نہ سمجھو گے تو مٹ جاﺅ گے ۔۔۔

 تحریر: سید زید زمان حامد

مسلمانوں کی پوری تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی ہمیں دشمنوں نے باہر سے نقصان پہنچایا ہے تو اس کی بنیادی وجہ اندر کے غدار تھے۔اور اس بات کی بھی تاریخ گواہ ہے کہ یہ غدار اس لیے وار کرنے میں کامیاب ہوئے کہ انہیں وقت پر پکڑ کر سولی نہیں چڑھایا گیا۔مسلمانوں کی صفوں میں جب بھی غدار پیدا ہوئے ہیں، اللہ نے ہمیشہ ان کی ناپاک حرکتوں کو بہت پہلے ہی کھول کر مسلمان معاشرے کے سامنے رکھ دیا ہوتا ہے۔ چاہے عبداللہ بن ابئی منافق ہو، یا بغداد کا وزیر ابن علقمی، یا بنگال کا میر جعفر، یا دکن کا میر صادق، یا بنگال کا شیخ مجیب یا سندھ کا بھٹو اور الطاف۔
سلطان صلاح الدین ایوبی عالم اسلام کے ایک انتہائی رحمدل، دلیر اور اللہ اور اسکے رسولﷺ سے پیار کرنے والے سپہ سالار تھے۔ فتح بیت المقدس پر آپ نے فتح مکہ کی سنت زندہ کرتے ہوئے تمام کافروں کو معاف کردیا تھا، مگر آپ نے بھی کبھی نہ تو گستاخ رسول کو معاف کیا اور نہ ہی امت کے غداروں کو۔
آج پاکستان میں ہم یہ دیکھتے ہیں کہ دو ایسے بڑے گناہ ہیں کہ جن کی وجہ سے ریاست پاکستان تباہ و برباد ہو کر رہ گئی ہے، مگر ان دو گناہوں کو کرنے والوں کو سزا نہیں دی جاتی، اس بات کے باوجود کہ اس کو کرنے والے کھلم کھلا پورے معاشرے میں دندناتے پھرتے ہیں۔
۱۔ غداری، ۲۔ خیانت۔
پاکستان بننے سے لیکر آج تک کسی ایک غدار کو بھی عدالتی نظام کے ذریعے سزائے موت نہیں دی گئی۔پاکستان بننے سے لیکر آج کسی ایک خائن حکمران کو عدالتی نظام کے ذریعے سزائے موت تو دور کی بات، عمر قید تو دور کی بات، پانچ سال کی قید بھی نہ ہوئی۔آپ جو مرضی حکومتی پالیسی بنالیں، جتنی مرضی ”تبدیلی“ لے آئیں، مارشل لاءلگائیں، جمہوریت لائیں یا صدارتی نظام۔۔۔ اگر غداروں اور خائنوں کو سولی نہ چڑھائی تو جلد یا بدیر، خاکم بدہن، یہ پاک سرزمین بھی شام اور لیبیا بنتی نظر آتی ہے۔
کیا ہمارے حکمرانوں کا دماغ بالکل خراب ہوچکا ہے؟کیا ہماری عدلیہ بالکل ہی مفلوج ہے؟کیا ہماری فوج کے نزدیک اللہ اور اسکے رسولﷺ و ملک و قوم سے زیادہ اہم جمہوریت ہے؟تو پھر کیا وجہ ہے کہ ملک کے غداروں اور معاشی دہشت گردوں کو کھلا چھوڑا ہوا ہے؟؟؟
سال پہلے جب پی ٹی ایم کی بغاوت شروع ہوئی، تو اس فقیر نے سب سے پہلے اس کے خلاف اذان حق دے کر قوم کو بیدار کیا کہ یہ ایک نئی سی آئی اے کی پیدا کردہ لسانی بغاوت ہے۔ اس کے باوجود ان کتوں کو کھلا چھوڑا گیا، الیکشن لڑوا کر اسمبلی میں لایا گیا۔۔۔ اور اب بھی ان کے بارے میں خطرناک غفلت برتی جارہی ہے۔
حامد میر جیسے غدار، ننگ ملت، ننگ دین، ننگ قوم کو کون نہیں جانتا؟اس کے باوجود اس حرام خور غدار کے بیٹے کی شادی میں پورے پاکستان کی اشرافیہ نے بڑی بے شرمی اور ڈھٹائی سے شرکت کی۔ وہ حامد میر کے بیٹے کی شادی نہیں، پاکستان کی آبرو کا جنازہ تھا۔گزشتہ 11 برس سے یہ فقیر ایک احسان فراموش اور محسن کش قوم کو بیدار کرنے کیلئے تکبیر مسلسل دے رہا ہے۔ نہ آپ سے کچھ مانگ رہا ہے، سر ہتھیلی پہ رکھے جان و مال وعزت خطرے میں ڈال کر، قید و بند کی سختیاں برداشت کرتے ہوئے، اذان حق صرف اس لیے دے رہا ہے کہ شاید حکمرانوں میں کوئی غیرت مند ہو۔
کہیں فرقہ بندیاں ہیں، کہیں ذاتیں ہیںکیا زمانے میں پنپنے کی یہیں باتیں ہیں؟
پاکستان بننے سے پہلے قائد اور اقبال نے نظریہءپاکستان پر ایک قوم تیار کی تھی۔ قومیں معیشت سے نہیں، روحانی اور اخلاقی تعمیر سے عروج حاصل کرتی ہیں۔آج یہ قوم حقیقتاً یتیم ہے۔۔۔
جب پاکستان بن رہا تھا اور پھر بن چکا تو ہر طرف تباہی پھیلی ہوئی تھی، لاکھوں شہید ہوچکے تھے، لاکھوں مہاجرین لٹے پٹے پاکستان پہنچ رہے تھے، خزانہ خالی تھا، فوج موجود نہ تھی، ببول کے کانٹوں سے سرکاری کاغذ جوڑے جاتے مگر پھر بھی قوم حوصلے میں تھی کہ اس کے سر پہ بابائے قوم کا سایہ تھا۔آج ہم ایک ایٹمی طاقت ہیں، ہر قسم کے ظاہری وسائل رکھتے ہیں، مال و دولت کی ریل پیل ہے، ملک میں معدنیات کے خزانے ہیں، ہر طرح کی صنعت و حرفت ہے، اس کے باوجود قوم منتشر، خوفزدہ اور بے یقینی کا شکار۔ کیونکہ نہ تو نظریہ سلامت رہا، نہ قوم کے سر پہ باپ!بے سہارا یتیم بچوں کی طرح خوفزدہ۔
حال ہی میںترکوں نے ایک ڈرامہ ”الطغرل“ بنایا۔اس ایک ڈرامے نے پوری دنیا میں تہلکہ مچا کر رکھ دیا ہے۔ پوری ترک قوم کو نہ صرف یہ کہ زندہ کیا بلکہ عالم اسلام کی بھی ایسی شاندار تصویر دنیا کے آگے رکھی کہ مسلمان تو کیا کفار بھی انگشت بدنداں ہیں۔یہ ہوتا ہے میڈیا کا صحیح استعمال!آپ ترکوں کے تاریخی ڈرامے دیکھیں۔ ان کی تاریخی صوفیانہ اور عسکری موسیقی سنیں۔ انسان کے قلب و روح کی آخری گہرائیوں تک سرایت کرتی چلی جاتی ہیں۔ ایک آزاد قوم جو ہزار سال کی جلال و جمال کی تاریخ رکھتی ہو، ”شکوہ ترکمانی“ کی حامل ہو، ایسی شیر دلیر قوم کا مقابلہ ہمارے پاکستان کے غلام ذہن کہاں کرسکتے ہیں۔۔۔؟
پاکستان کا سب سے بڑا المیہ ہی یہی ہے کہ ہم ابھی تک غلام ہیں۔ ہمارے حکمران بھی غلام ہیں، ہمارے علماءبھی غلام ہیں، ہماری اشرافیہ بھی غلام ہے، ہمارا میڈیا بھی غلام ہے، ہمارے اساتذہ بھی غلام ہیں، ہمارے طالبعلم بھی غلام ہیں۔۔۔غلام ابن غلام ابن غلام ابن غلام۔۔۔ غدار غلاموں میں ہی پیدا ہوتے ہیں!!!
اسلامی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جب مسلمانوں نے اپنی حالت بدلنے سے انکار کردیا، غفلت اور غلامی پر راضی ہوگئے، غداروں کو اعلیٰ عہدوں پر فائز کردیا اور مصلحت کو عدل و صداقت پر ترجیح دینے لگے، تو پھر اللہ نے ایسی قوم کو ہمیشہ کفار کے ہاتھوں رسوا کیا ہے، چاہے سقوط بغداد ہو یا سقوط ڈھاکہ!
اس وقت پاکستان پر جو اشرافیہ حکمران ہیں، وہ ہماری تاریخ کی غافل ترین اشرافیہ ہے۔۔۔نہ محبت، نہ معرفت، نہ نگاہ، نہ سخن دلنواز، نہ جاں پرسوز، نہ ہاتھ پاک، نہ دل و نگاہ صاف۔انا للہ و انا الیہ راجعون۔
جب ملک میں ایسے حالات ہوں کہ جیسے آج ہیں، ایسے حکمران ہوں کہ جیسے آج ہیں، ایسا ظلم ہو کہ جیسا آج ہے، ایسی غداری ہو کہ جیسی آج ہے، ایسی خیانت ہو کہ جیسی آج ہے۔۔۔ تو پھر سمجھ لیں کہ اللہ اس قوم پر ایک بہت بڑی جنگ مسلط کرنے والا ہے۔ ہلاکو خان ایسی ہی قوموں پر آتے ہیں!!!
٭٭٭٭٭

