ابھی تو اپنی جہالت میں سب بہے جارہے ہیں

جب ہم پاکستان میں ہونیوالی دہشت گردی، اس کے سیاسی جماعتوں سے روابط، اس کے مذہبی فرقوں سے تعلق، اور اسکے غیر ملکی خفیہ ایجنسیوں سے روابط کی بات کرتے ہیں تو یہ اس قدر پیچیدہ میدان ہے کہ عام فرد تو کیا فوج اور آئی ایس آئی کو بھی اس کو سمجھنے اور اس پر ہاتھ ڈالنے میں بے انتہا مشکلات پیش آتی ہیں۔
جہاں پاکستان کے خلاف دشمنی کی بات آئے، تو کئی آپس کے دشمن بھی متحد ہو کر پاکستان کے خلاف جنگ کرنے پر آمادہ ہوجاتے ہیں۔ فرقہ پرست مذہبی دہشت گرد سیاسی جماعتوں کے اندر پناہ لیتے ہیں اور یہ سیاسی جماعتیں غیر ملکی خفیہ ایجنسیوں کے اشاروں پر ان مذہبی اور سیاسی دہشت گردوں کو ریاست پاکستان کے خلاف استعمال کرتی ہیں۔
جب ہم دشمنوں کی سا زشوں، ان کے پاکستان کے اندر سیاسی اور مذہبی دہشت گردوں سے روابط کھول کر بیان کرتے ہیں تو ہماری اپنی صفوں میں موجود بے غیرت، جاہل اور دشمنوں کے آلہءکار کتوں کی طرح بھونک کر ہمارے تجزیے کی مخالفت شروع کردیتے ہیں۔ کیونکہ ہمارے تجزیے دشمن کے راز کھول دیتے ہیں، دشمن کی چالیں بیان کردیتے ہیں، اور پاکستانی قوم، مسلح افواج، اور آئی ایس آئی کو وہ راز بتا دیتے ہیں کہ جو دشمن ان سے چھپانا چاہتا ہے۔
 آئیں آپ کو مثالیں دے کر سمجھائیں۔
ایم کیوا یم پاکستان کی ایک سیاسی جماعت ہے، سندھ کی حکومت میں ہے، قومی اسمبلی میں ہے، تقریباً ہر مرکزی حکومت میں رہی ہے، سینیٹ میں موجود ہے، وزارتیں اس کے پاس رہی ہیں۔ دوسری جانب یہی ایم کیو ایم بھارتی خفیہ ایجنسی را کی ایجنٹ بھی ہے، کراچی میں سپاہ صحابہ اور سپاہ محمد کے دہشت گردوں کو پناہ بھی دیتی ہے، کراچی میں فرقہ وارانہ جنگیں بھی کرواتی ہے، بھتہ خور مافیا بھی ہے اور وقت کی مکتی باہنی بھی۔ ایک جانب اس میں حیدر عباس رضوی جیسے ناپاک اور پلید شیعہ دہشت گرد شامل ہیں کہ جو خود شیعوں کے قتل عام میں شامل ہیں، تاکہ ملک میں فرقہ وارانہ فساد کروایا جائے۔ دوسری جانب اسی ایم کیو ایم میں مفتی نعیم جیسے ٹی ٹی پی کے حمایتی اور خوارج بھی شامل ہیں کہ جو ظاہراً شیعوں پر کفر کا فتویٰ لگاتے ہیں، سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی کی سرپرستی کرتے ہیں، مگر ایم کیو ایم میں آکر شیعوں کے بھائی بن جاتے ہیں۔
اسی طرح زرداری کا پورا خاندان، بینظیر اور بھٹو خاندان کٹر شیعہ ہے، مگر ان کے دیوبندی خوارج ٹی ٹی پی کے ساتھ انتہائی گہرے مراسم ہیں۔ عزیز بلوچ ایرانی انٹیلی جنس کا ایک انتہائی متحرک کارندہ تھا، کہ جو پیپلز پارٹی کے دہشت گرد گینگ چلانے کے ساتھ ساتھ ٹی ٹی پی کے ساتھ روابط کا بھی ذمہ دار تھا اور اسی کے ذریعے زرداری نے ٹی ٹی پی کو استعمال کرتے ہوئے بینظیر کا قتل کروایا۔ زرداری کی بہن فریال تالپور لال مسجد کے دہشت گردوں کے انتہائی نزدیک ہے۔
کیا ظاہراً یہ سمجھ میں آنے والی بات ہے؟ یہی وہ پیچیدگیاں ہیں کہ جس کا ہم آپ سے ذکر ررہے تھے کہ جب اپنے مفادات کی بات ہوتی ہے، پاکستان مخالفت کی بات ہوتی ہے، تو سارے سیاسی اور مذہبی دہشت گرد چاہے وہ کسی مسلک یا سیاسی جماعت سے تعلق رکھتے ہوں، اکٹھے ہوجاتے ہیں۔
کلبھوشن یادیو کے انکشافات سے یہ بات بہت اچھی طرح واضح ہوجاتی ہے کہ پاکستان کے اندر بھارتی دہشت گردی کی معاونت اور حمایت کرنے میں ایرانی انٹیلی جنس پوری طرح سے شامل ہے۔ عزیر بلوچ کے انکشافات بھی اس کی تصدیق کرتے ہیں۔ ہمیں خود ایرانیوں نے یہ بات بتائی ہے کہ ایرانی انٹیلی جنس میں ایک مکتبہءفکر ہے کہ جو پاکستان کا شدید مخالف اور بھارت کا حمایتی ہے، اور وہ پاکستان میں شیعہ مسلح گروہوں کو تیار کرنے میں بھارت کا مددگار ہے۔
پاکستان کی 7 قبائلی ایجنسیاں ہیں۔ مہمند سے لیکر جنوبی وزیرستان تک تمام ایجنسیوں میں پاک فوج نے ٹی ٹی پی کے خوارج کے خلاف بھرپور کارروائیاں کی ہیں۔ صرف کرم ایجنسی ایسی ہے کہ جہاں پر شیعہ مسلمانوں کی اکثریت ہے۔ پچھلے کئی برس سے ایرانی انٹیلی جنس یہاں سے بھرپور انداز میں شیعہ نوجوانوں کو بھرتی کرکے ایران کے راستے شام لے جارہی ہے۔ تاکہ وہاں ہونیوالی جنگوں میں یہ شریک ہوسکیں۔ ظاہر ہے یہ تربیت یافتہ شیعہ رضاکار حکومت پاکستان اور پاک فوج کی مرضی کے بغیر خفیہ طور پر ایرانی انٹیلی جنس کے ساتھ کام کررہے ہیں۔ تازہ ترین خفیہ اطلاعات کے مطابق اب بھارتی را نے بھی پارا چنار میں شیعہ دہشت گرد گروہ تیار کرنے کا کام پوری شدت سے شروع کردیا ہے۔ جب ہم نے را کا یہ راز فاش کیا تو سب سے زیادہ تکلیف خود را کو ہوئی۔ ظاہر ہے کہ اگر کرم ایجنسی پوری طرح پاک فوج کے کنٹرول میں ہو کہ جس طرح دیگر ایجنسیاں ہیں تو پھر نہ تو وہاں سے ایران بھرتیاں کرسکے گا اور نہ ہی بھارت۔
جیسا کہ ہم آپ کو بتا چکے ہیں کہ سیاست، مذہب اور دہشت گردی کے یہ روابط انتہائی پیچیدہ، خطرناک اور تاریک ہیں۔ عام آدمی کیلئے ان کو سمجھنا ناممکن ہے۔ لہذا جاہل شور تو مچا سکتے ہیں، مگر پاکستان کی کوئی خدمت نہیں کرسکتے۔
اب ذرا مجھے یہ صورتحال سمجھائیں۔
کلھبوشن یادیو ایران کی پوری حمایت سے پاکستان میں داخل ہوتا ہے، ٹی ٹی پی کے خوارج کو تیار کرتا ہے، ان کی مدد سے ہزارہ شیعوں اور دیگر شیعوں کا قتل عام کرواتا ہے، پاکستان میں فرقہ وارانہ جنگ بھڑکاتا ہے، بلوچستان لبریشن آرمی کو تیار کرتا ہے، کراچی میں ایم کیو ایم کو مسلح کرتا ہے، اور پھر جب پاکستان میں فرقہ وارانہ فساد پھیلتا ہے تو شیعوں کو بھڑکایا جاتا ہے کہ پاک فوج اور انٹیلی جنس کے ادارے شیعوں کے قتل عام میں ملوث ہیں۔
اب اس میں آپ کس کو ذمے دار ٹھہرائیں گے؟
ایران کو؟ بھارت کو؟ ایم کیو ایم کو؟ ٹی ٹی پی کو؟ بی ایل اے کو؟ شیعوں کو؟ سنیوں کو؟ پاک فوج کو؟؟؟
ہم سے کہا جاتا ہے کہ پاکستان میں شیعوں کا کوئی دہشت گرد گروہ نہیں ہے اور شیعہ کبھی دہشت گردی میں شریک نہیں رہے۔ اس کا جواب ہم اوپر دے چکے ہیں، کہ پاکستان میں نہ صرف شیعہ دہشت گرد تنظیمیں موجود ہیں بلکہ شیعہ دہشت گرد مختلف سیاسی جماعتوں کی آڑ میں، غیر ملکی ایجنسیوں کے تعاون سے، ملک میں فساد برپا کرتے رہے ہیں۔ سپاہ محمد ایک بہت بڑی دہشت گرد تنظیم تھی کہ جس کو قانونی طور پر کالعدم کیا گیا ہے مگر اب وہ مختلف چھوٹے چھوٹے گروہوں میں کام کررہی ہے۔ گلگت بلتستان میں بھارت کی مدد سے باقاعدہ ایسے دہشت گرد گروہ تیار کیے گئے ہیں کہ جو شیعہ ہیں اور وہ خود شیعوں اور اسماعیلیوں پر بھی حملوں کا ارادہ رکھتے ہیں تاکہ ملک میں فرقہ وارانہ فساد برپا کیا جاسکے۔ ایران کو کلھبوشن کی حمایت اور حیدر عباس رضوی کا خود شیعوں کا قتل عام کرنا اس کی واضح مثال ہے۔
اسی لیے جب ہم کوئی بات آپ کو بتائیں تو چیخنے چلانے اور شور شرابہ کرنے کے بجائے ہوش سے بات کو سنا کریں۔ پچھلے دس برس سے ہم تن تنہا خوارج کے خلاف کھل کر اذان دیتے رہے ہیں۔ اگر ہم اس طرح کھل کر اذان نہ دیتے اور پاک فوج کو ہمت نہ دلاتے تو آج یہ خوارج پاکستان میں شیعوں کو ذبح کرچکے ہوتے۔ امت کے مفاد میں ہم نے پاک فوج کو یمن بھیجنے کی شدید مخالفت کی، اور اسکے نتیجے میں سعودی عرب میں جیل بھی کاٹی۔ اب اگر کوئی ہمیں خارجیوں کا ”حمایتی“ اور سعودیوں کا ”ایجنٹ“ ہونے کا طعنہ دیتا ہے تو اس سے بڑا منافق اورکمینہ اس پاک سرزمین کوئی نہیں ہوگا۔
یہ بات اچھی طرح سمجھ لیں کہ ہماری ڈیوٹی سیدی رسول اللہﷺ کے اس مدینہ ثانی کی حفاظت ہے۔ نہ ہم ایران کے مفادات کا تحفظ کریں گے، نہ سعودی عرب کے، نہ افغانستان کے اور نہ ہی کسی سیاسی و مذہبی جماعت کے۔ ہم صرف اللہ اور اسکے رسولﷺ اور سبز ہلالی پرچم کے مفادات کا تحفظ کریں گے۔ بدنصیبی سے ہماری قوم اس قدر فرقہ واریت، قومیت اور لسانیت میں تقسیم ہوچکی ہے کہ لوگ پہلے دیوبندی ہیں، پہلے شیعہ ہیں، پہلے بریلوی ہیں، پہلے اہل حدیث ہیں اور اسکے پاکستانی، اور مسلمانیت تو کہیں گم ہی ہو کر رہ گئی ہے۔ہر کوئی اپنے فرقے اور سیاسی جماعت کے تعصب میں اس قدر اندھا گونگا اور بہرا ہوا ہے کہ اب سوائے اللہ کے عذاب کے کوئی چیز ان کو انکی اس موت سے بیدار نہیں کرسکتی۔ 
ابھی بھی الطاف حسین کو پوجنے والے موجود ہیں، ابھی بھی بھٹو زندہ ہے، ابھی بھی ”اک واری فیئر شیر“ کا نعرہ ہے، ابھی بھی شیعوں کو تکبر ہے کہ انہوں نے ہی پاکستان بنایا تھا اور وہی بچائیں گے، ابھی تک دیوبندیوں کو یہ خناس ہے کہ پاکستان انہوں نے بنایا تھا اور وہی اس کے ٹھیکیدار ہیں۔
یاد رکھیں، اللہ اپنا کام صرف سیدی رسول اللہﷺ کے غلاموں سے لے گا کہ جو پاک سرزمین کی حفاظت کی قسم کھائے بیٹھے ہونگے۔ اللہ نہ کسی سیاسی جماعت کو قبول کرے گا نہ کسی مذہبی فرقے کو۔ ملک کی اکثریت کو جب یہ بات معلوم ہوگی تب نہ توبہ کی کوئی گنجائش ہوگی، نہ لوٹنے پلٹنے کا وقت۔ ابھی تو اپنی جہالت میں سب بہے جارہےہیں۔۔۔٭٭٭٭٭

ہم تو حسینی ہیں،زمانے کی ہر کربلا میں اذان دینگے!

