، تو یاد رکھیں، کل آزاد کشمیر کا بہت بڑا حصہ بھی ہمارے ہاتھ سے نکلنے والا ہے۔ اب دفاعی نہیں، جارحانہ جنگ کا وقت ہے۔دشمن خود ہمیں موقع دے چکا ہے، آرٹیکل 370 کو منسوخ کرکے۔
آج ہماری یہتحریر پاکستان کے حکمرانوں اور قوم پرایک حجت تمام ہیں۔ آج کے بعد پاکستان میں کوئی یہ نہیں کہہ سکے گا کہ ان کو دشمن کی چالوں سے آگاہ نہیں کیا گیا تھا۔ نہ عمران شکایت کرسکے گا، نہ سپہ سالار، نہ پاکستان کی اشرافیہ نہ پاکستان کی قوم۔
مجھے تھا حکم اذاں، اب ان شاءاللہ لرزے گا شبستان وجود۔۔۔!٭٭٭٭٭

روحانی انٹیلی جنس

تحریر: سید زید زمان حامد

کیا آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ یہ خواب کیا چیز ہیں۔۔۔؟کہاں سے آتے ہیں؟ کیوں دکھائی دیتے ہیں؟ وہ کون سی روحانی دنیا ہوتی ہے کہ جس میں آپ پورے جہان کی سیر کرتے پھرتے ہیں، اکثر آنے والے واقعات کی خبر پہلے سے ہی دے دی جاتی ہے۔قرآن پاک اور سیدی رسول اللہﷺ کی سنت مبارکہ سے یہ بات ہر طرح سے ثابت ہے کہ سچے خواب ایک حقیقت ہیں کہ جو اللہ کی طرف سے انسانوں کیلئے ”روحانی انٹیلی جنس“ کا کام کرتے ہیں۔سورة یوسف بہت تفصیل سے خوابوں کی حقیقت واضح کرتی ہے۔قرآن میں مصر کے بادشاہ کے اس خواب کا ذکر آتا ہے کہ جس میں سات موٹی گائےں اور سات پتلی گائےں دیکھتا ہے اور جسکی تعبیر سیدنا یوسفؑ بیان فرماتے ہیں کہ ملک میں سات سال بعد قحط آئے گا۔بادشاہ کافر تھا، مگر خواب اس نے سچا دیکھا، اورتعبیر اللہ کے نبی نے بتائی، اور اس سے پورا ملک مصر قحط سے بچ گیا۔
اہل معرفت فرماتے ہیں کہ خواب تین طرح کے ہوتے ہیں:
٭ شیطانی وسوسے
٭ انسان کے اپنے نفس کی خواہشات
٭ اللہ سبحان و تعالیٰ کی جانب سے سچے اشارے
یہ تین طرح کے خواب ہر انسان کو آسکتے ہیں۔
خوابوں کی دنیا ایک انتہائی پراسرار روحانی علم ہے۔ خوابوں میں آنے والے اشاروں کی تعبیر کرنا ہر ایک کے بس کی بات نہیں ہے۔ خواب سبھی انسان دیکھتے ہیں، لیکن صحیح تعبیر بتانے والے شاید ہی کوئی۔ہم مسلمانوں کیلئے سچے خواب اللہ تعالیٰ کی جانب سے ایک خاص تحفہ ہیں۔ انسان کی تنبیہ کرنی ہو، آنے والے واقعات کے بارے میں خبر دینی ہو، کوئی خوشخبری ہو یا نصیحت۔۔۔ سیدی رسول اللہﷺ کی تمام امت پر اس ”روحانی انٹیلی جنس“ کا تحفہ کھلا ہوا ہے۔سیدی رسول اللہﷺ کی احادیث مبارکہ سے یہ بات ثابت ہے کہ نبوت کے ختم ہونے کے بعد اللہ سبحان و تعالیٰ سچے خوابوں کے ذریعے امت کی راہنمائی فرماتا رہے گا۔ یہاں تک کہ آخری زمانے میں تو مومنین کو کثرت سے سچے خوابوں کے ذریعے ہدایات دی جائیں گی۔
کونسا خواب شیطان کا وسوسہ ہے، کونسا خواہشات نفس کے تحت ہے، اور کونسا اللہ تعالیٰ کی جانب سے اشارہ۔۔۔؟ اس کا فرق کرنا ہر ایک کے بس کی بات نہیں ہے۔ اگر خواب دیکھنے والا کوئی صاحب فراست، صاحب بصیرت ہے تو وہ خود فرق بتا بھی سکتا ہے، اور تشریح بھی کرسکتا ہے، ورنہ کسی سے پوچھنا پڑتا ہے۔خوابوں کی تعبیر ایک انتہائی نازک، پیچیدہ اور لطیف علم ہے۔ یہ سیدی رسول اللہﷺ کی سنت مبارکہ سے بھی ثابت ہے اور تاریخ اسلام میں بڑے بڑے علماءنے اس پر دقیق کتابیں بھی تحریر کی ہیں۔ 
ہمیں پوری دنیا سے لوگ اپنے خواب بھیجتے ہیں۔ ظاہر ہے میں کوئی خوابوں کی تعبیر بتانے والا تو نہیں ہوں، مگر بعض خواب اتنے واضح ہوتے ہیں کہ کسی اور تعبیر کی گنجائش ہی نہیں ہوتی۔ پورا پیغام صاف صاف اور واضح دکھا دیا جاتا ہے، اور بہت سے حیرت انگیز طور پر سچ بھی ہوجاتے ہیں۔
جب مجھے سعودی عرب جیل میں قید کیا گیا تو شروع کے دنوں میں ہی ایک خواب دیکھا کہ: ”ایک آواز کہہ رہی ہے کہ تمہاری رہائی جدہ کی جیل سے ہوگی اور بغیر کسی مقدمے کے۔۔۔“
اس خواب کے بعد مجھے کئی اور جیلوں میں لے جایا گیا، مگر بالآخر میری رہائی جدہ کی جیل سے ہی ہوئی اور وہ بھی بغیر مقدمے کے۔خواب دیکھنے یا نہ دیکھنے کا اختیار انسان کے اپنے ہاتھ میں ہے ہی نہیں۔ یہ سراسر اللہ کا فضل اور کرم ہے کہ جس کو جو ہدایت دینا چاہے، وہ اس ذریعے سے عطا فرما دیتا ہے۔ آپ سب لوگ بھی خواب دیکھتے ہیں، اور اکثر ان کو نظر انداز کردیتے ہیں۔ خوابوں پر غور کیا کریں، اکثر میں ”روحانی انٹیلی جنس“ ہوتی ہے۔دس برس قبل، ہم نے اپنے دو پروگرام ”روحانی انٹیلی جنس“ پر کیے تھے۔The Role of Spiritual Forces ، ان کو ایک دفعہ پھر دیکھ لیں۔ تاریخ اسلام میں ”روحانی انٹیلی جنس“ کا بہت اہم کردار ہے۔ بڑی بڑی جنگیں اور تاریخیں اس کی بنیاد پر تبدیل ہوئی ہیں۔ آج بھی غزوہ ہند میں اللہ تعالیٰ کی جانب سے بھیجی گئی ”روحانی انٹیلی جنس“ ہمارے کام آئے گی۔آج کل بہت زیادہ لوگ جنگ کے خواب دیکھ رہے ہیں۔ پاکستان پر حملے کے اشارے کثرت سے آرہے ہیں۔ جیسے کہا کہ مجھے روز درجنوں ای میل آتے ہیں اور اکثر میں لوگ اپنے روحانی مشاہدات اور خوابوں کا ذکر بھی کردیتے ہیں۔ اگر بیان کرنے والا سچا ہے تو پھر خوابوں کو سنجیدہ ہی لینا چاہیے۔
ایک بات اور بھی سمجھ لیں کہ بہت سے جھوٹے، کذاب اور فسادی بھی اکثر آپ کو ملیں گے کہ جو جھوٹے خواب سنا کر آپ کو گمراہ کریں گے۔ ظاہر ہے کہ کسی نے خواب دیکھا ہے کہ نہیں اس کی کوئی اور تصدیق نہیں کرسکتا، اس لیے جھوٹے کذاب بھی ضعیف العقیدہ لوگوں کو بیوقوف بنانے کیلئے اس کا سہارا لیتے ہیں۔سچی بات کی اور کوئی نشانی نہیں ہے سوائے اس کے کہ سچا شخص اس کو بیان کرے۔ سچے کی بات سچ، جھوٹے کی بات جھوٹ۔یہاں ایسے بد بخت بھی ہیں کہ جو اپنے خوابوں میں سیدی رسول اللہﷺ کی زیارت کے دعوے کرتے ہیں، حقیقت میں جھوٹ بول رہے ہوتے ہیں۔ 
سچے خواب قرآن و سنت سے ثابت بھی ہیں، تاریخ اسلام میں ان کا گہرا کردار بھی ہے اور امت رسولﷺ کے لیے اللہ کی جانب سے بشارتوں اور ہدایات کا ذریعہ بھی۔خواب کسی کو بھی آسکتے ہیں، گناہ گاروں کو بھی اور پرہیز گاروں کو بھی، لہذا ان پر غور کیا کریں۔آج آپ کو پہلی مرتبہ اس روحانی سائنس کی جانب متوجہ کیا ہے۔آئندہ کے بعد جب خواب دیکھا کریں تو غور کیا کریں کہ کیا یہ شیطانی وسوسہ ہے، آپ کی خواہش نفس ہے یا اللہ کی طرف سے کوئی واضح اشارہ؟اگر اللہ کی طرف سے اشارہ ہے تو پھر اس پر سنجیدگی سے غور کرکے عمل بھی کریں!٭٭٭٭٭

