تکمیل پاکستان کے سپاہی

ہر روز بہت بڑی تعداد میں لوگ ہم سے یہ پوچھتے ہیں کہ وہ براس ٹیکس ٹیم اور مشن تکمیل پاکستان میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔ آج ہم اس سوال کا جواب آپ سب کیلئے دیتے ہیں۔
براس ٹیکس ایک دفاعی تجزیاتی ادارہ ہے اور مشن تکمیل پاکستان ایک نظریاتی اور روحانی جدوجہد۔ جب آپ ایک مسلمان یا سچے پاکستانی ہیں، سبز ہلالی پرچم سے محبت کرنے والے ہیں، نظریہءپاکستان پر یقین رکھنے والے ہیں، پاک فوج سے پیار کرنے والے ہیں اور غزوہ ہند کی آرزو رکھنے والے ہیں، تو پھر آپ براس ٹیکس اور مشن تکمیل پاکستان کے پہلے ہی سے ممبر ہیں۔
ہماری ساری ٹیم پوری دنیا میں پھیلے ہوئے ان رضا کاروں پر مشتمل ہے کہ جو ہمارے مشن اور نظریے سے محبت کرتے ہیں اور اپنی اپنی جگہوں پر رہتے ہوئے، اپنی پوری استطاعت کے مطابق، اس مشن کے ساتھ تعاون اور حمایت کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ہماری ساری ٹیم رضا کاروں پر مشتمل ہے، جو اپنی اپنی جگہ اپنے کاروبار اور ملازمتیں بھی چلاتے ہیں، اور سوشل میڈیا پر، معاشرے میں اور اپنے حلقہءاحباب میں اس مشن کو بھی پھیلاتے ہیں۔
ہمارے یہی رضا کار درجنوں کے حساب سے ویب سائٹس، فیس بک پیجز اور ٹوئٹر اکاﺅنٹس چلاتے ہیں، دشمنوں کو جواب دیتے ہیں، تکمیل پاکستان کے مشن کو فروغ دیتے ہیں، پوری دنیا سے اہم معلومات اکٹھی کرکے ہمیں بھجواتے ہیں، ہم نے جب کتابیں چھپوانی ہوتی ہیں تو اس میں مالی تعاون کرتے ہیں، جب مقدمے لڑنے ہوتے ہیں تو قانونی معاونت کرتے ہیں، پوری دنیا کے میڈیا سے خبریں اکٹھی کرکے ہمیں بھیجتے ہیں، نظریاتی ویڈیوز بناتے ہیں، سوشل میڈیا پر ڈالنے کیلئے تصاویر بناتے ہیں، ہمارے پیغامات کے ترجمے کرتے ہیں، اور یہ سب کچھ ایسے سینکڑوں نوجوان کررہے ہیں کہ جن میں سے اکثر کو بھی زندگی میں کبھی ملا بھی نہیں۔
سیدی رسول اللہﷺ نے فرمایا ہے کہ اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔ اگر آپ کی نیت پاک اور صالح ہے کہ آپ مشن تکمیل پاکستان اور غزوہ ہند شرکت کی نیت سے ہمارے اس مشن کو پھیلا رہے ہیں تو الحمدللہ آپ تکمیل پاکستان اور غزوہ ہند کے مجاہد بھی ہیں۔
 آج کی جنگیں ہر محاذ پر لڑی جاتی ہیں، اور ہمارا کام ابلاغی جنگ کا محاذ سنبھالنا ہے۔ ہماری اس جنگ کے سپاہی آپ لوگ ہیں۔ آپ لوگ ہی وہ رضا کار ہیں کہ جو مشرکوں، خوارج اور منافقوں کی طرف سے پاکستان کے خلاف برپا کی گئی ابلاغی جنگ کا جواب دیتے ہیں۔جیسا کہ ہم نے بتایا کہ ہمارے سینکڑوں رضا کار ہیں کہ جو اس مشن کو سنبھالے ہوئے ہیں، مگر نہ تو ان کو آپ جانتے ہیں نہ وہ کبھی اپنے آپ کو ظاہر کرتے ہیں، نہ وہ کوئی صلہ مانگتے ہیں، نہ کوئی تنخواہ۔ ان کا اجر اللہ اور اسکے رسولﷺ کے ذمے ہے، اور وہ اس پر بہت راضی ہیں کہ خاموشی سے ہمارے سپاہی بن کر ہمارے دست و بازو بنے۔
جو شخص یہ چاہتا ہے کہ اس کی اپنی مشہوری ہو، کوئی دنیاوی فائدہ ہو، کوئی مالی منفعت ہو، کوئی اختیار و اقتدار ملے، تو ایسے وجود کو نہ اللہ قبول کرتا ہے نہ وہ ہمارے ساتھ آسکتا ہے۔ ہمارے اس مشن کیلئے اللہ صرف خالص ترین بندوں کو قبول کرتا ہے۔ اپنی نیتوں کو درست رکھیں، ان شاءاللہ، اللہ آپ سے کام لے گا۔
ہمیں اس اذان کو دیتے ہوئے دس برس ہوچکے ہیں، دس لاکھ سے زائد لوگ ہمارے فیس بک پیج پر ہیں، مگر ہماری مرکزی رضا کار ٹیم صرف چند درجن نفوس پر ہی مشتمل ہے، گو کہ عملی طور پر کام کرنے والے رضا کار سینکڑوں ہیں۔ اس کام کوکرنے کیلئے آپ کو نہ ہماری اجازت کی ضرورت ہے نہ کوئی رسمی فارم بھرنے کرنے کی۔ آپ سوشل میڈیا پر موجود ہیں اور دیکھ سکتے ہیں کہ کس طرح بعض نوجوان بڑی جانفشانی سے، سمجھداری سے، علم سے، مخالفین کو جواب بھی دیتے ہیں، اور ناواقف لوگوں کے سوالات کے جوابات بھی۔ مشن کو پھیلاتے بھی ہیں، اور ہمیں بھی خبریں بھیجتے ہیں۔ آپ بھی یہ کریں۔ ان شاءاللہ آپ تکمیل پاکستان کے رضا کار بھی ہونگے اور غزوئہ ہند کے مجاہد بھی۔ اللہ آپ کی نیت اور کوششوں کو قبول فرمائے۔٭٭٭٭٭

”گھوڑے “ او ر ”تلواریں“

چند روز پہلے میں نے اپنی گھر والی سے پوچھا کہ اس دنیا میں ،میں نے کونسے اثاثے بنائے ہیں؟
اس نے بہت غور سے میری آنکھوں میں دیکھا اور بڑے مضبوط لہجے میں بولیں: ”اس دنیا میں آپ کے اثاثے صرف آپ کے ’گھوڑے‘ اور آپ کی’تلواریں‘ ہونگی۔“
ان کی یہ بات سن کر میں گہری سوچ میں ڈوب گیا۔ واقعی یہ حقیقت ہے کہ آج 53 برس کی عمر میں بھی اس دنیا میں میرے ظاہری اثاثے صرف میرے گھوڑوں اور تلواروں پر ہی مشتمل ہیں۔
میرے دو گھوڑے، سن 2000 ءماڈل کی ایک پرانی بیلینو کار اور دوسری سن 2007 ءکی کرولا ہیں۔
اور میری تلواریں، میرے وہ لائسنس یافتہ ہتھیار کہ جو میں نے غزوئہ ہند کیلئے رکھے ہوئے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ ان دو اثاثوں کے علاوہ اس دنیا میں میری نہ تو کوئی جائیداد ہے، نہ کوئی مکان ہے، نہ کوئی پلاٹ ہے، نہ کوئی زرعی اراضی ہے، نہ کوئی بینک بیلنس ہے، نہ کوئی زیورات ہیں، نہ کوئی شیئرز ہیں، نہ کوئی انشورنس ہے، اور نہ ہی کوئی پس پشت رکھا ہوا سرمایہ ہے۔
میرا اپنا کوئی ذاتی گھر نہیں، اپنی والدہ اور بھائی کے ساتھ اپنے والد کے آبائی گھر میں رہتا ہوں۔اللہ کا احسان ہے کہ اس نے ہمیں زندگی کے اس سفر کیلئے ہلکا رکھا ہوا ہے۔
میری ہمراز اور ہمسفر اہلیہ کے پاس سونا تو دور، چاندی کی ایک انگوٹھی تک نہیں ہے۔ جو کچھ ان کے پاس تھا وہ سب اس مشن میں استعمال ہوگیا۔
میرے بیٹے اور بیٹیوں کے پاس بھی نہ تو کوئی دنیاوی جائیداد ہے، نہ کوئی مال و دولت۔
میرا دفاعی تجزیہ نگاری کا ادارہ ”براس ٹیکس“ الحمدللہ، پچھلے سترہ برس سے کام کررہا ہے۔ اللہ کے فضل سے ہماری تجزیہ نگاری، ہمارے ٹی وی پروگرام اور ہماری کتابیں ہمیں اتنا رزق دے دیتی ہیں کہ اس سے ہمارے گھر کا خرچ بھی چلتا ہے اور مشن کا بھی۔ اللہ کا احسان ہے کہ عزت و غیرت کے ساتھ حیات طیبہ بھی ہے، اور رزق کریم بھی!
جو کماتے ہیں وہی خرچ کرتے ہیں اور پھر اللہ کے توکل پر مزید رزق کا انتظار۔ اگر آگیا تو خرچ کردیا، اگر نہ آیا تو شکر کے ساتھ صبر کیا۔
ایک چھوٹا ادارہ ہونے کی وجہ سے ہمارے اخراجات بھی کم ہیں، ہماری تمام تر ٹیم رضاکار ہے، کہ جو صرف اللہ اور اسکے رسولﷺ اور پاکستان کی محبت میں ہمارے ساتھ وہ کام کرتے ہیں کہ جو دو سرے ادارے کروڑوں کا خرچ کرکے بھی نہیں کراسکتے۔ پاکستان سے پیار کرنے والوں کو ہماری اذان سے تقویت ملتی ہے، دشمنوں پر دہشت طاری ہوتی ہے، اور یہ سب کچھ اللہ اور اسکے رسولﷺ کے کرم اور فضل کی وجہ سے ہے نہ کہ پیسوں کی وجہ سے۔
مومن وہ نہیں ہے کہ جو دنیا سے منہ موڑے اور اسے استعمال نہ کرے، بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ اس دنیا کی زینیتیں تو ہیں ہی بندئہ مومن کیلئے۔ مومن اس دنیا کو بھرپور استعمال کرتا ہے، مگر اس میں غرق نہیں ہوتا، اس مرغابی کی طرح کہ جو پانی میں تیرتی تو ضرور ہے، مگر گیلی نہیں ہوتی۔ یہی وہ ”پل صراط“ ہے کہ جس سے بندئہ مومن کو اس دنیا کی زندگی میں گزرنا ہوتا ہے۔ شاندار لباس یا شاندار سواری سے اللہ نہیں روکتا، اگر رزق حلال کی ہو اور دل میں نہ کھبی ہو۔ اگر مسلمان کا دل دنیا کی زینتوں میں الجھ جائے، تو یہ اس کیلئے دنیا و آخرت کی ہلاکت ہے۔
ہمارے لیے اس مقام پر پہنچ کر کروڑوں کمانا کوئی مشکل نہیں ہے، آخر اور بھی تو کرہی رہے ہیں ناں۔ مگر اپنی عزت، غیرت اور آبرو کا سودا کرنا پڑتا ہے، جواس فقیر کو قبول نہیں۔ ہمارے لیے اس رزق سے موت اچھی کہ جس رزق سے آتی ہو ہماری اس پرواز میں کوتاہی۔
ہم اپنی زندگی کا بڑا سفر طے کرچکے ہیں، آگے جو باقی ہے یقینا وہ پیچھے گزری ہوئی سے کم ہے۔ یہ میرے مالک کا احسان ہے کہ ہمیں یہاں تک بہت ہلکا لے کر آیا ہے۔ ان شاءاللہ، اس کا کرم و فضل رہا تو آئندہ بھی ہمارا اثاثہ صرف ہمارے ”گھوڑے“ اور ہماری” تلواریں“ ہی ہونگی!٭٭٭٭٭