دو روز قبل اپنے تفصیلی مضمون میں ہم نے آپ کو یہ واضح طور پر بتایا تھا کہ کس طرح پاکستان میں مذہبی دہشت گرد سیاسی جماعتوں میں شامل ہو کر غیر ملکی دشمن خفیہ ایجنسیوں کیلئے پاکستان میں کام کرتے ہیں۔ ہم نے آپ کو ایم کیو ایم کی بہت تفصیل سے مثال دی تھی۔
اسی طرح عزیر بلوچ پیپلز پارٹی کا ایک بہت ہی بڑا دہشت گرد کہ جس کے ذریعے زرداری اور فریال تالپور ٹی ٹی پی کے خوارج سے پاکستان میں دہشت گردی کرواتے ہیں، یہاں تک کہ بینظیر کو قتل کروانے کیلئے بھی یہی رابطے استعمال کیے گئے۔ ایک جانب تو عزیر بلوچ کے دیوبندی خوارج سے انتہائی قریبی رابطے ہیں، تو دوسری جانب عزیر بلوچ ایرانی انٹیلی جنس کا ایک بہت بڑا کارندہ ہے۔ اس کے ذریعے ایرانی انٹیلی جنس کراچی میں پاک فوج اور آئی ایس آئی کے تمام افسروں کے بارے میں مخبری کراتی رہی ہے، کراچی میں تمام فوجی تنصیبات، ایمونیشن ڈپو، اور ہوائی اڈوں کے نقشے اس کے ذریعے ایرانی انٹیلی جنس کو دیئے جاتے رہے ہیں، اور کراچی میں ہونیوالی ٹارگٹ کلنگ اور دہشت گردی میں یہ مکمل طور پر ایک مہرہ رہا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ عزیر یہ ساری جاسوسی ایرانی انٹیلی جنس کیلئے کیوں کررہا تھا؟ ایرانیوں کو ہماری فوجی تنصیبات اور ایٹمی اثاثوں کے بارے میں عزیر سے جاسوسی کروانے کی کیا ضرورت تھی؟ کیا عزیر یہ جاسوسی ایرانیوں کیلئے کررہا تھا؟ یا ایرانی اس سے یہ معلومات آگے کلبھوشن یادیو کو دینے کیلئے حاصل کررہے تھے؟
یہ بات یاد رکھیے گا کہ کلھبوشن یادیو ایران میں بیٹھ کر پاکستان میں جاسوسی اور دہشت گردی کا نیٹ ورک چلاتا تھا۔ کیا ایرانی انٹیلی جنس اس سے بے خبر تھی؟ اگر بے خبر تھی تو عزیر سے وہ معلومات کیوں حاصل کررہی تھی کہ جو کلھبوشن چاہتا تھا؟
اسی طرح پاکستان میں ایک بہت مشہور شیعہ ویب سائٹ ”شیعت نیوز“www.shiitenews.com کے نام سے ہے۔ پاکستان میں بڑی معتبر سمجھی جاتی ہے اور لاکھوں شیعہ اس کے ممبر ہیں۔ جب ہم نے یہ راز کھولے کہ بھارتی را اب شیعہ مسلمانوں میں غدار تلاش کررہی ہے تو سب سے زیادہ آگ اس ویب سائٹ کو لگی۔تھوڑی سی تحقیق سے ہی یہ معلوم ہوگیا کہ یہ ویب سائٹ نہ صرف یہ کہ بھارت سے چلائی جاتی ہے بلکہ اس کو چلانے والا ایم کیو ایم کا سرگرم شیعہ دہشت گرد سید غلام عباس زیدی ہے کہ جو آج کل لندن میں مفرور ہے اور حسین حقانی اور الطاف حسین کے نیٹ ورک کے ساتھ ملکر پاکستان توڑنے کی سازشوں میں لگا ہوا ہے۔
ہم نے آپ سے یہ بات پہلے کہی تھی کہ خفیہ ایجنسیوں کے یہ ناپاک کھیل، سیاسی جماعتوں کی غداریاں، اور مذہبی اور فرقہ وارانہ دہشت گردوں کے مفادات آپس میں اس طرح وابستہ ہیں کہ ایک عام شخص کیلئے ان کو سمجھنا مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہے۔
جب ہم نے ٹی ٹی پی اور دیوبند کے بھارت سے رابطوں کو کھولا تھا تو پاکستان میں موجود دیوبندیوں نے ہمارے خلاف غلاظت کا طوفان اٹھا دیا تھا کہ ہم تمام دیوبند کو را کا ایجنٹ کہہ رہے ہیں۔ ہماری قوم کو وقت لگا لیکن بالآخر اچھی طرح سمجھ میں آگئی کہ واقعی دیوبند کے اندر سے را نے دہشت گرد خوارج کا ایک گروہ تیار کیا ہے۔
اسی طرح آج وہی شدید رد عمل شیعہ پاکستانیوں کی طرف سے پیش آرہا ہے۔ پہلے تو ماننے سے ہی انکار کردیا کہ یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ کوئی شیعہ پاکستان کے خلاف بھارت کیلئے کام کرے۔ اب آہستہ آہستہ جیسے جیسے ہم ثبوت دیتے جائیں گے بہتوں کو یقین آتا جائے گا۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ جب ہم یہ بات کہہ رہے ہیںتو وہ بغیر ثبوت، تصدیق اور دلیل کے نہیں ہوگی۔ سچ کی تعریف ہی یہی ہے کہ ایک سچے فرد کی بات ہوتی ہے۔
یہ بھی ایک ایسی حقیقت ہے کہ جس کو پاکستان میں کوئی بات نہیں کرتا کہ بھارت کی طرح سعودی اور ایرانی انٹیلی جنس بھی پاکستان میں بھرپور طور پر اپنے اپنے اثاثے نہ صرف یہ کہ تیار کرچکی ہیں بلکہ مشرق وسطیٰ میں ہونیوالی جنگوں میں ان کو استعمال بھی کررہی ہیں۔ پارا چنار سے بھاری تعداد میں شیعہ نوجوانوں کی بھرتی شام کیلئے طویل عرصے سے ہورہی ہے۔ اسی طرح سعودی بھی یہاں سے اپنے ہم مسلکوں کو جہاز بھر بھر کر شام لے جارہے ہیں۔ امت کی بدنصیبی کہ پاکستان سے گئے ہوئے قبائلی، شیعہ اور سنی، شام جا کر ایک دوسرے کے خلاف لڑرہے ہیں۔
ایران کے بھارت سے بہت گہرے روابط ہیں۔ ایران پاکستان سے اس بات پر بھی خفا ہے کہ جنرل راحیل کی قیادت میں بننے والے اسلامی اتحاد کی قیادت پاک فوج کے پاس ہے اور ایران یہ سمجھتا ہے کہ یہ فوجی اتحاد اس کے مفادات کے خلاف استعمال ہوگا۔ اسی لیے آنے والے مستقبل میں اپنے مفادات کے تحفظ کیلئے، پاکستان پر دباﺅ رکھنے کیلئے، وہ بھارت کے ساتھ انتہائی قریبی روابط رکھتا ہے۔ یہ ایران کی انشورنس پالیسی ہے۔ گو کہ پاکستان واضح طور پر یہ کہہ چکا ہے کہ وہ کبھی بھی کسی ایسی فوجی کارروائی میں شریک نہیں ہوگا کہ جو ایران یا شیعہ مسلمانوں کے خلاف ہو مگر پھر بھی ایرانی پاکستان کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ حالانکہ یمن کی جنگ میں شامل نہ ہو کر پاکستان نے اپنے اس موقف کو بھرپور انداز میں ثابت بھی کیا ہے۔
پاکستان میں موجود سیاسی انارکی، معاشی تباہی اور معاشرتی عدم استحکام کو بھارت بہت غور سے دیکھ رہا ہے۔ بھارتی وزیر کھلے عام یہ بڑھکیں ماررہے ہیں کہ وہ 2018 ءکے آغاز میں پاکستان کو اس قدر انتشار میں مبتلا کرچکے ہونگے کہ باہر سے باقاعدہ حملہ کرنا ممکن ہوجائے گا۔
اگر پاکستان کے باہر ہونیوالی سازشوں کو دیکھیں تو ایک انتہائی خطرناک جال بنا جارہا ہے۔ حسین حقانی پوری دنیا میں دورے کررہا ہے، پاکستان کے بدترین دشمنوں، اسرائیلیوں، بی ایل اے کے دہشت گردوں، ایم کیو ایم کے غداروں اور پاکستان میں موجود سیفما کے میڈیا کے دہشت گردوں سے مسلسل ملاقاتوں اور رابطوں کا ایک سلسلہ ہے کہ جو ختم ہی ہونے میں نہیں آرہا۔ صاف نظر آرہا ہے کہ پاکستان پر حملے کی تیاریوں میں بین الاقوامی طور پر راہ ہموار کی جارہی ہے۔………………..
اگر آپ اپنے کسی بھائی سے کہیں کہ تمہارے گھر میں چور داخل ہوگیا ہے تو اس کا رد عمل کیا ہونا چاہیے….؟ کیا وہ آپ کی بات کو سچ مان کر اپنے گھر کی تلاشی لے گا اور اسکی صفائی کرے گا یا آپ کو دشمن قرار دے کر آپ پر چڑھ دوڑے گا؟
پاکستان کے بہت سارے شیعوں نے اور اس سے پہلے دیوبندیوں نے ہمارے ساتھ یہی کیا ہے۔ ہم نے ان کو آگاہ کیا کہ ان کی صفوں میں چور داخل ہوگئے ہیں۔ ہماری بات کو غور سے سن کر اپنی صفوں کی صفائی کے بجائے یہ نادان لٹھ اٹھا کر ہماری جان کو آگئے۔ اگر مسئلہ صرف ہماری جان تک محدود تو ہم کبھی پرواہ بھی نہ کرتے۔ مگر یہ مسئلہ پاکستان کی سلامتی اور امت رسولﷺ کی عزت و آبرو کا ہے۔ اسی لیے ہم نے بڑی سختی سے پراپیگنڈے کا جواب بھی دیا، اور ابھی بھی یہی کہتے ہیں کہ اپنے گھر کی صفائی کریں۔ غدار اور دشمن آپ کی صفوں میں داخل ہوچکے ہیں۔
پاکستان کے اس سیاسی اور عدالتی نظام کے ہوتے ہوئے ہمیں کسی اور دشمن کی کوئی حاجت نہیں ہے۔ آج ماشاءاللہ، لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس نے بھی اپنا ”مدبرانہ“ بیان عطا فرمایا کہ عوام کو پورا حق ہے کہ چوروں اور ڈاکوﺅں کو منتخب کرے، انا للہ و انا الیہ راجعون۔
مگر یہ داخلی فساد ہی کیا کم تھا کہ اب بیرونی خطرات بھی بالکل ہمارے سروں پر آن کھڑے ہوئے ہیں۔ پاک فوج کو اس بات کا بھرپور اندازہ ہے کہ بھارت کسی بھی لمحے ہمارے داخلی انتشار کو استعمال کرکے ہماری سرحدیں پار کرسکتا ہے۔ چند ہی ہفتوں میں پاک فوج بھارتی سرحد کے قریب اپنی بہت بڑی جنگی مشقوں کا آغاز کرنے والی ہے۔ گو کہ یہ جنگی مشقیں ہر سال ہوتی ہیں مگر اس سال صورتحال زیادہ کشیدہ بھی ہے اور نازک بھی۔ سرحد کی دوسری جانب بھارتی فوجیں بھی تیار ہیں۔ زرا سی چنگاری بھی ایک تصادم میں تبدیل ہوسکتی ہے۔ نریندر مودی کی قیادت میں ہندو صیہونی پاکستان کی داخلی کمزوریوں اور غداروں کی موجودگی کی وجہ سے بہت زیادہ پر اعتماد ہیں۔ اس سال صرف کشمیر کی سرحد پر 700 سے زائد مرتبہ ہمارا اپنے مشرک دشمن کے ساتھ تصادم ہوچکا ہے۔ بالکل واضح اور صاف نظر آرہا ہے کہ ایک بڑا تصادم کسی بھی وقت شروع ہوسکتا ہے۔
ہم ایک دفعہ پھر کہہ رہے ہیں کہ ہماری باتوں کو غور سے سنا کریں۔ اگر سمجھ میں نہ آئیں تو ادب سے سوال کریں۔ ہماری مخالفت یا تو کوئی خاص نسل کا کمینہ کرے گا، یا کھلم کھلا اللہ اور اسکے رسولﷺ اور پاکستان کا دشمن۔ ہماری اذان پاکستان کے دفاع کی سب سے بڑی اذان ہے، جو وقت کے یزیدیوں اور خوارج کے خلاف ہے۔ اگر آپ ہمارے حمایتی نہیں بن سکتے تو غدار کوفی بھی نہ بنیں۔ یہ آپ کے اپنے لیے بہتر ہے۔ ہم تو حسینی ہیں، اہل بیت سے ہیں، اور ناناﷺ کے دین کی حفاظت ہر کربلا میں کریں گے، چاہے کوئی ساتھ دے، یا کوفہ بلا کر ساتھ چھوڑ دے! ٭٭٭٭٭