سود ایک کا لاکھوں کیلئے مرگ مفاجات

تحریر: سید زید زمان حامد

ہم پی ٹی آئی کی حکومت کو پاکستان کی معیشت درست کرنے کیلئے چند انتہائی اہم اور مخلصانہ مشورے دینا چاہتے ہیں۔ باقی ان کا نصیب ہے کہ یہ ان سے فیض لیتے ہیں یا بدنصیب رہتے ہیں۔ہمارا کام اذان دینا ہے، چاہے کوئی جماعت کیلئے آئے یا نہ آئے۔۔۔ہم جانتے اور سمجھتے ہیں کہ موجودہ حکومت اور اس کے چلانے والے ملک میں شریعت کا فلاحی معاشی نظام قائم نہیں کرسکتے۔ حقیقت میں اسلامی فلاحی ریاست کفر اور سود کے معاشی نظام سے قائم نہیں کی جاسکتی۔ بات بالکل واضح ہے مگر کوئی انجان بنا رہے تو پھر یہ اس کا نصیب۔
اگر یہ حکومت ملک میں انکم ٹیکس ختم کردے تو ملک کی تمام مڈل کلاس اور تنخواہ دار طبقے پر سے بھاری معاشی دباﺅ ختم ہوجائے گا۔ یہی وہ طبقہ ہے کہ جو حقیقت میں ملک کو چلارہا ہے اور اپنی محدود آمدنی میں رہتے ہوئے بمشکل گزارہ کرپارہا ہے۔انکم ٹیکس ویسے بھی ایک حرام ٹیکس ہے۔ اللہ اور اسکے رسولﷺ نے اسے قطعاً حرام قرار دیا ہے کہ ایک مسلمان کی آمدنی پر جبری ٹیکس لگا کر حکومت اس سے اپنا حصہ نکالے۔ اسلام میں آمدن پر ٹیکس نہیں ہے، بچت پر ٹیکس ہے۔ملک میں 22 کروڑ میں سے صرف چند لاکھ افراد ہی انکم ٹیکس ادا کرتے ہیں، کہ جن میں سے اکثریت پاک فوج کے افسروں، تنخواہ دار سرکاری و نجی ملازمین اور چند ہی کاروباری افراد ہیں۔ باقی پورا ملک، غریب طبقہ اور ارب پتی جاگیردار اور تاجر انکم ٹیکس ادا کرتے ہی نہیں ہیں۔
ذرا سوچیں۔۔۔ اگر آج انکم ٹیکس ختم کردیا جائے تو تنخواہ دار طبقے کو کتنی آسانی ہوجائے گی؟؟؟سرکاری آمدنی سے 100-200 ارب روپیہ کم ہوجائے گا، مگر معاشرے کا اہم ترین طبقہ معاشی دباﺅ سے نکلنے لگے گا۔
سرکاری آمدنی کو اور ذرائع سے پورا کیا جاسکتا ہے۔اگر حکومت لوگوں کو یہ اختیار دے دے کہ یا تو آپ حکومت کو انکم ٹیکس دیں گے یا پھر زکوٰة، تو یقین مانیے پوری قوم بڑے شوق سے حکومت کو زکوٰة جمع کرائے گی۔ جو کہ انکم ٹیکس سے ہونیوالی آمدنی سے کئی گنازیادہ جمع ہوجائے گی۔ہر ماہ بھاری انکم ٹیکس کے بجائے سالانہ زکوٰة کون نہیں دے گا؟؟؟آجکل جو زکوٰة کا نظام بنکوں کے ذریعے رائج ہے، وہ بذات خود حرام اور شریعت کے ساتھ ایک مذاق ہے۔جس طرح نماز اور روزہ مسلمانوں کے ذاتی اختیار میں ہے، اور مسلمان حکومت کے کہے بغیر یہ کام کرتے ہیں، اسی طرح ملک میں کروڑوں افراد اپنی مرضی سے زکوٰة بھی ادا کرتے ہیں۔
اگر حکومت انکم ٹیکس معاف کردے اور لوگوں کو اختیار دے دے کہ اس کی جگہ وہ اپنی زکوٰة حکومت کو جمع کروائیں، تو مجھے یقین ہے کہ لاکھوں کروڑوں لوگ شوق سے اپنی سالانہ زکوٰة حکومتی خزانے میں جمع کرائیں گے۔جو زکوٰة نہ دے، اس پر شوق سے بھاری انکم ٹیکس لگائیں۔۔۔انکم ٹیکس ریٹرن کی جگہ لوگوں پر زکوٰة ریٹرن نافذ کریں۔ زکوٰة کا حساب لوگ خود کریں گے، جیسے کہ آجکل بھی کرتے ہیں۔جب آدمی صاحب مال و دولت ہے تو یقینا ہر سال اس کی زکوٰة نکلے گی اور اس کا حساب وہ حکومت کو جمع کرا کر ”زکوٰة فائلر“ بن جائے گا۔اللہ اور اسکے رسولﷺ نے مسلمان معاشرے کیلئے آسانیاں پیدا کی ہیں۔ کفر اور سود کا نظام معاشرے کیلئے مصیبتیں اور مشکلات پیدا کرتا ہےزکوٰة کا نظام نافذ کرنے سے نہ اتنی بھاری قانون سازی نافذ کرنی ہوگی، اور نہ ہی اتنی مقدمہ بازی۔ حکومت کیلئے بھی آسانی، مسلمان کیلئے بھی سہولت۔۔۔ حکومت کی آمدنی بھی کئی گنا بڑھ جائے گی۔اگر حکومت ذرا سختی کرے تو پاکستان کے بڑے بڑے ڈاکوﺅں،چوروں اور لٹیروں سے 20-25 ارب ڈالر نکلوانا بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔ یہ اتنی بڑی رقم ہے کہ حکومت فوری طور پر ملک کے متوسط طبقے کا انکم ٹیکس بھی معاف کرسکتی ہے اور غریب طبقے کیلئے کھاناسستا کرسکتی ہے۔ غلے اور سبزیوں کی قیمتوں کو لازماً کم رکھنا ہوگا۔
زراعت شرعی اسلامی ٹیکس کا نام ”عشر“ ہے۔ جب بھی فصل پیدا ہوتی ہے، حکومت اس میں سے 10 فیصد غلہ بیت المال کیلئے الگ کرلیتی ہے، کہ جو غریب مسلمانوں کی فلاح کیلئے خرچ ہوتا ہے۔زراعت کو ہر حال میں کم قیمت بنانا لازم ہے۔ کسان کے تمام ٹیکسز معاف اور فصل کی اچھی قیمت لازم ہے۔
صدر ایوب خان کو جب بھی کوئی وزیر یا انٹیلی جنس ایجنسی ملک کے کسی حصے میں بد امنی کی اطلاع دیتی تو ایوب خان کا ان سے ایک ہی سوال ہوتا: ”ملک کی فصلیں کیسی ہیں؟“جب جواب ملتا کہ فصلیں ٹھیک ہیں، تو ایوب خان کہتے: ”پھر فکر نہ کرو، ملک میں کوئی فساد پیدا نہیں کرسکتا۔“آج ملک میں کسانوں کو تباہ و برباد کرکے رکھ دیا گیا ہے۔ کھاد، بیج، ادویات، پانی، بجلی، غرضیکہ ہر چیز پر یا تو بھاری ٹیکس ہیں یا سہولیات سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ پھر کسان کو اپنی فصل کی قیمت بھی پوری نہیں ملتی۔ مثلاً ملک میں صرف شوگر مل مافیا گنے کے کسانوں کی کمر توڑ کر کوڑیوں کے مول فصل خریدتا ہے۔
ملک میں اگر فصلیں ٹھیک ہوں، کسان خوشحال ہو، خوراک وافر اور سستی ہو۔۔۔ اور ملک کا متوسط طبقہ بھاری ٹیکسوں کے بوجھ تلے پس نہ رہا ہو، تو یہ حکومت کو بڑے بڑے قومی اور معاشی طوفانوں سے بچانے کا باعث بن جاتی ہے۔ اگر غریب طبقہ بپھرا ہوا ہو، بھوکا ہو اور متوسط طبقہ پس رہا ہو، پھر حکومت خطرے میں ہی رہتی ہے۔۔۔انکم ٹیکس ختم کریں، پٹرول پر ٹیکس ختم کریں، زراعت کو سہولتیں دیں، زکوٰة نافذ کریں، عشر نافذ کریں، بیت المال کو فعال کریں۔۔۔اگر حکومت وقت صرف یہ چند کام ایمانداری، محنت اور لگن سے کرلے، پھر اسے کوئی دشمن یا کوئی اپوزیشن ہلا نہیں سکتی۔
٭٭٭٭٭

ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں

تحریر: سید زید زمان حامد

پاکستانیو۔۔۔! جنگ کے پہلے دور میں اللہ نے اپنا کرم اور احسان فرمایا اور دشمن کو رسواءکیا۔ مگر یاد رکھو ہرگز تکبر نہ کرنا کہ اللہ غرور کو پسند نہیں فرماتا۔ جو کامیابی تمہیں ملی ہے وہ اللہ کے فضل و کرم سے ملی ہے اور یاد رکھو کہ جنگ ابھی جاری ہے۔ہم مسلمانوں کو اللہ کا حکم ہے کہ جنگ کیلئے ہر وقت اپنے ہتھیار اور گھوڑے تیار رکھیں۔ مگر ساتھ ساتھ یہ بھی حکم ہے کہ جنگ کی خواہش نہ کریں، لیکن اگر جنگ مشرکوں کی جانب سے مسلط ہو تو پھر دل جگر اور جان سے اللہ اور اسکے رسولﷺ کی خاطر لڑیں۔ اور ہرگز تکبر نہ کریں، اور اللہ کا ذکر کثرت سے کریں۔
اس حالیہ جھڑپ میں اللہ نے پوری دنیا کے سامنے واضح کردیا کہ کس طرح یہ یہود و ہنود و نصاریٰ اکٹھے ہو کر اس مدینہءثانی کے خلاف حملہ آور ہوئے تھے۔ بیشک اللہ نے اپنا احسان فرمایا، پاک فوج، فضائیہ اور بحریہ کو عزت بخشی، قوم کو حوصلہ دیا اور دشمنوں کو رسوا کیا۔
پچھلے 12 برس سے ، یہ فقیر اپنی قوم کو ہندو مشرکوں کی جانب سے اٹھنے والے خطرات سے آگاہ کررہا تھا۔ اس اذان دینے کی بڑی بھاری قیمت بھی ادا کی۔ مخالفت ہوئی، مقدمات قائم ہوئے، قید و بند کی صعوبتوں سے گزرنا پڑا، رزق اور معاش کی تنگی کا سامنا ہوا۔۔۔ مگر اللہ کا شکر و احسان ہے کہ آج پوری قوم غزوہ ہند کی نعمت سے آگاہ ہوچکی ہے۔یہ شکر کا وقت ہے، بھنگڑے ڈالنے کا نہیں۔ جنگ تو ابھی صحیح معنوں میں شروع بھی نہیں ہوئی۔ آنے والے وقتوں میں ہمیں نقصان بھی ہوگا، شہادتیں بھی دینی پڑیں گی، اقتصادی نقصان بھی ہونگے۔۔۔ صبر اور استقامت سے ان کا سامنا کرنا۔ ایسا نہ ہو کہ ذرا سی چھوٹ لگے اور ہم مایوس ہوکر ماتم کرنا شروع کردیں۔
ہمارا دشمن ایک نہیں ہے۔ اور جتنے بھی ہیں سب کے سب انتہائی مکار اور کمینے ہیں۔ سیدی رسول اللہﷺ کے اس مدینہءثانی کو ان کمینوں نے چاروں طرف سے گھیر رکھا ہے۔ ملک کے اندر غداروں کی پوری کھیپ موجود ہے۔ ایسے میں یقینی طور پر ہمیں نقصان اٹھانا پڑسکتا ہے۔ کبھی وہ نقصان اٹھائیں گے، کبھی ہم۔۔۔
غزوہ ہند کا آخری اور فیصلہ کن معرکہ کب ہوتا ہے، اس کا فیصلہ ہمارے رب نے کرنا ہے۔” فتح مکہ“ سے پہلے ”بدر“ ”احد“ اور ”خندق“ بھی آئے تھے۔ ”فتح دہلی“ تک آخری معرکے سے قبل ہماری مشرکوں کے ساتھ سینکڑوں جھڑپیں ہونگی اور ان کا آغاز ہوچکا ہے۔ یہ سب غزوہ ہند کا حصہ ہیں۔لوگ ہم سے سوال کرتے ہیں کہ ہم کس طرح اس غزوہ میں شریک ہوسکتے ہیں؟ہر وہ مسلمان جو غزوہ ہند کی نیت رکھے وہ اس کا اجر پائے گا۔ہر وہ مسلمان جو ہاتھ، زبان اور عمل سے پاک فوج کی حمایت کرے اور مشرکوں پر حملے کرے وہ اس غزوہ میں شریک ہے، چاہے پاک فوج میں ہو یا سوشل میڈیا پر بیٹھا ہوا طالبعلم۔۔۔
اس پہلی جھڑپ میں ذلیل ہونے کے بعد ہمارا مشرک اور کمینہ دشمن دوبارہ سے گھات لگا کر ڈسنے کیلئے تیار بیٹھا ہے۔ سامنے سے آکر تو رسوا ہوا، اب بذدلوں کی طرح پیچھے سے وار کرے گا۔ آنے والے دنوں میں دہشت گردی کی نئی لہر ملک میں آسکتی ہے، اور بحری یا فضائی راستوں سے بھی دشمن حملہ کرسکتا ہے۔بیدار رہو اور حوصلہ رکھو۔۔۔
یاد رکھو کہ آج نہ تو نماز قائم آئے گی، نہ روزہ، نہ زکوٰة، نہ حج۔۔۔ اگر اس پاک سرزمین کے ساتھ خیانت کی تو۔یہ مدینہءثانی سیدی رسول اللہﷺ کی امانت ہے، غزوہ ہند کا مرکز ہے، اور آنے والے وقتوں میں امت مسلمہ کی آبرو کا محافظ۔مشرکوں کے خلاف آج جو بھی خاموش بیٹھے ہیں، خائن اور غدار ہیں۔
شہادت ہے مطلوب و مقصود مومننہ مال غنیمت، نہ کشور کشائی