جنرل ضیاءالحق شہید

آج ہم جنرل ضیاءالحق شہید کے بارے میں بات کریں گے۔
پاکستان میں المیہ یہ ہے کہ سیاسی تعصب، فرقہ وارانہ نفرت اور جہالت اتنی عام ہے کہ شاید ہی کوئی شخص ملے کہ جو اسلام اور پاکستان کی نگاہ سے معاملات کو دیکھے۔ جنرل ضیاءکی شہادت کو تقریباً 29 برس گزر چکے ہیں۔ آج پاکستان کی وہ تمام آبادی کہ جس کی عمر 45 برس سے بھی کم ہے، اس نے نہ تو جنرل ضیاءکا دور دیکھا ہے یا وہ اس دور میں اتنا چھوٹا ہوگا کہ اسے اس دور کے سیاسی و ریاستی معاملات کا کوئی حقیقی علم نہیں۔ جو بھی علم ہے سنا سنایا ہے، اور اگر کسی سیاسی یا فرقہ وارانہ جماعت سے تعلق ہے تو پھر علم بھی اتنا ہی بگڑا ہوا اور تعصب بھرا۔
صرف اس بات پر غور کریں کہ کیا وجہ تھی کہ جنرل ضیاءاسرائیل، امریکہ، روس اور بھارت کیلئے سب سے بڑا خطرہ بن چکے تھے؟صرف اس ایک نقطے پر ہی اگر آپ غور کرلیں تو اللہ آپ کو یہ سمجھا دے گا کہ اس دور میں جنرل ضیاءامت مسلمہ کے سب سے مخلص، وفادار اور دلیر قائد کے طور پر ابھر چکے تھے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ بالآخر امت رسولﷺ اور پاکستان کی یہی دشمن طاقتیں جنرل ضیاءکو شہید کرنے میں بھی کامیاب ہوئیں۔ وہ واقعی شہید ہیں۔ موت کے وقت پاک فوج کی خاکی وردی میں ملبوس، سبز ہلالی پرچم سینے پر، پوری طرح آن ڈیوٹی، فوجی طیارے میں پاک فوج کی اعلیٰ قیادت کے سا تھ مشرکوں اور یہودیوں کے ہاتھوں شہید ہوئے۔ اس سے بہتر موت اور کیا ہوسکتی ہے۔۔۔؟
جنرل ضیاءپر ایک سنی سنائی تہمت اور بہتان یہ لگایا جاتا ہے کہ ان کی وجہ سے پاکستان میں منشیات اور کلاشنکوف آئی، ”کالے قانون“ بنائے گئے، لوگوں کو کوڑے مارے گئے اور شیعہ حضرات کو یہ اعتراض ہے کہ انہوں نے پاکستان میں شیعوں کا قتل عام کروایا۔ہم آپ کو صاف بتا رہے ہیں کہ یہ سارے الزامات نہ صرف فحش اور جھوٹے ہیں بلکہ انتہائی شرمناک بھی۔
پاکستان میں جنرل ضیاءسے کون نفرت کرتا ہے، کہ جو ان کے خلاف اس قدر ناپاک جھوٹ بکتا ہے؟
-1 تمام لبرل، سیکولر، بے غیرت…. کہ جن کو اسلامی قوانین اور شریعت سے نفرت ہے۔
-2 تمام بھارت نواز مادر پدر آزاد میڈیا اور سیاسی جماعتیں۔
-3 بدنصیبی سے پاکستان میں شیعہ کی بھی ایک اکثریت ہے کہ جو جھوٹے پراپیگنڈے کی بنیاد پر جنرل ضیاءسے شدید نفرت کرتی ہے۔آئیں ہم آپ کو بتائیں کہ جنرل ضیاءکے کارنامے کیا ہیں کہ جن کی وجہ سے پوری دنیا کے دشمن ہر حال میں ان کو شہید کرنے کے درپے تھے اور بالآخر کامیاب بھی ہوگئے۔
-1 افغان جہاد کے ذریعے سوویت یونین سے ٹکر لی اور اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالے، نہ صرف افغانستان آزاد کرایا بلکہ 1971 ءمیں سوویت یونین کے ہاتھوں پاکستان کی شکست کا بدلہ بھی لیا، ایشیا وسطی کے بیس کروڑ مسلمانوں کو روسی تسلط سے آزاد کروایا، اور پاکستان کی مغربی سرحدوں کو سوویت خطرے سے پاک کرکے پختونستان اور آزاد بلوچستان کا ناپاک بھارتی خواب ہمیشہ کیلئے دفن کردیا۔ یہ تو صرف افغان جہاد کی ایک برکت تھی۔
-2 ساتھ ہی ساتھ کشمیر جہاد کا آغاز کروایا، کہ جو آج تک بھارت کی ریاست کیلئے وبال جان بنا ہوا ہے، اور انشاءاللہ کشمیر کی آزادی تک جاری رہے گا۔
-3 سکھوں کی تحریک خالصتان کو زندہ کیا، اس کی پوری حمایت کی اور پورے مشرقی پنجاب میں بھارت کے خلاف مسلح بغاوت کروادی۔ جس کے نتیجے میں اندرا گاندھی کو سکھوں کے گولڈن ٹیمپل میں فوجی کارروائی کرنا پڑی اور سکھ مزید بھڑک گئے اور بالآخر سکھوں نے ہی پھر مشرقی پاکستان کو توڑنے والی اندرا گاندھی کو اپنے ہاتھوں سے قتل کیا۔ پاکستان کے دشمنوں سے جنرل ضیاءکا یہ دوسرا انتقام تھا۔
-4 فلسطین کے مجاہدین کی تربیت کی، اور اس کے نتیجے میں اسرائیل کے خلاف پہلا فلسطینی انتفادہ شروع ہوا، کہ جو آج تک جاری ہے۔
-5 چیچنیا کے مجاہدین کی حمایت اور مدد کی اورروس کے خلاف پہلی جنگ آزادی کا آغاز کروایا کہ جس کے نتجیے میں آج چیچینیا نیم آزاد ریاست کے طور پر دنیا کے نقشے پر ابھر کر سامنے آیا ہے۔
-6 چین سے بات کی اور سنکیانگ کے مسلمانوں کیلئے حج کا راستہ پاکستان کے ذریعے کھولا گیا، ہزاروں کی تعداد میں چینی مسلمانوں کو پہلی مرتبہ موقع ملا کہ پاکستان کے ذریعے حج پر جا کر پوری امت مسلمہ سے روابط قائم کرسکیں۔ جنرل ضیاءکی شہادت کے بعد آنے والی سیاسی حکومتوں نے اس تمام سلسلے کو بند کردیا۔
-7 بوسنیا کے مسلمانوں کی مدد کی گئی، ان کی جنگی تربیت کی گئی، اور پھر انہی مسلمانوں نے آنے والے وقتوں میں یوگو سلاویہ کی خانہ جنگی میں بوسنیا اور مسلمانوں کا دفاع کیا۔ بوسنیا کے مسلمانوں سے اسی رابطے اور تعلق کی وجہ سے پھر بعد میں پاک فوج نے بھی براہ راست بوسنیا کی جنگ میں مسلمانوں کا دفاع کیا۔
-8 ایران۔ عراق جنگ کی وجہ سے پوری مسلم دنیا میں فرقہ وارانہ فساد بھڑک چکے تھے، بیس لاکھ مسلمان ایک دوسرے کے ہاتھوں قتل ہوچکے تھے۔ اس جنگ کو رکوانے کیلئے سر توڑ کوششیں کیں اور با لآخر اس جنگ کو رکوانے میں کامیاب بھی ہوگئے۔
-9 روسیوں سے جنگ کے دوران امریکیوں کو اس طرح بیوقوف بنایا کہ ان سے بھاری امداد بھی حاصل کی، F-16 طیارے بھی لیے، پاکستان کے دفاع کو بھی مضبوط بنایا اور امریکیوں کی ناک کے نیچے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو اتنا آگے بڑھا دیا کہ اسی دور میں ہم نے ایٹم بم بھی بنا لیا۔ ایٹم بم جنرل ضیاءنے بنایا تھا، اور امریکی اس بات کو جانتے ہوئے بھی کہ پاکستان ایٹم بم بنارہا ہے، جنرل ضیاءکے آگے اتنا مجبور تھے کہ پاکستان کو روک نہ سکے۔
-10 اسی دور میں اسرائیل پاکستان پر براہ راست حملہ کرنے بھی آیا تھا تاکہ کہوٹہ کو تباہ کیا جاسکے۔ اسکے جواب میں جنرل ضیاءنے دہلی اور تل ابیب کو مکمل طور پر تباہ کردینے کی دھمکی بھی دی اور اس پر عملی طور پر کام بھی شروع کردیا۔ جنرل ضیاءکی اسی جارحانہ پالیسی کی وجہ سے اسرائیل اور بھارت خوفزدہ ہو کر کہوٹہ پر حملہ نہ کرسکے۔
-11 اسی دور میں مسلم دنیا اختلافات کا شکار تھی۔ مصر کو بھی او آئی سی سے نکال دیا گیا تھا۔ جنرل ضیاءنے اسوقت تمام عرب حکمرانوں کو بھی سختی سے ڈپٹ پلائی، ایران اور مصر کو دوبارہ او آئی سی میں شامل کروایا اور امت مسلمہ کی قیادت سنبھال لی۔
-12 جب اقوام متحدہ نے مسلم دنیا کی ترجمانی کیلئے ایک نمائندہ مانگا توپورے عالم اسلام نے اقوام متحدہ میں جنرل ضیاءکو بھیجا اور اس طرح پاکستان امت مسلمہ کے قائد کے طور پر دنیا کے سامنے تسلیم کیا گیا۔
-13 پاکستان کے آئین میں قرارداد مقاصد کو شامل کیا گیا، قرآن و سنت کو اعلیٰ ترین قانون قرار دیا گیا اور آرٹیکل 62 اور63 کو شامل کیا گیا کہ جس کو ختم کرنے کیلئے آج تمام اسلام دشمن طاقتیں پارلیمان میں سرگرم ہیں۔
-14 سود اور رباءکے نظام کو ختم کرنے کیلئے جدید تحقیق کا آغاز کروایا، نظام صلوٰة شروع کیا، زکوٰة کا نظام جاری کرنے کی کوششیں کیں، توہین رسالتﷺ کا قانون بنوایا۔
-15 نظریہءپاکستان کو دوبارہ زندہ کیا کہ جو ان سے قبل بھٹو کے دور میں مکمل طور پر ختم کیا جاچکا تھا۔ آج جو آپ بڑی شان و شوکت سے 14 اگست مناتے ہیں، اس کا آغاز جنرل ضیاءنے ہی کروایا تھا۔ ہم نے بھٹو کا دور بھی دیکھا ہے اور ضیاءکا بھی، اور پوری گواہی دے سکتے ہیں کہ اگر جنرل ضیاء دوبارہ نظریہ پاکستان کو زندہ نہ کرتے تو آج پاکستان مکمل طور پر سیکولر ریاست بن چکا ہوتا۔جنرل ضیاءکے دور میں پاکستان کے اندر بہت زیادہ دہشت گردی ہوئی۔ سوویت یونین افغانستان میں تھا، اور ”خاد“ ، ”کے جی بی“، ”را“ پاکستان کے خلاف اسی طرح کی جنگ کررہے تھے کہ جیسے آج ہورہی ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ سب سے بڑی دہشت گردی اس زمانے میں پیپلز پارٹی کی تنظیم ”الذوالفقار“ کررہی تھی کہ جس کی قیادت بینظیر، مرتضیٰ بھٹو اور شاہنواز بھٹو کررہے تھے۔ بینظیر پوری طرح اپنے بھائیوں کی حمایت کررہی تھی، اس نے کبھی بھی ان کو دہشت گردی سے روکا، نہ بعد میں ان پر کوئی مقدمہ چلایا۔ پاکستان کے خلاف ہونیوالی بدترین دہشت گردی میں بھٹو کا پورا خاندان شامل تھا۔ آج اس کا کوئی ذکر نہیں کرتا اور ان سب غداروں اور قاتلوں کو ”شہید“ بنا کر پوجا کی جاتی ہے۔
جنرل ضیاءکے دور میں ہی بھارت نے الطاف حسین کو کرائے پر لے کر ایم کیو ایم کا آغاز کیا تھا۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ایم کیو ایم کو جنرل ضیاءنے بنایا تھا۔ یہ تہمت ایسی ہی ہوگی کہ جیسے کوئی کہے کہ چونکہ ”الذوالفقار“ کا آغاز جنرل ضیاءکے دور میں ہوا تھا، لہذا اس دہشت گرد تنظیم کو بھی جنرل ضیاءنے بنایا۔
اسی طرح ایران عراق جنگ کی وجہ سے اسی دور میں پاکستان میں فرقہ وارانہ دہشت گردی کا بھی آغاز ہوا۔ اس میں سارا قصور ایران اور عرب ممالک کا تھا کہ جنہوں نے پاکستان میں اپنے حمایتی گروہوں کو مسلح کیا۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ جنرل ضیاءنے پاکستان میں فرقہ وارانہ دہشت گردی شروع کروائی۔ پاکستان کے اکثر شیعہ جنرل ضیاءپر یہ تہمت لگاتے ہیں جو صرف جھوٹ اور بہتان پر مبنی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ جنرل ضیاءنے اس دور میں بھی کہ جب ایران پر پوری دنیا سے پابندیاں عائد تھیں، ایران کی بہت زیادہ مدد کی اور اس کو تباہی سے بچایا۔ خوراک، ادویات، حتیٰ کہ دفاعی ساز و سامان ایران کو دیا گیا تاکہ وہ اپنا دفاع کرسکے۔
آج ہم نے جنرل ضیاءکا صرف مختصراً تعارف آپ کو کرایا ہے تاکہ آپ کو اندازہ ہوجائے کہ اللہ نے پاک فوج کے اس سپہ سالار سے کتنے عظیم کارنامے کروائے، کہ جس کی برکت سے آج پاکستان نہ صرف یہ کہ ایک ایٹمی قوت ہے بلکہ پوری امت مسلمہ میں بھی بیداری کی لہر پیدا ہوئی۔ یہی وجہ تھی کہ یہود و نصاریٰ اور مشرک اکٹھے ہوچکے تھے جنرل ضیاءکو شہید کرنے کیلئے اور بالآخر اپنے ناپاک ارادے میں کامیاب بھی ہوئے۔ اوروں کی مکاریاں بھی تھیں اور اپنوں کی غداریاں بھی۔ جنرل ضیاءکو شہید کروانے میں الذوالفقار کے دہشت گرد بھی تھے، پیپلز پارٹی کے جیالے بھی، اور بدنصیبی سے اپنی صفوں کے غدار بھی۔
یہ حقیقت ہے کہ پاکستان کو اپنی تاریخ میں قائداعظمؒ کے بعد جنرل ضیاءسے زیادہ دلیر، امت مسلمہ کا درد رکھنے والا، اور مجاہد سپہ سالار نہیں ملا۔ ہم نے آپ کو وہ حقیقت بیان کی کہ جس کے ہم عینی شاہد ہیں۔ اب آپ کی مرضی ہے کہ آپ اس مرد مجاہد سے بدظنی اور بدگمانی رکھتے ہیں یا ہماری بات پر اعتبار کرکے آج اس کے یوم شہادت پر فاتحہ خوانی!
اللہ پاکستان کا حامی وناصر ہو، اللہ پاکستان کے مجاہدوں کا حامی و ناصر ہو، اللہ پاکستان کے دشمنوں کو تباہ و برباد کرے۔ لبیک یا رسول اللہﷺ، لبیک غزوئہ ہند!٭٭٭٭٭