جاں نثارو، سرفروشو۔۔۔۔ اب وقت ہے وفا کا!

پاک فوج کے سپہ سالار اور کور کمانڈروں کے نام

تحریر: سید زید زمان حامد

میرے مرحوم والد لیفٹیننٹ کرنل محمود الزمان حامد کا تعلق پاک فوج کی توپ خانے کی رجمنٹ سے تھا۔ 1950 ءمیں پاکستان ملٹری اکیڈمی کے پہلے Pioneer دستے یعنی 1st PMA سے ان کا تعلق تھا۔ میجر عزیز بھٹی شہید، جنرل نصیر اللہ بابر، جنرل جہانداد جیسے اعلیٰ افسر ان کے کورس میٹ تھے۔آج بھی PMA میں 1st PMA کی ساٹھویں سالگرہ کی شاندار تختی لگی ہوئی ہے کہ جس میں پاک فوج کے اس ہر اول دستے کے نام کندہ ہیں۔
 65 ءاور 71 ءکی دونوں جنگوں میں اس وقت میجر محمود الزمان سیالکوٹ کے محاذ پر براہ راست دشمن سے متصادم ہوئے۔ پاک فوج کی پوری تاریخ اپنے سینے میں لیے رکھتے تھے۔ شجاعت اور دلیری کی داستانیں، قربانیوں اور شہادتوں کے عینی شاہد، بزدلی اور بے غیرتی کی ان گنت المناک سازشوں کے گواہ اور ہمارے کامیابیوں اور ناکامیوں کے اسباب کی طویل تاریخ ان کی یادداشتوں میں پتھر میں لکیر کی طرح گڑی ہوئی تھی۔
1980 ءکی دہائی میں جب میں خود جہاد افغانستان میں ایک مجاہد کی حیثیت سے سوویت یونین کے خلاف برسر پیکار تھا تو باپ اور بیٹے کے درمیان عسکری تاریخ، حکمت عملی اور روایتی اور غیر روایتی جنگوں پر تفصیلی گفتگو ہوتی، خاص طور پر پاک بھارت جنگوں میں ان کا تجربہ ذاتی طور پر میرے لیے ایک انتہائی قیمتی خزانہ تھا کہ جس میں ہر وقت ان کے وجود سے کرید کرید کر نکالتا رہتا۔ میرے لیے وہ واقعات خاص طور پر گہرے اثر انگیز تھے کہ جن میں فوجی قیادت کی غلطیوں، کوتاہیوں اور یہاں تک کہ بذدلی کی وجہ سے شدید نقصان اٹھانے پڑے، ہزاروں دلیر جوانوں کی قربانی دینی پڑی اور شکست اور ہزیمت کی ذلت برداشت کرنی پڑی۔ آپریشن جبرالٹر ہو یا گرینڈ سلام یا سقوط ڈھاکہ۔۔۔۔ اپنی کامیابیوں سے زیادہ میں ان سے اپنی شکست کے اسباب جاننے کی کوشش کرتا، تاکہ آنے والی جنگوں میں ان سے عبرت حاصل کرکے سبق سیکھے جاسکیں۔ 
والد صاحب فرماتے تھے کہ میدان جنگ میں 5 فیصد افسر اور جوان ایسے ہوتے ہیں کہ جو حقیقت میں پوری جنگ میں فیصلہ کن کردار ادا کرتے ہیں۔ وہ ان کیلئے “Mad Brave” کی اصطلاح استعمال کرتے۔ یہ وہ افسر ہوتے کہ جن کو دیکھ کر باقی پوری فوج کو حوصلہ ملتا، ورنہ ان کے مطابق اکثریت میدان جنگ میں قیادت کی اہل نہیں ہوتی، اور جونہی حالات خراب ہونا شروع ہوں ان کے حوصلے پست ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔ یہی 5 فیصد افسرہوتے ہیں کہ جو پوری فوج کو جرا ¿ت اور دلیری سے متحدرکھ کر جنگ کا پانسا اپنے حق میں پلٹتے ہیں۔
والد صاحب کے مطابق ایسے افسران کی سب سے بڑی خاصیت یہ ہوتی تھی کہ ان میں سے اکثر اس قدر دلیر اور آزاد طبیعت کے ہوتے تھے کہ ان کو زمانہ امن میں ان کے سینیئر کبھی بھی پسند نہیں کرتے تھے، اکثر کو ڈسپلن کے حوالے سے ڈانٹ ڈپٹ پڑتی رہتی اور کچھ تو کورٹ مارشل کے قریب تک جا پہنچتے۔ ہر وقت کچھ کر گزرنے کا جوش، دشمن پر جھپٹنے کی خواہش اور قانونی پابندیوں سے باغی، میدان جنگ میں یہی افسر دشمن پر اس طرح جھپٹتے تھے کہ پوری فوج کا حوصلہ بلند کرجاتے۔
ان کی یہ بات سن کر میں اکثر سوچتا کہ یہ ہمارے جتنے نشان حیدر پانے والے شہداءہیں اگر یہ زندہ بچ کر واپس آجاتے تو شاید ڈسپلن کی خلاف ورزی کرنے پر ان سب کا کورٹ مارشل کردیا جاتا۔ شاید نشان حیدر ملتا ہی اس کو ہے کہ جو روایتی ڈسپلن کو توڑ کر ناقابل یقین اور غیر متوقع حد تک دلیری اور شجاعت کا مظاہرہ کرتے ہوئے نہ صرف دشمن کو روند دے بلکہ خود اپنوں کو بھی حیران کر جائے۔ والد صاحب فرماتے تھے کہ زمانہ امن میں جس جوان یا افسر کو ”پٹھو“ لگا کر ”اٹھا“ مل رہا ہوتا تھا، وہی بھڑکتے میدان جنگ میں یونٹ کا ہیرو ہوتا۔ 