میں زہر ہلاہل کو کبھی کہہ نہ سکا قند

آئیں آج آپکو ایک ایسا قصہ سناتے ہیں کہ جو اس سے قبل ہم نے کسی کو نہیں سنایا۔
2010 ءکی بات ہے، ہمارا مشن تکمیل پاکستان پورے زور وشور و عروج سے جاری تھا اور ساتھ ہی اس مشن کو روکنے کیلئے تمام اسلام دشمن و پاکستان دشمن قوتیں بھی متحد ہو کر ہم پر حملے کررہی تھیں۔ ہم پر کفر کے فتوے بھی لگائے جاچکے تھے، قادیانی بھی قرار دیا جاچکا تھا اور یہ بھی تہمت لگائی گئی تھی کہ ہم کسی جھوٹے نبی کے ماننے والے ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ ہم پر قتل کا مقدمہ بھی درج کرایا جاچکا تھا۔ ہم جہاں بھی جلسے کرتے، وہاں کانگریسی دیوبندی ملا پہنچ کر فساد برپا کراتے، ہمارے جلسوں کو خراب کرتے، یہاں تک کہ جمعے کے خطبوں میں بھی ہمارے خلاف پورے ملک میں ایک ناپاک اور جھوٹی تحریک چلائی جارہی تھی۔ یہ وہ دور تھا کہ جب حکومت میں زرداری اور عدلیہ میں افتخار چوہدری ناپاک اور پلید وجود حاکم تھے۔ پورے ملک میں دہشت گردوں کا زور تھا اور ہم پوری قوت سے خوارج کے خلاف اذان بلند کرچکے تھے۔ پاکستان میں جتنے بھی خوارج کے ساتھی اور حمایتی تھے، اور بدنصیبی سے ان تمام کا تعلق دیوبند مسلک سے تھا، وہ سب کے سب پوری قوت کے ساتھ ہم پر حملہ آور تھے۔ صورتحال اس سے زیادہ سنگین اور نہیں ہوسکتی تھی۔ ہم تن تنہا تھے اور ہر طرف سے ہمیں روکنے، گرفتار کرنے یا قتل کرنے کی ناپاک سازشیں ہورہی تھیں۔ مگر الحمدللہ، اس تمام تر فساد کے باوجود ہم پوری قوت سے پاکستان کے دفاع میں اور خوارج اور پاک سرزمین کے دشمنوں کے خلاف مصروف جنگ تھے۔اسی عرصے میں لاہور میں قیام کے دوران ہم سے بریلوی علماءکے ایک گروہ نے رابطہ کیا اور ملنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ ہم ان کی خواہش کے مطابق ان کے مدرسے گئے اور ان کے ساتھ ایک تفصیلی ملاقات ہوئی۔ وہاں کے بڑے بریلوی عالم سے ہم پہلی دفعہ مل رہے تھے، اور نہ ہی کبھی اس سے قبل ہم نے ان کا نام سنا تھا۔ بہرحال انہوں نے انتہائی تفصیل سے ہمارے عقائد اور ہم پر لگنے والے کفریہ الزامات کے بارے میں سوالات کیے، وضاحتیں سنیں، عقیدہءختم نبوت کے حوالے سے ہمارا موقف جانا اور پھر دیوبندیوں کی جانب سے ہم پر لگنے والے الزامات کو شرعی اور علمی انداز میں پرکھا۔ کم و بیش دو ڈھائی گھنٹے جاری رہنے والی اس ملاقات کے بعد وہ بریلوی عالم اس بات پر ششدر اور حیران رہ گئے کہ کس طرح دیوبندیوں نے ہم پر اس قدر جھوٹی تہمتیں اور بہتان اور کفر کے فتوے گھڑے تھے۔ انہوں نے ہم سے وعدہ کیا کہ وہ ہمارا دفاع کریں گے اور دیوبندیوں سے اس معاملے پر سختی سے بات کی جائے گی کہ ہمارے خلاف جھوٹے الزامات لگانا بند کریں۔ جب ہم اس محفل سے اٹھنے لگے تو عالم صاحب نے ہمیں مخاطب کرکے کہا: ”اس بات کی تو میں اب پوری طرح گواہی دیتا ہوں کہ آپ ایک سچے سید ہیں، کیونکہ ان ظالم دیوبندیوں کے خلاف سوائے ایک سچے سید کے کوئی اور فرد اس طرح تن تنہا کھڑا نہیں ہوسکتا تھا“۔
محفل سے نکلتے ہوئے ہم نے ایک مرتبہ پھر ان عالم دین سے ان کا نام پوچھا۔ انہوں نے فرمایا:” میرا نام خادم حسین رضوی ہے“۔خادم حسین رضوی صاحب آج اس ملاقات سے اور اس میں ہونے والے گفتگو سے مکر جائیں تو پھر میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔ مگر امید ہے کہ وہ ایسا نہیں کریں گے۔ماضی میں ہم نے کچھ علماءکو دیکھا ہے کہ جب ان پر زیادہ دباﺅ آیا تو انہوں نے بیان ہی بدل لیا۔ مگر امید ہے رضوی صاحب ان سے بہتر ہونگے۔
دوسری مرتبہ خادم حسین رضوی صاحب کا نام میں نے اس وقت سنا کہ جب ممتاز قادری کے جنازے کے بعد اسلام آباد میں ایک دھرنا دیا جارہا تھا کہ جس میں جنرل راحیل اور پاک فوج کے خلاف انتہائی غلیظ زبان استعمال کی جارہی تھی۔ اس پر میں نے دھرنے والوں کو یہ نصیحت کی تھی کہ پاک فوج کے خلاف سخت زبان نہ استعمال کریں اور نہ ہی ممتاز قادری کی پھانسی کا ذمہ دار فوج کو ٹھہرائیں کیونکہ یہ سرا سر عدالتی اور حکومتی فیصلہ تھا پاک فوج سے اس کا کوئی تعلق نہ تھا۔ ہماری اس تنقید کے جواب میں خادم حسین رضوی صاحب نے ایک ویڈیو ریکارڈ کروائی، کہ جس میں انہوں نے ہمارے بارے میں فرمایا: ”اگر میں نے یہ کہہ دیا کہ یہ جھوٹے نبی کا ماننے والا تو پھر یہ کیا کرے گا۔۔۔“
سوال یہ ہے رضوی صاحب نے یہ بات کیوں کہی؟ اگر تو میں نعوذ بااللہ کسی جھوٹے نبی کا ماننے والا اور قادیانی ہوں تو پھر کھل کر کہیں اور اپنی اس ملاقات کا بھی حوالہ دیں کہ جو 2010 ءمیں ہمارے درمیان ہوچکی تھی اور جس میں آپ ہمیں سچے سید ہونے کی گواہی دے چکے ہیں۔ اور اگر میں سچا ہوں تو پھر اس دھمکی کا کیا مطلب کہ اگر ہم نے یہ کہہ دیا۔۔۔؟ کیا یہ دھمکی صرف ہمیں چپ کرانے کیلئے تھی کہ اگر ہم نے ان کیلئے مشکلات کھڑی کیں تو یہ ہم پر دیوبندیوں کی طرح جھوٹے فتوے لگا دیں گے۔
اب لوگ ہم سے سوال کرتے ہیں کہ ہم نے اس دھرنے کی حمایت کیوں نہیں کی، اور ساتھ ہی ساتھ ہم پر وہی تہمتیں بھی داغی گئیں کہ جو عرصے سے خوارج اور ان کے حمایتیوں کی جانب سے لگائی جارہی ہیں۔
پاکستان میں ہر شخص یہ جانتا ہے کہ اس حکومت اور اس نظام کا سب سے بڑا دشمن اللہ نے اس فقیر کو بنایا ہے۔ اس حکومت کی ہر پاکستان اور اسلام دشمن سازش کو کھول کر رکھنے کی ڈیوٹی برسوں سے ہم ادا کررہے ہیں۔ اس حکومت نے اپنی پوری طاقت صرف کرلی ہمیں خاموش کرانے کیلئے، یہاں تک کہ ہمیں سعودی عرب میں گرفتار کروانے میں بھی یہی حکومت شامل تھی۔جب اس حکومت نے پارلیمنٹ میں ختم نبوت پر حملہ کیا تو سب سے پہلے اس کے خلاف میڈیا میں آواز اٹھا کر اس فتنے کو قوم کے سامنے رکھنے والے بھی ہم ہی تھے۔ ہماری ہی اذان کے بعد پاکستان کے دیگر میڈیا اور علماءتک یہ شرارت پہنچی۔ آج بھی پوری قوت کے ساتھ اس حکومت کو اس کے جرائم کی سزا دلوانے کیلئے ہم اذان دے رہے ہیں۔
ہمارا دھرنے والوں سے پھر کیا اختلاف ہے؟
خادم حسین رضوی صاحب کے ہمارے بارے میں بھی دیئے گئے اپنے بیان کے مطابق، صرف ایک سچا سید ہی پوری دنیا کے مقابلے میں تن تنہا کھڑا ہوسکتا ہے۔ ختم نبوت کے قانون میں شرارت حکومت وقت نے کی تھی۔ مجرم نواز شریف اور اس کی حکومت کے وزراءہیں اور وہ ممبر پارلیمان کہ جنہوں نے اس ناپاک جسارت کے حق میں ووٹ دیا۔ پاکستان کے کروڑوں عوام بے خبر بھی تھے، اور معصوم بھی، اور اس گناہ میں ان کا کوئی حصہ نہیں تھا۔ اگر حکومت کے خلاف کوئی تحریک چلانی ہے، کوئی دھرنا دینا تھا، تو وہ نواز شریف کے گھر کے باہر دیا جاتا، یا ڈی چوک پر، پارلیمان کا گھیراﺅ کیا جاتا کہ جس نے یہ ناپاک جسارت کی۔ فیض آباد پر تین ہفتے سے جاری اس دھرنے کے نتیجے میں حکومت پر تو کوئی دباﺅ نہ آیا، نواز شریف کو تو کوئی پریشانی لاحق نہیں ہوئی، ممبر پارلیمان تو ہنسی خوشی زندگی گزارتے رہے، مگر راولپنڈی اور اسلام آباد لاکھوں بے گناہ مسلمان ذلیل و رسوا ہو کر رہ گئے۔ لوگوں کے کاروبار متاثر ہوئے، ہسپتال، سکول و مدارس و جامعات کے راستے بند ہوئے، لوگ ایمبولینسوں میں جان کی بازی ہار گئے، پٹرول کے اضافے خرچ پر کروڑوں پر ضائع ہوئے، تمام کاروبار زندگی معطل ہوا، اور مسلمانوں کو جس اذیت اور ذلت کا سامنا کرنا پڑا، قرآن و سنت اور سیدی رسول اللہﷺ کے احکامات کی روشنی میں یہ فقیر اس امر کو حرام اور خلاف سنت سمجھتا ہے۔
میرا اختلاف مطالبات سے نہیں، طریقہءکار سے ہے۔ 
ہم سے کہا جاتا ہے کہ دھرنے والے پرامن تھے حکومت نے ان کو اشتعال دلایا۔ اس سے زیادہ خرافاتی دلیل ممکن نہیں ہے۔ میں آپ کے گھر کے دروازے پر خیمہ لگا کر بیٹھ جاﺅں، نہ آپ کو نکلنے دوں نہ کوئی آپ کا عزیز میں گھر میں داخل ہوسکے تو اس کو آپ کیا کہیں گے؟ پھر جب آپ مجھے زبردستی ہٹانے لگیں تو میں کہوں کہ میں تو پرامن تھا آپ مجھے اشتعال دلارہے ہیں۔ کیا سیدی رسول اللہﷺ نے اس امر کی اجازت دی ہے؟
حکومتی کارروائی کے بعد پورے ملک کو بند کردیا گیا۔ لاکھوں کروڑوں مسلمان، بچے بچیاں، بڑے، بوڑھے اور عورتیں سڑکوں پر رل گئے۔ کیا کبھی سیدی رسول اللہﷺ نے اس امر کی اجازت دی ہے؟ کیا صحابہ کرامؓ نے کبھی اس طرح احتجاج کیا ہے؟ سیدی رسول اللہﷺ نے تو لوگوں کو سڑکوں پر بیٹھنے سے منع فرمایا اور جب لوگوں نے یہ کہا کہ کاروبار کے سلسلے میں سڑکوں پر بیٹھنا ان کی مجبوری ہے تو آپﷺ نے فرمایا کہ سڑک پر بیٹھنے کا حق ادا کرو اور وہ یہ کہ ہر آنے جانے والے کو سلام کرو (یعنی لوگوں کیلئے سلامتی کا باعث بنو)۔
مسلمان تو اس کو کہا گیا کہ جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔ مسلمان پر تو دوسرے مسلمان کی جان، مال اور عزت کو حرام قرا دیا گیا ہے، تو پھر میں یہ کس طرح مان لوں کہ عشق رسولﷺ کے نام پر میرا اختلاف تو ایک ناپاک حکومت سے ہے اور میں غصہ بے گناہ مسلمانوں کی جان و مال و عزت سے کھیل سے نکالوں۔
ہم سے کہا جاتا ہے کیا سارے علماءجو دھرنے کی حمایت کررہے ہیں وہ غلط ہیں؟
یہاں میں پھر وہی بات دہراﺅں گا کہ جو خادم حسین رضوی صاحب نے اس فقیر کے بارے میں کہی تھی، کہ آپ سچے سید ہیں کہ جو پورے زمانے کے خلاف اکیلے حق کیلئے کھڑے ہوگئے ہیں۔
معذرت کے ساتھ، وہ تمام علماءکہ جنہوں نے شاہرائیں بند کیں، اور لاکھوں کروڑوں مسلمانوں کو اذیت پہنچائی، ہم سمجھتے ہیں کہ ان کا یہ عمل نہ تو عشق رسولﷺ کے دعوے کے مطابق ہے اور نہ ہی قرآن و سنت و شریعت اس کی اجازت دیتی ہے۔ حکومت سے اختلاف، حکومت کے خلاف ہونا چاہیے، بے گناہ مسلمانوں اور پاک سرزمین کے خلاف نہیں۔
یہ ہماری رائے ہے، کوئی چاہے تسلیم کرے یا نہ کرے۔
اپنے بھی خفا مجھ سے ہیں،بیگانے بھی ناخوش میں زہر ہلاہل کو کبھی کہہ نہ سکا قند
ہزار خوف ہوں مگر زباں ہو دل کی رقیقازل سے رہا ہے یہ قلندروں کا طریق
امید ہے کہ اب آپ کو اس دھرنے اور اس کے مطالبات اور طریقہ کار کے بارے میں ہمارا موقف بہت اچھی طرح سمجھ میں آگیا ہوگا۔
اللہ پاکستان کا حامی و ناصر ہواللہ پاک فوج کا حامی و ناصر ہولبیک یا سیدی یا رسول اللہﷺلبیک غزوئہ ہند۔

”اسلامی جمہوریہ “ یا ”مغربی جمہوریت“

آج میں پاکستان کے مفکروں، دانشوروں، رائے ساز شخصیات ، ذمہ دار صحافیوں اور محب وطن لوگوںسے بات کرنا چاہتا ہوں۔ذرا دماغ پر زور ڈالیے اور سوچیئے کہ کیا یہ وہی پاکستان ہے کہ جس کا خواب قائداعظم اور علامہ اقبالؒ نے دیکھا تھا؟ کیا پاکستان میں وہی نظام رائج ہے کہ جو پاکستان کے بانیان کے پیش نظر تھا؟ کیا پاکستان کا موجودہ آئین اس کی تکمیل کے مقاصد کی ترجمانی کرتا ہے؟ کیا پاکستان ایک ”اسلامی جمہوریہ پاکستان“ ہے یا ”جمہوریت زدہ“ پاکستان ہے؟ یہ وہ سوالات ہیں کہ جو میں آج اہل علم و دانش اور محبان وطن سے پوچھنا چاہتا ہوں۔