کیا جنرل ضیاءنے فلسطینیوں کا قتل عام کیا تھا؟

کل جب ہم نے شہید سپہ سالار جنرل ضیاءالحق کے متعلق حقائق لکھے تو توقع کے مطابق غلاظت اور جھوٹ کا ایک نیا طوفان ان کے خلاف برپا کیا گیا۔ جنرل ضیاءپر لگائے گئے اکثر الزامات کا جواب تو ہم نے پہلے ہی دے دیا تھا، مگر ایک بہتان ایسا تھا کہ جس کی وضاحت کرنا ضروری ہے۔
جنرل ضیاءپر یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ انہوں نے 1970 ءمیں اردن میں فلسطینیوں کا قتل عام کیا۔ حقیقت یہ ہے کہ دیگر الزامات کی طرح یہ بھی ایک فحش جھوٹ اور من گھڑت تہمت ہے۔ آئیں اس کی تفصیل آپ کو بتاتے ہیں۔
1967 ءمیں اسرائیل نے بیت المقدس شریف پر قبضہ کرلیا تھا۔ اس چھ دن کی جنگ میں تمام عرب ممالک کو شرمناک شکست ہوئی اور پاک فوج اور فضائیہ کو عرب ممالک کے دفاع کیلئے بھی بھیجا گیا تھا۔ جنگ کے بعد ایک اور عسکری تربیتی دستہ بھی اردن بھیجا گیا کہ جس میں اس وقت کے بریگیڈیئر ضیاءالحق شامل تھے۔ پاک فوج کے اس دستے کا مقصد صرف اردن کی فوج کو جنگی تربیت دینا تھا۔ 1967 ءکی عرب اسرائیل جنگ کے بعد، کہ جب بیت المقدس مسلمانوں کے ہاتھ سے نکل گیا، تو ہزاروں کی تعداد میں فلسطینی مہاجر اور ان کے ساتھ پی ایل او (فلسطینی لبریشن آرگنائزیشن) کہ جس کی قیادت یاسر عرفات کرتے تھے وہ بھی اردن میں آکر آباد ہوگئے۔ نظریاتی طور پر یاسر عرفات اور پی ایل او سیکولر، سوشلسٹ اور لادین قسم کے نظریات رکھتے تھے اور ان کی تمام تر ہمدریاں روس نواز کمیونسٹ بلاک کے ساتھ تھیں۔ہزاروں کی تعداد میں یہی سوشلسٹ اور سیکولر پی ایل او کے جنگجو اردن میں آکر ایسی کارروائیوں میں ملوث ہوگئے کہ جن کا کسی بھی طرح فلسطینی کی تحریک آزادی سے کوئی تعلق نہ تھا بلکہ یہ صاف صاف دہشت گردی کے زمرے میں آتی تھیں، مثلاً جہازوں کو اغواءکرنا، اولپمکس پر حملے کرنا، اردن کے قانون کی دھجیاں اڑا کر اردن کی حکومت پر قبضہ کرنے کی کوشش کرنا۔ یہ ایسے ہی ہے کہ جیسے آج پاکستان نے افغان مہاجرین کو پناہ دی ہے، لیکن اگر یہ افغان مسلح گروہ بنا کر اسلام آباد پر حملہ کردیں تو پھر پاک فوج کا کیا جواب ہونا چاہیے؟
یاسر عرفات کو اپنے سوشلسٹ بلاک میں سے روس اور شام کی پوری طرح مدد حاصل تھی اور انہی کی ایما پر پی ایل او کے جنگجوﺅں نے ستمبر 1970 ءمیں براہ راست اردن کی حکومت پر حملہ کردیا اور نتیجتاً اردن کی فوج اور پی ایل او کے درمیان جنگ شروع ہوگئی۔ ساتھ ہی ساتھ شام نے بھی اپنے دو سو ٹینک اردن میں داخل کردیئے۔ اردن چونکہ امریکہ کا حلیف تھا، لہذا اس کے دفاع میں امریکہ نے اپنی فوجوں کو حرکت دے دی اور اسرائیل بھی اس جنگ میں کودنے کیلئے آمادہ ہوگیا۔اردن میں ہونیوالی اس سخت لڑائی میں کئی ہزار لوگ مارے گئے کہ جن میں اردن کی فوج بھی تھی، پی ایل او کے جنگجو بھی اور اردن کے شہری اور فلسطینی مہاجر بھی۔ کئی روز کی لڑائی کے بعد بالآخر اردن کی فوج نے پی ایل او کے جنگجوﺅں کو پیچھے ہٹا دیا اور شاہ حسین کا تختہ الٹنے سے بچ گیا۔ عالمی طاقتیں بیچ میں کود پڑیں اور یاسر عرفات اور ان کے گروہ کو اردن سے نکال کر لبنان منتقل کردیا گیا۔
اردن میں ہونیوالی اس ساری جنگ میں کوئی پاکستانی افسر شریک نہیں ہوا۔ بریگیڈیئر ضیاءکے علاوہ وہاں ایک درجن سے زائد فضائیہ اور فوج کے افسر موجود تھے، مگر کسی کو بھی نہ تو اس خانہ جنگی میں شرکت کا حکم تھا اور نہ ہی کوئی اس میں شریک ہوا۔ اردن فوج کے ٹینک دستے کا ایک کمانڈر جب میدان جنگ چھوڑ کر بھاگ گیا تو اردن کے بادشاہ نے پاکستان سے درخواست کی بریگیڈیئر ضیاءکو اس ٹینک بریگیڈ کا کمانڈر مقرر کردیا جائے۔ پاکستان سے اجازت آنے کے بعد بریگیڈیئر ضیاءنے اردن کی ٹینک دستے کی کمانڈ سنبھالی کہ جو شام سے آنے والے ٹینکوں کے مقابلے پر کھڑی تھی۔مگر جنگ سے پہلے ہی سیز فائر کا اعلان ہوگیا اور عملی طور پر بریگیڈیئر ضیاءکو کسی قسم کی جنگ میں حصہ نہیں لینا پڑا۔ تو یہ تھی بریگیڈیئر ضیاءکی کل شرکت اس عرب خانہ جنگی میں کہ جس میں نہ تو پاکستان کا کوئی کردار تھا اور نہ ہی پاکستانیوں کے ہاتھوں کسی فلسطینی کا خون بہا۔
1970 ءمیں اردن میں ہونیوالی اس خانہ جنگی کو ”سیاہ ستمبر“ Black September کا نام دیا جاتا ہے۔ تمام مغربی مورخ اور عرب تاریخ دان اس بات پر مکمل طور پر متفق ہیں کہ اس جنگ میں پاکستان یا کسی پاکستانی افسر کا کوئی کردار نہیں تھا۔ جنرل ضیاءکے صدر بننے کے بعد کم از کم تین مرتبہ یاسر عرفات پاکستان آئے، اور درجنوں مرتبہ جنرل ضیاءان سے عالمی سطح پر ملاقاتیں ہوئیں۔ دونوں میں انتہائی محبت ، تعلق اور پیار تھا اور کبھی بھی کسی فلسطینی نے پاکستان پر یا جنرل ضیاءپر فلسطینیوں کے قتل عام کا کوئی الزام نہیں لگایا۔ یہ صرف پیپلز پارٹی اور پاکستان کے لبرل سیکولر بے غیرت ہی تھے کہ جو جان بوجھ کر ایک افواہ کو حقیقت بنا کر پیش کرتے رہے۔

کالا باغ ڈیم، ایک حقیقت سو افسانے. پاکستان سے غداری اور خیانت اور کی ایک المناک داستان