آنے والے وقت میں اب یہ بات بالکل واضح ہوچکی ہے کہ پاک فوج کوایک مرتبہ پھر براہ راست اپنے ازلی ابدی دشمنوں سے متصادم ہونا پڑے گا۔ پاک فوج کے ہر افسرکے اوپر بھی افسر ہیں اور اس کے نیچے بھی۔ ایک اعلیٰ ترین افسر کی یہ بھی پہچان ہے کہ وہ اپنے ماتحت افسروں میں ذہین اور دلیر افسروں کی پہچان کرکے ان کی پرورش بھی کرے۔ جو جتنا ذہین اور دلیر افسر ہوگا اتنا ہی آزاد طبیعت بھی رکھتا ہوگا اور بالا افسروں کیلئے اس کو ڈسپلن میں رکھنا بھی اتنا ہی مشکل ہوگا۔
سیدنا خالد بن ولیدؓ ”سیف اللہ“ تھے۔ اس قدر آزاد طبیعت کہ سوائے سیدی رسول اللہﷺ کے اور کسی حد تک سیدنا ابوبکرؓ کے کائنات میں کوئی اور وجود سیدنا خالدؓ کو کنٹرول نہیں کرسکتا تھا۔ یہاں تک کہ سیدنا عمرؓ کیلئے بھی ایک مسئلہ تھا کہ سیدنا خالدؓ کیسے روایتی ڈسپلن کے اندر رکھا جاسکے۔ مگر یہی خالدؓ تھے کہ جن کی آزاد، غیر روایتی اور خطرات مول لینے والی طبیعت نے چند ہی برسوں میں فارس اور روم کی عظیم الشان سلطنتوں کو اپنی تلوار سے اڑا کر رکھ دیا اور ایسے ایسے جنگی کارنامے سرانجام دیئے کہ انسانی تاریخ نہ تو ان سے پہلے ان کی کوئی مثال پیش کرسکتی ہے نہ ان کے بعد آج تک۔
اب جو جنگ پاک فوج لڑنے جارہی ہے، وہ ان تمام جنگوں سے مختلف ہوگی کہ جو ماضی میں ہم لڑ چکے ہیں۔ یہ جنگ روایتی بھی ہوگی اور غیر روایتی بھی، محاذ پر بھی ہوگی اور ہمارے شہروں میں بھی، مرکزی بھی ہوگی اور غیر مرکزی بھی۔۔۔۔ مگر جہاں تک جذبے اور حوصلے کا تعلق ہے تو اس کے قوانین وہی رہیں گے کہ جو ہر جنگ کے ہوتے ہیں۔۔۔۔ شیروں اور دلیروں کی ایک اقلیت کہ جو اپنے پلٹنے اور جھپٹنے کی غیر روایتی اور دلیرانہ صلاحیت کی وجہ سے ملک و قوم و ملت و فوج کو اس عظیم آزمائش میں سے گزاریں گے۔ پاک فوج کے تمام سالاروں کو یہ بات بہت اچھی طرح معلوم ہونا چاہیے کہ پاکستان کی صفوں میں لاکھوں کی تعداد میں غدار موجود ہیں اور یہ سیاسی اور مذہبی دہشت گرد عین اس وقت بغاوت برپا کریں گے کہ جب پاک فوج مشرق کی جانب سے اٹھنے والی آندھی کا مقابلہ کررہی ہوگی۔ اس لیے اس خطرے کو سامنے رکھتے ہوئے ہر سینئر افسر کو اب ذہنی طور پر تیار ہونا ہوگا کہ اس خطرناک اور غیر یقینی صورتحال سے نمٹنے کیلئے بھی غیر روایتی اور انتہائی متحرک حکمت عملی وقت اورحالات کی تبدیلی کے ساتھ ساتھ مرتب کرنا ہوگی۔ اس بات کے قوی امکان ہیں کہ ایک مرکز سے پورے پاکستان کی جنگوں کو کنٹرول نہ کیا جاسکے، اور مختلف علاقوں میں پاک فوج کے کمانڈروں اور افسروں کو اپنے اپنے علاقوں کی مقامی صورتحال کے مطابق حربی حکمت عملی کو متحرک طور پر ترتیب دینا پڑے۔ جب ملک میں غدار موجود ہوں اور دشمن کے حملے کی وجہ سے پورا ملک میدان جنگ بن چکا ہو تو اس وقت کوئی کتابی قانون اور قاعدہ کام نہیں کرتا۔ مقامی اعلیٰ کمانڈروں کو خود ہی جرا ¿ت اور دلیری سے حالات کے مطابق فیصلے کرنے ہونگے۔ ان شاءاللہ، اس پاک سرزمین کی حفاظت ہر طرح کی قربانی پیش کرکے کی جائے گی، مگر اس قوم کے اجتماعی گناہوں کی فہرست اس قدر طویل ہے کہ اب اس کا کفارہ خون سے ادا کرنا ہوگا۔ پاک فوج ہی اس پاک سرزمین کے دفاع اور حفاظت کی ضامن ہے، مگر جب معاشرے میں غدار چیونٹیوں کی طرح رینگ رہے ہوں تو پھر پاک فوج کے ہر افسر کو انہی ” 5 فیصد“ میں سے ہونا پڑے گا۔جاں نثارو، سرفروشو۔۔۔۔ اب وقت ہے وفا کا!٭٭٭٭٭

جشن میلاد کو شرک و بدعت کہنے والوں کو زید حامد کامفصل جواب

اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ
كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ
.إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ
اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ
كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ
.إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ

اللہ تعالیٰ اور فرشتے نبی کریمﷺ پر درود و سلام بھیجتے ہیں، اے ایمان والو تم بھی آپ ﷺ پر درود و سلام بھیجا کرو۔ان تمام مسلمانوں کے لیے کہ جو سیدی رسول اللہ ﷺ سے محبت کے اظہار کے بارے میں الجھن کا شکار ہیں اور فوراً ہی شرک، کفر و بدعت کے فتوے داغ دیتے ہیں، ہم انکو مفصل جواب دیتے ہیں ۔ براہ مہربانی، اس تحریر کو کھلے دل و دماغ کے ساتھ، احتیاط سے اور آہستہ آہستہ پڑھیے۔ اللہ آپکے دل کو رسول اللہ ﷺ کے عشق کیلئے نرم کرے اور آپ کو وہ مومنانہ فراست عطا کرے کہ آپ دین کی حکمت کو سمجھ سکیں۔
بمصطفیٰ برساں خویش را کہ دیں ہمہ اوستاگر بہ او نہ رسیدی، تمام بو لہبی است
۱۔ آپ اس معاملے میں کفر، شرک و بدعت کہہ کر ایک انتہا پسندانہ رویے کی غمازی کررہے ہیں،جبکہ علماءاور امت اس نازک معاملے میں مختلف اور مستند آراءرکھتے ہیں۔امت کے درمیان موجود اس اختلاف رائے کو وسیع القلبی سے قبول کیجیئے، کیونکہ ایک مسلمان کو کافر یا بدعتی اور جہنمی کہنا حرام ہے ۔ حدیث مبارکہ کے مطابق اللہ کبھی اس امت کو کفر و شرک و بدعت پر جمع نہیں کرے گا۔ جب امت کا ایک غالب حصہ عشق رسولﷺ سے متعلق اظہار کے مختلف طریقوں اور رسوم کوہدیہءعشق و ادب کے طور پر قبول کرتا ہے، تو اس معاملے میں تکفیر اور شدت قطعاً جائز نہیں۔لہذا اس معاملے میں احتیاط اور نرمی سے کام لیجیئے۔
۲۔ دین اسلام میں تمام حرام اعمال و افعال کو نہایت وضاحت کے ساتھ بیان کردیا گیا ہے۔ تمام حرام جانوروں سے متعلق بتا دیا گیا ہے،کھانے پینے سے متعلق حرام و حلال کی وضاحت کردی گئی ہے، کاروباری معاملات سے متعلق بھی حلال و حرام واضح ہیں۔ان سب کے علاوہ جو بھی ہے، وہ حلال ہے یا مباح ۔اور اس دائرے میں امت کی ترقی اور اس کی فلاح و بہبود اور دنیاوی معاملات میں پیش رفت کے سلسلے میں لوگ اپنے اجتہاد و عقل و خرد سے کام لے سکتے ہیں۔
چلیں ہم اس معاملے کو چند مثالو ں سے واضح کرتے ہیں:
رسول اللہﷺ کے دور میں قرآن ،آج کے دور کی طرح، ایک جلد میں، کتابی حالت میں موجود نہیں تھا۔ خلفائے راشدینؓاسے لکھنے میں اور جمع کرنے کے معاملے میں بہت محتاط تھے، کیونکہ رسول اللہﷺنے یہ کام اپنی ظاہری حیات مبارکہ میں نہیں کیا تھا۔ لیکن دین کی حکمت کاتقاضا تھا کہ قرآن مجید کوجمع کرکے ایک کتاب کی شکل میں مرتب کیا جائے تاکہ اسے دنیا کے کونے کونے تک پہنچایا جاسکے۔ لہذا خلفائے راشدینؓ کے دور میں ایسا ہی کیا گیا۔اس دور میں بھی قرآن پاک کو جمع کرنے کے حوالے سے یہ خدشات ظاہر کیے گئے تھے کہ کہیں یہ عمل بدعت میں نہ شمار ہو۔ کیونکہ خود رسول اللہﷺ نے اس پر عمل نہیں فرمایا تھا۔مگر وہ صحابہ کرامؓ کہ جن کو اللہ نے شرح صدر سے نوازا تھا، نے دین کی حکمت کو سامنے رکھتے ہوئے اجتہاد سے کام لیتے ہوئے، قرآن کو کتابی شکل میں جمع کردیا۔ اس کے بعداس عمل کو کسی نے بھی حرام یا بدعت نہیں تصور کیا ۔
اسی طرح بعد میں آنے والے دور میںقرآن پر اعراب بھی لگائے گئے، کیونکہ غیر عرب لوگوں کیلئے قرآن کو پڑھنے میںدقت کا سامنا تھا۔اس عمل کو بھی کسی صحابی یا تابعی یا عالم نے بدعت قرار نہیں دیا، کیونکہ یہ عمل اسلام کی روح کے عین مطابق تھا، گو کہ اس پر نہ تو سیدی رسول اللہﷺ نے کبھی عمل کیا تھا اور نہ ہی خلفائے راشدینؓ نے۔ 
اسی طرح احادیث مبارکہ کو جمع کرنے کے معاملے میں بھی صحابہ کرامؓ میں خود بہت اختلاف تھا۔ بہت سے صحابہؓ اس معاملے میں بہت زیادہ محتاط تھے، کیونکہ یہ کام خود سیدی رسول اللہﷺ کی ظاہری حیات مبارک میں نہیں کیا گیا تھا۔ خلافت راشدہ کے بعد اس بات کی شدت سے ضرورت محسوس کی گئی کہ احادیث مبارکہ کو جمع کیا جائے اور امام مالکؒ نے حدیث کی پہلی مستند کتاب ”موطا امام مالک“ تصنیف فرمائی۔ پوری امت مسلمہ میں کسی نے بھی امام مالکؒ کو یہ طعنہ نہیں دیا کہ آپ ایک نئی بدعت شروع کرکے وہ کام کررہے ہیں کہ جو سیدی رسول اللہﷺ کی حیات مبارک اور خلافت راشدہ میں نہیں کیا گیا۔ تمام امت اس پر متفق ہے کہ یہ ” نیا کام“ بدعت کے زمرے میں نہیں آتا، بلکہ دین کی حکمت اور فہم کے عین مطابق ہے۔
اسی طرح خلافت راشدہ کے دور تک پوری امت میں کوئی حنفی، مالکی، شافعی ، حنبلی یا سلفی فقہے موجود نہیں تھے۔ بعد کے آنے والے دور میں دنیا کے مختلف حصوںمیں رہنے والے علماءنے ان فقہوں کو ترتیب دیا اور آج پوری دنیا میں مسلمان ان کی پیروی کرتے ہیں۔ سیدی رسول اللہﷺ اور خلفائے راشدین میں سے کوئی بھی حنفی، مالکی، حنبلی، شافعی یا اہل حدیث نہیں تھا۔ مگر آج پوری امت میں کوئی یہ نہیں کہتا کہ ان فقہوں کی پیروی کرنا کفر، شرک اور بدعت ہے۔ کیونکہ ان کا قیام وقت کی ضرورت اور دین کی حکمت اور اجتہاد کے عین مطابق ہے۔ اسی طرح ضرورت پڑنے پر کوئی مجدد وقت ایک اور جدید فقہ بھی ترتیب دے سکتا ہے۔