پاکستان کے قیام کا مقصدصرف برصغیر میں مسلمانوں کیلئے ایک الگ ریاست کا حصول نہیں تھا کہ جہاں مسلمانوں کو آزادی اظہار کی اجازت حاصل ہو، بلکہ قائداعظم ؒ کے بقول ہمیں ایک تجربہ گاہ کی ضرورت تھی کہ جہاں ہم اسلامی اصولوں کے مطابق ایک نظام کی تشکیل دے سکیں، اور پھر وہ نظام بنا کر دنیا کو دکھائیں۔ پاکستان کو ایک اسلامی جمہوری ریاست بننا تھا۔ یہاں اس فرق کو سمجھنا ضروری ہے کہ ”اسلامی جمہوریہ“ اور موجودہ ”مغربی جمہوریت“ کا باہم کوئی موازنہ نہیں۔پاکستان میں اس وقت جمہوریت کے نام پر جو مافیا راج نافذ ہے اس کا نہ تو مغربی جمہوریت سے کوئی تعلق ہے اور نہ ہی اسلامی جمہوری نظام سے۔ مغربی جمہوریت اور اسلامی جمہوری نظام میں فرق سمجھانے کی غرض سے میں آپ کو چند مثالیں دیتا ہوں۔ ایک جمہوری ریاست میں پارلیمان کی بالادستی ہوتی ہے، اور پارلیمان دوتہائی اکثریت سے کوئی بھی قانون پاس کرواسکتی ہے۔ جیسا کہ اٹھارہویں ترمیم میں ہوا کہ جس میں وفاق کو تقریباً ریاست ہائے متحدہ میں تبدیل کردیا گیا۔ جیسا کہ قادیانیوں سے متعلق قانون پاس کیا گیا، اور جس کی تازہ مثال یہ بھی ہے کہ ایک نا اہل شخص ایک سیاسی جماعت کا سربراہ بن سکتا ہے۔ تو یہ مثالیں ان لوگوں کی عقلوں سے پردہ ہٹانے کیلئے کافی ہے کہ جو یہ راگ الاپتے ہیں کہ پاکستان کے تمام مسائل کا حل جمہوریت میں ہے ۔ یہ سبھی قوانین ایک جمہوری پارلیمان نے ہی پاس کیے ہیں۔ اور جمہوریت پارلیمان کو اجازت دیتی ہے کہ وہ دو تہائی اکثریت سے کوئی بھی غیر شرعی اور غیر اخلاقی قانون پاس کرسکتی ہے۔ تو یہ ثابت ہوا کہ مغربی جمہوریت بھی کہ جو اخلاقیات سے مکمل عاری ہے ، پاکستان کیلئے موزوں طرز نظام نہیں۔
جب ”اسلامی جمہوریہ“ کی بات کی جاتی ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ریاست کے بنیادی نظریے اور قوانین میں کسی بھی صورت تبدیلی نہیں کی جاسکتی۔ چاہے پوری پارلیمان آپس میں مل بھی جائے، تب بھی جمہوریت کے طرز پر بھی آپ ملک و قوم و ریاست کے بنیادی نظریات اور ستونوں کو تبدیل نہیں کرسکتے۔ مثلاً پاکستان کے آئین کی پہلی سطر یہ کہتی ہے کہ ملک میں کوئی قانون قرآن و سنت کے خلاف نہیں بنایا جاسکتا۔ قرارداد مقاصد جو ہمارے بڑوں نے 1949 ءمیں پاس کردی تھی، واضح طور پر طے کردیتی ہے کہ پاکستان ایک جمہوریت نہیں بلکہ ”اسلامی جمہوریہ“ ہوگا، یعنی یہاں اکثریت رائے سے قوانین تبدیل نہیں ہونگے، بلکہ قرآن و سنت حتمی طور پر ملک و قوم و ملت کا بنیادی ستون رہے گا، اور اس میں کوئی بھی اکثریتی پارلیمنٹ کوئی تبدیلی نہیں کرسکتی۔
اب آتے ہیں دوسرے آپشن پر۔ کئی لوگ پاکستان میں صدارتی طرز حکومت کی بات کرتے ہیں۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان کے مسائل کا حل صدارتی طرز نظام میں ہے۔ چلیں اس پر بھی بات کرکے دیکھتے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے دور میں پاکستان میں ایک طرح کا صدارتی طرز نظام ہی رائج تھا۔ جس میں صدر زرداری کو مکمل اختیارات حاصل تھے۔ وزیراعظم کی حیثیت ایک کٹھ پتلی کی سی تھی،جس میں، وقت آنے پر ایک وزیراعظم گیلانی کو قربان کرکے دوسرا وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کو لے آیا گیا، مگر طاقت کا دارومدار ایوان صدر کے پاس ہی تھا۔
درحقیقت پاکستان کے جتنے بھی ”جمہوریت زدہ “ سربراہان رہے ہیں وہ دراصل مطلق العنان ڈکٹیٹر ہی تھے۔ سب نے پارلیمان کو اپنے اقتدار کو بچانے کیلئے استعمال کیا، سبھی نے نظریہءضرورت کے تحت قوانین بنائے، سبھی نے اپنی جماعتوں، اپنے صوبوں اور اپنے اقتدارکے مفادات میں آئین میں تبدیلیاں کیں۔ یہ لوگ اکثریت کو استعمال کرکے جمہوریت کو ایک ہتھیار کے طور پر اپنے مفادات کے حصول کیلئے پارلیمان میں استعمال کرتے رہے۔
پاکستان پر ایک وقت ایسا بھی گزرا ہے کہ جب بھٹو”جمہوریت“ کے ذریعے منتخب ہونے والا سیاسی لیڈر، جو بیک وقت چیف مارشل لاءایڈمنسٹریٹر بھی تھا، پھر صدر بھی بن گیا اور بعد میں وزیراعظم بھی۔ پورے پاکستان کے ساتھ ایک مذاق بنایا ہوا تھا۔ کہنے کو وہ ”سیاسی“ لیڈر تھا، حقیقت میں بدترین ڈکٹیٹر! بعد میں آنے والے دور میں نواز شریف اور زرداری بھی ”منتخب شدہ“ ڈکٹیٹر ہی تھے۔اور یوں ان ”جمہوری“ حکمرانوں نے اس اسلامی جمہوریہ پاکستان، اور اس کے مقاصد کے ساتھ گھناﺅنا مذاق کیا اور جو آج تک جاری ہے۔لیکن اب وقت آگیا ہے کہ ہم اس گلے سڑے نظام سے چھٹکارا حاصل کریں۔ اب وقت آگیا ہے کہ اس نظام سے ایک وقفہ لیں اور بیٹھ کے سوچیں کہ ہم سے کہاں غلطی ہوئی۔ کیوں ہم وہ نظام نہیں بنا سکے کہ جس کیلئے ہم نے یہ ملک حاصل کیا تھا، کیوں ہم اس راستے پر نہیں چل سکے کہ جو بانیان پاکستان نے وضع کیا تھا۔کیوں ہم اس ”شادباد“ کو اس کی ”منزل مراد“ تک نہیں لے جاسکے۔ 
یہ وقت ہے کہ اہل علم و دانش اور اثر ورسوخ کی حامل شخصیات پھر سے سوچیں، اور از سر نو ایک نئی راہ کا تعین کریں، تاکہ ہم اپنی آنی والی نسلوں کے ہاتھوں وہ پھلدار شجر سونپ سکیں کہ جس کی آبیاری ہماری آباءنے خون دل سے کی تھی۔ 
موجودہ حکومت اپنی مدت پوری کرنے کے قریب ہے۔ کچھ ہی عرصے بعد یہ حکومت اپنی مدت پوری کرلے گی اور پھر ایک نگران حکومت قائم کردی جائے گی۔ یہی وقت ہے فیصلے کا! 
چیف جسٹس اور آرمی چیف دونوں ہی جمہوریت کے حامی ہیں اور وہ جمہوریت کو پھلتے پھولتے دیکھنا چاہتے ہیں۔ مگر انہیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ جو نظام پاکستان میں رائج ہے وہ جمہوریت نہیں بلکہ مافیا راج ہے، اور یہ الفاظ سپریم کورٹ کے جج کے ہیںکہ جنہوں نے موجودہ حکومت کو ”سسلین مافیا“ سے تشبیہ دی ہے۔ موجودہ ”جمہوری“ نظام درحقیقت اپنے مزاج میں آمرانہ ہے، اور بدقسمتی سے قوم و ملک یہ سمجھ رہی ہے کہ اسی میں فلاح کی راہ ہے، حالانکہ یہ مکمل تباہی کا راستہ ہے۔ پاکستان کو ایک اسلامی جمہوریہ بننا تھا، نہ کہ جمہوریت زدہ۔
سادہ الفاظ میں پاکستان کو ایک نئے آئین کی ضرورت ہے کہ جس کے تحت ایک متحدہ وفاقی اسلامی جمہوریہ اور صدارتی نظام رائج ہو۔ سیاسی اثررورسوخ سے پاک ایک آزاد اور مضبوط بیوروکریسی ہو جو کہ ایک حکومت کیلئے ریڑھ کی ہڈی کا کام سرانجام دے سکے، اور مجلس عاملہ، بیوروکریسی، عدلیہ کے حدود کار متعین ہوں اور یہ سب ایک ٹیکنوکریٹک حکومت کے تحت اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہوں۔
اس موجودہ آمرانہ مافیا جمہوریت کے تحت سیاستدانوں نے اپنے سیاسی اثر و رسوخ کے ذریعے بیوروکریسی کو تباہ کردیا ہے۔ نتیجتاً ایک کے بعد ایک ریاستی ادارہ تباہ ہوتا جارہا ہے۔
اب وقت آگیا ہے کہ ہم اس ناپاک اور پلید نظام کو خیر آباد کہہ دیں۔میں پاکستان کے تمام محب وطن اور با اثر شخصیات کو دعوت دینا چاہوںگا کہ آئیں اور مل کر بیٹھ کر سوچیں کہ کیا لاکھوں شہداءکی قربانی سے حاصل کی گئی اس پاک سرزمین کو ہم یونہی بے بسی اور لاچاری سے کمزور ہوتا اور اندرونی و بیرونی دشمنوں کے ہاتھو ں تباہ ہوتا دیکھتے رہیں گے، یا آگے بڑھ کر اس کی پھر سے از سر نو تعمیر کریں گے۔
آج ہم نے اس فکری عمل کا آغاز کیا ہے۔ اب یہ آپ پر ہے کہ اس پر غیر روایتی طریقے سے سوچ وبچار کریں۔ تاکہ اس موجودہ مافیا جمہوریت سے نجات حاصل کی جاسکے۔ یہ سینکڑوں سیاسی جماعتوں پر مشتمل آمرانہ مافیا کہ جسے جمہوریت کا نام دیا جاتا ہے اب مزید قبول نہیں کی جاسکتی۔ یہ نہ صرف غیر شرعی ہے و غیر قانونی و غیر اخلاقی ہے بلکہ اپنے اندر ایک جرم بھی ہے۔آئیے پاکستان کی تعمیر نو اس طرز پر کریں کہ جس پر قائد کرنا چاہتے تھے۔٭٭٭٭٭

طاقتور مومن، کمزور مومن سے بہتر ہے!