اس سے پہلے کہ ہم کالا باغ ڈیم کے تنازعے پر بات کریں، کچھ بنیادی باتوں کو بہت اچھی طرح سمجھ لیں۔ انہی باتوں کو نہ سمجھنے کی وجہ سے آج دشمن ہم پر کاری ضربیں لگارہا ہے۔
-1 جھوٹ اور پراپیگنڈہ جدید دور کی جنگوں میں دشمن کا سب سے طاقتور ہتھیار ہے۔ بڑی بڑی جنگیں صرف پراپیگنڈے کے ہتھیار سے ایک گولی چلائے بغیر جیتی جاسکتی ہیں، اور آج ہمارے خلاف دشمن کا یہ سب سے موثر ہتھیار ہے۔
 -2 پاکستان کے خلاف جو ایک بہت بڑا ہتھیار بھارت اور ہمارے دشمن استعمال کررہے ہیں، وہ پانی ہے۔ صرف ہمارا پانی روک کر وہ پاکستان کواس طرح تباہ کرسکتے ہی کہ جیسے ایٹمی جنگ میں۔ جب پانی رکتا ہے تو پاکستان کی خوراک تباہ ہوتی ہے، بجلی بنانے کی صلاحیت تباہ ہوتی ہے، صنعت و معیشت تباہ ہوتی ہے، ملک میں خانہ جنگی پیدا ہوتی ہے، صوبوں میں باہمی اختلافات اور جھڑپیں شروع ہوتی ہیں اور پھر وہ ہوتا ہے کہ جو یوگو سلاویہ میں ہوا اور آج شام میں ہورہا ہے۔
-3 ایک قائدہ یاد رکھیں، کہ جس منصوبے کو روکنے کیلئے بھارت اپنی تمام طاقت کو جھونک دے، جس کو اسفندیار ولی اور محمود اچکزئی جیسے غداران وطن روکنے کیلئے دھمکیاں دیں، توسمجھ جائیں کہ وہ منصوبہ پاکستان کی سلامتی اور بقاءکیلئے لازم و ملزوم ہے۔کالا باغ ڈیم سی پیک سے بھی زیادہ پاکستان کی شہہ رگ ہے۔ اسی لیے اس کی مخالفت بھی سی پیک سے بھی زیادہ ہورہی ہے۔ان تین قائدوں کو بیان کرنے کے بعد اب ہم کالا باغ ڈیم کے تنازعے کی تفصیلات میں آتے ہیں۔
کالا باغ ایک قدرتی پہاڑی سلسلہ ہے کہ جس کے درمیان سے دریائے سندھ گزرتا ہے۔ کالا باغ کے فوراً بعد پاکستان کے میدانی علاقے شروع ہوجاتے ہیں، لہذا قدرتی طور پر کالا باغ ایک بنا بنایا ڈیم ہے، کہ جس کے دونوں جانب اونچے پہاڑ ہیں۔ اس مقام پر دریا کے آگے صرف دیوار بنا کر ڈیم بنایا جاسکتا ہے۔ پاکستان کے قلب میں ہونے کی وجہ سے یہاں تک رسائی بہت آسان ہے، بھاری مشینری، افرادی قوت اور سازو سامان بغیر کسی دقت کے منصوبے تک پہنچ سکتے ہیں۔ اس سے آگے میدانی علاقہ ہونے کی وجہ سے ڈیم سے کئی نہریں نکال کر پورے ملک میں پھیلائی جاسکتی ہیں۔ دریائے سندھ کے آس پاس آٹھ لاکھ ایکڑ اراضی اس سے سیراب ہوگی، تقریباً تربیلا اور منگلا جتنا پانی اس میں ذخیرہ ہوگا، اگر بجلی پیدا کرنے والے ٹربائنوں کی تعداد بڑھائی جائے تو صرف اس مقام پر 6 ہزار میگاواٹ سے زائد انتہائی سستی پن بجلی پیدا کی جاسکتی ہے۔ غازی بروتھا کے طرز پر نہریں نکال کر اور مقامات پر بھی بجلی پیدا کی جائے تو یہ ہزاروں میگاواٹ تک مزید بڑھائی جاسکتی ہے، کہ جس کی قیمت تقریباً 2 روپے فی یونٹ ہوگی۔ صرف زرعی شعبے اور خوراک کی پیداوار میں اس ڈیم سے ہونیوالی آمدنی 100 ارب روپے سال سے زیادہ متوقع ہے۔ بجلی سے ہونیوالی آمدن اور کمائی اس کے علاوہ ہے۔ پانی کی جھیل مچھلیوں کی افزائش اور سیاحت کیلئے موزوں ترین۔
تربیلا اور منگلا ڈیم جو 60 ءکی دہائی میں بنائے گئے تھے اور جن کے اوپر آج تک پورا پاکستان چل رہا ہے، اب اپنی عمر کے آخری حصے میں پہنچ چکے ہیں۔ ان میں پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت اپنے آغاز سے لیکر آج تک انتہائی کم ہوچکی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ آج نوے فیصد سے زائد ہمارا ذخیرہ کرنے والا پانی ضائع ہو کر سمندر میں جارہا ہے۔ دوسری جانب پاکستان میں آنے والے تمام دریاﺅں پر بھارت نے ڈیم بھی بنا لیے ہیں۔ ہولناک آبی قلت اب ایک حقیقت بن کر پاکستان کی پوری سلامتی کیلئے شدید ترین خطرہ بن چکی ہے۔ صرف پاکستان دشمنی، جھوٹ اور پراپیگنڈے اور حکمرانوں کی نا اہلی تھی کہ جس کے باعث پچھلے 40 برس میں منگلا یا تربیلا کی طرز پر کوئی ایک بھی ڈیم نہیں بنایا جاسکا۔
دیامیر بھاشا ڈیم کسی صورت میں بھی کالا باغ ڈیم کا متبادل نہیں ہوسکتا۔ ایک تو وہ پاکستان کے شمال میں جس بلندی پر ہے وہاں تک رسائی ہی مشکل ترین امر ہے۔ ڈیم تعمیر کرنے سے پہلے وہاں تک پہنچنے اور بھاری مشینری پہنچانے کیلئے ہی اتنے پہاڑ کاٹنے پڑیں گے کہ یہ امر محال بھی ہے اور وقت طلب بھی۔ اس کے علاوہ بھاشا ڈیم سے کوئی نہر نہیں نکالی جاسکتی کیونکہ علاقہ سارا پہاڑی ہے اور کوئی علاقہ یا کھیت اس سے سیراب نہیں کیا جاسکتا۔ بھاشا ڈیم اگر بن بھی جائے تو اس میں پانی ذخیرہ کیا جاسکتا ہے، بجلی بنائی جاسکتی ہے، مگر ایک ایکڑ اراضی بھی کاشت کاری کیلئے میسر نہیں ہوگی۔……………………….
اب ہم ایک ایک کرکے ان تمام اعتراضات کا جواب دینگے کہ جو کالا باغ ڈیم کے حوالے سے اب تک کیے جاتے رہے ہیں۔
پہلا اعتراض: پاکستان کی دو صوبائی اسمبلیوں نے کالا باغ ڈیم کو مسترد کردیا ہے۔ لہذا اب اس کو کیسے بنایا جاسکتا ہے؟
دوسرا اعتراض: اگر کالا باغ ڈیم بنایا گیا تو اس سے نوشہرہ، چارسدہ اور پشاور ڈوب جائے گا۔
تیسرا اعتراض: اگر کالا باغ ڈیم بنایا گیا تو اس سے سندھ بنجر ہوجائے گا۔
چوتھا اعتراض: ڈیم بنانا ہی کیوں ضروری ہے، کہیں اور کیوں نہیں بنا لیتے؟
آئیے اب ان اعتراضات کو ایک ایک کرکے ادھیڑتے ہیں۔
یہ بات بہت اچھی طرح سمجھ لیں کہ پاکستان کے دو صوبوں نے اس ڈیم کی مخالفت نہیں کی، صرف دو سیاسی جماعتوں نے کی ہے۔ مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ دونوں جماعتوں نے اپنے دور اقتدار میں سرحد اور سندھ کی صوبائی اسمبلیوں سے اس ڈیم کے خلاف قرارداد پاس کروائی، اور دونوں ہی کی وجوہات جھوٹ، پراپیگنڈے، خرافات اور پاکستان دشمنی پر مبنی تھیں۔ عوامی نیشنل پارٹی اور پیپلز پارٹی نے مختلف اعتراضات کیے۔ 
عوامی نیشنل پارٹی کا اعتراض یہ تھا کہ اس سے نوشہرہ ڈوب جائے گا۔ پیپلز پارٹی کا اعتراض یہ تھا کہ سندھ بنجر ہوجائے گا۔ دونوں نے ہی نہ کوئی دلائل دیئے، نہ کوئی تکنیکی ثبوت پیش کیے، نہ ہی کوئی دوسرا حل پیش کیا اور نہ ہی پاکستان کو پیش آنے والے اس بحران کے خلاف آواز اٹھائی۔ دونوں ہی کے اعتراضات شرمناک بدنیتی اور پاکستان دشمنی پر مبنی تھے۔ آئیں اب آپ کو بتاتے ہیں کیسے؟پاکستان کی تاریخ میں جتنا تجزیاتی اور تحقیقی کام قومی اور غیر ملکی اداروں نے کالا باغ ڈیم پر کیا ہے وہ کسی اور ڈیم پر نہیں ہوا۔ اربوں روپے کی لاگت سے اس کی تعمیری روپوٹیں تیار کی گئی ہیں۔ پاکستان اور دنیا کے بہترین دماغ اور سائنسدانوں نے ان پر کام کرکے اپنی رائے دی ہے اور کالا باغ کے مقام کو ایک بڑا ڈیم بنانے کیلئے موزوں ترین قرار دیا ہے۔
اب خود عقل سے کام لیں، کیا پاکستان کے انجینئروں اور سائنسدانوں کا دماغ خراب ہے کہ وہ ایسا ڈیم ڈیزائن کریں گے کہ جو نوشہرہ، چارسدہ اور پشاور کو غرق کردے؟ خان عبدالغفار خان، ولی خان اور اسفندیار ولی ملک و قوم و ملت کے پکے ثابت شدہ غدار اور مشرکوں کے ایجنٹ ہیں۔ انہوں نے پاکستان بننے کی بھی مخالفت کی، تو کیا ہم پاکستان نہ بناتے؟ انہی کی وجہ سے صوبہ سرحد سے ریفرنڈم کرانا پڑا کہ کیا آپ پاکستان میں شامل ہونا چاہتے ہیں یا ہندوستان میں۔ ان کی بے شرمی اور بے غیرتی اس حد تک تھی کہ یہ پاکستان کے صوبہ سرحد کے غیور پشتونوں کو ہندوﺅں کا غلام بنانے جارہے تھے۔ آج یہ حرام خور منظور پشتین کی پوری تحریک کی حمایت کررہے ہیں۔ ساری زندگی پشتونستان بنانے کیلئے پاکستان کی پیٹھ میں خنجر مارتے رہے۔ تو جب ان جیسا ناپاک گروہ ایک فحش پراپیگنڈہ کرے کہ کالا باغ ڈیم بننے سے نوشہرہ اور پشاور ڈوب جائے گا تو ذرا ہوش سے کام لیکر غور کریں کہ کیا ایسا ممکن بھی ہے؟
کالا باغ کے مقام سے دریائی راستے سے اٹک تقریباً 95 میل دور ہے۔ جب دریا کے آگے ڈیم بنایا جاتا ہے تو ڈیم کے پیچھے ایک پانی کی جھیل بننا شروع ہوجاتی ہے۔ اس جھیل کی گہرائی اور پیچھے تک لمبائی کا تعلق ڈیم کے آگے بنائی گئی دیوار کی اونچائی سے ہوتا ہے۔ جتنی اونچی دیوار ہوگی اتنی ہی گہری اور لمبی جھیل پیچھے بنتی جائے گی۔ منگلا اور تربیلا ڈیم کی جھیلیں بھی کئی کئی کلومیٹر پیچھے تک پھیلی ہوئی ہیں۔ اسی طرح کالا باغ کی جھیل بھی تقریباً 50 میل پیچھے تک جائے گی، جبکہ کالا باغ سے اٹک تک کا فاصلہ 95 میل ہے اور نوشہرہ تو اس سے بھی پیچھے ہے۔ اگر کالا باغ کی جھیل مکمل بھی بھری ہو تب بھی اس کی سطح نوشہرہ سے 60 فٹ نیچے رہے گی۔ تکنیکی طور پر اس جھیل کی وجہ سے نوشہرہ کا ڈوبنا ناممکن ہے۔ اس کے باوجود جاہلوں کی تسلی کیلئے رپورٹوں میں یہ بھی گنجائش رکھی گئی تھی کہ ڈیم کی اونچائی کو مزید کم کردیا جائے کہ جس سے جھیل کی گہرائی اور پیچھے لمبائی مزید کئی میل کم ہوجائے گی۔ اس فحش اور جھوٹے اعتراض کے علاوہ عوامی نیشنل پارٹی کے پاس اس ڈیم کی مخالفت کرنے کی اور کوئی دوسری دلیل سرے سے ہے ہی نہیں۔
 اس بات کو بھی ذہن میں رکھیں کہ بھارت افغانستان میں دریائے کابل پر بھی ڈیم بنارہا ہے کہ جس کا مقصد پاکستان میں دریائے کابل کے بہاﺅ کو مکمل طور پر روکنا اور بارشوں کے وقت میں اچانک پانی چھوڑ کر سیلاب کی صورتحال پیدا کرنا ہے۔ نوشہرہ چند برس پہلے ڈوب چکا ہے، اور اس کی وجہ کالا باغ ڈیم نہیں، ولی خان اور اسفندیارولی کے بھائی ہندو مشرکوں کی وہ شرارت تھی کہ جو انہوں نے دریائے کابل پر افغانستان کے راستے کی، مگر آپ ان حرام خوروں کو کبھی اپنے ہندو بھائیوں کے خلاف بولتے نہیں سنیں گے۔……………………….