اسی طرح ،طویل عرصے تک قرآن کا کسی بھی دوسری زبان میں ترجمہ نہیں ہوا، کیونکہ اس وقت عربی ہی مسلمانوںکی مروجہ زبان تھی۔روم، فارس ، مصر اور ہسپانیہ پر اسلامی سلطنت قائم ہونے کے بعد دنیا کے ایک وسیع حصے کی سرکاری زبان بھی عربی قرار پا چکی تھی۔ لہذا ان علاقوں کے عوام بھی عربی سیکھ کر قرآن کو عربی میں ہی پڑھا کرتے تھے۔ بعد ازاں جب عربی زبان کا زوال ہوا، تو اس بات کی ضرورت محسوس ہونے لگی کہ قرآن کا دوسری زبانوں میں بھی ترجمہ کیا جائے۔ خود ہندوستان میں صدیوں تک عربی میں قرآن کی تعلیم دی جاتی تھی اور صرف ڈھائی سو سال پہلے ،پہلی مرتبہ قرآن کا فارسی ترجمہ کیا گیا۔ اس وقت کے علماءنے اس پر شدید اعتراض بھی کیا اور اس کو کفر اور بدعت سے بھی تعبیر کیا گیا۔ تاہم اس کام کا بیڑہ مجدد وقت حضرت شاہ ولی اللہؒ نے خود اٹھایا اور قرآن پاک کا پہلی دفعہ فارسی زبان میں ترجمہ ہوا۔ گو کہ ان کو بھی شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا مگر بعد ازاں علماءاس بات پر قائل ہوگئے کہ یہ بدعت نہیں بلکہ دین کی حکمت کے مطابق وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اسی لیے اس ”بدعت حسنہ“ کو قبول کرلیا گیا۔کیونکہ دین کی حکمت یہ تقاضا کرتی ہے کہ قرآن کو سمجھ کر پڑھا جائے۔
اس ضمن میں کچھ مزید مثالیں پیش کرتے ہیں:
 اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو اپنے دفاع کیلئے ہمہ وقت تیار رہنے کی ہدایت کی ہے۔ قرآن پاک کی آیت کا مفہوم ہے کہ اپنے گھوڑے ہر وقت تیار رکھو۔باقی تفصیلات وقت کی ضرورت اور جدید ٹیکنالوجی پرچھوڑ دی گئی ہیں۔کیا آج ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ، ٹینک، جنگی جہاز، توپیں، آبدوزیں، جنگی بحری جہاز، ریڈار، سیٹلائٹ وغیرہ استعمال کرنا بدعت ہے،کیونکہ صحابہ کرامؓ نے یہ جنگی ہتھیار استعمال نہیں کیے تھے….؟؟؟ نہیں!!! کوئی شخص اگر یہ بات کہے گا تو یا تو وہ جاہل مطلق ہے ، یا پھر اس کے دل پر مہر لگ چکی ہے کہ جس کے باعث وہ کبھی بھی دین کی حکمت نہیں سمجھ سکتا۔ 
دین کی اس حکمت کا اطلاق انسان کے ہر شعبہ زندگی پر ہوتا ہے۔ ہمارا دین محض عبادات کا مجموعہ ہی نہیں ہے، بلکہ یہ ایک مکمل طرز حیات ہے کہ جو معیشت، سیاست، عسکری معاملات، سائنس و ٹیکنالوجی، معاشرتی زندگی اور عدالتی نظام سمیت تمام شعبہ ہائے زندگی پر محیط ہے۔ بدعت کے تصور کا اطلاق محض عبادات کے شعبے پر ہی نہیں ہوتا، بلکہ بدعت کا یہ اصول زندگی کے تمام شعبوں پر اسی طرح لاگو ہوتا ہے۔ 
صحابہ کرامؓ نے کبھی وہ اشیاءاستعمال نہیں کیں کہ جو آج کے جدید دور میں ہم استعمال کررہے ہیں۔ مثلاً اذان دینے کیلئے لاﺅڈ سپیکر کا استعمال، فجر کی نماز کے وقت جاگنے کیلئے الارم کا استعمال، سفر کیلئے گاڑی ، موٹر سائیکل یا جہاز کا استعمال، دور دراز بات کرنے کیلئے ٹیلی فون یا موبائل کا استعمال، دور دراز پیغام پہنچانے کیلئے ای میل، ٹی وی، انٹرنیٹ یا فیکس کا استعمال۔ہر دور میں تنگ نظر ملاﺅں نے کہ جن کے دلوں پر مہریں لگی ہوئی تھیں، ان معاملات پر بھی کفر اور بدعت کے فتوے لگائے ہیں۔ جب لاﺅڈ سپیکر پر پہلی دفعہ اذان دی گئی تو خود ہندوستان میں ایک طوفان کھڑا ہوگیا اور اکثر علماءنے اسے کفر ، بدعت اور حرام قرار دیا تھا۔ آج بھی یہ مسائل اسی طرح قائم ہیں۔ انسانی جسم کے اعضاءکی پیوند کاری ہو، انتقال خون ہو، بچے کی مصنوعی پیدائش کے طریقے ہوں، آج بھی ان پر حلال یا حرام ہونے کی بحث کی جاتی ہے۔ یہ ساری بحث ہمارے دین کا ہی حصہ ہے۔
لہذا بدعت کے اصول کا اطلاق پھر تمام شعبہ ہائے زندگی پر ہونا چاہیے، نہ کہ صرف عبادات پر۔چنانچہ ان حضرات کے نزدیک کہ جو رسول اللہﷺ سے متعلق عشق اور عقیدت کے اظہار کے مختلف طریقوں پر بدعت کے فتوے داغتے ہیں، ان کے نزدیک تو آج جدید دور میں ہم جو کچھ بھی کررہے ہیں وہ سب شرک و بدعت ہی ہونا چاہیے۔
صحابہ کرامؓ نے اپنے دور میں اس وقت کی جدید جنگی ٹیکنالوجی استعمال کی۔ لہذا آج ہم پر یہ فرض ہے کہ ہم اپنے دور کے جدید ترین ہتھیاروں سے اپنے آپ کو مسلح کریں۔ اس حکمت کے تحت ا گر آج ہم میدان جنگ میں ٹینک یا بکتر بند کا استعمال کرتے ہیں، تو دین کی حکمت کے مطابق یہ عمل عین سنت ہے، بدعت نہیں۔ گو کہ نہ سیدی رسول اللہﷺ اور نہ ہی صحابہ کرام ؓ نے آج کے جدید ٹینک، توپخانے یا طیاروں کو استعمال کیا۔
 رسول اللہﷺ نے اسلام کا پیغام پھیلانے کیلئے اس وقت کے جدید ترین ذرائع اور وسائل کا استعمال فرمایا۔ اس حکمت کے تحت اگر آج ہم دین کو پھیلانے کی غرض سے ٹی وی، کیبل، سوشل میڈیا، الیکٹرانک میڈیا ، اخبارات یا پھر انٹرنیٹ کا استعمال کرتے ہیں ،تو یہ بھی عین سنت اور دین کی حکمت کے عین مطابق ہے، بدعت نہیں!
اب آتے ہیں معیشت کی طرف۔ جو لوگ میلاد شریف کے کفر و بدعت ہونے کا شور مچاتے ہیں، وہی لوگ اس سودی معاشی نظام اور کاغذی کرنسی کے تحت چلنے والے بینکوں میں اکاﺅنٹ بھی رکھتے ہیں، اور ان سے حاصل ہونے والا منافع بھی کھاتے ہیں، ان کی گھما پھرا کر پیش کی گئی مختلف ”منافع سکیموں“ کے حلال ہونے کا فتویٰ بھی دیتے ہیں۔ یہ عمل صرف حرام ہی نہیں بلکہ اللہ اور اسکے رسولﷺ کے ساتھ جنگ بھی ہے۔ یہی لوگ اپنی بادشاہتوں کے سو سالہ جشن بھی مناتے ہیں، اپنی آمد کے جشن پر رقص و سرور کی محافل کا انعقاد بھی کرتے ہیں، اپنے بادشاہوں کی دیوہیکل تصاویر ریاست کے کونے کونے پر آویزاں کرتے ہیں، حتیٰ کہ حرام کاغذی نوٹوں پر بھی۔ کیا یہ سب حلال ہے….؟ کیا رسول اللہﷺ اور صحابہ کرامؓ نے ان سب کی اجازت دی؟ حقیقت میں یہ اصل کفر، بدعت اور شرک ہے!!!
اب کچھ باتیں سیدی رسول اللہﷺ سے عشق اور عقیدت سے متعلق:
قرآن اور احادیث مبارکہ میں جگہ جگہ واضح احکامات دیئے گئے ہیں کہ اپنے بچوں کو سیدی رسول اللہﷺ سے عشق و ادب کی ترغیب دو ، انہیں رسول اللہﷺ پر درود وسلام بھیجنے کی تعلیم دو۔ ہم پر فرض ہے کہ اپنے بچوں کو سنت اور سیرت کی نہ صرف تعلیم دیں ، بلکہ ان پر عمل کرنے کی تربیت بھی دیں۔ اور انہیں قرآن و دین کی حکمت بھی سکھائیں۔ان مقاصد کے حصول کے سلسلے میں ہم جو بھی ذرائع و وسائل استعمال کریں، اس کو وقت کے تقاضوں کے مطابق ہماری فہم و فراست پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ہم رسول اللہﷺ کی محبت کو عام کرنے کے معاملے میںکوئی بھی جائز ذرائع و وسائل استعمال کرسکتے ہیں۔خواہ ہم پورے سال رسول اللہﷺ کی آمد کا جشن منائیں، یا کسی خاص مہینے کو اس کیلئے مخصوص کردیں۔ یہ ہماری صوابدید پر ہے۔
ادب پہلا قرینہ ہے محبت کے قرینوں میں
آج کے دو میں ابلیس کے پھیلائے گئے فتنوں میں سب سے بڑا فتنہ ادب رسول اللہﷺ سے متعلق معاشرے میں موجودعموماً گستاخی، اور بے توجہی کا رویہ ہے۔ اقبالؒ نے اسی فتنے کی طرف اشارہ کرکے فرمایا تھا کہ ابلیس کا پورا زور اس بات پر ہوگا کہ مسلمانوں کے دل سے ادب رسولﷺ اور عشق رسولﷺ کو کسی بھی طرح سے نکال دیا جائے۔
وہ فاقہ کش کہ موت سے ڈرتا نہیں ذراروح محمد اس کے بدن سے نکال دو
 لہذا آج کے دور کی سب سے بڑی ڈیوٹی بھی یہی ہے کہ لوگوں کے دلوں میں رسول اللہﷺ کی محبت ، عشق اور ادب کو زندہ کیا جائے۔ہمارے دین کی اصل روح ہی عشق رسولﷺ و ادب رسولﷺ ہے، نہ کہ عبادات۔ اگر عبادات کی بات کریں تو اس معاملے میں جہنم کے کتے خوارج تو ، اولیاءاللہ کو بھی پیچھے چھوڑ دیتے ہیں، مگر اللہ نے خوارج کے دلوںپر مہر لگا رکھی ہے۔
یہ عشق رسولﷺ کی آگ ہی ہے کہ جو دلوں کو نرم کرتا ہے، اور انہیں اللہ کی طرف راغب کرتی ہے۔ کوئی عاشق رسولﷺ کبھی سفاک،بے رحم اور پتھر دل نہیں ہوسکتا۔
قرآن پاک نے بھی انبیاءکرام کی آمد کے ایام کو مبارک قرار دیا ہے۔ حضرت عیسیٰؑ کی پیدائش کے دن کو بھی قرآن نے حضرت عیسیٰؑ کے ہی الفاظ میں مبارک دن قرار دیا ہے۔ جب رسول اللہﷺ دنیا میں تشریف لائے تو آپﷺ کی آمد کا جشن زمین و آسما ن و کرسی و عرش تک منایا گیا۔ پوری دنیا میں مختلف جگہوں پر آپﷺ کی آمد سے متعلق واضح نشانیاں دیکھی گئیں، جو کہ اس بات کی طرف اشارہ کررہی تھیں کہ کائنات کی سب سے مبارک ہستی کا ظہور اس دنیا میں ہوچکا ہے۔
سیدی رسول اللہﷺ بھی اپنی آمد کے دن یعنی پیر کو روزہ رکھتے تھے۔ صحابہ کرامؓ کا یہ بھی معمول تھا کہ جب کبھی وہ کہیں جمع ہوتے تو ان کی محافل میں نعتیں، قصیدے اور درود و سلام پڑھے جاتے۔ دربار نبویﷺ میںکچھ مخصوص شعراءتھے کہ جن کا کام رسول اللہﷺاور صحابہؓ کی محافل میںنعتیں پڑھنا تھا۔
چونکہ رسول اللہﷺ صحابہ کرامؓ کے درمیان موجود تھے، چنانچہ انہیں آپﷺ کی یاد میں اس طرز کی باقاعدہ محافل منعقد کرنے کی کبھی ضرورت ہی پیش نہیں جیسی کہ آج ہم منعقد کرتے ہیں۔اس کا یہ ہرگز مطلب نہیں کہ آج ایسی محفلیں منعقدکرنا بدعت یا حرام ہے۔ بالکل اسی طرح کہ جس طرح آج ہم ترجمے والا قرآن بھی پڑھتے ہیں، کسی فقہ کی پیروی بھی کرتے ہیں،جدید ٹیکنالوجی کا بھی استعمال کرتے ہیں،اور ان سب باتوں کو کوئی بھی کفر ، شرک یا بدعت نہیں کہتا۔
آج کے دور کی سب سے بڑی ضرورت دلوں میں عشق و ادب رسولﷺ کا احیاءہے، کہ یہی عشق فتنہ خوارج اور دجالی نظام کے ساتھ جنگ میں ہماری سب سے بڑی ڈھال ہے۔ دشمن بھی سب سے زیادہ شدید حملے ادب رسولﷺ کے حوالے سے ہی کررہا ہے۔ اسی لیے آج کے فتنوں کا مقابلہ کرنے کیلئے وقت کی اہم ترین ضرورت بھی یہی ہے کہ ادب رسولﷺ اور عشق رسولﷺ کے تقاضوں کو پوری شدت کے ساتھ بیان کیا جائے، روز کیا جائے، ہر ماہ کیا جائے، ہر ربیع الاًول کیا جائے۔
یہ بات تاریخ اور احادیث مبارکہ سے پوری طرح ثابت شدہ ہے کہ صحابہ کرامؓ نے رسول اللہﷺ کے سامنے نعتیں پڑھیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کہ سعودی حکومت کس حیثیت سے میڈیا پر اور مساجد میں نعتوں، قصیدوں اور رسول اللہﷺ کی مدح پر پابندی عائد کرتی ہے؟؟ مسجد نبوی میں نعت خوانی کرنے پر آپ کو جیل ہوسکتی ہے، یعنی ایک ایسے کام پر آپ پابند سلاسل ہوسکتے ہیں کہ جو نہ صرف حلال اور ثواب ہے ، بلکہ ہر مسلمان پر فرض بھی ہے۔
براہ مہربانی اس معاملے میں بحث برائے بحث سے اجتناب کیجیئے۔ اگر ہمارے ان دلائل سے آپ کا دل اب بھی مطمئن نہیں ہے، تو آپ کیلئے زیادہ بہتر یہی ہے کہ اس معاملے پر خاموش رہیے اور دوسرے مسلمان بھائیوں کو، جس طرح وہ چاہیں، رسول اللہ ﷺ سے اپنے عشق اور محبت کا اظہار کرنے دیجیئے۔ دوسروں پر کافر، مشرک اور بدعتی ہونے کے فتوے نہ داغیں۔
اور جو لوگ عید میلاد النبیﷺ کا جشن منارہے ہیں،ان سے بھی ہماری یہ درخواست ہے کہ وہ متانت اور شائستگی کو ملحوظ خاصر رکھیں۔ ہلڑ بازی اور ناچ گانے سے پرہیز کریں، اور گانوں کی دھنوں پر نعتیں بنا کر ایک بے ادبی کی بنیاد نہ ڈالیں۔ میلاد النبیﷺ کی محافل کا مقصد صرف اللہ کی رضا اور سیدی رسول اللہﷺ کی شان بیان کرنا ہونا چاہیے، اگر کوئی ان محافل کو نمود نمائش، دکھاوے اور فرقہ وارانہ اختلافات کو بھڑکانے کیلئے سجاتا ہے ، تو ایسی محفلیں یقینا حرام، کفر اور بدعت کے دائرے میں آئیں گی۔ اپنی نیتوں کو درست رکھیں، ادب رسولﷺ کا دھیان کریں، شریعت کے مخالف کوئی عمل نہ کریں، اوردوسرے مسلمانوں کو اذیت و تکلیف دینے سے اجتناب کریں۔
اللہ ہم سب کو سچا عاشق رسولﷺ بنائے ،دجال اور خوارج کے فتنوں سے محفوظ رکھے، اللہ اور اس کے رسولﷺ کی رضا نصیب کرے، امت کا محافظ اور نگہبان بنائے اور دنیا میں حیات طیبہ، رزق کریم اور حسن خاتمہ عطا فرمائے۔(آمین)