اے پی ایس کے بچوں کے والدین سے پوچھیں۔۔۔!

تحریر: سید زید زمان حامد

آج ہماری باتیں ذرا سخت ہونگی، حوصلے سے سنیے گا۔
ہماری براس ٹیکس کی چھوٹی سی ٹیم اللہ کے فضل سے لاکھوں لوگوں سے زیادہ پاکستان اور امت کے دفاع میں کام کررہی ہے۔ لہذا جب ہم آپ کو کوئی کام کرنے کو کہیں، تو واپس ہمیں نہ کہہ دیا کریں کہ ہم ہی اسے کریں۔ہماری قوم کی ایک سخت خراب عادت ہے کہ ہاتھ پاﺅں توڑ کر پڑے رہتے ہیں کہ نوالہ بھی کوئی اور توڑ کر منہ میں ڈالے۔جب ہم نے آپ سب سے یہ کہا کہ اپنے اور اپنے گھر والوں کو ہتھیاروں کی تربیت دلوائیں، تو فوراً ہی شور شروع ہوگیا کہ ”کیسے کریں۔۔۔کہاں کریں۔۔۔ آپ ہمیں کرائیں۔۔۔ آپ بتائیں لائسنس کیسے ملے گا۔۔۔“
ہم نے ایک بات آپ سے کہہ دی ہے۔ اگر عمل کریں گے تو آپ کیلئے دنیا و آخرت میں خیر ہے۔ فضول کی بحث کریں گے، تو جلد ہی آپ کو لگ پتہ جائے گا۔عراق، شام، لیبیا، افغانستان اور یمن کو دیکھ لیں۔۔۔ جنگیں عام مسلمانوں کو ہی کرنی پڑ رہی ہیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایک شاندار مسلح افواج دی ہیں۔ مگر اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ آنے والے دور میں جنگیں صرف مسلح افواج کو نہیں، عوام الناس کو بھی ان کے شانہ بشانہ لڑنا پڑیں گی۔
1948 ءمیں کشمیر بھی قبائلی مجاہدین نے آزاد کرایا تھا۔ 1965 ءکی لڑائی میں سندھ کے دفاع کی بڑی ذمہ داری ”حر مجاہدین“ کے پاس تھی۔
حالیہ خوارج کے خلاف جنگوں میں بہت بڑی تعداد میں محب وطن قبائلی لشکروں نے پاک فوج کے ساتھ ملکر خوارج کا صفایا کیا۔بلوچستان میں محب وطن قبائل بی ایل اے کے دہشت گردوں کے خلاف لڑرہے ہیں۔
پہلے پاکستان کی یونیورسٹیوں اور کالجوں میں NCC ہوا کرتی تھی۔ ہم سب نے کی ہے اور باقاعدہ ہتھیار استعمال کرنے کی تربیت فوجی افسروں اور جوانوں سے حاصل کی۔ ترکی اور ایران میں آج بھی نوجوانوں کی لازمی فوجی تربیت اور ڈیوٹی ہوتی ہے۔ پوری قوم کو ملکی دفاع کیلئے تیار کیا جاتا ہے۔
ہمارا کام آپ کو نصیحت کرنا ہے۔ ہم سے بحث نہ کریں۔اگر قانونی ہتھیار کا لائسنس نہیں ہے، تو ایئر گن تو خرید ہی سکتے ہیں ناں۔۔۔ ہتھیاروں کے استعمال اور نشانہ بازی کی تمام تر تربیت آجکل کی جدید ایئر گن سے کی جاسکتی ہے۔ نہ لائسنس کی ضرورت، نہ کوئی زیادہ خطرہ، نہ قانون شکنی۔۔۔ہم برسوں سے کوشش کررہے ہیں کہ ملک میں نوجوانوں کو لازمی فوجی تربیت کا نظام نافذ کیا جاسکے۔ہم یہ بھی کوشش کررہے ہیں کہ حکومت نئی اسلحہ پالیسی میں قانون پر عمل کرنے والے شہریوں کو اسلحہ رکھنے کی اجازت دے۔اپنے طور پر قوم کی جو تربیت ہوسکتی ہے وہ ہم ویڈیوز بنا کررہے ہیں۔
ہندوستان سے ہونیوالی حالیہ جھڑپوں کے بعد تو اس بات کی اور بھی ضرورت ہوگئی ہے کہ پوری قوم اپنی مسلح افواج کے شانہ بشانہ ملک و قوم و ملت کے دفاع کے لیے تربیت یافتہ بھی ہو، منظم بھی ہو اور پراعتماد بھی۔تربیت زمانہ امن میں ہی ہوتی ہے، میدان جنگ میں صرف احمق تربیت کرتے ہیں۔
بہت سے لوگ ہم سے بحث کرتے ہیں کہ اگر ہر ایک کے پاس ہتھیار ہوگا تو اس سے جرائم میں اضافہ ہوجائے گا۔بات صرف اسلحہ رکھنے کی نہیں ہے، قوم کی تربیت اور قانون کو نافذ کرنے کی بھی ہے۔سوئزر لینڈ میں ہر شہری کے پاس اسلحہ ہے، اور جرائم صفر۔۔۔!!!اگر شہر میں فائر بریگیڈ موجود ہو تو، تو کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ اب گھر میں آگ بھجانے کا آلہ نہ رکھیں؟بالکل اسی طرح شہر میں پولیس اور فوج موجود ہوتی ہے، مگر گھر میں رکھا ہوا قانونی اسلحہ گھر کی حفاظت کا ضامن بھی ہے اور ہمارا قانونی و شرعی حق بھی ہے۔
سیدی رسول اللہﷺ نے کسی وجہ سے اپنی امت کو نصیحت فرمائی ہے کہ اسلحہ رکھو اور تیر اندازی کی تربیت حاصل کرو۔ہمیں اللہ اور اسکے رسولﷺ سے آگے پیش قدمی کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ایک آزاد اور ایک غلام قوم کے درمیان فرق ہی یہی ہے کہ ایک آزاد قوم کے افراد کو اسلحہ رکھنے کی اجازت ہوتی ہے۔آنے والے وقتوں میں جو جنگیں ہونگی وہ شہروں میں ہونگی۔ کوئی بھی ”سویلین“ نہیں رہے گا۔ صرف یہ توقع کرنا کہ پاک فوج اکیلے ہی جنگیں لڑ کر جیت جائے گی، نہ صرف حماقت ہے، بلکہ خطرناک بھی۔پاک فوج ہمارے ہی بیٹے ہیں۔ انکی صفوں کو مضبوط کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔
ہم لائسنس بنوانے میں آپ کی کوئی مدد نہیں کرسکتے۔ نہ ہم لوگوں کو فوجی تربیت دے سکتے ہیں۔ یہ سب کام ریاست اور حکومت کے ہیں۔ہم نصیحت کرسکتے ہیں، ویڈیوز بنا کر آپ کو سکھا سکتے ہیں، سوشل میڈیا پر حکومت پر دباﺅ بڑھاسکتے ہیں، مگر جو کرنے کا کام ہے وہ حکومت اور ریاست کا ہے۔میں حکومت وقت اور پاک فوج کی قیادت دونوں سے ایک مرتبہ پھر بڑی تاکید سے کہوں گا کہ ترکی اور ایران کی طرح نوجوانوں کیلئے فوجی تربیت کا انتظام کریں۔قانون کی پابندی کرنے والے محب وطن شہریوں کو اسلحہ کے لائسنس جاری کریں اور ملک میں جگہ جگہ ”گن کلب“ کھولیں کہ جہاں محفوظ طور پر مشق کی جاسکے۔
جس طرح گھر کے ایک سربراہ کی ذمہ داری ہے کہ اپنے گھر کے افراد کی ایسی تربیت کرے کہ وہ خطرات میں اپنی حفاظت کرسکیں، بالکل اسی طرح ملک کے سربراہ اور سپہ سالار کی بھی یہ ذمہ داری ہے کہ اپنی پوری قوم کو آنے والے خطرات کیلئے تیار رکھیں۔ ایک غیر تربیت یافتہ، غیر مسلح اور غیر منظم قوم صرف دشمنوں کو دعوت دیتی ہے کہ اس کے اوپر بھوکے بھیڑیوں کی طرح بار بار ٹوٹ پڑتے رہیں۔
دہشت گرد کسی قانون کو نہیں مانتے۔ ان کے مقابلے پر اپنے شہریوں کو نہتا رکھنا قوم پر سب سے بڑا ظلم ہے۔
اے پی ایس کے بچوں کے والدین سے پوچھیں۔۔۔!٭٭٭٭٭