اب آئیں پیپلز پارٹی کے اعتراض کی جانب۔ ولی خان گروہ تو کھلم کھلا پاکستان دشمنی میں اس ڈیم کی مخالفت کررہا ہے، مگر پیپلز پارٹی کے اس ڈیم کے مخالفت کرنے کی وجہ اس قدر شرمناک ہے کہ انسان کو ابکائی آجائے۔آئیں آپ کو تفصیل بتاتے ہیں۔پیپلز پارٹی نے سندھ کے ان پڑھ اور سادہ عوام کو یہ کہہ کر بیوقوف بنایا کہ اگر یہ ڈیم بن گیا تو پنجاب سندھ کا سارا پانی لے جائے گا اور سندھ بنجر ہوجائے گا، اور اس سے سمندر کا پانی سندھ میں چڑھ آئے گا۔ عوامی نیشنل پارٹی کی طرح پیپلز پارٹی نے بھی اپنے اس شرمناک پراپیگنڈے کا نہ کوئی ثبوت دیا، نہ دلیل، کیونکہ کچھ تھا ہی نہیں۔ صرف فحش جھوٹ! مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ سندھ نے یہ اعتراض ہی نہیں کیا کہ اس ڈیم کے نتیجے میں نوشہرہ اور پشاور ڈوب جائیں گے، کیونکہ وہ بہت اچھی طرح جانتے تھے کہ تکنیکی بنیادوں پر وہ اس الزام کا دفاع نہیں کرپائیں گے۔ ایسے بے شرم صرف ولی خانی ہی ہیں کہ جو بغیر کسی ثبوت و دلیل و تحقیق کے نوشہرہ ڈوبنے کا ماتم کرتے ہیں۔
 ایک لمحے کیلئے یہ سوچیں کہ کیا منگلا اور تربیلا ڈیم بننے سے سندھ بنجر اور ویران ہوگیا، یا خوشحال ہوا؟ منگلا اور تربیلا ڈیم کی بجلی صرف پنجاب نے کھائی یا پورا پاکستان خوشحال ہوا؟ منگلا اور تربیلا ڈیم کی زرعی نظام سے پیدا ہونے والی خوراک صرف پنجاب نے کھائی یا پورا پاکستان خوراک میں خودکفیل ہوا؟ جب منگلا اور تربیلا کا پانی ایک نظام کے تحت سندھ اور پنجاب میں تقسیم ہورہا ہے تو کالا باغ کا سارا پانی پنجاب کیسے ہڑپ کرلے گا؟ جب پچھلے پچاس برس سے ایک نظام پاکستان کی خوشحالی کا ضامن ہے تو اچانک بیٹھے بٹھائے ضائع ہوتے ہوئے پانی کا ذخیرہ بنانے سے سندھ کیسے بنجر ہوجائے گا؟
ایک معمولی سا شعور رکھنے والا پاکستانی مسلمان بھی سمجھ سکتا ہے کہ پیپلز پارٹی اس ڈیم پر صرف سیاست کررہی تھی، سندھ کارڈ کھیل رہی تھی، اپنا ووٹ بینک بنارہی تھی، اور زرداری اپنی اصل حرام کی کمائی بچارہا تھا کہ جس کی تفصیل اب ہم آپ سے بیان کریں گے۔
جنرل ضیاءکے دور میں کالا باغ ڈیم کی مکمل رپورٹیں تیار ہوچکی تھیں۔ اس ڈیم پر کام بھی شروع ہونیوالا تھا مگر جنرل ضیاءکی شہادت کی وجہ سے سارا کام وہیں رک گیا۔ آنے والا دور پیپلز پارٹی اور نواز شریف کے درمیان پوری قوم کا بیڑہ غرق کرتے ہوئے گزرا۔ آپ کو یاد ہوگا کہ نوے کی دہائی میں زرداری کے خلاف جو سب سے بڑا سیکنڈل بنا تھا وہ آئی پی پیز کا تھا، یعنی ”پرائیویٹ بجلی گھر“، کہ جن کے ٹھیکے زرداری نے اس دور میں دیئے تھے۔ یہ پرائیویٹ بجلی گھر آج بھی دنیا کی مہنگی ترین بجلی پیدا کرتے ہیں کیونکہ یہ پٹرول سے چلتے ہیں۔ ان کو چلانے کیلئے اربوں ڈالر کا پٹرول ہر سال پاکستان کو درآمد کرنا پڑتا ہے۔ جس کی وجہ سے آپ نے ایک اصطلاح اور بھی سنی ہوگی ”گردشی قرضے“۔ یعنی اربوں ڈالر خرچ کرکے آپ دنیا سے پٹرول امپورٹ کریں، پھر یہ پٹرول جلا کر دنیا کی سب سے مہنگی بجلی 16 روپے فی یونٹ کے حساب سے پیدا کریں، ملک کی معیشت کو تباہ و برباد کردیں، جب اتنے مہنگے پٹرول کی قیمت ملک نہ ادا کرسکے تو قرضے پر بجلی بنائیں، کہ جس سے گردشی قرضے ملک کی کمر توڑتے رہیں، یہ ہے سارا خیانت اور فراڈ کا نظام کہ جوز رداری نے قائم کیا تھا، اور آج بھی وہی اس کو چلا رہا ہے۔
 اس سارے فراڈ میں آج تک زرداری اپنا کمیشن کھارہا ہے!!!
یہ ہے وہ اصل وجہ کہ یہ حرام خور کا بچہ کالا باغ ڈیم کے خلاف قرارداد پاس کرواتا ہے کہ اگر کالا باغ ڈیم بن جاتا تو ہر سال پانچ ارب ڈالر کا تیل امپورٹ کرنے کی ضرورت نہ پیش آتی، اس کے اربوں ڈالر کے کمیشن مارے جاتے۔ آپ نوٹ کریں گے کہ اس نے اپنے سب سے بڑے ڈاکو دوست ڈاکٹر عاصم حسین کو پاکستان اسٹیٹ آئل PSO کا چیئرمین لگایا تھا۔ غور کریں کیوں؟ اس لیے کہ یہ وہ جگہ ہے کہ جہاں اصل مال بنایا جاتا ہے۔ آپ PSO سے ریکارڈ نکلوالیں، جتنے بڑے بڑے بحری جہاز تیل لیکر پاکستان آتے ہیں، ان میں پیپلز پارٹی کی پوری قیادت کا حصہ ہوتا ہے۔ زرداری کا دماغ خراب نہیں ہے کہ16 روپے یونٹ بجلی پیدا کرنے والے کارخانوں کو چھوڑ کر 2 روپے یونٹ بجلی پیدا کرنے والے کالا باغ ڈیم کی حمایت کرے۔ اس کی ایک پکی آمدنی لگی ہوئی ہے، تیل کی خریداری میں بھی اور مہنگی بجلی سے بھی۔
اگر مسئلہ سندھ کے پانی کا ہوتا اور یہ اس پر اپنی نیندیں حرام کررہے ہوتے تو ان کو سب سے زیادہ احتجاج تو نریندر مودی کے خلاف کرنا چاہیے تھا کہ جس نے پاکستان میں داخل ہونے والے تمام دریاﺅں پر سینکڑوں ڈیم بنا کر پانی کا بھاﺅ تقریباً روک دیا ہے۔ اب کشن گنگا ڈیم بھی بنایا جارہا ہے، کہ جو دریائے نیلم کو بھی بند کردے گا، مگر آج تک آپ نے زرداری کے حلق سے بھارت کی جانب سے سندھ اور پاکستان کا پانی روکنے پر ایک آواز نہیں سنی۔ وجہ اب آپ کو معلوم ہوئی ہے کہ یہ حرامخور سندھ کے پانی کیلئے پریشان نہیں تھے، اپنے پرائیویٹ بجلی گھروں اور تیل کی آمدن میں کمی کے خوف سے کالا باغ ڈیم کے مخالف تھے۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔……………………….
اب آخری سوال یہ اٹھایا جاتا ہے کہ صرف کالا باغ ہی کیوں؟ ملک میں اور بھی تو بہت سارے مقامات ہونگے ڈیم بنانے کیلئے۔ اس کا بنیادی جواب تو ہم اوپر دے ہی چکے ہیں۔ اس ڈیم کی تعمیر کی بنیادی رپورٹیں بنانے پر ہی اس قوم نے اپنے تیس برس لگا دیئے، اربوں روپے خرچ کردیئے، اور تمام تر توجہ جنرل ضیاءکے دور سے اسی ڈیم کی تعمیر پر مرکوز تھی۔ اس کا کاغذی اور تکنیکی کام مکمل ہے۔ اس کو فوری شروع کیا جاسکتا ہے۔ اگر آج بھی اس ڈیم کی تعمیر شروع کی جائے تو مکمل ہونے میں پانچ برس لگیں گے۔ جو وقت ضائع ہوچکا ہے اس کا کفارہ اب بھوک، پیاس ، گرمی اور معیشت کی تباہی کی شکل میں پوری قوم کو دینا ہی پڑے گا۔ اورا سکے مرکزی ذمہ دار دو غدار ہیں، اسفندیار ولی اور آصف زرداری!!!
کسی بھی اور ڈیم کی تعمیر کیلئے ابتدائی رپورٹوں سے لیکر مکمل ہونے تک دس برس کا عرصہ لگ جائے گا۔ ملک میں جس طرح پانی کا قحط پڑتا جارہا ہے، جس تیزی سے بھارت ہمارے دریاﺅں کا پانی بند کررہا ہے، اور جس تیزی سے ملک کی معیشت تباہ ہوتی جارہی ہے، خوراک کی قلت پیداہورہی ہے، ان سب باتوں کے تناظر میں ہمارے پاس کوئی راستہ اور نہیں ہے سوائے اس کے کہ ہم فوری طور پر کالا باغ ڈیم پر کام شروع کریں۔ جتنا دیر کریں گے، اتنا ہی اللہ ہمیں خوف اور بھوک کے عذاب میں مبتلا کرے گا۔عمران خان کو ایک سنہری موقع ملا تھا کہ جس طرح عوامی نیشنل پارٹی نے اس ڈیم کی مخالفت میں قرارداد پیش کی تھی، تحریک انصاف اس کی حمایت میں پیش کردیتی۔ مگر ملک و قوم کی بدنصیبی کہ پرویز خٹک بھی ایک جاہل اور اس معاملے میں اسفندیار ولی کا حمایتی ہے۔
آپ نے سی پیک کے معاملے پر بھی دیکھا کہ کس طرح اس کو متنازعہ بنانے کیلئے ملک میں بھرپور جھوٹ اور پراپیگنڈے کی مہم چلائی گئی۔ کبھی سڑکوں کے روٹ پر تنازعہ، کبھی اپنے حصے پر تنازعہ، کبھی پیسوں پر تنازعہ۔۔۔ مگر چونکہ اس منصوبے کے پیچھے چین کا زور اور پاک فوج کا ڈنڈا تھا، تو سارے سیاسی لفنگے ایک ایک کرکے چپ ہوتے گئے اور اب اس لوٹ مار میں اپنا اپنا حصہ نکال رہے ہیں۔ عوام الناس سے تو نہ پہلے کسی نے پوچھا نہ بعد میں۔ آج تک پاکستان کا کونسا ایسا پراجیکٹ ہے کہ جس میں عوام سے رائے لی گئی ہو؟ سارے فیصلے سیاستدان خود کرتے ہیں، خود ہی جھوٹ بولتے ہیں، خود ہی پراپیگنڈہ کرتے ہیں، خود ہی کمیشن کھاتے ہیں،خود ہی مسئلے کا حل بھی نکالتے ہیں اور خود ہی لوٹ مار بھی کرتے ہیں۔
سندھ کے سادہ لوح عوام کو اور صوبہ سرحد کے غیور پشتونوں کو صرف دھوکہ دیا گیا ہے، اور دھوکہ دینے والے بھی وہ ہیں کہ جو ہزار دفعہ آزمائے جاچکے ہیں کہ ملک و قوم و ملت و دین کے دشمن و غدار ہیں۔ اس کے باوجود اگر قوم اور حکومت انہی غداروں کی مرضی پر پاکستان کی تقدیر کا فیصلہ کرے تو پھر اس قوم کو اللہ سے اپنی تقدیر کا شکوہ کرنے کا کوئی حق نہیں۔
پاناما کا کیس اس کی بہت بڑی مثال ہے۔ عمران نے بلاشبہ دو بڑی سیاسی جماعتوں کی بھرپور طاقت کے خلاف پاناما کے معاملے پر بھرپور مہم چلائی اور عوامی رائے کو ہموار کیا، کہ جس کے نتیجے میں فوج اور عدلیہ کیلئے بھی پاناما کے معاملے پر سختی کرنا آسان ہوگیا۔کاش کہ عمران اور تحریک انصاف کالا باغ ڈیم کے حوالے سے بھی پاناما کی طرح کوئی تحریک چلاتے،، مگر ملک و قوم کی بدنصیبی ہی یہی ہے کہ سیاست باز جواری صرف وہیں کھیلتے ہیں کہ جہاں ان کو اپنا ذاتی فائدہ نظر آتا ہے۔ نواز شریف کے میدان سے نکلنے کا فائدہ تو یہ اگلے انتخابات میں اٹھانا چاہتے ہیں، اسی لیے پاناما کی جان کو آئے رہے، مگر پاکستان کے دریاﺅں کے خشک ہونے کا انہیں کوئی خیال اس لیے نہ آیا کہ آنے والے انتخاب میں یہ انہیں سیٹیں نہ دلوا سکتا۔ان کی بلا سے پاکستان چاہے بھاڑ میں جائے، انہیں وزیراعظم بننا ہے!
 یہ قوم بہت اچھی طرح اس بات کو سمجھ لے، گزشتہ کئی دہائیوں کی لرزہ خیز غلطیوں کا اب بہت سخت کفارہ بھگتنا پڑے گا۔ اللہ تعالیٰ نہ اسفندیار ولی کی دلیلیں سنے گا، نہ زرداری کی تقریریں۔ وہ صرف اس قوم کو کفرانِ نعمت پر ایک دردناک عذاب دے گا۔ آج کراچی کے لوگ اسی زرداری اور الطاف حسین کی وجہ سے بجلی اور پانی کے جس عذاب سے گزررہے ہیں وہ صرف ایک جھلک ہے اس عذاب کی کہ جو جلد اس پوری قوم پر آنے والا ہے۔ اس وقت آپ کو ان بقراطوں کی دلیلیں نہیں، صرف عوام کی چیخیں سنائی دیں گی۔  ظالمو! ابھی بھی وقت ہے، توبہ کرلو، اپنی اصلاح کرلو، اللہ نے یہ تحفہ جو پاک سرزمین کی شکل میں دیا ہے، اس کی قدر کرلو!!!اللہ پاکستان کا حامی و ناصر ہو، اللہ پاکستان کے دشمنوں کو تباہ و برباد کرے، اللہ کالا باغ ڈیم کے مخالفوں کو دنیا و آخرت میں رسوا کرے۔ ٭٭٭٭٭