بیشک، پاک فوج تیارھے

بیشک، پاک فوج تیار ھے۔ شیروں اور دلیروں کی فوج ھے۔ غزوۂ ھند کی فوج ھے۔
پر کیا پاک فوج اکیلے جنگ لڑے گی؟ بغیر قوم کی حمایت کے کون سی فوج جنگ لڑ سکتی ھے؟
دنیا کی کون سی فوج معاشرے میں غداروں اور خاینوں کے ھوتے دشمن کا مقابلہ کر سکتی ھے؟
اس دھرنے نے ایک مرتبہ کھل کر ثابت کر دیا کہ ملک کی پلید سیاسی جماعتیں، میڈیا کے دھشت گرد اور خوارج ملا کس طرح فوج کے خلاف زھر اگلتے رھے، پاک سرزمین پر خونریزی برپا کرنے کے لیے مشرکوں کے ساتھ مل گیے۔۔۔
کیا ھمارے پاک فوج کے بیٹے فالتو کے ھیں جو ان کمینے غداروں کے ہاتھوں شہید ھوتے رھیں اور پھر بھی ان غداروں کو ملک میں اختیار، طاقت اور عہدے دیے جایں؟
بھارت اب کسی بھی لمحے حملہ کر سکتا ھے۔ تمام دفاعی اور عسکری اشارے واضح بتا رھے ھیں کہ کشمیر بھڑک اٹھے گا اور تصادم ناگزیر ھے۔
تو پھر کیا وجہ ھے کہ نہ تو قوم کو خطرات سے آگاہ کیا جا رھا ھے اور نہ ھی تیار‌ ۔۔۔ نہ حکومت میں کوی سنجیدہ ھے نہ میڈیا میں، نہ معاشرے میں۔ یہ قوم نہ صرف جاھل ھے بلکہ آزمایش میں اپنی ھی فوج پر بوجھ بن جاے گی کہ سول ادارے وجود ھی نہیں رکھتے‌ ۔۔۔

کسی کو اس پر سوچنا ھو گا اور جلدی‌۔۔
صفوں میں غدار ھوں اور قوم غیر تربیت یافتہ تو اسکا نتیجہ صرف ھمارے افسروں اور جوانوں کی شہادتوں پر منتج ھو گا۔
ھمارا کام اپنی کوتاہیوں کو رومانوی نعروں میں چھپانا نہیں ھے ۔۔۔ ھمارا ھر فوجی بیٹا ھیرے کی طرح قیمتی ھے۔ ھم نے انکو قربان نہیں کرنا بلکہ ان کے ذریعے دشمنوں کو مردار کرنا ھے۔
یھی ذمہداری ھے قیادت کی۔۔۔۔اگر نہ کر سکے تو ناکام ھیں۔۔۔ باقی یہ پاک سرزمین تو سایہ خداے ذوالجلال میں ھے۔۔۔
اللہ اکبر !!!!
سید زید زمان حامد

عالمی جغرافیائی سیاست کی بساط

مشرق وسطیٰ میں اس وقت عقل کو چکرا دینے والا فساد و انتشار برپا ہے۔ یہ دور دجل و فریب، جھوٹی اطلاعات کی نشرواشاعت اور نفسیاتی جنگ کا ہے۔ جہاں سحر سامری کے جدید حربے انسان کے ذہن کو غلام بنانے کا کام دے رہے ہیں۔جس میں میڈیا جدید ترین اور وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والا سب سے مہلک ہتھیار ہے۔ سی این این، بی بی سی، فاکس وغیرہ محض نیوز چینلز ہی نہیں ہیں، یہ ابلاغی جنگ میں ان جدید نفسیاتی ہتھیاروں سے لیس پلیٹ فارمز ہیں کہ جو ایٹمی ہتھیاروں کی طرح وسیع پیمانے پر تباہی پھیلارہے ہیں۔اگر آپ پوری طرح چوکنا نہیں ہیں تو یہ اپنے جھوٹے بیانیوں سے آپ کو مخمسے میں مبتلا کرکے نظریاتی تذبذب اور خوف کے اندھے کنویں میں دھکیل دیں گے۔ عام آدمی کیلئے میڈیا کے جھوٹ سے بچنا ناممکن ہے۔

عالمی جغرافیائی سیاست کا تجزیہ کرکے تہہ میں پہنچیں توپتہ چلے گا کہ مشرق وسطیٰ میں فساد اور افراتفری کا ایک ہی مقصد ہے اور وہ یہ ہے کہ ”عظیم تر اسرائیل“ کا قیام۔ باقی جو بھی انتشار جہاں بھی ہے، اسی ”عظیم مقصد“ کا شاخسانہ ہے۔اسرائیل کے دفاع اور تحفظ کیلئے اس کے گرد و پیش میں موجود تمام تر مسلم ممالک کا خاتمہ لازم ہے۔ اوراس کے دفاع اور تحفظ کیلئے یہ بھی اتنا ہی لازم ہے کہ کسی اسلامی ملک کے پاس جوہری ہتھیار بھی نہ ہوں۔اسرائیل اور بھارت کے اتحاد کا بھی یہی مقصد ہے اور آنے والے دنوں میں اسی اتحاد کی وجہ سے جنوبی ایشیاءمیں پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک خونریز جنگ بھی برپا کی جائے گی۔