حکومت، ریاست اور بیوروکریسی

تحریر سید زید زمان حامد

آج پاکستان کے حوالے سے کچھ اہم باتیں آپ سے کرنی ہیں۔آپ کو فرق سمجھانا ہے: حکومت میں، ریاست کے نظام میں، اور سرکاری ملازمین میں۔ملک کو حکومت نہیں چلاتی، ریاست کا نظام اور سرکاری ملازم چلاتے ہیں۔آئیں آپ کو تفصیل سے بتاتے ہیں۔
ریاست پاکستان ان تین چیزوں کا مجموعہ ہے۔
-1 حکومت پاکستان، (جو کہ تبدیل ہوتی رہتی ہے۔)
-2 نظام پاکستان، (جو 47 ءسے آج تک ویسا ہی ہے۔)
-3 بیوروکریسی، (کہ جو پکے سرکاری ملازم ہوتے ہیں، چاہے کوئی بھی حکومت آئے یا جائے۔)
اس بات کو اچھی طرح سمجھ لیں کہ پاکستان کے ریاستی نظام میں وزیراعظم پاکستان بھی اس قدر بے بس عہدہ ہے کہ وہ اپنی مرضی سے ایک سرکاری ملازم کو بھی نہیں ملازمت سے برخاست نہیں کرسکتا۔دوسری جانب نظام میں موجود خائن اور بدکار سرکاری ملازمین پورے ریاستی نظام کو جام کرسکتے ہیں، اگر یہ چاہیں تو۔۔۔سیاسی نمائندے پاکستان میں اکثریت جاہل ہی ہوتے ہیں۔ نہ وہ نظام کو جانتے ہیں، نہ بیوروکریسی کے کام کرنے کے طریقہءکار کو۔ لہذا جب کوئی منتخب سیاسی نمائندہ کرپشن کرنا چاہتا ہے تو اس کیلئے اسے لازماً بیوروکریسی کا سہارا لینا پڑتا ہے۔لہذا جب بھی کرپٹ سیاسی لیڈروں پر ہاتھ ڈالا جاتا ہے تو لازمی طور پر ان سے وابستہ بیوروکریسی کے خائن طبقے پر بھی ہاتھ پڑتا ہے۔ دونوں کے درمیان چولی دامن کا ساتھ ہے۔ اب یہاں سے مشکل شروع ہوتی ہے۔ سرکاری ملازموں پر ہاتھ ڈالو تو وہ ریاست کو جام کرنے لگتے ہیں۔
1947 ءمیں قائداعظم نے جو پہلی تقریر کی، اس میں بھی انہوں نے جو پاکستان کے سب سے بڑے مسائل کا ذکر کیا تھا، ان میں کرپشن سر فہرست تھی۔ اور آج بھی کرپشن سرفہرست ہی ہے۔ تو ستر سالوں میں کیا بدلا؟اب ذرا سوچیں! کہ حکومتیں تو درجنوں آئیں، کرپشن کیوں نہیں ختم ہوئی؟؟؟
آئیں اب ذرا پاکستان میں رائج نظام کی بات کرتے ہیں۔نظام کہتے کس کو ہیں؟
ملک کا عدالتی نظام، ملک کی بیوروکریسی کا نظام، ملک کی معیشت کا نظام، ملک کا تعلیمی نظام، ملک کا سیاسی نظام۔۔۔یہی سب ملکر ریاست کا نظام بناتے ہیں۔ اور یہ سب ہی انگریز کے بنائے ہوئے ہیں۔
تو اب مسئلہ کیا ہے؟کیوں عمران خان ایک ایماندار اور مخلص وزیراعظم ہوتے ہوئے بھی اس قدر بے بس ہے؟الیکشن کے نتیجے میں پی ٹی آئی کی حکومت آئی ہے، مگر ملک میں بیوروکریسی اور نظام وہی قائم ہے جو پچھلے 70 برس سے ملک کو لوٹ کر تباہ و برباد کررہا ہے۔
جب مارشل لاءکی حکومتیں آتی ہیں، تو وہ آکر بیوروکریسی پر سختی کرتی ہیں۔ایسے دور میں ہوشیار بیوروکریسی سر نیچے کرکے کام کرتی ہے اور وقت کے گزرنے کا انتظار کرتی ہے۔ سب کو معلوم ہے کہ مارشل لاءکا دور بھی گزر ہی جانا ہے۔ اس دور کے گزرنے کے بعد جب جمہوریت آتی ہے تو پھر وہی بندر تماشا شروع ہوجاتا ہے۔
ایوب خان کے دور میں کیوں پاکستان نے حیرت انگیز ترقی کی؟ایوب خان کو چند بہت ہی قابل اور ایماندار بیوروکریٹ مل گئے تھے، کہ جنہوں نے ملک کی تقدیر ہی تبدیل کرکے رکھ دی۔ غلام اسحاق خان، قدرت اللہ شہاب اور ان جیسے سرکاری ملازمین نے پوری ریاست پاکستان کو سنبھالا ہوا تھا۔گو کہ ایوب خان کے دور میں نظام پھر بھی وہی قدیم اور بوسیدہ انگریزوں کے دور کا تھا، مگر فوج کے ڈنڈے اور انتہائی قابل سرکاری افسروں کی وجہ سے ملک دن دگنی رات چوگنی ترقی کررہا تھا۔ یعنی اگر سخت مضبوط حکومت ہو تو اور قابل بیوروکریٹ تو اس غلیظ نظام میں بھی کچھ نہ کچھ کام کیا جاسکتا ہے۔
اسی لیے آپ پاکستان کی تاریخ اٹھا کر دیکھیں تو ملک نے سب سے زیادہ ترقی ایوب خان کے دور میں اور پھر جنرل ضیاءکے دور میں کی اور اس کے بعد کسی حد تک جنرل مشرف کے دور میں۔سیاسی حکومتوں کے تمام ادوار پاکستان کی تاریخ میں صرف لوٹ مار، بدانتظامی اور اداروں کی تباہی کے ہیں۔سیاسی دور میں ہوتا یہ ہے کہ چور اور ڈاکو سیاست دان اقتدار میں آتے ہی اپنے ہم خیال چور اور ڈاکو سرکاری افسروں کو اعلیٰ ترین عہدوں پر فائز کرکے اجتماعی طور پر ملک کو لوٹنے کا آغاز کرتے ہیں۔ایک کمزور نظام کی موجودگی میں اس سیاسی اور سرکاری خیانت کوروکنے کا کوئی سوچ بھی نہیں سکتا۔
اب آئیں پی ٹی آئی کی حکومت کی طرف۔
عمران کی حکومت نے جب آکر نواز شریف اور زرداری کی خیانت پر ہاتھ ڈالا تو ان سے وابستہ تمام بیوروکریسی بھی شکنجے میں آنے لگی۔ نتیجتاً وہی ہوا کہ جو ہمیشہ ہوتا آیا ہے۔ بیوروکریسی نے کام بند کردیا۔پچھلے دنوں خود عمران نے اس بات کی شکایت کی کہ بیوروکریسی ان کی حکومت کا ساتھ نہیں دے رہی۔ اب آپ کو اس شکایت کی وجہ سمجھ آگئی ہوگی۔اس بیوروکریسی کو قابو کرنے کے دو ہی طریقے ہیں۔
یا فوجی حکومت کا ڈنڈا ہو۔یا نظام کو تبدیل کردیا جائے، کہ جہاں کم از کم وزیراعظم با اختیار ہو۔لہذا پی ٹی آئی کی حکومت کے سامنے ہمالیہ جیسا پہاڑ کھڑا ہے۔ وہ کام کرنا بھی چاہتے ہیں، مگر نہ نظام ساتھ دے رہا ہے، نہ بیوروکریسی، نہ ان کے پاس فوج کا ڈنڈا ہے۔ ایسے میں پی ٹی آئی کی حکومت صرف اپنے آپ کو رسوا کرے گی۔۔۔ اور خائن اور چور نظام کو استعمال کرکے ان کے جانے کا انتظار کریں گے۔
ایسے میں عمران کیا کرے؟؟؟اس بات کا ہمیں بہت پہلے اندازہ تھا اور اسی لیے ہم الیکشن سے پہلے بار بار کہتے تھے۔۔۔ ”پہلے احتساب، پھر انتخاب“۔
ہم عمران کی حکومت کی مدد کرنا چاہتے ہیں۔ ہم اگر ان پر تنقید بھی کرتے ہیں تو اخلاص سے اصلاح کی خاطر ہوتی ہے۔ نہ میں پٹواری ہوں، نہ میں جیالا۔ لہذا ہماری تنقید ہمیشہ پاکستان اور امت مسلمہ کے مفاد میں ہوتی ہے، لہذا حکومت ہو یا ”یوتھیے“ اپنے ساتھ دشمنی کریں گے، اگر ہمیں دشمن سمجھیں گے تو۔
پارلیمنٹ میں اکثریت نہ ہونے کی وجہ سے عمران فی الحال نظام تو تبدیل نہیں کرسکتا۔ حکومت بنے آٹھ مہینے ہونے کو آرہے ہیں کوئی ایک بھی قانون سازی پارلیمنٹ کے ذریعے نہیں ہوسکی، اور نہ ہوگی۔ سوائے ایسی لوٹ مار کی قانون سازی کے کہ جیسی پنجاب اسمبلی نے کی۔نظام تو فسادی ہے ہی، پی ٹی آئی کی حکومت کے پاس قابل وزیر اور قابل بیوروکریٹ بھی نہیں ہیں۔ پچھلے دس سال کی جمہوری غلاظت نے پاکستان کی سول سروس کو تباہ و برباد کرکے رکھ دیا ہے۔ فواد حسن فواد جیسے بیوروکریٹس نے اپنے ہی جیسے ڈاکو پوری سول سروس میں گھسیڑ دیئے ہیں۔
ہماری قوم، اسکے دانشور اور اشرافیہ بھی عجیب الجھن کا شکار ہیں۔ ہم ترقی چین جیسی چاہتے ہیں، مگر اس جمہوری غلاظت اور بدبودار نظام کی لاش کے ذریعے جو انگریز ہمارے لیے مردار چھوڑ کرگیا ہے۔ہم ایوب خان کے دور کی ترقی تو چاہتے ہیں، مگر مارشل لاءکو گالیاں بھی اسی شدت سے دیتے ہیں۔
جب حکومت، ریاستی نظام اور بیوروکریسی کا یہ حال ہو کہ جیسے آج پاکستان میں ہے، تو پھر کوئی قانون، آئین یا عدلیہ ریاست کا نظام درست نہیں کرسکتے۔ اور یہی سب کچھ آج ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ ایسے میں صرف ڈنڈا کام کرتا ہے۔یہ بات بالکل طے ہوچکی ہے کہ پاکستان کی عدلیہ مکمل طور پر فاسد شدہ اور فرسودہ قوانین اور نظام پر مبنی ہے۔ اور ملک میں پھیلنے والی تمام بیماریوں کی جڑ ہے، دوا نہیں۔ لہذا عدل نام کی کوئی چیز اس ملک میں وجود نہیں رکھتی۔ اور جب عدل نہ ہو، تو پھر ظلم اور فساد ہی رہ جاتا ہے۔سیدنا علیؓ نے فرمایا تھا کہ ”ریاستیں کفر کے ساتھ تو قائم رہ سکتیں ہیں، مگر ظلم کے ساتھ نہیں!“آج پاکستان کی اشرافیہ، حکومت اور خاص طور پر سپہ سالار کو سیدنا علیؓ کے اس قول پر سنجیدگی سے توجہ دینی چاہیے۔ آج پاکستان کی تقدیر کے ان کے ہاتھوں میں ہے، حساب بھی انہی سے لیا جائے گا!!!
بابا بلھے شاہؒ نے شاید پاکستان کے نظام حکومت ، ریاست اور بیوروکریسی کے بارے میں ہی فرمایا تھا:
چار کتاباں اتوں لتھیاںاتوں لتھیا ڈنڈاچار کتاباں کج نہ کیتاسب کج کیتا ڈنڈا!٭٭٭٭٭

سوال بھی انہی سے کیا جائے گا۔۔۔!