جب بھٹو زندہ تھا!

آئیں اب ان کے بارے میں بھی بات کرتے ہیں کہ جن کے لاڑکانہ میں تاج محل جیسے مزار بنے ہوئے ہیں، یعنی بھٹو خاندان۔آج پاکستان کی اکثریت نے نہ بھٹو کو دیکھا ہے نہ بھٹو کا دور، صرف پیپلز پارٹی کی غلاظت کو آج سب جانتے ہیں۔ ہم نے بھٹو کو بھی دیکھا ہے اور بھٹو کے دور کو بھی۔ 65 ءکی جنگ میں بھٹو کی غداری کی بھی دیکھی اور تاشقند معاہدے میں اس کی خیانت بھی۔ پھر ایوب خان کے خلاف اس کی بغاوت بھی، اور مجیب الرحمن جیسے غدار کی حمایت بھی۔ اور 71 ءکی جنگ میں بھٹو کا ناپاک کردار کہ جس کے نتیجے میں پاکستان دولخت ہوا۔ ”یہاں ہم، وہاں تم“ کا نعرہ لگانے والا بھٹو کہ جس نے الیکشن میں ہارنے کے بعد یہ فیصلہ کرلیا کہ کسی صورت میں بھی اقتدار مجیب کے حوالے نہیں کرے گا چاہے اس کے لیے ملک ہی کیوں نہ توڑ دیا جائے۔ وہ دوسری بات ہے کہ مجیب خود غدار تھا۔
لیکن آج ہم آپ سے اس دور کی بات کریں گے کہ جب بھٹو پاکستان کا مطلق العنان سول ڈکٹیٹر تھا۔ ایسا بھی دور آیا کہ جب بھٹو خود چیف مارشل لاءایڈمنسٹریٹر بھی تھا۔ 
ہمیں وہ دور بہت اچھی طرح یاد ہے۔ فیڈرل سیکورٹی فورس کے نام سے بھٹو نے اپنی ایک ذاتی دہشت گرد تنظیم بنائی کہ جس کا مقصد اپنے سیاسی مخالفین کو اغواءاور قتل کروانا تھا۔ہزاروں کی تعداد میں مخالفین کو پورے پاکستان سے اٹھایا جاتا، دہشت گردی کے مراکز میں اذیتیں دی جاتیں اور قتل کرکے لاشیں ویرانوں میں پھنکوا دی جاتیں۔ اپنے بڑوں سے پوچھیں انہوں نے آزاد کشمیر میں قائم ”دولائی کیمپ“ کا نام ضرور سنا ہوگا۔ یہ وہ بدنام زمانہ عقوبت خانہ تھا کہ جہاں سینکڑوں کی تعداد میں بے گناہ لوگوں کو لاکر اذیت کا نشانہ بنایا جاتا۔ اسی فیڈرل سیکورٹی فورس نے مشہور وکیل احمد رضا قصوری کے والد کو قتل کرنے کیلئے لاہور میں ان پر حملہ کیا۔ یہی وہ قتل بعد میں بھٹو کی پھانسی کا باعث بھی بنا۔ فیڈرل سیکورٹی فورس کے تمام افسران بھٹو کے خلاف گواہ بن گئے اور انہی کی شہادتوں پر احمد رضا قصوری نے بھٹو کے خلاف مقدمہ لڑا اور سزائے موت دلوائی۔ احمد رضا قصوری آج بھی زندہ ہیں اور اسلام آباد کے مشہور و کیل ہیں۔ ان کے جسم میں آج بھی وہ گولیاں پیوست ہیں کہ جو بھٹو کے حکم پر فیڈرل سیکورٹی فورس کے دہشت گردوں نے ان پر چلائی تھیں۔ لہذا اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ بھٹو کا عدالتی قتل ہوا اور وہ بے گناہ تھا تو وہ صرف ایک فحش اور جھوٹ کلمہ ادا کرتا ہے۔ بھٹو نے پاکستان بھی توڑا تھا، پاکستان سے غداری بھی کی تھی، ہزاروں لوگوں کو قتل بھی کروایا تھا، ہزاروں کو اغواءبھی کروایا تھا، دولائی کیمپ جیسے دہشت گردی کے مراکز بھی بنائے تھے، اور پھر جب وہ اللہ کے عذاب میں آیا تو ایک قتل اس کی پھانسی کا باعث بن گیا۔ بے شک اس کو ایک مقدمے میں سزائے موت ہوئی مگر حقیقت یہ ہے کہ اس کو ہزاروں بلکہ لاکھوں افراد کے قتل پر لاکھوں دفعہ لٹکانا چاہیے تھے۔
70 ءکی دہائی کا آغاز پاکستان ٹوٹنے سے ہوا تھا۔ پھر بھٹو کا دور حکومت شروع ہوتا ہے، اور ساتھ ہی فحاشی اور عریانی کے ایک ایسے دور کا آغاز ہوتا ہے کہ الامان الحفیظ! شرم، حیائ، دین اور شریعت کو بحیرہ عرب میں غرق کردیا جاتا ہے۔ پورے ملک میں گلی گلی شراب خانے کھولے جاتے ہیں، زناءاور بدکاری کے اڈے قائم کیے جاتے ہیں، پی ٹی وی کے اوپر رات دس بجے کے بعد فحش فلموں کا آغاز ہوتا ہے۔ آج بھی کراچی کے ساحل پر مشہور سند باد کے نام سے بچوں کا پلے لینڈ ہے۔ یہ بھٹو کے دور میں ایشیاءکا سب سے بڑا جوا خانہ بن رہا تھا، کہ جو بعد میں اس کے دفعہ ہونے کے بعد بچوں کے پارک میں تبدیل کردیا گیا۔
نظریاتی طور پر بھٹو ایک لادین سوشلسٹ مکتبہءفکر سے تعلق رکھتا تھا، کہ جو ہر صورت میں مذہب کو سیاست اور ریاست سے دور رکھتے ہوئے ملک کو مکمل طور پر ایک سیکولر ریاست بنا رہا تھا۔ اس کا مشہور نعرہ تھا ”اسلام ہمارا مذہب ہے، جمہوریت ہماری سیاست ہے اور سوشلزم ہماری معیشت“۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ اس دور میں نظریہءپاکستان اور اسلام کو مکمل طور پر دفن کردیا گیا تھا، اور معاشرے کے ہر طبقے میں کرپشن، بدکاری، شراب اور زناءمکمل طور پر فروغ پاچکا تھا۔ ایک ایسی قوم کہ جو چند سال پہلے ہی اللہ کے عذاب میں گرفتار ہو کر آدھے ملک سے ہاتھ دھو بیٹھی تھی، اب ایک عذاب سے نکل کر دوسرے عذاب میں گرفتار ہوچکی تھی۔یہی وجہ تھی کہ 1977 ءمیں جب بھٹو کے خلاف تحریک چلی تو اس کا نام ”نظام مصطفی تحریک“ تھا۔ پوری قوم اس لادینیت، بے حیائی اور بے غیرتی کے خلاف شریعت کے نام پر اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔ اسی آخری دور میں کہ جب بھٹو کو اپنے اقتدار کی کرسی ڈوبتی ہوئی نظر آئی تو اس کے عوام کے غم و غصے کو ٹھنڈا کرنے کیلئے شراب پر پابندی لگائی اور جمعے کی چھٹی کا اعلان کیا، ورنہ اس سے پہلے وہ اپنی مشہور تقریر میں پوری قوم کے سامنے اپنی شراب نوشی کا اقرار ان الفاظ میں کرچکا تھا کہ ” تھوڑی سی پیتا ہوں کوئی زیادہ تو نہیں پیتا“۔
اپنے سوشلسٹ نظریات کی وجہ سے بھٹو نے پاکستان کی تمام تر صنعت کو مکمل طور پر تباہ کردیا۔ یہ وہ وقت تھا کہ جب پاکستان میں بڑے بڑے کارخانے کام کررہے تھے، جدید ملیں لگائی جارہی تھیں، اور صنعتی اعتبار سے پاکستان بہت ترقی کررہا تھا۔ بھٹو نے آتے ہی تمام کارخانوں کو قومی تحویل میں لے لیا۔ نتیجتاً جیسا کہ سرکاری اداروں کے ساتھ ہوتا ہے، ایک دو سال کے اندر اندر ہی تمام منافع بخش کارخانے کھنڈر بن کر یا تو بند ہوگئے یا نقصان میں چلنے لگے۔ ملکی معیشت کو اس سے زیادہ کاری ضرب اور نہیں لگائی جاسکتی کہ جتنی بھٹو نے لگائی۔ اس دن سے لیکر آج تک پاکستان صنعتی میدان میں دوبارہ اپنے پاﺅں پر کھڑا نہیں ہوسکا۔
بھٹو ایک جنونی فاشسٹ تھا اور چینی سوشلزم کا پیروکار۔ اس نے اپنا لباس بھی ماوزے تنگ جیسا بنا لیا تھا۔ سوشلسٹ نظریات کی وجہ سے وہ قذافی، حافظ الاسد اور یاسر عرفات کے بھی بہت نزدیک تھا۔ اسی لیے لاہور میں سٹیڈیم کا نام بھی قذافی سٹیڈیم رکھا گیا تھا۔ 1973 ءمیں اسلامی سربراہی اجلاس نے لاہور میں ہی ہونا تھا اور چونکہ اس وقت بھٹو کی حکومت تھی لہذا بھٹو نے اس کا سارا کریڈٹ اپنے سر لے لیا۔
اسی دور میں اس ”جمہوری“ وزیراعظم نے مارشل لاءبھی لگایا اور خود چیف مارشل لاءایڈمنسٹریٹر بھی بنا۔
بھٹو کی تمام تر خباثت اور نجاست کے باوجود اللہ نے اس کو مجبور کیا کہ وہ پاکستان کیلئے کچھ کام بھی کرے۔ چونکہ بھارت ایٹمی دھماکہ کرچکا تھا لہذا اب بھٹو بھی مجبور تھا کہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام شروع کرے۔
دوسری جانب چونکہ افغانستان مسلسل پشتونستان بنانے کیلئے پاکستان میں دخل اندازی کررہا تھا تو اس کے جواب میں بھٹو نے بھی افغانستان کے اندر مسلح گروہوں کی تیاری کا سلسلہ شروع کیا کہ جو بعد میں آگے جا کر روسی جارحیت کے خلاف مجاہدین کے نام سے مشہور ہوئے۔
اس دور میں مسلمانوں اور قادیانیوں کے درمیان فسادات شروع ہوگئے تھے اور بھٹو کو مجبوراً پارلیمنٹ میں قادیانیوں کو بلا کر ان کا موقف پوچھنا پڑا۔ جب قادیانیوں نے پوری پارلیمان کے سامنے تمام مسلمانوں کو کافر قرار دیا تو جذبات بہت زیادہ بھڑک گئے اور بھٹو کیلئے ممکن نہ رہا کہ وہ عوام کے جذبات کے سامنے کوئی مزاحمت کرسکتا۔ لہذا مجبوراً پوری پارلیمان کے فیصلے کے مطابق اسے قادیانیوں کو کافر قرار دینا پڑا، حالانکہ وہ خود مکمل طور پر سیکولر سوشلسٹ نظریات کا حامل تھا۔
1977 ءکے الیکشنز میں دھاندلی کے بعد بھٹو کے خلاف نظام مصطفیٰ تحریک چل پڑی۔ بھٹو نے اپنی مخالفت کو دبانے کیلئے فیڈرل سیکورٹی فورس کے غنڈوں کے ذریعے بے دریغ طاقت کا استعمال کیا۔ سینکڑوں لوگوں کو شہید اور زخمی کیا گیا اور ہزاروں کو گرفتار۔ مگر مظاہرے بڑھتے ہی رہے ۔ حتیٰ کہ ایک وقت ایسا آگیا کہ فوج کو بلا لیا گیا۔ بھٹو نے فوج کو براہ راست حکم دیا کہ عوام پر گولیاں چلائے۔ لاہور میں چار بریگیڈیئروں نے اس حکم کو ماننے سے انکار کردیا اور فوج میں بغاوت پھیل گئی۔ اب صورتحال بہت نازک ہوچکی تھی۔ فوج کا ڈسپلن ٹوٹ رہا تھا، پورے ملک میں مظاہرے ہورہے تھے، اور بھٹو بضد تھا کہ فوج اپنے ہی عوام کا قتل عام کرے۔ یہ وہ موقع تھا کہ جب مجبوراً اس وقت کے سپہ سالار جنرل ضیاءالحق کو ملک میں مارشل لاءلگانا پڑا۔ لوگ ضیاءالحق کو مارشل لگانے پر تو گالیاں دیتے ہیں مگر کوئی ان اسباب کا ذکر نہیں کرتا، نہ بھٹو کے جرائم کی بات کرتا ہے کہ جن کی وجہ سے فوج مجبور ہوئی کہ عوام کو بچانے کیلئے مارشل لاءلگائے۔
 بھٹو کے اقتدار سے ہٹنے کے بعد اس کے بیٹوں مرتضیٰ بھٹو اور شاہنواز بھٹو نے ایک باقاعدہ ایشیاءکی سب سے پہلی اور منظم دہشت گرد تنظیم ”الذوالفقار“ بنائی اور پاکستان کے خلاف باقاعدہ جنگ کا آغاز کیا۔ الذوالفقار نے پشاور سے پی آئی اے کا جہاز اغواءکیا اور اسے کابل لے گئے، کہ جہاں اس وقت روسی موجود تھے۔ کابل ایئر پورٹ پر الذوالفقار کے دہشت گرد سلام اللہ ٹیپو نے طارق رحیم نامی پاکستانی سفارتکار کو گولی مار کر جہاز سے نیچے پھینک دیا۔ کابل سے جہاز اڑ کر دمشق لے جایا گیا کہ جہاں حافظ الاسد حکومت مکمل طور پر پاکستان کے خلاف الذوالفقار کے دہشت گردوں کی حمایت کررہی تھی۔ جہاز کے بے گناہ مسافروں کو بازیاب کرانے کیلئے مجبوراً کئی سو پیپلز پارٹی کے جیالوں اور دہشت گردوں کو پاکستان کی جیلوں سے آزاد کیا گیا اور انہیں شام روانہ کردیا گیا کہ جس کے بعد پی آئی اے کا اغواءکردہ جہاز اور اس کے مسافر بحفاظت پاکستان پہنچ سکے۔
مرتضیٰ بھٹو نے ایک شامی لبنانی عورت سے شادی کی، کہ جو آج بھی پاکستان میں غنویٰ بھٹو کے نام سے رہتی ہے۔ شاہ نواز سے افغانی کمیونسٹ عورت سے شادی کی۔ الذوالفقار پورے پاکستان میں کئی برس تک دہشت گردی کی خونریز کارروائیاں کرتی رہی۔ بینظیر بھٹو مکمل طور پر اپنے بھائیوں کے ساتھ اس دہشت گردی میں شامل تھی۔ بینظیر نے کبھی بھی اپنے بھائیوں کے خلاف نہ کوئی کارروائی کی، نہ ان کو دہشت گردی سے روکا اور نہ ہی بعد میں ان پر مقدمے چلائے کہ جب وہ خود وزیراعظم بن چکی تھی۔ پیپلز پارٹی کے وہ تمام دہشت گرد کہ جو جہاز اغواءکرنے کے نتیجے میں رہا کیے گئے تھے آج بھی پاکستان میں مختلف سیاسی جماعتوں کے جیالے ہیں۔بعد میں اللہ نے ہی شاہ نواز بھٹو اور مرتضیٰ بھٹو سے انتقام لیا۔ شاہ نواز اور مرتضیٰ کی پیسوں کے تنازعے پر لڑائی ہوئی اور اسی جھڑپ میں شاہ نواز مارا گیا۔ اس کی موت کو چھپانے کیلئے خودکشی کا نام دیا گیا۔ پیپلز پارٹی والے کہتے ہیں کہ اس کو اس کی بیوی نے زہر دیا، مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ مرتضیٰ سے لڑائی میں مارا گیا تھا۔
مرتضیٰ بھٹو پاکستان واپس آیا کہ جب اس کی بہن ملک کی وزیراعظم بن چکی تھی۔ آصف زرداری جیسا ناپاک اور پلید ڈاکو بینظیر کا شوہر تھا۔ بینظیر کے شوہر اور بھائی میں اختیارات اور دولت کی تقسیم کے تنازعے شدت اختیار کرتے جارہے تھے اور بالآخر ایک دن زرداری نے دن دیہاڑے کراچی کی سڑکوں پر مرتضی کو بھی اپنے ساتھیوں سمیت قتل کروادیا۔ مرتضی کی بیٹی فاطمہ بھٹو آج بھی کھل کر کہتی پھرتی ہے کہ اس کے باپ کو زرداری نے قتل کروایا، مگر آج بھی سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت ہے اور کسی عدالت یا پولیس کی اتنی جرا ¿ت نہیں ہے کہ مرتضی کے قتل کا مقدمہ زرداری پر قائم کرسکے۔ مرتضی کا بیٹا ذوالفقار علی بھٹو آج ایک ہیجڑہ ہے جو کھل کر اپنے قوم لوط میں سے ہونے کا اقرار کرتا ہے۔ زرداری کا بیٹا ایک دوسرا ہیجڑہ ہے کہ جس کو اب زرداری آئندہ پاکستان کا وزیراعظم بنانے کیلئے تیار کررہا ہے۔
بھٹو کی بیٹی پاکستان کی وزیراعظم بنی مگر پاکستان کو اسی طرح لوٹا اور تباہ و برباد کیا کہ جیسے پہلے اس کا باپ کرچکا تھا۔ بالآخر وہ بھی اپنے عبرتناک انجام کو پہنچی۔ ابھی یہ تحقیق ہونا باقی ہے کہ بینظیر کا قاتل وہ خودکش حملہ آور تھا یا اس کا وہ شوہر کہ جو بعد میں ایک فرضی وصیت لے کر ملک کا صدر بن بیٹھا۔
پورا اندرون سندھ، کہ جہاں ”آج بھی بھٹو زندہ ہے“ ، غربت اور افلاس کی عبرتناک تصویر ہے۔ اربوں روپے کی لاگت سے قائم کردہ بھٹو خاندان کے مقبرے کے ساتھ ہی وہ پانی کا جوہڑ ہے کہ جہاں انسان اور حیوان اکٹھے پانی پیتے ہیں۔ جبکہ زرداری اور بھٹو خاندان کی باقیات کا یہ عالم ہے کہ قارون کے خزانے ان کے آگے کم نظر آتے ہیں۔ پوری دنیا میں ان کی دولت بکھری ہوئی ہے کہ جس کا حساب کرنا بھی ناممکن ہے۔
تو یہ ہے مختصر سی تاریخ بھٹو اور اس کے خاندان کی کہ جو پچھلے تقریباً پچاس برس سے پاکستان پر اللہ کے عذاب کی طرح مسلط ہے۔ پہلے بھٹو، پھر مرتضی اور شاہنواز، پھر بینظیر، پھر زرداری، اور اب بلاول۔ ہر آنے والی نسل پچھلی سے زیادہ ناپاک، زیادہ حرام خور اور زیادہ جہنمی ہے۔
ان شاءاللہ، اب وقت آگیا ہے کہ جس طرح بھٹو اللہ کی گرفت میں آیا اور پھانسی چڑھا، اسی طرح اب زرداری جیسا ڈاکو اللہ کی گرفت میں لایا جائے گا، ان شاءاللہ۔ اس سے زیادہ ناپاک خاندان پاکستان کی تاریخ میں پیدا نہیں ہوا۔ ایک سے ایک بڑھ کر غدار، قاتل، ڈاکو اور بدکار۔اب دیکھنا صرف یہ ہے کہ اللہ زرداری اور اس کی باقیات اپنی گرفت میں لیتا ہے یا پاکستان سے پیار کرنے والی کی گرفت میں دیتا ہے۔ اس فتنے کو اب دفن کرنا لازم ہے ، ان شاءاللہ۔٭٭٭٭٭