آئیں آج ہم آپ کو ایک تاریخی داستان سناتے ہیں کہ جو ہمیں ہمارے والدین اور بزرگوں نے خود گھر میں سنائی ہے۔
ہمارے تمام بزرگوں اور والدین نے 1947 ءمیں قیام پاکستان کے وقت مشرک ہندوستان سے طویل اور مشکل سفر طے کرکے پاکستان کی جانب کی ہجرت کی تھی۔ یہ وہ دور تھا کہ جب پو رے ہندوستان میں مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلی جارہی تھی۔ ہر طرف لاکھوں کی تعداد میں مسلمان اپنے گھروں سے نکل کر قافلوں کی صورت میں پاکستان کی جانب رواں دواں تھے۔ اس دوران مسلح ہندو اور سکھ جتھے مسلمانوں کو گاجر اور مولی کی طرح کاٹ رہے تھے۔پورے پورے گاﺅں مسلمانوں کے اس طرح ذبح کردیئے گئے کہ ایک فرد بھی زندہ نہ بچا۔ دہلی سے ہزاروں مسلمانوں کی ٹرین چلتی تھی اور راستے میں اس بری طرح ذبح کی جاتی کہ لاہور ریلوے اسٹیشن پر صرف لاشیں اتاری جاتیں۔
انگریزوں کے دور میں ایک سازش کے تحت مسلمانوں کو اسلحہ رکھنے کی اجازت نہ تھی۔ تھوڑا بہت اسلحہ کہ جو چند امیر مسلمانوں اور بڑے زمینداروں کے پاس تھا، وہ بھی انگریز اور ہندو سرکار نے فسادات شروع ہونے سے قبل ضبط کرلیا تھا۔ جو فوج اور پولیس تھی وہ مکمل طور پر ہندو اور سکھ تھی۔ اس کے ساتھ ساتھ ہندو انتہا پسندوں اور سکھوں کے پاس اپنا بھی بہت اسلحہ تھا۔ مسلمانوں کے نہتہ ہونے اور دشمنوں کے پوری طرح مسلح ہونے کا نتیجہ یہ ہوا کہ پچاس لاکھ سے زائد مسلمان اس طرح ذبح کیے گئے کہ تاریخ اسلام میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ 
ہمارے بزرگوں نے ہمیں یہ بتایا کہ جن مسلمان کے پاس اسلحہ تھا وہ اپنے اور اپنے خاندان کی جان و مال و عزت کی حفاظت کرسکا، یا پھر مارا بھی گیا تو لڑتے ہوئے شہید ہوا اور اپنے ساتھ درجنوں مشرکوں کو لے کر گیا۔ جو نہتے تھے وہ بڑی بے بسی کے عالم میں مارے گئے۔
پھر ہمارے بڑوں نے ہمیں یہ بھی بتایا کہ یہ تاریخ قیام پاکستان کے تقریباً پچیس برس بعد مشرقی پاکستان میں ایک دفعہ پھر دہرائی گئی۔ مکتی باہنی کے دہشت گرد، بھارتی فوج اور اندر کے غداروں نے جب محب وطن پاکستانیوں کا قتل عام شروع کیا تو وہی عالم تھا کہ جو 1947 ءمیں ہوا تھا۔ پانچ لاکھ کے قریب محب وطن پاکستانی مشرقی پاکستان میں بڑی سفاکی کے ساتھ شہید کردیئے گئے۔ صرف وہی پاکستانی بچ سکے کہ جو خود مسلح تھے یا جن کو پاک فوج کی حفاظت میسر آسکی۔
 اپنے بزرگوں سے یہ واقعات سننے کے بعد ہم نے بچپن میں ہی یہ سمجھ لیا تھا کہ مسلمانوں کو کبھی غیر مسلح اور غیر تربیت یافتہ نہیں ہونا چاہیے، کہ ہمارے دشمن سفاک اور کمینے ہیں۔ ہمارے والدین نے بچپن سے ہی ہماری تربیت ہتھیاروں کے ساتھ کی۔ والد فوج میں تھے اور والدہ نیشنل گارڈز میں۔ بچپن سے ہی ہمیں ہتھیار رکھنے اور چلانے کی مکمل تربیت والدین نے دی۔ جب ذرا ہوش سنبھالا تو سیدی رسول اللہﷺ کی وہ حدیث شریف بھی پڑھنے کی سعادت نصیب ہوئی کہ جس میں سیدی رسول اللہﷺ نے اپنی امت کو نصیحت فرمائی کہ گھڑ سواری، تیر اندازی اور تیراکی سیکھو۔
اپنی جوانی کے دور میں ہی اللہ نے سعادت دی کہ ہم افغانستان کے جہاد میں شریک ہو کر افغانستان کو ملحد روسیوں سے آزاد کرانے کی جدوجہد میں شامل ہوں۔ وہاں بھی یہ دیکھا کہ افغانستان کے مسلمان کہ جن میں گھروں میں اسلحہ رکھنے کا رواج تھا، وہی اس قابل ہوئے کہ اپنے ملک کی آزادی اور جان و مال کی عزت کی حفاظت کیلئے تحریک مزاحمت جاری کرسکیں۔
آج پوری مسلمان دنیا کا حال ہمارے سامنے ہے۔ مشرق وسطیٰ کے تقریباً تمام بڑے ممالک یا کھنڈر بنائے جاچکے ہیں، یا بنائے جارہے ہیں۔ مسلمان امت کی تباہی کے تمام سامان مکمل ہیں۔خود ہمارے پاکستان میں آپ نے دیکھا کہ کس طرح خوارج نے سوات اور قبائلی علاقوں پر قبضہ کرکے لاکھوں کی تعداد میں مسلمانوں کو بے گھر بھی کروایا، عزت و حرمت بھی پامال کی اور ریاست پاکستان کے خلاف بغاوت بھی برپا کی۔
آرمی پبلک سکول کے بچوں کی شہادت کا زخم تو ابھی تک ہمارے دلوں میں تازہ ہے۔ اپنے بچوں کی شہادتوں کے بعد پشاور میں اساتذہ کو اسلحہ چلانے کی تربیت دی جانے لگی تاکہ بچوں کی حفاظت کی جاسکے۔
ہم سے بہت لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ ہم کیوں ہتھیاروں کے ساتھ تربیت کی ویڈیوز اور تصاویر اپنے پیج پر شیئر کرتے ہیں۔ تو اب آپ کو اس کا جواب مل گیا ہوگا۔ پاکستان حالت جنگ میں ہے، امت رسولﷺ حالت جنگ میں ہے، دشمن صرف پاکستان کو ہی نہیں پوری امت کو گھیرے میں لے چکا ہے۔ آنے والا وقت امن کا نہیں جنگ کا ہے۔ آج ہر مسلمان پر واجب ہے کہ سیدی رسول اللہﷺ کی حدیث شریف کے مطابق اور تحریک پاکستان اور مشرقی پاکستان کی تاریخ کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے آپ کو مسلح بھی کرے، جہاد کی تربیت بھی لے اور پاکستان کے دفاع کی بھرپور تیاری کرے کہ اب دور غزوئہ ہند کا ہے۔
ہم اپنی تصاویر اور ویڈیوز، نعوذباللہ، اپنی نمائش یا شو مارنے کیلئے نہیں ڈالتے۔ اس لیے ڈالتے ہیں آپ کو یہ معلوم ہو کہ پاکستان میں رہتے ہوئے قانونی طور پر بھی آپ پاکستان کے دفاع میں اپنا حصہ ڈالنے کیلئے تیار ہوسکتے ہیں۔ پاکستان کے آئین اور قانون کے مطابق ہر شہری کو یہ اجازت ہے کہ اپنی جان و مال و عزت کے دفاع کیلئے قانونی ہتھیار رکھ سکتا ہے۔ پاکستان میں لاکھوں لوگوں کے پاس قانونی ہتھیار موجود ہیں۔ مگر تربیت کا کوئی نظام موجود نہیں ہے۔
یہ ایسے ہی کہ آپ لاکھوں لوگوں کو گاڑی چلانے کی اجازت دیں، مگر ان کو گاڑی چلانا نہ سکھائیں۔
اسی طرح پاکستان میں قانوناً تو ہتھیار رکھنے کی اجازت ہے اور لائسنس بھی دیئے جاتے ہیں، مگر عام شہریوں کیلئے ہتھیاروں کی تربیت اور استعمال کا کوئی باقاعدہ نظام موجود ہی نہیں ہے۔ اس کمی کو پورا کرنے کیلئے اور پاکستان کے محب وطن شہریوں کو ہتھیاروں کی قانونی تربیت کے حوالے سے ترغیب دینے کیلئے ہم اپنی تصاویر اور ویڈیوز شیئر کرتے ہیں۔ نہ تو یہ کام غیر قانونی ہے، نہ غیر اسلامی ہے، نہ غیر آئینی ہے نہ غیر اخلاقی۔ بلکہ خالصتاً شرعی ہے، قانونی ہے، آئینی ہے اور دفاع پاکستان کا تقاضا بھی۔انسان کو جس چیز کا شوق ہوتا ہے، وہ اس کا انتظام کر ہی لیتا ہے۔ جس کو گاڑیوں کا شوق ہوتا ہے وہ گاڑی خرید ہی لیتے ہیں یا گاڑی چلانا سیکھ ہی لیتے ہیں۔ آج نوجوانوں کو قیمتی موبائل فونز کا شوق ہے، جیسے تیسے کرکے بھی اپنی پسند کے قیمتی موبائل فون خرید ہی لیتے ہیں۔
اسی طرح جس کو اسلحہ کی تربیت کا شوق ہو، وہ اس کا راستہ نکال ہی لیتا ہے۔ اگر آپ کے پاس اپنا اسلحہ نہیں، تو اسلحے کے لائسنس لیں، قانونی اسلحہ لیں اور کسی بڑے سے تربیت حاصل کریں۔ اگر لائسنس اور اسلحہ نہیں ہے تو کم از کم ایئر گن تو ہر کوئی خرید سکتا ہے۔ اسی سے نشانہ بازی کی تربیت کریں۔
لوگ ہم سے کہتے ہیں کہ جنگ کی بات نہ کریں، امن کی بات کریں۔ بچوں کو تعلیم کی ترغیب دیں، اسلحہ چلانے کی ترغیب نہ دیں۔ ایسے لوگوں کو ہم صرف یہ کہیں گے کہ ہمارے آرمی پبلک سکول کے بچے اپنے سکول میں تعلیم حاصل کرنے گئے تھے یا اسلحہ چلانے؟ ان کا کیا قصور تھا کہ ان کو اس بے دردی سے ذبح کردیا گیا؟ بات یہ ہے کہ ہم نے تعلیم بھی حاصل کرنی ہے، اور ملک و ملت و قوم کے دفاع کیلئے اب مسلح بھی ہونا ہے۔ ہم جس دور سے گزررہے ہیں، اس دور میں ہر رنگ و نسل کا کافر، مشرک اور خارجی مسلمانوں کا شکار کررہا ہے۔ پوری دنیا میں نہ مسلمانوں کی جان محفوظ ہے، نہ مال، نہ آبرو۔ ایسے دور میں مسلمانوں کبھی بھی غیر مسلح اور غیر تربیت یافتہ نہیں رہ سکتا۔
ہم جس دور میں رہ رہے ہیں اس میں دفاع پاکستان کی ذمہ داری صرف پاک فوج کی نہیں ہے۔ آنے والے دور میں ہر محب وطن پاکستانی کو پاک فوج کے شانہ بشانہ اس پاک سرزمین کا دفاع کرنا ہوگا۔ تربیت زمانہ امن میں ہی ہوتی ہے، سمجھدار امن کی فرصت کو تربیت کیلئے استعمال کرتے ہیں۔ وہ احمق ہوتے ہیں کہ جو جنگ شروع ہونے کے بعد اسلحہ تلاش کرنے کیلئے دوڑیں لگائیں۔ ایسے جاہلوں کے نصیب میں پھر ذلت کی موت ہی ہوتی ہے۔٭٭٭٭٭

مصر و حجاز سے گزر، فارس وشام سے گزر

آج ہم نے آپ سے کچھ بہت ہی سخت باتیں کرنی ہیں کہ جو فرقہ پرستوں کو ہرگز ہضم نہ ہونگی۔ آج پوری مسلمان امت عمومی طور پر شیعہ، سنی اور خوارج میں تقسیم ہوچکی ہے۔ چاہے کوئی فرد ہو، مذہبی جماعت ہو، سیاسی جماعت ہو یا حکومت ہو، ہر کوئی فرقہ پرست ہے۔ ایسے تاریک دور میں سب سے بڑا ”جہاد اکبر“ ظالم حکمرانوں کے سامنے کلمہءحق بیان کرنا ہے۔
 الحمدللہ، اس فقیر کی ڈیوٹی صرف پاکستان تک محدود نہیں ہے۔ ہماری اذانیں، تہران، انقرہ اور ریاض کے ایوانوں میں بھی پہنچتی ہیں۔فرقہ پرست جاہلوں کی طرف سے ہم پر عام طور پر شدید تہمتیں لگائی جاتی ہیں۔ جو سعودیوں کی تنخواہ پر چلتے ہیں وہ ہمیں ایرانیوں کا ایجنٹ قرار دیتے ہیں۔ جو پہلے شیعہ ہیں اور بعد میں پاکستانی مسلمان وہ ہمیں سعودیوں کا ملازم کہتے ہیں۔ مگر دونوں ہی اس وقت اندھے، گونگے اور بہرے بن جاتے ہیں کہ جب ہم ایران اور سعودی عرب دونوں کو ہی فرقہ وارانہ جنگیں برپا کرنے پر ادھیڑ کر رکھ دیتے ہیں۔ اس وقت پاکستان میں موجود ان کے حمایتیوں کو یہ سمجھ نہیں آتی کہ پھر ہمیں کیا طعنہ دیں؟ حقیقت یہ ہے کہ یہ فقیر صرف سیدی رسول اللہﷺ کا خادم ہے، اور قرآن و سنت سے واضح طور پر ہمیں یہ پیغام ملتا ہے کہ جس کسی نے بھی اس امت کو فرقہ واریت میں تقسیم کیا اس کا نہ تو اللہ سے کوئی تعلق ہے نہ سیدی رسول اللہﷺ سے۔ اس لیے ہماری باتیں صرف ان کو سمجھ آتی ہیں کہ جو فرقہ پرستی کی غلاظت سے بلند ہو کر صرف سیدی رسول اللہﷺ کے غلام ہوں۔ جو فرقہ پرست ہوگا وہ نہ کبھی ہمیں سمجھ پائے گا، نہ اس کے نصیب میں ہدایت ہوگی، اور ہمیشہ اس کے وجود سے وہ شر ہی نکلے گا کہ جس کا مظاہرہ آج آپ پوری امت مسلمہ میں دیکھ رہے ہیں۔ہم اکثر پاکستان اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر تجزیہ کرتے رہتے ہیں، جو تلخ بھی ہوتا ہے، کرخت بھی ہوتا ہے اور کڑوا سچ بھی۔ آج بھی ہم آپ کیلئے وہ تجزیہ پیش کررہے ہیں کہ جس کو بیان کرنے کی جرا ¿ت کسی فرقہ پرست کو نہیں ہوسکتی۔ یہ ہماری ٹویٹس کا اردو ترجمہ ہے کہ جو ہم نے گزشتہ دنوں کی ہیں۔………………..

٭ میرا ایرانیوں سے سوال ہے:
اگر اسرائیل آپ کا بدترین دشمن ہے، تو بھارت جو کہ اسرائیل کا قریب ترین دوست ہے، آپ کا بہترین دوست کیسے ہوسکتا ہے؟ کیا اسرائیل کے فلسطین پر اور بھارت کے کشمیر پر قبضے میں کوئی فرق ہے؟……………………….