تحریر: سید زید زمان حامد

آج بلوچستان میں ہماری تینوں مسلح افواج کے 14 جوانوں کو بڑی بے دردی سے بسوں سے اتار کر شہید کیا گیا۔ہم کس قسم کی بے حس اور بے غیرت قوم ہیں؟بڑے سے بڑا سانحہ ہو، اے پی ایس میں بچے ذبح ہوجائیں، دھماکوں میں سینکڑوں شہید ہوجائیں، ہمیں کوئی فرق ہی نہیں پڑتا۔آج شہید ہونیوالے 14 جوانوں کا خون ہم کس کے ہاتھوں پر تلاش کریں؟ ابھی اس دلدوز سانحے کو چوبیس گھنٹے نہیں گزرے کہ قوم اسے بھول کر اسد عمر کے استعفے پر توجہ مرکوز کر بیٹھی۔اتنی کم یادداشت یا تو صرف بچوں کی ہوتی ہے یا ذہنی معذوروں کی۔۔۔
دشمن بھی معلوم ہے، اس کے آلہءکار بھی معلوم ہیں، اس کے سہولت کاروں کا بھی معلوم ہے، اس کے ٹھکانوں کا بھی پتہ ہے، اس کے حمایتیوں کی بھی نشاندہی ہے، ہتھیار اور طاقت بھی موجود ہے۔پھر بھی حکومت مفلوج ، ریاست مفلوج۔۔۔ آخر کیوں؟؟؟
بھارتی مشرکوں سے حالیہ جھڑپ کے بعد تو یہ بات بالکل واضح ہوچکی تھی کہ وہ ملک کے اندر دہشت گردی بھی کرے گا اور مشرقی سرحدوں کی جانب سے حملے بھی۔اسی لیے ہم نے کہا تھا کہ ابھی اس کا پائلٹ رہا نہ کریں۔ کلھبوشن یادیو کی طرح کا ایک اور افسر ہمارے قبضے میں آگیا تھا۔ مگر ہم بھی تو۔۔۔
سوال یہ ہے کہ اب کیا کرنا ہے؟
مزید لاشیں اٹھانی ہیں؟ یہی دفاعی اور بزدلانہ رویہ ”جذبہءخیرسگالی“ کے طور پر قائم رکھنا ہے؟ یا پھر آگے بڑھ کر جارحانہ اقدام کرتے ہوئے داخلی غداروں اور خارجی دشمنوں کا سرقلم کرنا ہے؟یاد رکھیے گا کہ جس قوم نے جنگ سے بچنے کیلئے ذلت و رسوائی کا راستہ اختیار کیا اس کے نصیب میں ذلت و رسوائی بھی ہوتی ہے، جنگ بھی اور غلامی بھی۔حکومت بدلنا، نظام بدلنا آسان ہے۔ملک بنانا بہت مشکل ہے۔
کیا ابھی بھی وقت نہیں آیا کہ ملک میں جنگی ہنگامی صورتحال نافذ کی جائے؟ دہشت گردوں کے خلاف مکمل اختیارات پاک فوج کو دے دیئے جائیں؟ کیا اشرافیہ کو، حکومت کو، عدلیہ کو، ابھی بھی نظر نہیں آرہا کہ ہم حالت جنگ میں ہیں؟ کیا یہ سب اندھے، گونگے اور بہرے ہوچکے ہیں؟
ہمیں افغانستان کے اندر جا کر ان کے ٹھکانوں پر حملہ کرنا ہوگا۔ہمیں پاکستان کے اندر ان کے تمام حمایتیوں اور سہولت کاروں کو ہر حال میں قتل کرنا ہوگا چاہے کھل کر کریں یا خفیہ طور پر۔ہمیں ہر حال میں فوج کو مکمل اختیار دینا ہوگا۔ہمیں ہر حال میں فوجی عدالتوں کو آزاد کرنا ہوگا۔
حکومت کو بھی اب فوری طور پر نئی اسلحہ پالیسی نافذ کردینی چاہیے۔ ہر پاکستانی شہری جو ٹیکس ادا کرتا ہے، سرکاری یا غیر سرکاری ادارے میں کام کرتا ہے، صاف ستھرا قانونی ریکارڈ رکھتا ہے، اسکا یہ اسلامی، آئینی و قانونی حق ہے کہ وہ اپنی حفاظت کیلئے اسلحہ رکھ سکے۔اگر ریاست قانون نافذ کرنے میں ناکام ہے، شہریوں کی جان، مال و عزت کی حفاظت کرنے سے قاصر ہے، اور ملک حالت جنگ میں ہے تو پھر اس سے بڑا ظلم مسلمانوں پر اور کیا ہوگا کہ انہیں نہتہ کرکے دشمنوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جائے، جیسا کہ بلوچستان میں 14 مسلح افواج کے جوانوں کے ساتھ ہوا۔
تمام عسکری قیادت سے بھی ہم سختی سے یہ بات کہیں گے کہ تمام حاضر سروس افسروں اور جوانوں کیلئے لازم قرار دیا جائے کہ چاہے وہ ڈیوٹی پر ہوں یا چھٹی پر، اپنا ذاتی اسلحہ اپنے ساتھ رکھیں۔ ہمارے سینکڑوں جوان اور افسر صرف اس لیے شہید ہوگئے کہ انہیں سرکاری طور پر اپنا ذاتی ہتھیار ساتھ رکھنے کی اجازت نہیں تھی۔
کم از کم اسرائیل کے پلید یہودیوں سے ہی کچھ سیکھ لیں ، اگر سیدی رسول اللہﷺ کی سنت مبارکہ سے نہیں سیکھنا تو۔اسرائیل میں ہر مرد عورت، نوجوان اور بچے کیلئے اسلحے کی تربیت لازم ہے، اسلحہ رکھنے کی اجازت ہے، اور اپنی حفاظت کیلئے پوری طرح مسلح رہنے کی ترغیب دی جاتی ہے۔
پچھلے دس دن میں چھ کے قریب بڑے دہشت گردی کے واقعات ہوچکے ہیں۔ بالکل واضح بات ہے کہ دشمن ایک نئے حملے کا آغاز کرچکا ہے اور مزید نقصانات ہمیں ہونگے، کیونکہ ابھی تک حکومت اور ریاست کی جانب سے جوابی کارروائی کیلئے ایک قدم بھی نہیں اٹھایا گیا ہے۔اس قدر مفلوج حکومت۔ استغفراللہ!!!
آج بلوچستان میں ہونیوالے قتل عام کا ہر حال میں فوری طور پر بدلہ لینا لازم ہے۔ فوجی عدالتوں سے سزائے موت پانے والے 400 ”جہنم کے کتوں“ کو جیل سے نکالیں اور پاکستان کے ہر شہر کے مرکزی چوک پر لٹکا دیں۔ بھاڑ میں جائیں وہ سب جو ان پھانسیوں پر اعتراض کریں!!!
ہمیں جس قسم کی جنگ، دہشت گردی اور خونریزی کا سامنا ہے، اس کا مقابلہ کرنے کیلئے برق رفتاری، جرا ¿ت اور بہت حد تک سفاکی سے بھی دشمن پر حملہ آور ہونا پڑے گا۔ یہاں تذتذب کا شکار ہونا، سستی، نا اہلی اور غفلت کی نہ کوئی گنجائش ہے اور نہ ہی اس کی کوئی معافی!غدار چاہے پارلیمنٹ میں ہوں یا سینیٹ میں، میڈیا میں ہوں یا سیاست میں۔اب اگر ان کا خون نہیں بہائیں گے تو پھر اپنے بیٹوں کی لاشیں اٹھائیں گے۔
فیصلہ وزیراعظم عمران خان اور سپہ سالار جنرل باجوہ نے کرنا ہے۔اختیار ان کے ہاتھ میں ہے، سوال بھی انہی سے کیا جائے گا۔٭٭٭٭٭