”کبھی دجلہ سرخ ہوگا اور کبھی سیاہ“

سیدنا علیؓ نے فرمایا ہے کہ قومیں کفر سے تباہ نہیں ہوتیں، ظلم سے تباہ ہوتی ہیں۔
مجھے ہمیشہ اس بات پر انتہائی حیرانگی ہوتی تھی کہ اہل بغداد کس زوال کا شکار ہونگے، کیا ظلم ہوگا وہاں پر، کیا بے حیائی ہوگی، کیا بے غیرتی ہوگی کہ بالآخر اللہ تعالیٰ نے اپنے غضب کا اظہار ہلاکو خان کو بھیج کر کیا۔ پندرہ لاکھ کی آبادی والے شہر میں سے کسی ایک کو بھی نہ چھوڑا۔جو زندہ بچ گئے وہ لونڈی اور غلام بنا کر فروخت کیے گئے، دجلہ پہلے خون سے سرخ ہوا اور پھر کتابوں کی سیاہی سے سیاہ، اور طویل عرصے تک سیاہ ہی رہا۔ دریا کی یہ سیاہی صرف کتابوں کی سیاہی نہ تھی، بلکہ اہل بغداد کے سیاہ اعمال بھی تھے کہ جن کی شہادت اب رہتی دنیا دی جانی تھی۔
آج جب میں پاکستان کو دیکھتا ہوں تو یقین کریں کہ میرے پورے وجود میں ایک سراسمیگی پھیل جاتی ہے۔ بغداد تو آج بھی اپنی جگہ پر قائم ہے، وہ اہل بغداد تھے کہ جن کا نام و نشان بھی مٹا دیا گیا۔ یہ پاکستان تو قائم رہنے کیلئے بنا ہے، اس نے تو قائم رہنا ہی ہے ان شاءاللہ، مگر مجھے خوف تو اہل پاکستان کے بارے میں ہے کہ کہیں ان کا بھی نام و نشان نہ مٹا دیا جائے۔ جس ظلم، خیانت، غداریوں، بدکرداریوں اور حرام خوریوں کی وجہ سے اللہ نے اہل بغداد پر توبہ کے دروازے بند کردیئے، آج من و عن اس سے کہیں زیادہ شدت کے ساتھ اہل پاکستان انہی حرام کاریوں میں مصروف ہیں۔ اہل بغداد چاروں طرف سے دشمنوں میں گھرے ہوئے تھے، مگر داخلی انتشار کا یہ عالم کہ پوری اشرافیہ میں کوئی ایک بھی رجل الرشید ڈھونڈے سے بھی نہ ملتا تھا۔
آج پاکستان کا عین وہی حال ہے۔ چاروں طرف سے خونخوار دشمنوں میں گھرے، خونریز جنگ کا شکار اور بے شرمی اور بے حیائی کا ایسا عالم کہ کیا اشرافیہ اور کیا عوام، سبھی شہوت و حرام کاریوں میں مست بس بہے چلے جارہے ہیں، اندھے گونگے اور بہرے، یوں لگتا ہے جیسے اللہ نے ان پر توبہ کے دروازے ہی بند کردیئے ہیں۔
جن کے ہاتھ میں اختیار ہے وہی سب سے بڑے ظالم، چاہے حکومت میں ہوں، عدلیہ میں ہوں یا دیگر اشرافیہ میں۔ جن کے ہاتھ میں اختیار نہیں ہے وہ بھی غافل اور حرام خور۔ قحط الرجال کا ایسا عالم کہ اب شاید اس کا علاج اللہ ہلاکو خان سے ہی کرے۔کوئی مادر پدر آزاد ہے حرام کاریوں کیلئے، اور کوئی ”آئین و قانون“ کے بہانے کرکے ہاتھ اور پاﺅں توڑ کر بیٹھا ظلم کا تماشہ دیکھ رہا ہے۔ ڈاکوﺅں کا بنایا ہوا آئین اور قانون کہ جس میں آئے دن اپنی مرضی کی ترمیمیں کرکے اپنے جرائم کو تحفظ دیا جائے، ایسے آئین و قانون سے بغاوت ہی لازم ہے۔
قومیں اور ریاستیں انصاف سے بنتی ہیں، نہ جمہوریت سے، نہ آمریت سے، نہ سڑکوں سے، نہ پلوں سے اور نہ ہی تعلیم سے۔ معاشرے میں عدل و انصاف مساوات قائم کرتے ہیں، کہ جو بنیاد ہے ایک انسانی معاشرے کی۔ اللہ کے حضور نہ تو جمہوریت کا سوال ہوگا، نہ آمریت ہوگا، نہ آئین کا ، نہ قانون کا، صرف یہ سوال ہوگا کہ جن کو اختیار دیا گیا تھا انہوں نے انصاف کیا؟ انہوں نے ظلم کو ہوتے دیکھا اور اختیار رکھتے ہوئے اس کو کیوں نہیں روکا؟ یہ اچھی طرح سمجھ لیں کہ دربار نبویﷺ میں، اللہ کے حضور، آج کے حکمرانوں اور اشرافیہ کا کوئی عذر کام نہیں آئے گا کہ جب ظلم و ستم کا ایسا بازار گرم ہو کہ انسانیت شرما کر زمین کے پیٹ میں غرق ہوچکی ہو۔چاہے آج کوئی چیف جسٹس ہو، وزیراعظم ہو، مفتی اعظم ہو یا سپہ سالار۔۔۔۔۔ سب گہنگار ہیں، سب جوابدہ ہیں، سب اپنے اپنے اختیار اور طاقت کے مطابق اس ملک و قوم و ملت پر ظلم کررہے ہیں۔
جنگ طرابلس میں ایک بچی فاطمہ بنت عبداللہ شہید ہوئی۔ اقبالؒ نے اس ایک بچی پر جو مرثیہ لکھا اس نے پورے ہندوستان کے مسلمانوں کو خون کے آ نسو رلا دیئے۔
 آج ہزاروں ”فاطمہ بنت عبداللہ“ کشمیر سے لیکر فلسطین تک، عراق سے لیکر برما تک، روز ذبح کی جارہی ہیں، مگر اس ملت پاکستان کے بے شرم اور بے غیرت حکمرانوں کے کان پر جوں نہیں رینگتی۔ عوام کے بھی مخصوص حلقوں میں تھوڑی بہت ہلچل ہے، مگر باقی قوم اسی طرح خواب غفلت میں مست، جمہوریت کے پجاری، اللہ اور اسکے رسولﷺ سے غافل۔
اللہ اس ملک کو اس حال میں کبھی بھی نہیں چھوڑے گا۔ جو تقدیر اس نے اس پاک سرزمین کیلئے لکھ دی ہے اس میں راہ میں وہ کسی جمہوریت، کسی پٹواری، کسی زرداری یا فضلو کو نہیں آنے دے گا۔ اس نظام پر اور اس کے چلانے والوں پر تو توبہ کے دروازے بند ہوچکے ہیں۔ اب یہ اللہ کا فیصلہ ہے کہ وہ ہلاکو بھیجتا ہے، سیلاب بھیجتا ہے، خانہ جنگی بھیجتا ہے، بھوک اور خوف کا عذاب بھیجتا ہے یا خوارج و مشرک کے ہاتھوں اس بے خبر اور غافل قوم کو بیدار کرتا ہے یا تباہ کرتا ہے۔ یہ نظام اور اسکے چلانے والے بہرحال اب لعنتی ہوچکے ہیں۔
اللہ تعالیٰ بہانے نہیں سنتا، کام کا نتیجہ مانگتا ہے۔ وہ بے شرموں، بے غیرتوں اور بے حیاﺅں کا رب ہی نہیں ہے، وہ شیروں، دلیروں اور غیرت مندوں کا رب ہے۔ خدائے زندہ، زندوں کا خدا ہے!
اس پاکستان کی حفاظت کرنا حقیقت میں سیدی رسول اللہﷺ کی خدمت کرنا ہے۔ اس پاکستان سے خیانت کرنا سیدی رسول اللہﷺ سے خیانت کرنا ہے۔
جس طرح سیدنا ابوبکرصدیقؓ نے دیگر صحابہ کرام سے فرمایا تھا کہ اگر مجھے اکیلے بھی جا کر منکرین زکوٰة کے خلاف جہاد کرنا پڑا تو میں اکیلا ہی جاﺅں گا، بالکل اسی طرح آج ہم بھی یہ کہتے ہیں اگر ہمیں اکیلے ہی سیدی رسول اللہﷺ کے اس مدینہءثانی کی حفاظت کیلئے لڑنا پڑا تو ہم آخری دم تک لڑیں گے، آخری سانس تک اس پاک سرزمین کے نظریے، سبز ہلالی پرچم اور جغرافیے کا دفاع کریں گے، مگر افسوس، صد افسوس ان حکمرانوں پر، اس اشرافیہ پر کہ جس ہاتھ میں آج اللہ نے اس پاک سرزمین کا اختیار دیا ہے اور انہوں نے خود ذلت و خواری و رسوائی کی زندگی قبول کی ہے۔ ناپاک حکمرانوں کی بداعمالیاں اب اسی طرح ہمارا خون بہائیں گی کہ ”کبھی دجلہ سرخ ہوگا اور کبھی سیاہ“۔

پاک سرزمین اور ہماری ڈیوٹی

2007 ءمیں جب اس فقیر نے میڈیا پر آکر دفاع پاکستان اور احیائے پاکستان کی اذان دینی شروع کی تو، 1971 ءکے بعد، وہ ہماری تاریخ کے سیاہ ترین دن تھے۔ اس قدر دہشت گردی تھی کہ ملک ہاتھ سے نکل چکا تھا۔ خود فوج کا یہ عالم تھا کہ وردی پہن کر جی ایچ کیو نہیں جاسکتے تھے۔2007 ءکے آخر تک کہ جب بینظیر کو بھی خود کش حملے میں قتل کردیا گیا، اور پورے ملک میں انتقامی فساد پھوٹ پڑے، تو خطرہ ہوچلا تھا کہ واقعی پاکستان ہمارے ہاتھ سے نکل جائے گا۔
اسی ناممکن صورتحال میں اس فقیر کی اذان نے قوم کو سنبھالا دیا، فوج کو حوصلہ دیا، خوارج کو بے نقاب کیا اور نظریہءپاکستان کو زندہ کیا گیا۔اگلے پانچ برس 2013 ءتک ہمارے مشن کے مشکل ترین سال تھے۔ زرداری پاکستان کا صدر تھا، افتخار چوہدری چیف جسٹس اور جنرل کیانی سپہ سالار۔ اور تینوں ہی اس فقیر کی جان کے دشمن۔ ہر طرح سے ہمارے مشن کو روکنے کیلئے ہم پر آزمائشوں اور مصیبتوں کے پہاڑ توڑے گئے، یہاں تک کہ قتل کا مقدمہ بھی بنایا گیا، توہین رسالت کا الزام لگا کر مروانے کی کوشش بھی کی گئی۔مگر الحمدللہ، 2007 ءسے 2013 ءتک، ہماری اذان کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے پہلے پاک فوج کو سنبھالا اور پھر پاک فوج نے پاک سرزمین کو سنبھالا۔ اگر پاک فوج پاکستان کی حفاظت کررہی تھی تو ہم پاک فوج کی حفاظت کررہے تھے، اور پھر اسی پاک فوج کی تلوار سے ہم نے دشمنوں کا صفایا کروایا، جبکہ نظریہءپاکستان اور بابا اقبالؒ کو ہم نے خود زندہ کیا۔
خدا خدا کرکے زرداری، افتخار چوہدری اور کیانی دفع ہوئے۔2013 ءکے انتخابات کو ہم نے روکنے کی بہت کوشش کی، کہ جو تباہی زرداری کی جمہوریت لا چکی تھی وہ کافی تھی یہ بتانے کیلئے کہ اگلے پانچ سال بھی پاکستان کو ”جمہوری طرز“ پر سیاسی دہشت گردی کا نشانہ بنایا جائے گا۔بہرحال 2013 ءمیں جو ہمارے خدشات تھے، نواز شریف کی جمہوریت کے بارے میں، وہ سو فیصد صحیح ثابت ہوئے۔ نواز شریف، زرداری سے بڑا سیاسی اور معاشی دہشت گرد ثابت ہوا۔ آج 2018 ءمیں پچھلی دس سالہ سیاسی دہشت گردی کا یہ نتیجہ نکلا ہے کہ ملک دیوالیہ اور عالمی طاقتوں کے ہاتھوں گروی رکھا جاچکا ہے۔یہی وجہ تھی کہ ہم اس ”جمہوری دہشت گردی“ کو 2018 ءکے الیکشن میں روکنا چاہتے تھے۔ نظام کی درستگی کے بغیر اور پچھلے دس سال میں لوٹی گئی دولت کو واپس لائے بغیر ملک کو دوبارہ جمہوریت کے حوالے کرنا ایک سراسر حماقت، جہالت اور یہاں تک کہ غداری کے مرتکب ہونے والی بات تھی۔
بہرحال، اب انتخابات ہوچکے ہیں، ”نیا پاکستان“ بننے جارہا ہے۔ ظاہر ہے کہ ہم اس حکومت کو فی الحال چلنے دینگے، اس کی حمایت کریں گے، اس کو نصیحت کریں گے۔ جہاں یہ غلطیاں کرنے لگے گی، وہاں تنبیہ کریں گے۔ جہاں اچھے کام کرے گی، وہاں تعریف بھی کریں گے۔
بہت گہری نگاہ رکھیں گے اس کے اوپر۔زرداری اور نواز کی حکومتیں تو ہم دیکھ چکے ہیں، اب عمران کی بھی دیکھ لیتے ہیں۔ جب نظام وہی غلیظ ہو، مشیر وہی حرام خور ہوں، کرپشن اور خیانت اسی طرح رچی بسی ہو، پارلیمان میں جاہلوں کی اکثریت ہو اور قیادت لبرل اور سیکولر ہو، تو اسلامی فلاحی ریاست کہ جس کی بنیاد شریعت پر ہو، ایک خواب سی لگتی ہے۔یہ بات درست ہے کہ عمران، زرداری اور نواز شریف سے بہتر ہے۔ مگر یہ بات بھی درست ہے کہ اس کا اسلامی فلاحی ریاست کا نعرہ بھٹو کے روٹی، کپڑا اور مکان کے نعرے سے کوئی مختلف نہیں ہے۔اگر عمران کی حکومت صرف پچھلے چوروں کا احتساب کرکے لوٹا ہی مال ہی برآمد کرلے اور فوج کے مشورے سے قومی سلامتی کے اہم فیصلے کرلے، تو میں سمجھوں گا کہ انہوں نے کچھ کرلیا ہے۔جیسے کہ ہم نے کہا، ہم ہرگز پی ٹی آئی کی حکومت کی مخالفت نہیں کریں گے۔ ان کو موقع دینگے کہ یہ کچھ کر کے دکھائیں۔ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ یہ بغیر فوج اور عدلیہ کی مدد کے دھیلا بھی نہیں کرسکتے۔ فوج اور عدلیہ کو مجبوراً سیاست میں دخل بھی دینا ہوگا اور اس کو چلانا بھی ہوگا۔
باقی رہے نام اللہ کا، اس پاک سرزمین نے تو اللہ کے حکم سے ہمیشہ قائم رہنا ہے۔ یہ حکمران، یہ سیاست باز، یہ معاشی دہشت گرد، پہلے بھی تھے اور آج بھی ہیں، اور ”نئے پاکستان“ میں بھی ہونگے۔اللہ تو اپنا کام فاسقوں سے بھی لے لیتا ہے، شاید ان سے بھی کچھ لے لے۔ مگر یہ وہ لوگ نہیں ہیں کہ جو ”تکمیل پاکستان“ کریں گے۔اللہ نے ہماری ڈیوٹی اس پاک سرزمین کی حفاظت کی لگائی ہے۔ اس کے پاکیزہ، بابرکت روحانی نظریے کی حفاظت، اس کی پاک فوج کی حفاظت، اس کی جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت، بابا اقبالؒ کے پیغام کی حفاظت، شریعت و دین و اسلام کی حفاظت۔
یہ ڈیوٹی، ان شاءاللہ، ہر حال میں، ہر وقت ادا کی جاتی رہے گی، چاہے ”پرانا پاکستان“ ہو یا ”نیا پاکستان“۔٭٭٭٭٭