اگرچہ ترکی ایک جوہری طاقت نہیں ہے، لیکن وہ ماضی کی ایک شاندار تاریخ اور تہذیب کا امین ہے، لہذا اسرائیل کیلئے ترکی کو راستے سے ہٹانا بھی ضروری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیل اور امریکہ پوری عرب دنیا میں خلافت عثمانیہ کے احیاءکا خوف پیدا کرکے اسے ترکی کے خلاف متحرک کررہے ہیں۔

جنوبی ایشیاءمیں آر ایس ایس کی نازی جماعت کا ابھرنا اور اس کا اسرائیل کے ساتھ پاکستان کے خلاف اشتراک بھی اس سارے تناظر کا ایک منطقی نتیجہ ہے۔ کیونکہ پاکستان ہی اپنے جوہری ہتھیاروں، اسلامی نظریاتی اساس اور جنگ کی بھٹی میں تپائی گئی فوج کے ساتھ، اسرائیل کے وجود کو درپیش سب سے بڑا خطرہ ہے۔ اسی خطرے کے سدباب کیلئے آر ایس ایس کی قیادت میں بھارت کو جلد از جلد پاکستان کے خلاف مشن سونپا جانا لازمی تھا۔

دوسری طرف امریکہ کے بڑے تزویراتی اہداف میں : اسرائیل کا دفاع، مسلم دنیا کوجوہری طاقت سے محروم کرنا، اسلام کا بحیثیت ایک سیاسی قوت سدباب کرنا، زیادہ سے زیادہ قدرتی وسائل اور ایندھن کے ذرائع پر اختیار حاصل کرنا، پانی اور تجارتی راستوں پر اجارہ داری اور چین اور روس کی جغرافیائی و اقتصادی پیش رفت کے آگے بند باندھنا شامل ہیں۔

اسرائیل یہ سمجھتا ہے کہ وہ ابھی تک پوری طرح محفوظ نہیں ہوا،اگرچہ وہ یہ کہتا ہے کہ اسے اپنے ہمسایہ عرب ممالک سے اب کوئی خطرہ نہیں ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ جب تک پاکستان اور ترکی اپنی جوہری اور فوجی طاقت کے ساتھ اپنے پیروں پر کھڑے ہیں، اسرائیل کبھی بھی خود کو محفوظ تصور نہیں کرسکتا۔ اسی خطرے کا قلع قمع کرنے کیلئے اسرائیل، امریکہ۔عرب اتحاد کو ترکی کے خلاف، اوربھارت کو پاکستان کے خلاف استعمال کررہا ہے۔

یعنی اگر ہم حقیقت کی دنیا میں رہتے ہوئے صورتحال کا جائزہ لیں تو اسرائیل کو اپنی بقاءکیلئے مزید جنگوں کی ضرورت ہے اور اب یہ جنگیں شروع بھی ہوچکی ہیں۔ مشرقی وسطیٰ میں بھی اور جنوبی ایشیاءمیں بھی۔ پاکستان اورترکی کو گرانا اس مقصد کیلئے ناگزیر ہے، اور اس مقصد کے حصول کیلئے خلیجی ممالک، عرب دنیا اور بھارت کے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔

بھارت جانتا ہے کہ پاکستان اسرائیل کیلئے خطرہ ہے اور اسی اسرائیلی خوف کو آر ایس ایس کے صیہونی استعمال کرکے اپنے توسیعی مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں کہ جن میں سرفہرست ”اکھنڈ بھارت“ کے دیو مالائی تصور کو عملی جامہ پہنانا ہے۔ اور جس کے لیے انہیں پاکستان سے ایک آخری اور نتیجہ خیز جنگ لڑنا ہوگی۔اسی مقصد کے حصول کیلئے بھارت اسرائیل کی دلالی کررہا ہے کہ جس کے صلے کے طور پراسے عالمی سطح پر امریکہ اور ا سکے حواریوں کی طرف سے تحفظ، اسلحہ اور ٹیکنالوجی مل رہی ہے، اور یہی وہ وجہ اور ضمانت ہے کہ جس کے بل بوتے پر مودی نے تمام تر دباﺅ کے باوجود نوے لاکھ کشمیریوں پر کرفیو نافذ کر رکھا ہے۔عالمی سیاست کا غنڈہ اسرائیل اپنے تمام تر سفارتی اثرورسوخ، اقتصادی طاقت اور وائٹ ہاﺅس میں اپنے اثر کو استعمال کرتے ہوئے پاکستان کے خلاف بھارت کی پوری طرح پشت پناہی کررہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ 70 دن کے شدید ظالمانہ کرفیو کے باوجود بھارت اس حوالے سے کوئی خاص دباﺅ محسوس نہیں کررہا۔

وزیراعظم عمران خان اپنی تمام تر نمائشی خود اعتمادی کے ساتھ بھی بھارت پر کوئی دباﺅ ڈالنے میں ناکام ہوچکے ہیں۔ اورا ب یہ صورتحال ہے کہ پاکستان کے پاس مزید چالیں چلنے کو بھی کچھ نہیں بچا، سوائے اس کے کہ اب انتظار کریں۔ یہ بات مودی کے لیے نہایت اطمینان کا باعث ہے کہ وہ کشمیر کے محاذ پر پاکستان کے خلاف سفارتی جنگ جیت رہا ہے۔ اس موجودہ صورتحال کو اگر بدلنا ہے تو پاکستان کو کوئی بہت بڑا غیرروایتی قدم اٹھاناہوگا۔ کچھ ایسا کرنا ہوگا کہ جو مودی کو اس قدر تکلیف میں مبتلا کردے کہ اسے اپنی موجودہ پالیسی بدلنی پڑے۔ بصورت دیگر مودی اپنے منصوبے کے اگلے مرحلے کی طرف پیش قدمی کرتا جائے گا، اور نتیجتاً ریاست پاکستان کا وجود ہی خطرے میں پڑسکتا ہے۔

اس سب سے یہ بھی اخذ ہوتا ہے کہ ہم جنگوں کے ایک طویل سلسلے میں داخل ہوچکے ہیں کہ جو مسلم ممالک کے قلب میں لڑی جائیں گی اور جس کی لپیٹ میں پاکستان سمیت پوری مسلم دنیا ہوگی۔ مشرق میں پاکستان سے لیکر مغرب میں ترکی تک، اور اس کے بیچوں بیچ مشرق وسطیٰ کا میدان جنگ، کہ جسے فتح کرنا اسرائیل کا سب سے بڑا خواب ہے۔

آج جو آپ پاکستان اور بھارت کے بیچ نسبتاً ٹہراﺅ دیکھ رہے ہیں، یہ دراصل ایک بڑے طوفان کی آمد سے پہلے کی خاموشی ہے۔ امن پسندی اور عدم تشدد کی نفسیات سے پاکستان کی قیادت کے کچھ بھی ہاتھ نہیں آئے گا۔ بلکہ یہ ممکنہ بھارتی حملے کی صورت میں قوم کو شدید نقصان پہنچانے کا باعث ہوگا۔پاکستان کی قیادت اور قوم کو یہ سمجھتا ہوگا کہ اب فیصلے کی گھڑی آن پہنچی ہے!

تحریر: سید زید زمان حامد

Design a site like this with WordPress.com
Get started