ٹیپو سلطان اور آج کے ”میر جعفر“

تحریر : سید زید زمان حامد

آج 4 مئی 1799 ءکے روز ٹیپو سلطان کو داخلی غداری کی وجہ سے شہید کردیا گیا تھا۔ جانتے ہیں پھر کیا ہوا۔۔۔؟آج 220 برس ہونے کو آئے ہیں، آج تک انگریزوں کی غلامی چل رہی ہے۔ کروڑوں مسلمان شہید کروائے، صدیوں کی غلامی اوربرصغیر میں اسلامی تہذیب کا عبرتناک زوال۔
جعفر از بنگال، صادق از دکنننگ دیں، ننگ ملت، ننگ وطن
علامہ اقبالؒ نے ٹیپو سلطان کی شہادت پر، میر جعفر غداری پر یہ المناک مرثیہ کہا تھا۔ ایک غدار وزیراعظم، میر صادق، صدیوں تک امت رسولﷺ کو غلام کرگیا۔
ٹیپو سلطان کو کس نے شکست دی؟انگریزوں نے۔۔ ؟ نہیں۔۔!
ٹیپو کے جنازے پر غداروں کا ٹولہ میر صادق، غلام علی لنگڑا اور پنڈت پورنیا جمع ہوا اور غلام علی لنگڑا نے کہا: ”ٹیپو کو انگریزوں نے نہیں ہم نے شکست دی ہے۔“میر صادق وزیراعظم اور پورنیا وزیر خزانہ تھا۔بزرگ کہتے ہیں کہ جو قومیں اپنی تاریخ سے سبق نہیں سیکھتیں ان کا جغرافیہ بہت جلد تبدیل ہوجاتا ہے۔ہم پاکستانیوں نے بھی تاریخ سے کچھ نہیں سیکھا۔ غداروں کو اپنی صفوں میں پالا، نتیجتاً آزادی کے 25 برس بعد ہی ہمارا جغرافیہ بھی تبدیل ہوگیا۔
ٹیپو سلطان فرمایا کرتے تھے: ”اگر تم مجھے میرے دوستوں کے شر سے بچا سکو تو میں دشمنوں سے تمہاری حفاظت کرنے کا وعدہ کرتا ہوں“۔کیا آج پاکستان اور پاک فوج کا بھی یہی المیہ نہیں ہے؟داخلی غداروں اور منافقین نے ملک کو کھوکھلا کرکے رکھ دیا ہے۔یاد رکھیے گا کہ میر جعفر وزیراعظم تھا۔ پورنیا وزیر خزانہ تھا۔کیا زرداری، نواز شریف، اسحاق ڈار، شوکت عزیز اور اب پاکستان پر آئی ایم ایف کی جانب سے مسلط کردہ وزراءمیر جعفر اور پورنیا سے کچھ مختلف ہیں؟ اگر نہیں اور یقیناً نہیں تو پھر انجام کیا ہوگا؟ٹیپو سلطان کی شہادت اس دور میں امت مسلمہ کیلئے سب سے بڑا سانحہ تھی کہ جس کے بعد ہند کے مسلمانوں پر صدیوں کی غلامی کے دروازے کھول دیئے گئے تھے۔اقبالؒ فرماتے ہیں کہ فطرت انفرادی غلطیوں سے تو درگزر کرجاتی ہے مگر جب پوری قوم کی اشرافیہ ہی ناپاک ہوجائے تو پھر ”بڑی سخت ہی فطرت کی تعزیریں“۔
آج پاکستان میں سڑک سے اینٹ اٹھا کر دیکھیں تو نیچے سے ایک غدار نکلتا ہے۔ حقیقی معنوں میں اس پاکستان پر ”سایہءخدائے ذوالجلال“ ہے، کا مفہوم نظر آتا ہے کہ اگر اللہ کا خاص فضل نہ ہوتا تو ممکن نہیں تھا کہ یہ ملک آج سلامت رہ سکتا۔زرداری ملک کا صدر ہو، نواز وزیراعظم، افتخار چوہدری چیف جسٹس، اسحاق ڈار وزیر خزانہ اور کیانی جیسا سپہ سالار۔۔۔کیا پاکستان کا بچ جانا معجزہ نہیں ہے۔۔۔؟آج بھی پاکستان کو وہی خطرات لاحق ہیں جو ٹیپو سلطان کو تھے۔ایسٹ انڈیا کمپنی کی طرز پر سامراجی طاقتیں تجارت کے راستے قابض ہورہی ہیں، ملک کی سیاست، معیشت اور فوج میں غداروں نے سرایت کرلیا ہے، داخلی دشمن مسلسل افواج پاکستان کی پشت میں خنجر ماررہے ہیں، اور بیرونی دشمن حملہ آور ہیں۔
قدرت اللہ شہاب سے ایک مرتبہ فیض احمد فیض نے کہا کہ جس طرح کے ملکی حالات ہیںمجھے خطرہ ہے کہ کہیں پاکستان ختم ہی نہ ہوجائے۔جواب میں قدرت اللہ شہاب نے فرمایا:” مجھے پاکستان کے ختم ہونے کا کوئی خطرہ نہیں، مجھے خطرہ اس بات کا ہے کہ جس طرح پاکستان کو چلایا جارہا ہے، کہیں اسی طرح ہی نہ چلتا رہے۔“
ہمیں بھی یہی خطرہ ہے۔۔۔!!!
پاکستان سے پیار کرنے والے ہر وجود کو چاہے وہ عوام الناس میں ہو یا صاحب اختیار و اقتدار ہو، اچھی طرح معلوم ہے کہ یہ سیاسی معاشی اور عدالتی نظام ہمارے غیر ملکی آقاﺅں کا بنایا ہوا ہے اور اس کا صرف اور صرف مقصد ہمیں دائمی طور پر غلام رکھنا ہے۔ اس کے باوجود صاحب اختیار و اقتدار جرا ¿ت کیوں نہیں کرپاتے کہ اس نظام کو تبدیل کریں؟یہ ہوتا ہے قوموں کا حال صدیوں کی غلامی کے بعد!
اللہ پاکستان کے حال پر رحم کرے۔ پاک فوج ملک کا دفاع تو کررہی ہے مگر نظام نہیں تبدیل کررہی۔سیاست، معیشت اور عدالت وہی کفر کی غلاظت ہیں کہ جو ٹیپو سلطان کی شہادت کے بعد سامراجی استعمار نے قائم کی تھیں۔قائداعظم اور علامہ اقبال کا پاکستان کون بنائے گا، یہ تو اللہ بہتر جانتا ہے، مگر ہمارا کام اذان دینا ہے، سیدی رسول اللہﷺ سے وفاداری کرنا ہے، سو ہم کریں گے۔
فکر نہ کریں، اللہ کے فضل و کرم سے یہ پاکستان کبھی ختم نہیں ہونیوالا، چاہے کتنے ہی حرام خور مل کر زور ہی کیوں نہ لگا لیں۔ہاں! ہمیں سزا ملے گی، مل رہی ہے، ملتی رہے گی۔اللہ اور اسکے رسولﷺ سے وعدہ خلافی کرنے کی،تکمیل پاکستان نہ کرنے کی، سود اور رباءکا نظام چلانے کی، خلافت راشدہ کا نظام قائم نہ کرنے کی۔۔۔۔بیشک ہم سب مجرم ہیں اور ہم سے سوال کیا جائے گا!!!
بات سخت لگے گی لیکن حقیقت یہ ہے کہ آج پاکستان کی قسمت کا فیصلہ پاکستانی نہیں، ہمارے دشمن اور غیر ملکی آقا کررہے ہیں۔ پاکستان کے قاضی، پاکستان کی حفاظت کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہوچکے ہیں۔پاکستان کے سیاستدان ناپاک اور پلید ہیں۔پاکستان کا میڈیا فحاشی اور آوارگی کے اڈے ہیں۔پاکستان کی افواج بے پناہ قربانیاں دینے کے باوجود تذبذب کا شکار ہے۔یہ امت رسولﷺ کہاں جائے۔!٭٭٭٭٭