٭ ایرانی مجھ سے جواباً پوچھ سکتے ہیں کہ پاکستان سعودی عرب کے اتنا قریب کیوں ہے، جبکہ سعودی عرب، ایران کا دشمن ہے؟جواب یہ ہے کہ: پاکستان سعودی عرب سے دوستی کی آڑ میں ایران پر حملے نہیں کررہا، جبکہ بھارت، ایران سے دوستی کی آڑ میں پاکستان پر حملے کررہا ہے۔ مزید یہ کہ ججاز کی حفاظت ہماری ذمہ داری ہے۔……………………
٭ یہی ایرانیوں اور سعودیوں کا مسئلہ ہے۔ یہ ایک دوسرے سے اتنی نفرت کرتے ہیں کہ اس دشمنی کیلئے یہ دیگر اسلامی ممالک کے خلاف ہندوﺅں اور صیہونیوں کے ساتھ بھی دوستی کرلیتے ہیں۔سعودی بھی اس معاملے میں اتنے ہی منافق ہیں جتنے کہ ایرانی۔ ان دونوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔ یہ دونوں ہی مذہب کی آڑ میں سیاست کرتے ہیں۔……………………
٭ عرب حکمران لفظ ”وفاداری“ سے بالکل ناواقف ہیں۔ پاکستان نے عرب۔اسرائیل جنگ میں شام، مصر، اردن اور عراق کا دفاع کیا تھا۔ اور کیا آپ جانتے ہیں کہ شام کے حکمران حافظ الاسد نے ہماری اس مدد کا شکریہ کیسے ادا کیا؟اس نے بھٹو کے بیٹے ساتھ ملکر دہشت گرد تنظیم ”الذوالفقار“ بنائی کہ جس نے 80 ءکی دہائی میں پاکستان کے خلاف بھرپور دہشتگردی کی۔اور یہی کچھ صدام اور قذافی نے بھی کیا۔ ……………………
٭ حافظ الاسد ہی کی طرح اس کا بیٹا بشار الاسد بھی لادین، کمیونسٹ، سفاک اور ظالم حکمران ہے۔ لیکن یوں شام کی ریاست کا تخت الٹنے کا کسی کو بھی حق نہیں تھا، اس سے لاکھوں معصوم مسلمان جانوں کا ضیاع ہوا۔ اور پورا ملک تباہ و برباد ہوکر رہ گیا۔٭ میں یہاں نہایت سختی اور دیانتداری سے کہوںگا کہ حافظ الاسد، بشار الاسد اور صدام پاکستان کے دشمن تھے، لیکن ان کی حکومتوں کے سی آئی اے کے ذریعے خاتمے نے صرف اسرائیل کو ہی فائدہ پہنچایا ہے۔ ایران نے بھی طالبان اور صدام کے خلاف امریکہ کی مدد کی تھی۔ یہ ایران کی سفاکی کا بہت بڑا ثبوت ہے۔……………………
٭ ایران نے امریکہ کی مدد سے عراق میں موجود بڑے خطرے، صدام، کو تو ہٹا دیا، مگر پھر اس کے نتیجے میں پھیلنے والی انارکی ایران کے بس سے باہر ہوگئی۔ مہدی ملیشیاءنے مسلکی بنیادوں پر قتل و غارت گری شروع کردی اور موساد نے داعش قائم کردی، جس نے شیعہ، سنی دونوں کا ہی قتل عام کیا۔ ایران اور امریکہ کے صدام کو ہٹانے کے اثرات پوری دنیا آج بھی بھگت رہی ہے۔……………………
٭ مسلح جارحیت یا خفیہ کارروائیوں کے ذریعے کسی ملک کا تختہ الٹنا ہمیشہ تباہی کا سبب ہی بنتا ہے۔ اس کے نتائج کسی کے بھی قابو میں نہیں رہتے۔ افسوس کہ امریکہ، سعودی عرب اور ایران نے کبھی بھی ان نتائج کو پیش نظر نہیں رکھا۔جو کچھ ایران نے عراق میں کیا، وہی سعودی عرب شام اور یمن میں کررہا ہے۔ یہ سب ہی مجرم ہیں۔……………………
٭ مسلکی بنیادوں پر جنگ برپا کرنے والے کبھی یہ نہیں دیکھ پاتے کہ وہ کہاں غلط ہیں، یا وہ خودکتنے بڑے مجرم ہیں۔ ان کے پاس ہمیشہ اپنے جرائم کو چھپانے کیلئے جواز تیار ہوتا ہے۔ اسرائیل بھی اسی طرح اپنے جرائم کیلئے جواز پیش کرتا ہے کہ جس طرح سعودی اور ایرانی۔………………..
٭ اب وقت ہے کہ پاکستان کو ایران اور سعودی عرب، دونوں سے ہی سختی سے بات کرنا ہوگی، اس سے قبل کہ یہ دونوں پوری امت کا بیڑہ غرق کردیں۔عراق کی طرح داعش اور موساد اب حجاز میں بھی انتشار کی آگ بھڑکانا چاہتے ہیں، جبکہ ایران سعودی عرب میں حکومت کا تختہ الٹنے کیلئے سرگرم ہے۔دوسری طرف داعش اس فساد پر نظریں گاڑے بیٹھی ہے کہ موقع ملتے ہی حرمین پر قبضہ کرے۔………………..
٭ اب سعودی عرب نے ترکی کو بھی اپنے دشمنوں کی فہرست میں شامل کرلیا ہے۔اللہ کی پناہ!بالکل پہلی جنگ عظیم والی صورتحال ایک مرتبہ پھر پیدا ہوگئی کہ جب عرب، ترک اور فارسی ایک دوسرے کے خون کے پیاسے تھے اور”ہاشمی بیچ رہا تھا آبروئے دین مصطفیﷺ۔“یا اللہ کرم، یا اللہ رحم!……………………
٭ اگر پاکستان کو امت مسلمہ میں کوئی مرکزی کردار کرنا ہے تو اس کیلئے اس کو سب سے پہلے ان ناپاک سیاسی جماعتوں سے چھٹکارا حاصل کرنا ہوگا۔حقیقت تو یہ ہے کہ نام نہاد ”سیکولر“ سیاسی جماعتیں بھی اندر سے کٹر فرقہ پرست ہیں اور قومی و بین الاقوامی پالیسیوں کی آڑ میں اپنے اپنے فرقہ وارانہ مفاد کا تحفظ کرتی ہیں، چاہے پاکستان کو کتنا ہی نقصان کیوں نہ ہوجائے۔………………..
٭ پیپلز پارٹی ایک کٹر شیعہ جماعت ہے، قریباً پوری پیپلز پارٹی قیادت شیعہ ہے اور ایران سے قریبی تعلقات رکھتی ہے۔ جب زرداری صدر تھا تو اس دور میں پاکستان کے سعودیہ سے تعلقات نہایت ہی خراب ہوچکے تھے۔اس کے برعکس نواز شریف ہمیشہ دیوبندی، تبلیغی و لشکر جھنگوی ذہنیت سے قریب رہا ہے، اور یہی وجہ ہے کہ وہ بھارت سے بھی انتہائی قریب ہے۔………………..
٭ چیئرمین سینیٹ، رضا ربانی، کٹر فرقہ پرست شیعہ ہے اور اندر خانے ایران کے ساتھ خفیہ رابطے میں ہے۔ اسے ایران سے خاطر خواہ مراعات بھی حاصل ہیں۔ جہاں دوہری شہریت کو تو عدالت میں چیلنج کیا گیا ہے، وہاں یہ درپردہ فرقہ وارانہ وفاداریاں نظرانداز کردی گئی ہیں، کہ جس کے نتیجے میں پاکستان کو ہمیشہ اپنی خارجہ پالیسی میں بحران کا سامنا رہتا ہے۔……………………
٭ یہی وجہ ہے کہ ہم اس بات پراس شدت سے زور دیتے ہیں کہ اب اس سیاسی سرکس کو ختم ہونا چاہیے۔ یہ سیاستدان نہ صرف یہ کہ کرپٹ ہیں، بلکہ درپردہ فرقہ وارانہ وفاداریاں بھی رکھتے ہیں۔ بیرون ملک سے احکامات وصول کرتے ہیں اور وفاق پاکستان، نظریہءپاکستان اور پاک فوج کی جڑیں کاٹنے میں لگے رہتے ہیں۔………………..
٭ ہمارے ہاں لوگوں کے مسلکی تعصبات پر بات کرنا ایک نازک موضوع ہے، اور اکثر لوگ ایسی گفتگو کرنے کو گناہ سمجھتے ہیں۔۔ مگر ہمیں پاکستان کے دفاع کیلئے سیاسی میدان کے اس خاردار جنگل میں اترنا ہی ہوگا۔ ہماری تمام سیاسی جماعتیں یا تو فرقہ پرست ہیں، خواہ مسلکی بنیادوں پر ہوں، خواہ صوبائی، خواہ لسانی، یہ سب کے سب ریاست پاکستان اور نظریہءپاکستان کی جڑیں کاٹنے والی ہیں۔ اس سیاست کے ہوتے ہوئے، نہ تو پاکستان کبھی اسلامی فلاحی ریاست بن سکتا ہے اور نہ ہی امت مسلمہ کی قیادت سنبھال ہے۔ اس غلاظت کے کینسر کو پہلے تلوار کی نوک پر کاٹ کر نکالنا ہوگا۔

پاک سرزمین اور ہماری ڈیوٹی

تحریر: سید زید زمان حامد

2007 ءمیں جب اس فقیر نے میڈیا پر آکر دفاع پاکستان اور احیائے پاکستان کی اذان دینی شروع کی تو، 1971 ءکے بعد، وہ ہماری تاریخ کے سیاہ ترین دن تھے۔ اس قدر دہشت گردی تھی کہ ملک ہاتھ سے نکل چکا تھا۔ خود فوج کا یہ عالم تھا کہ وردی پہن کر جی ایچ کیو نہیں جاسکتے تھے۔2007 ءکے آخر تک کہ جب بینظیر کو بھی خود کش حملے میں قتل کردیا گیا، اور پورے ملک میں انتقامی فساد پھوٹ پڑے، تو خطرہ ہوچلا تھا کہ واقعی پاکستان ہمارے ہاتھ سے نکل جائے گا۔
اسی ناممکن صورتحال میں اس فقیر کی اذان نے قوم کو سنبھالا دیا، فوج کو حوصلہ دیا، خوارج کو بے نقاب کیا اور نظریہءپاکستان کو زندہ کیا گیا۔اگلے پانچ برس 2013 ءتک ہمارے مشن کے مشکل ترین سال تھے۔ زرداری پاکستان کا صدر تھا، افتخار چوہدری چیف جسٹس اور جنرل کیانی سپہ سالار۔ اور تینوں ہی اس فقیر کی جان کے دشمن۔ ہر طرح سے ہمارے مشن کو روکنے کیلئے ہم پر آزمائشوں اور مصیبتوں کے پہاڑ توڑے گئے، یہاں تک کہ قتل کا مقدمہ بھی بنایا گیا، توہین رسالت کا الزام لگا کر مروانے کی کوشش بھی کی گئی۔مگر الحمدللہ، 2007 ءسے 2013 ءتک، ہماری اذان کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے پہلے پاک فوج کو سنبھالا اور پھر پاک فوج نے پاک سرزمین کو سنبھالا۔ اگر پاک فوج پاکستان کی حفاظت کررہی تھی تو ہم پاک فوج کی حفاظت کررہے تھے، اور پھر اسی پاک فوج کی تلوار سے ہم نے دشمنوں کا صفایا کروایا، جبکہ نظریہءپاکستان اور بابا اقبالؒ کو ہم نے خود زندہ کیا۔
خدا خدا کرکے زرداری، افتخار چوہدری اور کیانی دفع ہوئے۔2013 ءکے انتخابات کو ہم نے روکنے کی بہت کوشش کی، کہ جو تباہی زرداری کی جمہوریت لا چکی تھی وہ کافی تھی یہ بتانے کیلئے کہ اگلے پانچ سال بھی پاکستان کو ”جمہوری طرز“ پر سیاسی دہشت گردی کا نشانہ بنایا جائے گا۔بہرحال 2013 ءمیں جو ہمارے خدشات تھے، نواز شریف کی جمہوریت کے بارے میں، وہ سو فیصد صحیح ثابت ہوئے۔ نواز شریف، زرداری سے بڑا سیاسی اور معاشی دہشت گرد ثابت ہوا۔ آج 2018 ءمیں پچھلی دس سالہ سیاسی دہشت گردی کا یہ نتیجہ نکلا ہے کہ ملک دیوالیہ اور عالمی طاقتوں کے ہاتھوں گروی رکھا جاچکا ہے۔یہی وجہ تھی کہ ہم اس ”جمہوری دہشت گردی“ کو 2018 ءکے الیکشن میں روکنا چاہتے تھے۔ نظام کی درستگی کے بغیر اور پچھلے دس سال میں لوٹی گئی دولت کو واپس لائے بغیر ملک کو دوبارہ جمہوریت کے حوالے کرنا ایک سراسر حماقت، جہالت اور یہاں تک کہ غداری کے مرتکب ہونے والی بات تھی۔
بہرحال، اب انتخابات ہوچکے ہیں، ”نیا پاکستان“ بننے جارہا ہے۔ ظاہر ہے کہ ہم اس حکومت کو فی الحال چلنے دینگے، اس کی حمایت کریں گے، اس کو نصیحت کریں گے۔ جہاں یہ غلطیاں کرنے لگے گی، وہاں تنبیہ کریں گے۔ جہاں اچھے کام کرے گی، وہاں تعریف بھی کریں گے۔
بہت گہری نگاہ رکھیں گے اس کے اوپر۔زرداری اور نواز کی حکومتیں تو ہم دیکھ چکے ہیں، اب عمران کی بھی دیکھ لیتے ہیں۔ جب نظام وہی غلیظ ہو، مشیر وہی حرام خور ہوں، کرپشن اور خیانت اسی طرح رچی بسی ہو، پارلیمان میں جاہلوں کی اکثریت ہو اور قیادت لبرل اور سیکولر ہو، تو اسلامی فلاحی ریاست کہ جس کی بنیاد شریعت پر ہو، ایک خواب سی لگتی ہے۔یہ بات درست ہے کہ عمران، زرداری اور نواز شریف سے بہتر ہے۔ مگر یہ بات بھی درست ہے کہ اس کا اسلامی فلاحی ریاست کا نعرہ بھٹو کے روٹی، کپڑا اور مکان کے نعرے سے کوئی مختلف نہیں ہے۔اگر عمران کی حکومت صرف پچھلے چوروں کا احتساب کرکے لوٹا ہی مال ہی برآمد کرلے اور فوج کے مشورے سے قومی سلامتی کے اہم فیصلے کرلے، تو میں سمجھوں گا کہ انہوں نے کچھ کرلیا ہے۔جیسے کہ ہم نے کہا، ہم ہرگز پی ٹی آئی کی حکومت کی مخالفت نہیں کریں گے۔ ان کو موقع دینگے کہ یہ کچھ کر کے دکھائیں۔ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ یہ بغیر فوج اور عدلیہ کی مدد کے دھیلا بھی نہیں کرسکتے۔ فوج اور عدلیہ کو مجبوراً سیاست میں دخل بھی دینا ہوگا اور اس کو چلانا بھی ہوگا۔باقی رہے نام اللہ کا، اس پاک سرزمین نے تو اللہ کے حکم سے ہمیشہ قائم رہنا ہے۔ یہ حکمران، یہ سیاست باز، یہ معاشی دہشت گرد، پہلے بھی تھے اور آج بھی ہیں، اور ”نئے پاکستان“ میں بھی ہونگے۔اللہ تو اپنا کام فاسقوں سے بھی لے لیتا ہے، شاید ان سے بھی کچھ لے لے۔ مگر یہ وہ لوگ نہیں ہیں کہ جو ”تکمیل پاکستان“ کریں گے۔
اللہ نے ہماری ڈیوٹی اس پاک سرزمین کی حفاظت کی لگائی ہے۔ اس کے پاکیزہ، بابرکت روحانی نظریے کی حفاظت، اس کی پاک فوج کی حفاظت، اس کی جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت، بابا اقبالؒ کے پیغام کی حفاظت، شریعت و دین و اسلام کی حفاظت۔یہ ڈیوٹی، ان شاءاللہ، ہر حال میں، ہر وقت ادا کی جاتی رہے گی، چاہے ”پرانا پاکستان“ ہو یا ”نیا پاکستان“۔٭٭٭٭٭