صدارتی نظام یا اسلامی صدارتی نظام

تحریر: سید زید زمان حامد

صدارتی نظام اور ”اسلامی صدارتی نظام“ میں فرق کیا ہے؟
جونہی اسلامی صدارتی نظام کی صدائیں بلند ہوئیں، تو فوراً ہی غلیظ پارلیمانی جمہوریت کے پجاری اس کے بارے میں ابہام اور شک پیدا کرنے کیلئے پٹے توڑا کر بھونکنا شروع ہوگئے۔آج ہم اس ابہام کو حل کردیتے ہیں۔
مارشل لاءاور جمہوریت کا مقابلہ کیا جائے تو اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ پاکستان نے مارشل لاءکے ادوار میں بے انتہا ترقی کی ہے اور پاکستان کی مکمل تباہی صرف اس نام نہاد جمہوریت میں ہی ہوئی ہے۔ مگر پھر بھی مارشل لاءکے دور میں صدارتی نظام ہرگز”اسلامی صدارتی نظام“ نہیں تھا۔
اسلامی صدارتی نظام ایک حیرت انگیز اور انتہائی متحرک نظام حکومت ہے۔ یہ اتنا غیر معمولی، ترقی پسند، جدید اور اتنا ہمہ گیر ہے کہ جدید دور میں کوئی بھی سیاسی نظام اس کے قریب بھی نہیں پھٹک سکتا، لہذا غلام ذہن اس کے جاہ و جلال کا تصور بھی نہیں کرسکتے۔اسلامی صدارتی نظام کی اگر کوئی قریب ترین مثال دی جاسکتی ہے تو وہ خلافت راشدہ کا نظام ہے۔ چاروں خلفائے راشدین اگر آج کی زبان میں بات کی جائے تو ”اسلامی صدر“ تھے۔ ان کے پاس انتہائی قابل ترین اور مخلص ترین ”ٹیکنوکریٹس“ کی ایک بڑی ٹیم تھی، ہر قابل شخص مشورہ دینے کے لائق تھا، مگر حتمی فیصلہ ”صدر“ کے ہاتھ میں ہی تھا۔سیدنا عمرؓ نے اپنی شہادت کے وقت اگلے ”اسلامی صدر“ کا جو طریقہءکار اختیار فرمایا، وہ آج بھی ہمارے لیے باعث تقلید اور حیرت انگیز مشعل راہ ہے۔آپؓ نے چھ قابل ترین بزرگوں کی فہرست بنائی اور پھر پوری قوم سے کہا کہ ان میں سے جن کو چاہو اپنا ”صدر“ چن لو۔سیدنا عمرؓ کے نظام میں ایک قابل ترین وجود نے چھ قابل ترین بزرگ ہستیوں کا انتخاب کیا اور پھر ان میں سے حکمران کا انتخاب پوری قوم نے۔ یہ اعلیٰ ترین سلیکشن بھی تھی اور شفاف ترین الیکشن بھی۔یہ اتنا جدید ترین نظام تھا کہ آج تک اس سے بہتر سیاسی نظام بنایا ہی نہیں جاسکا۔
دین اسلام کا کمال ہی یہ ہے کہ یہ اس قدر متحرک ہے کہ ہر دور اور ہر زمانے میں جدید ترین ہی رہتا ہے۔ اس کے نظام سیاست و حکمرانی میں فوجی یا سول حکمران کا فرق سرے سے موجود ہی نہیں ہے۔ تمام مسلمان حکمران، سیدی رسول اللہﷺ سے لیکر آنے والی صدیوں تک، خود ہی سپہ سالار بھی تھے اور سیاسی لیڈر بھی۔آپ ایک مسلمان حکمران کو ”امیر“ کہیے، ”سلطان“ کہیے، ”خلیفہ“ کہیے یا پھر ”صدر“۔۔۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اقبالؒ فرماتے ہیں کہ اگر مغرب کو لفظ ”اسلام“ سے چڑ ہے تو اسی اسلام کا دوسرا نام ”فقر غیور“ ہے۔
اسلامی صدارتی نظام میں کابینہ بھی متحرک ہوگی، صدر کی جانب سے نامزد ہوگی، نہ کہ انتخابات کے نتیجے میں منتخب۔ متحرک کابینہ کا مطلب یہ ہے کہ جو بھی قابل شخص ہو اس سے مشورہ لیا جاسکتا ہے، ذمہ داری دی جاسکتی ہے، اور پھر کام نہ کرنے کی صورت میں فوری معزول بھی کیا جاسکتا ہے۔اسلامی نظام سیاست میں منتخب پارلیمان کا سرے سے کوئی تصور ہی موجود نہیں ہے۔ ہمارے نظام حکومت میں اکثریت کی رائے سے نہیں شریعت کی رائے سے فیصلے ہوتے ہیں، چاہے اکثریت ان کی مخالف ہی کیوں نہ ہو۔ مسلمانوں کے تمام امور شوریٰ سے طے ہوتے ہیں، اور ہر مسلمان مشورہ دے سکتا ہے۔
اسلامی نظام حکومت میں کوئی لکھا ہوا دستور یا آئین نہیں ہوتا۔ قرآن و سنت، اجماع و اجتہاد ایک ایسے متحرک اور انقلابی نظام سیاست کی بنیاد رکھتے ہیں کہ جس میں آزاد قومیں زمانے کے بدلتے ہوئے تقاضوں کے مطابق اپنی آزادی اور غیرت برقرار رکھنے کیلئے ہر قسم کے فیصلے کرنے میں آزاد ہوتی ہیں، نہ کہ انسان کے لکھے ہوئے بوسیدہ دستور کے غلام۔کافروں نے بھی اپنا نظام حکومت مسلمانوں سے سیکھا ہے۔انگلستان میں آج بھی لکھا ہوا دستور یا آئین نہیں ہے۔ سوچیں تو ذرا کیوں؟وہ کہتے ہیں کہ ہم اپنی روایات کو سامنے رکھتے ہوئے اپنی ضروریات کے مطابق فیصلے کرتے ہیں۔یہ عین اسلامی تصور ہے کہ جو اللہ نے اپنے آزاد بندوں کیلئے تجویز کیا ہے۔آج اگر پاکستان میں ہم اسلامی صدارتی نظام نافذ کرنے کی بات کرتے ہیں تو اس کا طریقہءکار کیا ہوگا؟یہ وہ سوال ہے کہ جو آج کی نوجوان نسل کے ذہن میں ہے، اور اس کے بارے میں منافقین بہت ابہام پھیلاتے ہیں۔طریقہءکار وہی ہوگا کہ جو سیدنا عمرؓ نے اختیار کیا تھا۔پورے پاکستان میں سے پانچ یا چھ اعلیٰ ترین، قابل، مسلمان، محب وطن وجود کہ جو خود اقتدار کی ہوس نہ رکھتے ہوں، صدر کے امیدوار کے طور پر، منتخب کیے جائیں گے۔اور پھر پوری قوم ان میں سے براہ راست صدر کا انتخاب کر لے گی۔صدارتی امیدواروں کے انتخاب کیلئے ایک طاقتور ترین غیر جانبدار کمیشن تشکیل دیا جائے گا کہ جس میں ریاستی اداروں، سپریم کورٹ، مسلح افواج، انٹیلی جنس ایجنسیوں اور معاشرے کے مستند دانشوروں کی ایک جماعت پوری تحقیق و تفتیش کے بعد، ساری زندگی کی کارکردگی اور قابلیت سامنے رکھتے ہوئے فیصلہ کرے گی۔صدارتی امیدوار کیلئے کوئی شخص خود اپنے آپ کو پیش نہیں کرسکتا۔سیدی رسول اللہﷺ کی واضح ترین حدیث مبارکہ ہے کہ جس کا مفہوم ہے کہ ”ہم ہرگز ایسے کسی شخص کو اپنا حکمران نہیں بنائیں گے جو خود عہدے کی طلب کرے“۔اسلامی صدارتی نظام میں منتخب صدر قرارداد مقاصد کے مطابق قرآن و سنت کے احکامات کے تابع فیصلہ کرنے کا پابند ہوگا۔ اس طرح وہ کوئی مطلق العنان ڈکٹیٹر بن ہی نہیں سکتا، بلکہ اللہ کے دین کا محافظ ہوگا۔وہ طاقتور اور با اختیار ہوگا اور پورے ملک سے اعلیٰ ترین افراد کا انتخاب کرے گا۔
اسلامی صدارتی نظام میں ملک چلانے کیلئے جن قابل ترین افراد کا انتخاب کیا جائے گا ان کی تصدیق اور چھان بین بھی وہی طاقتور کمیشن کرے گا کہ جو پہلے صدارتی امیدواروں کا انتخاب کرچکا ہوگا۔یہ ایک طرح سے ایسی طاقتور قومی ”جے آئی ٹی“ ہوگی کہ جو حکمرانوں پر کڑی نگاہ رکھے گی۔
اسلامی صدارتی نظام میں نہ تو یہ حرام خور سیاسی جماعتیں ہونگی کہ جو صوبائیت، قومیت، لسانیت یا فرقہ واریت کی بنیاد پر ووٹ مانگتی ہیں اور نہ ہی ایسی ناپاک پارلیمان ہوگی کہ جہاں کروڑوں اور اربوں لگا کر سیاسی لٹیرے ملک لوٹنے کیلئے آتے ہوں۔اسلامی صدارتی نظام میں پارلیمان ضرور ہوگی، مگر ایسی پارلیمان کہ جس میں تمام قومی اداروں کی نمائندگی ہو۔ کسانوں سے لیکر مسلح افواج تک، ملک کی تعمیر و ترقی میں حصہ لینے والا ہر طبقہ اپنی نمائندہ تنظیموں کے ذریعے پارلیمان میں موجود ہوگا اور ملکی ترقی و قانون سازی کے حوالے سے اپنے مشورے دے سکے گا۔
آج خود تحریک انصاف میں اسلامی صدارتی نظام کیلئے آوازیں بلند کی جارہی ہیں۔ مگر ایک بات ہم بہت اچھی طرح واضح کردیں۔اسلامی صدارتی نظام کیلئے ریفرنڈم کرانے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ عمران خان براہ راست صدر بھی منتخب ہوجائیں۔ صدر کے انتخاب کا طریقہ ہم پہلے ہی بتاچکے ہیں۔
اسلامی صدارتی نظام میں طاقتور صدر ملک کا سیاسی رہنما بھی ہوگا اور سپہ سالار اعلیٰ بھی۔ مسلح افواج کی قیادت، مشیروں اور وزیروں کا انتخاب، عدلیہ کے ججوں کی تعیناتی اور قومی اور ریاستی اداروں کے سربراہان کا تعین صدر کا اختیار ہوگا کہ جو اپنے مشیروں اور کابینہ کی رائے سے فیصلے کرے گا۔علامہ اقبالؒ نے اسلامی صدارتی نظام کی تشریح کچھ اس طرح کی ہے کہ یہ وہ نظام حکومت ہے کہ جس میں ”جنیدی“ اور ”اردشیری“ ایک جگہ جمع ہوجائے گی۔ یعنی ایسا شیر دلیر حکمران کہ جو سیاسی اور فوجی طاقت بھی رکھتا ہو اور اپنے قلب میں ایک روحانی وجود بھی۔اسلامی صدارتی نظام کا حیرت انگیز تصور نہ پارلیمانی جمہوریت ہے، نہ مارشل لائ، نہ جدید سیاست کا نظام صدارت اور نہ ہی مطلق العنان ڈکٹیٹرشپ۔جن غلاموں نے اسلام کا روحانی سیاسی تصور جانا اور سمجھا ہی نہیں ہے ان تنگ نظر، اندھے گونگے اور بہرے غلاموں سے یہ توقع کرنا کہ اس بحر بیکراں کا احاطہ کرسکیں، ایک ناممکن امر ہے۔اسلامی صدارتی نظام آزاد قوموں کا نظام حکومت ہے، کیونکہ بقول اقبال: ”خدائے زندہ بھی زندوں کا ہی خدا ہے۔“
ہم نے پاکستان بنایا ہی اسی لیے تھا کہ یہاں پر اسلام کے دائمی اور ابدی روحانی سیاسی و عسکری و معاشی نظاموں کو نافذ کرکے دنیا کیلئے ایک نئی مثال قائم کریں۔قائداعظمؒ نے پاکستان کو ”اسلام کی لیبارٹری“ قرار دیا تھا، تاکہ یہاں ہم ایک نیا تجربہ کریں کہ جو اس سے قبل صدیوں میں کبھی نہیں کیا گیا۔صدیوں کی غلامی کے بعد پاکستان اس لیے نہیں بنایا گیا تھا کہ یہاں ہمیشہ کیلئے انگریزوں کے بنائے ہوئے اینگلو سیکسن پارلیمانی نظام کی بدبودار لاش کو جمہوریت کے نام پر گھسیٹا چلا جائے۔پچھلے گیارہ سال کی جمہوریت نے تینوں بڑی سیاسی جماعتوں کو آزما لیا ہے۔ جو افراتفری آج کی حکومت میں مچی ہوئی ہے، اس سے تو بالکل واضح نظر آتا ہے کہ آنے والے دور میں نہ تو کوئی اور الیکشن ہونگے اور نہ ہی پارلیمانی نظام کی لاش کو گھسیٹا جاسکے گا۔نظام تو اب بدلنا ہی ہے ، تو بہتر نہیں کہ اب ہم اپنے دین کی جانب لوٹ جائیں؟؟؟
قائداعظمؒ سے جب پوچھا گیا کہ پاکستان کا آئین کیا ہوگا؟ تو اس پر قائداعظمؒ نے جواب دیا کہ میں کون ہوتا ہوں اس ملک کو آئین دینے والا، جبکہ ہمارے پاس تیرہ سو برس قبل قرآن و سنت کی شکل میں دستور پہلے سے ہی موجود ہے۔اب اللہ صرف ایسے مرد آزاد تلاش کررہا ہے جو اس ”دستور“ کو نافذ کرسکیں۔٭٭٭٭٭