پاکستانی عدالتی نظام اور مدینہ کی ریاست

 تحریر: سید زید زمان حامد

سیدنا علیؓ نے فرمایا تھا کہ حکومتیں کفر کے ساتھ تو چل سکتی ہیں، مگر ظلم کے ساتھ نہیں!آج پاکستان میں ہر فساد کی جڑ یہ ہے کہ یہاں عدالتی نظام 1860 ءکا وہ نو آبادیاتی نظام ہے کہ جو اس وقت کے حاکم انگریزوں نے مقامی لوگوں کو غلام رکھنے کیلئے بنایا تھا۔انگریزوں کا بنایا ہوا پونے دو سو سال پرانا انگلیو سیکسن عدالتی نظام اور قوانین ظلم اور استبداد کی وہ بدترین مثال ہیں کہ جس کی سفاکی اور غلاظت کی کوئی انتہائی نہیں ہے۔یہ نظام عدل کیلئے نہیں، جبر کیلئے بنایا گیا تھا۔انگریزوں کے بنائے ہوئے اس سفاکانہ عدالتی نظام کی بنیاد وکالت کے پیشے پر ہے۔ جب ایک پیشہ ہی ایسا بنایا دیا جائے کہ جس کا ذریعہ آمدن جھوٹ بول کر مقدمات کو طول دینے میں ہو، تو انصاف کا جنازہ تو یہیں نکل جاتا ہے۔اس نظام کی بنیاد ایسے رکھی گئی ہے کہ جج، وکیلوں کے دلائل اور شہادتوں کی بنیاد پر ہی فیصلے کرتا ہے۔ جج بذات خود تحقیق نہیں کرسکتا، بلکہ جھوٹی گواہیوں اور وکیلوں کے پیچیدہ دلائل کو بنیاد بنا کر فیصلہ کرنے پر مجبور ہوتا ہے۔ عدل کے بجائے قانونی پیچیدگیوں پر زور ہوتا ہے۔ ظلم و استبداد کا یہ نو آبادیاتی عدالتی نظام نہ صرف کفر ہے بلکہ پاکستان کے پورے معاشی نظام کو درہم برہم کرنے کا بھی ذمہ دار۔
چاہے وراثت کا مقدمہ ہو یا قتل کا، زمین کا تنازعہ ہو یا ملک و قوم کے خلاف غداری کا، انصاف کئی کئی برس بعد بھی نہیں ملتا۔قاتل، ڈاکو اور راہزن قیمتی سے قیمتی وکیل کرکے، قانونی پیچیدگیوں کو استعمال کرتے ہوئے، اپنے مقدمات کو سیشن کورٹ، ہائی کورٹ اور پھر سپریم کورٹ میں برسوں گھسیٹ کر سزا سے بچ جاتے ہیں۔ غریب آدمی تو صرف تھک کر ہی ترستا رہ جاتا ہے۔سب سے کم تجربہ کار اور اکثر نا اہل ترین جج سیشن کورٹ میں لگائے جاتے ہیں۔ پھر ان کی اپیلیں برسوں ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں چلتی ہیں۔ مقدمے کی نکل نکلوانے کیلئے بھی عدالتی عملہ پیسے لیتا ہے۔ پورے کا پورا نظام ہی فرعونیت اور ظلم و استبداد پر مبنی ہے۔
پاکستان میں گو کہ ہر نظام ہی گلا سڑا اور بوسیدہ ہے، مگر ان سب میں عدالتی نظام سب سے زیادہ غلیظ اور کینسر شدہ ہے۔ شریف انسان تو عدالت کا نام سن کر خوف میں مبتلا ہوجاتا ہے، کہ یہاں عدالت ظلم و استبداد کا دور دورہ ہے۔ اسلام تو دور کی بات، یہاں تو عام درجے کی انسانیت بھی نصیب نہیں ہے۔یہ بات بالکل واضح ہے کہ پاکستان ”پرانا“ ہو یا ”نیا“۔۔۔ اگر یہی عدالتی نظام چلتا رہا تو ملک میں ظلم و استبداد اور کفر ہمیشہ قائم رہے گا۔ نہ عدل ہوگا، نہ انصاف فوری ہوگا، نہ مفت ہوگا، نہ گھر کی دہلیز پر ہوگا، اور پورا معاشرہ فساد میں مبتلا رہے گا۔ تحریک ”انصاف“ بھی تحریک ”ظلم“ ہی رہے گی!!!
اسلامی عدالتی نظام کی بنیاد عدل پر ہے۔ انصاف فوری ہوتا ہے، ہوتا ہوا نظر آتا ہے، قاضی خود تحقیق و تفتیش کرتا ہے، انصاف مفت ہوتا ہے اور اس میں وکیلوں کے جھوٹ اور ان کی بھاری فیسوں کی کوئی گنجائش سرے سے ہے ہی نہیں!یہ انتہائی انقلابی عدالتی نظام ہے!ہماری پوری اسلامی تاریخ میں ہمیں یہ لاکھوں مثالیں ملتی ہیں کہ قتل جیسے مقدموں کے فیصلے بھی ایک ایک گھنٹے میں کیے گیے ہیں، مجرموں کو فوری سزا دی جاتی ہے، عدل مفت ہوتا ہے، سائل عدالت میں آکر خود کو محفوظ تصور کرتا ہے، وکیلوں کا کوئی وجود نہیں ہوتا۔
کیوں آج ہم پاکستان میں اسلامی شرعی عدالتی نظام قائم نہیں کرسکتے؟اسلامی شرعی عدالت میں نہ قاتلوں اور ڈاکوﺅں میں بھاری فیس لیکر وکیل بچا سکتے ہیں، نہ قانونی پیچیدگیاں عدل و انصاف کی راہ میں حائل ہوسکتی ہیں۔ اگر قتل کیا ہے تو یا قصاص ہوگا یا معافی یا سولی!نہ کوئی اپیل، نہ کوئی تاخیر!
پاکستانی قانون میں صدر پاکستان کو قاتل کی سزا معاف کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ یہ قطعاً حرام اور غیر شرعی عمل ہے۔ قاتل کو معاف کرنے کا حق صرف مقتول کے ورثاءکو ہوسکتا ہے۔اگر انصاف حاصل کرنے کیلئے لاکھوں روپے خرچ کرنے پڑیں، سالوں انتظار کرنا پڑے، تو یہ نظام کفر اور ظلم کا کہلائے گا۔آج بھی پاکستان میں کئی طرح کی عدالتیں چل رہی ہیں۔ انگریزی عدالتیں بھی ہیں، فوجی عدالتیں بھی ہیں، شرعی عدالت کے نام پر ایک مذاق بھی ہے، جرگے بھی ہیں۔۔۔ تو پھر کیا حرج ہے کہ ریاست اصلی اسلامی شرعی عدالتیں بنا کر اپنی نگرانی میں لوگوں کو انصاف فراہم کرے؟
ایک مرتبہ کرکے تو دیکھیں۔ جب قاتل پکڑا جاتا ہے، ثبوت موجود ہیں، خود اقرار کررہا ہے، گواہ موجود ہیں، تو پھر قتل کے مقدمے کا فیصلہ 15 منٹ میں کیوں نہیں کیا جاسکتا؟کیا ضروری ہے کہ انصاف کیلئے، سیشن کورٹ، ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے بیس سال کے سفر کو لاکھوں روپے دے کر طے کیا جائے؟
ہمیں پاکستان میں ہر حال میں قصاص کو نافذ کرنا ہے۔ہر حال میں چور کے ہاتھ کاٹنے ہیں۔ہر حال میں ڈاکو کو سولی چڑھانا ہے۔ہر حال میں وراثت کو فوری تقسیم کرنا ہے۔ہر حال میں انصاف کو مفت، فوری اور گھر کی دہلیز تک پہنچانا ہے۔پاکستان میں 90 فیصد مقدمات بہت آسانی سے چند گھنٹوں یا چند دنوں میں شرعی عدالتوں میں نبٹائے جاسکتے ہیں۔
 صرف حکومتی، معاشی یا کاروباری مقدمات کچھ ایسے ہونگے کہ جن کیلئے بین الاقوامی قوانین کی پابندی مجبوری ہو۔ ورنہ معاشرے میں عدل قائم کرنے کیلئے انصاف مفت اور فوری کرنا ہوگا۔
اگر تحریک انصاف کی حکومت یہ جرا ¿ت نہیں کرسکتی، تو پھر ”انصاف“ اور ”تبدیلی“ کا ڈرامہ بند کرے، اور کھل کر کہے کہ ہم بھی انگریزوں کے نظام کو جاری رکھنے کیلئے ہی آئے ہیں۔ملک میں جو لاکھوں وکیل ہیں، بدقسمتی سے شریعت اور انصاف کی راہ میں یہی سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔یہ بات بالکل طے ہے کہ ہمیں معاشرے میں اگر عدل و انصاف کو نافذ کرنا ہے تو اس کیلئے پورے عدالتی نظام میں فوری طورپر ہماری بتائی ہوئی انقلابی تبدیلیاں لانی ہونگی۔ پہلی عدالت میں ہی قابل ترین قاضی لگا کر محکم فیصلے کرنے ہونگے کہ جو فوری اور مفت انصاف یقینی بنائیں۔
اس بات پر غور کریں کہ اسلامی عدالتی نظام میں جیلوں کا تصور نہیں ہے۔ یا مجرم کو سزا دی جاتی ہے، یا دیت لی جاتی ہے، یا معاف کردیا جاتا ہے۔ مگر جیلوں میں رکھ کر سڑانے کا کوئی حکم نہیں ہے۔ذرا سوچیں کہ اگر شریعت نافذ ہوجائے تو ملک کی جیلیں خالی ہوجائیں گی۔۔۔
اللہ جب چاہے گا، اپنے ایسے شیر دلیر بندوں کو پاکستان کی حکمرانی دے گا کہ جو حقیقی معنوں میں ”تبدیلی“ لیکر آئیں گے۔ عدل و انصاف کو فوری، یقینی، بے لاگ اور مفت بنائیں گے۔ شریعت نافذ کریں گے، ظلم کا خاتمہ کریں گے، اور پاکستان کو حقیقت میں ”مدینہ کی ریاست“ بنائیں گے۔ ان شاءاللہ!!!!

پاکستانی افغان

 تحریر: سید زید زمان حامد

انیسویں ویں صدی کا دور تھا کہ جب انگریزوں اورسکھوں کے درمیان شدید جنگیں جاری تھیں۔ اس دوران انگریزوں نے ایک سکھ شہزادہ لیا اور اسے بڑی عزت کے ساتھ انگلستان لے گئے۔ اس کی تربیت کی، اس کے غصے کو اپنی اطاعت میں تبدیل کیا، پھر اسے بڑی شان و شوکت سے واپس لائے اور اس کے ذریعے تمام سکھوں کو اپنا فرمانبردار بنا لیا۔
اس واقعے میں ایک گہرا سبق پوشیدہ ہے کہ ان تمام افراد کیلئے کہ جو پاکستان میں ہی پیدا ہوئے افغانیوں کو، شہریت دینے کے مخالف ہیں۔ہر جنگ طاقت اور تلوار کے بل بوتے پر نہیں جیتی جاتی۔ تلوار وہاں نکالنی پڑتی ہے جہاں دشمن بھی تلوار نکالے، ورنہ دشمن کوزیر کرنے کیلئے ”محبت فاتح عالم“ کافی ہوتی ہے۔جس طرح پاکستان میں ہمارے ہی درمیان، ہمارے ہی لوگوں میں سے غدار اور خائن موجود ہیں، اسی طرح دنیا کی ہر قوم میں ہوتے ہیں۔اسی طرح نہ تو تمام افغان پاکستان دشمن ہیں اور نہ ہی تمام پاکستان دوست۔ یہ ہمارا کام ہے کہ پاکستان دوستوں کو قریب کریں، اور دشمنوں کو دوستوں میں تبدیل کریں۔
افغان جہاد کے دوران اور آج بھی، افغانستان دو واضح طاقتوں میں تقسیم نظر آتا ہے۔ ایک وہ کابل حکومت جو ہمیشہ پاکستان مخالف رہی ہے، اور دوسرے وہ افغان مجاہدین کہ جو ہمیشہ پاکستان کے حلیف، دوست اور ساتھی رہے۔ آج بھی افغان طالبان نہ تو پاکستان دشمن ہیں، نہ ہی سابق کمیونسٹوں کی طرح پشتونستان کے حامی۔پاکستان میں لاکھوں ایسے افغان بچے ہیں کہ جنہوں نے افغانستان دیکھا ہی نہیں ہے۔ اکثریت کا تعلق افغان مجاہدین یا افغان طالبان کے خاندانوں سے ہے۔ یہ غریب اور مسکین لوگ ہیں، صرف امن، پناہ، تعلیم اور روزگار ان کی زندگی کا مقصد ہے۔ نہ یہ پاکستان کے دشمن ہیں اور نہ ہی کابل حکومت کی سیاست سے ان کا کوئی تعلق۔
اگر آج پاکستان کی جگہ بھارت کی سرحد افغانستان سے لگتی ہوتی، تو ابھی تک افغانستان بھارت کا ایک صوبہ بن چکا ہوتا، تمام افغانی بھارتی شہری ہو تے، وہاں بھارتی کرنسی چلتی اور بھارتی قوانین لاگو ہوتے۔ہمارے ہی حکمران بزدل اور بے غیرت ہیں کہ اتنی جرا ¿ت کر ہی نہیں سکتے۔
دنیا کی بساط پر وہی قومیں زندہ رہتی ہیں جو شیروں اور دلیروں کی طرح جیتی ہیں، دشمنوں کو دوست بنانے کا ہنر جانتی ہیں، وقت کے دھارے کو اپنی قوت سے موڑ کر اپنی طاقت میں اضافہ کرتی ہیں، اپنے نظریات اور جرا ¿ت کردار سے اپنے جغرافیے کو وسیع کرتی ہیں۔پاکستان کے کردار کو سمجھیے۔ افغانستان کیا چیز ہے؟ ہمیں تو اللہ نے امت کی قیادت کیلئے پیدا کیا ہے۔ افغانستان کو تو ہمارا ایک چھوٹا سا صوبہ ہونا چاہئیے تھا۔یہ ہمارے حکمرانوں کی بزدلی اور بے غیرتی ہے کہ اب تک افغانستان الگ ملک کی حیثیت سے قائم ہے، اور اس میں ہماری دشمن حکومت بیٹھی ہے۔
ہم 22 کروڑ پاکستانی ہیں۔ وہ 1.5 کروڑ آپس میں بٹے ہوئے، خانہ جنگی میں مبتلا، قومیت، لسانیت اور فرقہ واریت میں تقسیم گروہ ہیں۔ ہم ان سے کیوں خوفزدہ ہیں؟ اگر چند لاکھ عورتیں اور بچے ہمارے شہری بن بھی جائیں تو پاکستان کو کیا فرق پڑے گا؟ہاں! یہ ضرور ہوگا کہ آنے والے وقتوں میں افغانستان مکمل طور پر ہماری گرفت میں ہوگا۔
معاشی طور پر بھی یہ پاکستان کیلئے انتہائی مفید ہے کہ اگر ہم افغان سرمایہ کاری پاکستان میں آنے دیں۔ افغانستان کے لوگوں کے پاس اربوں ڈالر پڑے ہیں، مگر افغانستان کے اندر سرمایہ کاری کے کوئی مواقع نہیں ہیں۔ اگر پاکستان میں ان کا پیسہ لگا ہوگا تو یہ کبھی بھی پاکستان کو نقصان نہیں پہنچائیں گے۔
آج انڈیا کی سرتوڑ کوشش ہے کہ افغانستان کو پاکستان سے دور کیا جاسکے۔ افغان شہریوں کو پاکستانی شہریت دینے کی سب سے زیادہ مخالفت انڈیا لابی کررہی ہے، یا پھر وہ نادان پاکستانی کہ جو نہ تاریخ جانتے ہیں، نہ پاکستان کی تقدیر اور نہ ہی عالمی بساط پر سجی سیاست۔
جیسے آپ کو کالا باغ ڈیم کی مخالفت کرنے والے اس ملک میں بہت مل جاتے ہیں۔ ان میں دانا دشمن بھی ہیں اور نادان دوست بھی۔اسی طرح آپ کو افغانیوں کو پاکستانی شہریت دینے کی مخالفت کرنے والے بھی بہت ملیں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ لاکھوں افغان شہری پاکستان کو ہی اپنا گھر سمجھتے ہیں اور انہوں نے تو افغانستان دیکھا ہی نہیں ہے۔
آنے والے وقتوں میں اس پاک سرزمین نے پھیلنا ہے۔ ہم نے ہندوستان پر بھی قبضہ کرنا ہے، اور مغرب کی جانب بھی وسیع ہونا ہے۔ وہ قومیں جن کے دل چھوٹے ہیں، نظریں تنگ ہوتی ہیں، سوچ محدود ہوتی ہے، نہ کبھی ان کی سرحدیں وسیع ہوتی ہیں، نہ ان سے ”لیا جاتا ہے کام دنیا کی امامت کا“!!
اللہ پاکستان سے جو کام لینا چاہتا ہے وہ گھٹیا اور کمینی قیادت سے کبھی نہیں لے گا۔ جو اتنے معمولی فیصلوں پر بھی تذتذب کے شکار ہوں، سمجھ لیں کہ ان کے نصیب میں وہ خیر ہی نہیں ہے کہ جو اللہ نے اس پاک سرزمین کے نصیب میں لکھی ہے۔ اگر آج چند لاکھ افغانیوں سے ڈر رہے ہیں تو کل دہلی پر سبز ہلالی پرچم کیسے لہرائیں گے؟؟؟٭٭٭٭٭

کہ لیا جائے ان سے کام دنیا کی امامت کا۔۔۔!!!

 تحریر: سید زید زمان حامد

یاد رکھیے گا، کہ مدینہ کی ریاست بعد میں بنی تھی، اس کا نظریہ 13 برس قبل اللہ کی طرف سے سیدی رسول اللہﷺ کے ذریعے بیان کردیا گیا تھا۔ اسی مقدس نظریے کی بنیاد پر مدینہ کی پاک ریاست وجود میں آئی، اور آنے والے وقتوں میں پھیلتی چلی گئی۔پاکستان بھی ”مدینہءثانی“ ہے۔ اس کا بھی نظریہ پہلے آیا، ریاست کا قیام بعد میں ہوا۔ ”مدینہءاول“ کی طرح اس ”مدینہءثانی“ کا نظریہ بھی ”لا الہ الا اللہ محمد الرسول اللہ“ پر ہے۔ ریاست چھوٹی بڑی ہوسکتی ہے، نظریہ کبھی تبدیل نہیں ہوسکتا۔
پاک فوج ہمیشہ سے اس بات پر فخر محسوس کرتی رہی ہے کہ وہ پاکستان کی نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوں کی محافظ ہے، اور اس میں کوئی شک بھی نہیں ہے۔مگر آج کے دور کی جدید جنگوں میں کہ جہاں شدید نظریاتی حملے ہورہے ہوں، فوج کیلئے ممکن نہیں کہ دونوں محاذوں کا دفاع کرسکے۔آج پاکستان کی نظریاتی و روحانی سرحدوں کے دفاع کی ذمہ داری پوری پاکستانی قوم، حکومت اور عدلیہ پر آ پڑی ہے۔ فوج زمین پر جنگیں لڑرہی ہے، نظریہءپاکستان کی حفاظت ہماری ذمہ داری ہے۔ اگر نظریے کو نقصان پہنچا، تو پاکستان کی ریاست کا وجود بے معنی ہوجائے گا۔
پاکستان پر جتنے خونریز حملے خوارج اور دیگر دہشت گردوں کے ذریعے ہورہے ہیں، اس سے زیادہ شدید حملے ہماری نظریاتی او روحانی اساس پر جاری ہیں۔ یہ حملے ان تبلیغاتی اور صحافتی دہشت گردوں کی جانب سے ہیں کہ جو پاکستان کا میڈیا اور تعلیمی نظام کنٹرول کرتے ہیں۔ہمارے مدرسوں میں خوارج کی فکر کو فروغ دینا، یا انگریزی تعلیمی اداروں میں فحاشی، برائی اور بدکاری کی ترغیب۔۔۔ دونوں ہی ملک و قوم اور نظریہءاسلام کے خلاف دشمنی، غداری اور خیانت ہے۔مشرف کے دور سے اور پھر زرداری اور نواز کے دور میں، پاکستان کے تعلیمی اداروں میں فحاشی اور بدکاری کا سیلاب امنڈ کر آیا تھا۔ بیکن ہاﺅس جیسے سکول، ہندو مشرکوں سے پیسے لیکر ملک و قوم و ملت کی آنے والی نسلوں کو کفار کے ہاتھوں فروخت کرچکے ہیں۔ریاست پاکستان تماشائی بنی رہی۔۔۔
غیرت مند اور دلیر قوموں کیلئے، بھوکا رہنا کوئی مسئلہ نہیں ہے، بے غیرت ہونا مسئلہ ہے۔پاکستان کے تعلیمی اداروں میں جہاں ایک جانب خوارج بننے کی تربیت دی جارہی ہے، تو دوسری جانب زناءاور بدکاری کو جس طرح عام کیا جارہا ہے، اس پر حکومت کی خاموشی بے غیرتی کی انتہا ہے۔
آج کے جدید ترکی کو دیکھیں، تمام تر معاشرتی خرابیوں کو باوجود، موجودہ ترک حکومت سرتوڑ کوشش کررہی ہے کہ اپنی شاندار تاریخ کو دوبارہ زندہ کرے، سیکولر ازم کے ناپاک اثرات کو ختم کرے، اسلامی تشخص اور روحانیت کو فروغ دے، قوم میں غیرت اور شجاعت پیدا کرے۔یہ ہمارے دین کا حکم بھی ہے، آئین کا تقاضا بھی ہے، اور میدان جنگ میں حکمت عملی کا بھی۔ ہمیں ہر حال میں اپنی نظریاتی و روحانی اساس کی حفاظت کرنی ہے۔اپنی شاندار تاریخ کو زندہ کرنا ہے۔ محمد بن قاسم، غوری، غزنوی اور ابدالی کو اسی طرح ہیرو بنانا ہے کہ جیسے ترک کررہے ہیں۔برسوں ہوگئے پاکستانی میڈیا پر کوئی ایک بھی ڈرامہ ایسا نہیں بنا کہ جو قوم میں اللہ اور اسکے رسولﷺ سے محبت، غیرت، شجاعت، پاکستان سے محبت اور اپنی شاندار تاریخ اور تہذیب کی نمائندگی کرسکتا ہو۔ڈرامہ ”داستان“ اب خود ایک ”داستان“ ہی بن گیا ہے!
ترک مجاہد ”طغرل“ پر بنایا جانے والا ترک ڈرامہ پوری دنیا میں سب سے مقبول ترین ٹی وی سیریل بن چکا ہے، کہ جو تمام اسلامی تہذیب کی شاندار ترین نمائندگی کررہا ہے۔ غیرت مند اور دلیر مسلمان معاشرے کی اتنی خوبصورتی تصویر جدید دور میں کبھی نہیں پیش کی گئی۔ترک واقعی زندہ قوم ہیں!!!میری ایک ترک مجاہد کچھ عرصہ قبل ملاقات ہوئی۔ اس نے بھی یہی نصیحت کی کہ ”آپ لوگ اپنی تاریخ کو اپنے بچوں کو کیوں نہیں پڑھاتے؟ کیوں نہیںمیڈیا میں ان پر شاندار ڈرامے بناتے؟“جنرل ضیاءکے دور میں یہ سب ہوا کرتا تھا۔ ہم شاندار تاریخی ڈرامے دیکھتے ہوئے بڑے ہوئے۔پھر پاکستان میں جمہوریت آگئی۔۔۔
کیا پاکستان کا سارا میڈیا مکمل طور پر بے غیرت ہوچکا ہے؟ضمیر فروش ہوچکا ہے؟پیسے کا پجاری ہوچکا ہے؟کیوں آج ہم میڈیا اور تعلیمی نظام کے ذریعے اپنی قوم میں غیرت و حمیت و شجاعت پیدا نہیں کرنا چاہتے؟کیوں آج ہم اپنی قوم کو بے شرم و بے غیرت و بے حیا و سیکولر بنانا چاہتے ہیں؟
پاکستان کی ریاست 1971 ءمیں دوٹکڑے ہوکر آدھی رہ گئی۔ چونکہ نظریہءپاکستان قائم تھا، تو یہ آدھی ریاست بھی قائم و دائم ہے۔ آنے والے دنوں میں ان شاءاللہ، یہ دوبارہ بڑی ہوجائے گی۔ جغرافیہ چھوٹا بڑا ہوسکتا ہے، نظریہ ہر حال میں محفوظ و قائم رکھنا ہم پر واجب ہے!اگر پاکستان کی موجودہ حکومت، عدلیہ اور پاک فوج نظریہءپاکستان کی حفاظت نہیں کرتے، تو پھر یہ ملک و قوم و ملت و آنے والی نسلوں کے ساتھ خیانت کریں گے۔آپ پاکستان کی سڑکیں بھی سونے اور چاندی کی بنا دیں، اگر نظریہءپاکستان اور ہماری روحانی و نظریاتی اساس کو نقصان پہنچا تو یہ دنیا و آخرت میں گھاٹے کا سودا ہے۔
آج پاکستان میں قائم ہر نظام اپنی جڑیں 1857ءکے بعد انگریز حاکموں کے بنائے ہوئے ظالمانہ نو آبادیاتی کفر میں تلاش کرتا ہے۔حالانکہ برصغیر پاک و ہند میں ہماری تاریخ کا سفر محمد بن قاسم، غوری، غزنوی، ابدالی سے ہوتا ہوا پاکستان تک پہنچتا ہے۔
جو قوم اپنی تاریخ بھول جائے، اس کے جغرافیے بھی جلد ہی تبدیل ہوجاتے ہیں۔جو قوم اپنا نظریہ تبدیل کرلے، بہت جلد اس کی شناخت بھی تبدیل ہوجاتی ہے۔جو قوم اپنا ماضی بھول جائے، اس کا مستقبل بھی تاریک ہوجاتا ہے۔
اللہ نے پاکستان کا جو شاندار ترین مستقبل رکھا ہے، اس کیلئے ہمیں ایک نئی قوم پیدا کرنی ہے، کہ جو مرد آزاد ہوں، فقر غیور کے حامل ہوں، اپنی تاریخ سے واقف ہوں، اپنے نظریے کے محافظ ہوں، اپنی روحانی و نظریاتی اساس پر فخر کریں، تاکہ لیا جائے ان سے کام دنیا کی امامت کا۔!
٭٭٭٭٭

Design a site like this with WordPress.com
Get started