ایران کو سوچنا ہوگا

تحریر: سید زید زمان حامد

میرے شیعہ دوست ہمیشہ سے مجھ سے بحث کرتے آئے ہیں کہ پاکستان میں کوئی شیعہ دہشت گرد گروہ نہیں ہے۔ میں ہمیشہ اس بات کو سختی سے رد کرتا رہا ہوں، اور آج میرے موقف کی تصدیق بھی ہوگئی۔ 19 افراد پر مشتمل ایک دہشت گرد گروہ کراچی سے گرفتار ہوا ہے، جس کا تعلق سپاہ محمد سے ہے اور جس کی تربیت اور مالی معاونت ایران سے ہوئی۔ 
کیا پاکستان ریاستی سطح پر ایران کے خلاف کام کرنے والے کسی سنی دہشت گرد گروہ کی حمایت کررہا ہے؟ کبھی نہیں!
پاکستان میں ٹی ٹی پی کے کچھ ٹھکانے ہیں کہ جس کی پشت پر افغانستان اور راءہیں۔ مگر یہ دہشت گرد ریاست پاکستان پر بھی حملے کررہے ہیں۔ یہ پاکستان کی افغانستان اور ایران کے ساتھ موجود سرحدوں کے ذریعے پاکستان اور ایران میں داخل ہوتے ہیں۔
میرا دو بار ایران جانا ہوا، جہاں میں نے اپنے تھنک ٹینک براس ٹیکس کی نمائندگی کرتے ہوئے دہشت گردی اور خطے کی سالمیت پر ہونے والی کانفرنسوں میں شرکت کی۔ وہاں میں ایرانی قیادت، انٹیلی جنس کے افسران اور میڈیا کے نمائندوں سے ملا۔ سب کو میں نے پاکستان سے متعلق گمراہ کن پراپیگنڈہ کا شکار پایا۔ یہی وجہ تھی کہ ان کا رویہ پاکستان سے متعلق دشمنانہ تھا۔یہ شدید ترین غلط فہمی اور ذہنی خلجان ہی کی وجہ ہے کہ ایرانی سیکورٹی فورسز اور تھنک ٹینک پاکستان کو ایک دشمن ملک تصور کرتے ہیں۔ لہذا وہ ہندوستان کے ساتھ مل کر پاکستان میں مسلکی بنیادوں پر دہشت گردی کرنے والے گروہوں کی حمایت و امداد کررہے ہیں۔ یہ سخت افسوس کا مقام ہے!پاکستان میں اہل تشیع پر مظالم اور نسل کشی کی جھوٹی داستانوں کو بڑی مہارت کے ساتھ گھڑا گیا ہے۔ یہ گمراہ کن پراپیگنڈہ کہ جو پاکستان کے خلاف ہونے والی ابلاغی جنگ کا حصہ ہے، ایرانیوں کی سوچ و فکر کو بری طرح متاثر کررہا ہے۔سچ تو یہ ہے کہ اہل تشیع اثرورسوخ کے اعتبار سے پاکستان کا سب سے طاقتور فرقہ ہیں۔
ریاست پاکستان نے تمام مسالک کو اپنے وجود میں بڑے احسن طریقے سے جذب کیا ہوا ہے۔ یہاں کسی پر بھی شیعہ یا سنی ہونے کی بنا پر کوئی ظلم نہیں کیا جاتا۔ ہاں دہشت گردی اس ملک میں ضرور ہے کہ جس کا شکار بلا تفریق مسلک، قومیت اور صوبائیت ہر پاکستانی ہے نہ کہ صرف شیعہ۔اس کے باوجود ایرانی اس وسوسے میں مبتلا ہیں کہ پاکستان میں اہل تشیع پر مظالم ہورہے ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی کہ جو 40 سال سے سندھ پر راج کررہی ہے ،کی قریب قریب تمام قیادت شیعہ ہے۔ دیگر سیاسی جماعتوں اور حکومتی اداروں میں بھی ایک بھاری تعداد اہل تشیع کی ہے۔
پاکستان کے لیے، پاکستان میں افغانستان اور بھارت کی طرف سے کی جانے والی دہشت گردی کو سمجھنا آسان ہے۔ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ پاکستان میں ایران اور سعودیہ اپنی فرقہ وارانہ جنگیں لڑتے ہیں۔مگر جو بات ہماری سمجھ سے باہر ہے، وہ یہ کہ ایران کیسے پاکستان کو اپنا دشمن ملک تصور کرکے پاکستان میں دہشت گرد گروہوں اور بھارت کی حمایت کرسکتا ہے؟پاکستانی قیادت میں سے کسی کو ایران سے بہت دو ٹوک بات کرنا ہوگی۔ ہمارا سعودی عرب سے قریبی تعلق ہے کہ جو ایران کے جانی دشمن ہیں۔ لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ہم سعودیہ کے کہنے پر ایران کے خلاف کوئی محاذ کھولیں گے۔ہم نے یمن کی جنگ میں بھی سعودیہ کی حمایت و امداد سے انکار کیا تھا کہ جو سعودیہ کی ناراضگی کا باعث بھی بنا۔ وجہ محض یہ تھی کہ ہم یمن کی جنگ کو ایک فرقہ وارانہ جنگ سمجھتے تھے۔
ایرانیوں کو فہم و تدبر سے کام لینا ہوگا۔ اگر پاکستان بھی ان کا دشمن بن گیاتو ایران کیلئے بہت مسائل کھڑے ہوجائیں گے۔1979 ءسے آج تک ایران پاکستان میں شیعہ دہشت گردہوں کی حمایت کرتا آیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس وقت بھی شیعہ مسلح افراد، افغانستان اور پاکستان سے شام جارہے ہیں کہ وہاں وہ بشار الاسد کی حکومت کا دفاع کرسکیں۔ایران کو پاکستان سے شیعہ دستے بھرتی کرنے کا کام بند کرنا پڑے گا۔جہاں تک پاکستانی اہل تشیع کی اکثریت کا تعلق ہے تو وہ بھی اپنی جگہ نادانی کی حد تک بیوقوفی کا مظاہرہ کررہے ہیں۔ ان کا خود ترسانہ رویہ اور شیعہ نسل کشی پر واویلے نے ہی ایران کو پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کا موقع دیا ہے کہ جس کے باعث اب دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی پیدا ہوچکی ہے اور اس سے دونوں ہی ملک نقصان اٹھارہے ہیں۔
میں نے جب بھی یہ سب باتیں کی ہیں پاکستان کے شیعہ حضرات فوراً بھڑک جاتے ہیں۔ مجھ پر ”سعودی ایجنٹ“ ہونے کا بھی الزام لگایا جاتا ہے۔مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ دوسری جانب خود سعودی مجھے ”ایرانی ایجنٹ“ ہونے کے شبے میں گرفتار اور قید بھی کرچکے ہیں۔جو ذہن فرقہ وارانہ نفرت سے بھرے ہوں، وہ یہ باتیں کبھی نہیں سمجھ سکتے۔٭٭٭٭٭

عالم اسلام: صہیونیوں، مشرکوں اور خوارج کی زد میں

تحریر : سید زید زمان حامد

گزشتہ دنوں ہمارے تجزیے کہ داعش سربراہ ابوبکربغدادی ممکنہ طور پر افغانستان میں ہوسکتا ہے، کو بہت پذیرائی ملی اور اس نے عالمی میڈیا پر ایک سنسنی پھیلا دی۔ ہم نے یہ بات کیوں کی، یہ سمجھنے کیلئے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ داعش اصل میں ہے کیا؟داعش دراصل موساد کا ایک سوچا سمجھا منصوبہ ہے، کہ جس کے ذریعے موساد عالمی سطح پر نفسیاتی و خونی جنگ کے ذریعے مسلمانوں کے اکثریتی مسلک یعنی سنی اسلام کو بدنام کررہی ہے۔ 
داعش کے” خلافت“ کے قیام سے متعلق سنی فکر اسلام کی ان روایات کو اپنے مکرو عزائم کیلئے استعمال کررہی ہے کہ جو آخری دور میں ظہور امام مہدیؑ، کالے جھنڈوں اور خراسان سے متعلق پیش گوئیوں پر مبنی ہے۔ سنی اسلام میں، روایات کے مطابق، آخری دور میں خلافت دوبارہ قائم ہوگی، اور ایک گروہ اٹھے گا کہ جس کے پرچم سیاہ ہونگے اور جو خراسان کے علاقے کا رخ کرے گا اورایک مقدس جنگ کا آغاز کرے گا۔ 
موسادان سب روایات سے واقف تھی، اسی لیے اس نے سنی اسلام کی ان پیش گوئیوں کو استعمال کرتے ہوئے داعش کو ترتیب دیا۔یہی وجہ ہے کہ داعش نے اپنے قیام کے آغاز میں ہی خلافت کے دوبارہ قیام کا اعلان کردیا اور کالے جھنڈوں کو استعمال کرتے ہوئے عراق اور شام میں ظلم کا سفاکیت کا بازام گرم کردیا۔ لیکن ان احادیث مبارکہ کے مطابق خود کو یہ ثابت کرنے کیلئے کہ ہم ہی وہ گروہ ہیں کہ جس کی پیش گوئی کی گئی تھی ، انہیں افغانستان جانا تھا،جو کہ ماضی میں خراسان کا علاقہ کہلاتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ داعش افغانستان میں خود کو ”داعش خراسان“ کہتے ہیں۔
درحقیقت داعش وہ مذہبی و نظریاتی خنجر ہے ، کہ جو موساد نے بڑی چالاکی سے مسلم دنیا کے سینے پر پیوست کیا ہے اور جس کے ذریعے اسلام کو ہائی جیک کرکے عالمی سطح پر اسلام مخالف جذبات کو بھڑکایا جارہا ہے۔ داعش اور ابوبکربغدادی کہ جو موساد کا قیمتی اثاثہ ہیں کا افغانستان میں ہونا ضروری تھا، تاکہ وہ خراسان سے متعلق پیش گوئی کو پوری طرح استعمال کرسکیں۔
مشرقی افغانستان میں تورا بورا کے پہاڑوں میں موجود غاروں کا نظام پہلے القاعدہ کیلئے قلعے کا کام کرتا تھا۔ آج غاروں پر مشتمل اس قدرتی قلعہ پر داعش کا قبضہ ہے، جہاں عراق اور شام سے لائے گئے دہشت گرد اور ٹی ٹی پی کے ذریعے مقامی بھرتی کیے گئے خوارج ملکر پاکستان کے خلاف دہشت گردی میں مصروف ہیں۔اور ان سب کی پشت پر سی آئی اے اور موساد ہیں۔
ایک بات یاد رکھیے گا کہ کوئی بھی افغانی کبھی کسی شامی یا عراق عربی کی اطاعت قبول نہیں کرے گا، چاہے وہ کوئی فرشتہ ہی کیوں نہ ہو۔ افغانوں میں انتہا درجے کی قبائلیت پائی جاتی ہے۔ یہ سخت خود پرست اور خود پسند ہیں اور صرف اپنی ہی قوم اور اپنے ہی قبائلی سرداروں پر اعتماد کرتے ہیں۔ لہذا افغان داعش کی حیثیت محض کرائے کے قاتلوں کی سی ہے۔
دوسری طرف امریکہ کو ایک اور وجہ سے بھی داعش کی افغانستان میں ضرورت تھی کیونکہ وہ داعش کے ذریعے افغان طالبان کو قابو کرنا چاہتا تھا۔ مزید یہ کہ امریکہ داعش کو پاکستان، ایران، چین او ر وسطی ایشیاءمیں، روس کے خلاف بھی باآسانی استعمال کرسکتا ہے۔ چنانچہ داعش کی افغانستان میں موجودگی اسرائیل، بھارت ، امریکہ اور سب اسلام دشمن قوتوں کے مفاد میں ہے۔
یہ سب وہ محرکات ہیں کہ جن کو پرکھنے کے بعد ایک دفاعی تجزیہ کار یہی کہے گا کہ ابوبکربغدادی کو افغانستان میں ہی ہونا چاہیے اور ہم نے بھی یہی کہا۔ میں یہ جانتا ہوں کہ بہت سے کم عقل اور دشمن اس تجزیے کو ”تخیلاتی تجزیہ“ کہہ کر رد کرنے کی کوشش کریں گے۔ وقت سے پہلے خطرات سے آگاہ کرنے والے پر ایسے حملے ضرور ہوتے ہیں۔ تو کیا جب ہم ان کے مکروہ عزائم کو کھول کر بیان کریں گے، تو وہ ہمیں ”سازشی تجزیہ کار“ نہیں کہیں گے؟ کیا وہ ہماری ذات پر حملے نہیں کریں گے؟ یہی تو ان کا کام ہے۔ اور یہی ان کے بڑے کہہ گئے ہیں کہ ”ہمیں پوری فوج سے زیادہ ایک اس شخص سے خطرہ ہے جو ہمارے عزائم کھول کر بیان کردے“۔یقینا اہل عقل یہ سب جانتے ہیں۔٭٭٭٭٭

Design a site like this with WordPress.com
Get started