وکیل، صحافی اور بینکار

جب سیدنا عمرؓ سے دو چادروں کے بارے میں سوال کیا گیا، تو یہ حقیقت میں ”آمدنی سے زیادہ اثاثوں“ کا ہی کیس تھا۔سیدنا عمرؓ نے اسی لمحے اپنی ”اضافی چادر“ کا ثبوت پوری عدالت کے سامنے پیش کیا، اور اسی لمحے یہ کیس خارج بھی ہوگیا۔اسلامی شرعی قوانین میں اور اس کے ساتھ ساتھ نیب کے قوانین میں بھی ”آمدنی سے زائد اثاثے“ رکھنا خیانت اور جرم تصور کیا جاتا ہے۔جے آئی ٹی اور سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ضرورت ہی پیش نہیں آنی چاہیے تھی کہ نواز شریف کا مقدمہ نیب کی عدالت میں بھیجا جاتا۔ یہیں تو انصاف کا قتل ہوتا ہے۔اگر کوئی بھی شخص اپنی آمدنی سے زائد اثاثے رکھتا ہے، تو یہ کافی ہے اس کو مجرم ٹھہرانے کیلئے۔یہ مذاق بند کریں۔تین برس ہوگئے ہیں نواز شریف کا مقدمہ حرام خور وکیلوں کے ذریعے لٹکتا ہی جارہا ہے، استغفراللہ۔
موجودہ حکومت کو بڑے وسیع پیمانے پر جرا ¿ت اور دلیری کے ساتھ قوانین اور ان کے نفاذ میں تبدیلیاں لانی ہونگی۔نظام بھی غلیظ ہے، قوانین بھی فرسودہ ہیں، ان کے نافذ کرنے والے بھی خائن اور ڈاکو۔”ظلم“، انصاف کے جنازے کو ہی کہتے ہیں۔
پاکستان میں ایک اور جو بہت بڑا ظلم ہے وہ یہ کہ وراثت کی تقسیم شریعت اور قانون کے مطابق نہیں کی جاتی۔عدالتوں سے وراثت نامہ بنوانا بھی ایک ناممکن اور مہنگا امر ہے۔وراثت نامے اب نادراکو جاری کرنے چاہئیں کہ جس کے پاس پورے خاندان کا ریکارڈ موجود ہوتا ہے۔اگر ملک میں وارثت شرعی حقداروں کو قانون کے مطابق تقسیم ہونے لگے ،تو پورے معاشرے میں خوشحالی کا ایک نیا دور شروع ہوجائے گا۔ دولت چند ہاتھوں میں محدود رہنے کے بجائے معاشرے میں تقسیم ہونے لگے گی اور معاشرے کے کمزور طبقے، یتیموں اور بیواﺅں پر ہونیوالا ظلم بھی بند ہوجائے گا۔اسی طرح دستاویزات کی گریڈ 18 کے افسروں سے تصدیق کا غلامانہ نظام بھی فوری طور پر ختم ہونا چاہیے۔ ہر پاکستانی شہری، یا درخواست کنندہ خود ہی اپنے کاغذات کی تصدیق کرے۔ اگر جھوٹی تصدیق کرے تو خود نتائج کا ذمہ دار بھی ہو۔
ہمیں کشمیر، گلگت، بلتستان کو ملا کر ایک نیا صوبہ تو لازماً بنانا ہے، مگر جنوبی پنجاب کا صوبہ بنانے کی کوئی تُک نہیں ہے۔اچھی طرح سمجھ لیں کہ عدل و انصاف اور ”گڈ گورننس“ نئے صوبے بنانے سے نہیں آتی، اچھے اور عادلانہ قوانین اور نیک اور صالح حکمرانوں کے ذریعے، ان کے نفاذ سے آتی ہے۔جب ملک میں قوانین انگریز سامراج کے چھوڑے ہوئے ہوں، پولیس اور عدالتیں 1860 ءکے ظالمانہ نظام کے تحت چلیں، انصاف لینا ناممکن امر ہو، وکالت کا پیشہ جھوٹ بولنے کا دوسرا نام ہو، انصاف کیلئے عمر نوح، صبر ایوب اور خزانہ قارون درکار ہو، تو پھر جتنے مرضی صوبے بنالیں، ظلم ہی رہے گا۔
کیا کبھی ایسا ممکن ہے کہ ایک عام شخص عدالت سے مفت اور فوری انصاف لے سکے؟کیا یہ ممکن ہے کہ وکیلوں کو ہزاروں لاکھوں روپے ادا کیے بغیر اور سالوں انتظار کے بغیر بھی انصاف مل جائے؟جب ایسا ہوگا، تب ”نیا پاکستان“ بنے گا۔
پاکستان کے عدالتی نظام میں فرعونوں والا ظلم ہوتا ہے۔ جھوٹے مقدمے، جھوٹی گواہیاں، جھوٹی پولیس، جھوٹے وکیل، کمزور اور بزدل جج، ڈیڑھ سو سال پرانا گلا سڑا انگریزوں کا چھوڑا ہوا نو آبادیاتی قانونی نظام۔۔۔اگر اس نظام کو تبدیل نہ کیا تو جو مرضی واویلا کرلیں، ”نیا پاکستان“ نہیں بنے گا۔
پاکستان کے عدالتی نظام کی سب سے شرمناک بات یہ ہے کہ یہاں نہ جھوٹے مقدمات قائم کرنے پر کسی کو کوئی سزا ہے، اور نہ ہی ججوں کو جھوٹے اور غلط فیصلے کرنے پر احتساب کا ڈر۔بیس بیس جیل کاٹنے کے بعد بے گناہ اگر رہا ہو بھی جائے تو اس کو جیل میں رکھنے والے، مدعی، پولیس اور جج پھر بھی ناقابل گرفت۔
اسلامی عدالتی نظام میں کوئی وکیل نہیں ہوتے۔مدعی براہ راست قاضی کے سامنے اپنا مقدمہ پیش کرتا ہے۔ جس کے خلاف مقدمہ ہوتا ہے اسے قاضی خود طلب کرتا ہے۔ آمنے سامنے دونوں کو بٹھاتا ہے، خود تحقیق کرتا ہے اور فیصلہ سنا دیتا ہے۔ کسی کا ایک روپیہ بھی خرچ نہیں ہوتا، ایک دن بھی ضائع نہیں جاتا۔اسلامی نظام عدل میں زور صرف اس بات پر ہوتا ہے کہ اللہ کے قانون کے مطابق فوری طور پر عدل اور انصاف کیا جائے۔قانونی پیچیدگیاں، مقدمے کے طریقہءکار، وکلاءکے دلائل اور کاغذی کارروائیاں، وجود ہی نہیں رکھتیں۔مقصد فوری انصاف ہوتا ہے، نہ کہ کمائی اور کیس لٹکانا۔انصاف کا حصول جب بھی کسی پیشہ ور طبقے کی کمائی کا ذریعہ بنے گا، اسی لمحے سے نظام عدل، نظام ظلم میں تبدیل ہوجائے گا۔شرعی اعتبار سے وکالت کا پیشہ ہی حرام ہے، جیسے کہ بینکر کی سودخوری یا صحافی کے جھوٹ۔ یہ سارے پیشے شیطان کے ایجاد کیے ہوئے ہیں۔
آج کفر کا پورا نظام تین پیشوں پر کھڑا ہے۔ اگر ان پیشوں کی جڑ نکال دی جائے، تو کفر کا پورا نظام بھی دھڑام سے آگرے گا۔
-1 سود خور بینکر
-2 انصاف فروش وکیل
-3 قلم فروش صحافی
ان تین پیشوں کے ہوتے ہوئے ملک میں کبھی شریعت نافذ نہیں ہوسکتی۔٭٭٭٭٭

ایں چہ بوالعجبی است

کیا اس شخص سے زیادہ کوئی بدنصیب اور ظالم ہوسکتا ہے کہ سیدی رسول اللہﷺ ہجرت فرمانا چاہیں اور وہ سیدیﷺ کی راہ میں رکاوٹیں ڈالے، اور لوگوں کو سیدیﷺ کے ساتھ ہجرت سے روکے اور یہ کہے کہ مشرکوں اور مسلمانوں کو مکے میں ہی اکٹھے رہنا چاہیے؟کیا اس شخص سے زیادہ کوئی بدنصیب، گستاخ اور کافر ہوسکتا ہے کہ جو غزوئہ بدر کے موقع پر ابوجہل کے ساتھ کھڑا ہو اور سیدی رسول اللہﷺ کے لشکر اور مدینہ منورہ کی ریاست کے خلاف جنگ کرے؟
اب ذرا دل تھام کر سنیں۔۔۔
اوپر بیان کردہ دونوں ظلم عظیم اور گنائہ کبیرہ ہندوستان میں حسین احمد مدنی اور دارالعلوم دیوبند نے کیے اور کررہے ہیں۔ جب سیدی رسول اللہﷺ نے یہ فیصلہ فرمالیا کہ مدینہءثانی پاکستان نے قائم ہونا ہے اور مسلمانوں کو اس کی جانب ہجرت کرنی ہے تو سیدی رسول اللہﷺ کے حکم کو جاننے کے باوجو د حسین احمد مدنی اور دیوبند نے مشرکوں کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا، مسلمانوں کو ہجرت سے روکا، اس بات پر اصرار کرتے رہے کہ مشرکوں کے ساتھ متحدہ ہندوستان میں رہیں،اور پھر اس دن لیکر آج تک مدینہءثانی پاکستان کے خلاف تلواریں نکال کر جنگ آزما ہیں۔
ذرا ایک لمحے کیلئے رک کر سوچیں کوئی تو وجہ تھی کہ درویش وقت اور موذن امت حضرت علامہ محمد اقبالؒ نے حسین احمد مدنی اور دیوبند کو ”ابو لہب“ کہا تھا۔
عجم ہنوز نداد رموزِِ دیں ورنہز دیوبند حسین احمد! ایں چہ بو العجبی استسرود برسر منبر کہ ملت از وطن استچہ بے خبر ز مقام محمد عربی استبمصطفیٰ برساں خویش راہ کہ دیں ہمہ اوستاگر بہ او نرسیدی، تمام بو لہبی است
ایک اور مقام پر علامہ اقبالؒ نے بہت واضح طور پر فرمایا کہ اپنی اسلام دشمنی میں دیوبند وہی کردار ادا کررہے ہیں کہ جو قادیانی امت رسولﷺ کے خلاف ادا کررہے ہیں۔
”قادیان اور دیوبند اگرچہ ایک دوسرے کی ضد ہیں، لیکن دونوں کا سرچشمہ ایک ہے، اور دونوں اس تحریک کی پیدوار ہیں جسے عرف عام میں وہابیت کہا جاتا ہے“۔ علامہ اقبال۔ ( کتاب: اقبال کے حضور از سید نذیر نیازی)
جب بھی ہم دیوبند کی پاکستان دشمنی اور مشرک دوستی کی بات کرتے ہیں تو فوراً ہی اندھے گونگے اور بہرے ہم پر فرقہ واریت پھیلانے کا الزام لگانے لگتے ہیں۔ کچھ باتیں ذرا اچھی طرح سمجھ لیں۔
-1 دیوبند اور بریلی ہندوستان میں قائم دو مدرسوں کے نام ہیں۔
-2 دیوبند کسی مسلک یا فرقے کا نام نہیں بلکہ سنی حنفی مسلک کے ایک مدرسے کا نام ہے۔
-3 بریلوی بھی مسلک کے اعتبار سے سنی حنفی ہیں۔ بلکہ پاکستان کی زیادہ تر اکثریت سنی اور حنفی ہے۔
-4 ہم صرف دیوبند کی سیاسی اور عسکری پالیسیوں کے خلاف بیان دے رہے ہیں۔ ہم نے کبھی ان کے مسلک سنی حنفی یا عقیدے کے خلاف کبھی بات نہیں کی۔
-5 دیوبندیوں کے سیاسی جرائم کو بیان کرنے کو فرقہ واریت کہنا ایسی ہی جہالت اور بے شرمی ہے کہ جیسے ایم کیو ایم کے جرائم کو بیان کرنے کو لسانیت کہا جائے۔
-6 جب ہم مدرسہءدیوبند کی اسلام دشمنی بیان کرتے ہیں تو جاہلوں کی طرف سے فوراً ہی یہ اعتراض بھی ہوتا ہے کہ مولانا اشرف علی تھانوی ، علامہ شبیر احمد عثمانی بھی تو دیوبندی تھے اور انہوں نے قائداعظم کا ساتھ دیا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ دونوں مولانا اشرف علی تھانوی اور علامہ شبیر احمد عثمانی نے مدرسہءدیوبند سے مکمل طور پر استعفیٰ دے کر اپنے آپ کو الگ کرلیا تھا۔ اس کے نتیجے میں ان دونوں حضرات کو حسین احمد مدنی اور دیوبند کی جانب سے شدید مزاحمت اور ذلت و رسوائی کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ علامہ شبیر احمد عثمانی نے دیوبند کی سیاسی تنظیم ”جمعیت علمائے ہند“ کے مقابلے میں اپنی ایک نئی مذہبی سیاسی جماعت ”جمعیت علمائے اسلام“ بنائی، اور پھر اس نئی جماعت کے ساتھ قائداعظم کی حمایت میں کھڑے ہوگئے۔ علامہ شبیر احمد عثمانی کو دیوبندی کہنا اتنا ہی شرمناک بات ہے کہ جیسے کوئی قائداعظم کو کانگریسی کہے، کہ قائداعظم تقریباً سولہ برس تک کانگریس کے رکن بھی رہے تھے۔ لہذا یہ بالکل واضح کرلیں کہ جب پاکستان کے معاملے پر دیوبند میں اختلاف ہوا تو مولانا اشرف علی تھانوی اور علامہ شبیر احمد عثمانی دونوں ہی دیوبند سے الگ ہو کر تحریک پاکستان میں شامل ہوگئے تھے۔ دیوبند اس وقت بھی پاکستان کا مخالف تھا اور آج بھی مخالف ہے۔ پاکستان بننے کے بعد علامہ شبیر احمد عثمانی کی جماعت جمعیت علمائے اسلام کو مفتی محمود جیسے کانگریسی مولویوں نے اغواءکرلیا تھا۔ اور آج تک یہی صورتحال ہے۔
مفتی محمود پہلے جمعیت علمائے ہند کے کارکن تھے اور پھر انہوں نے جمعیت علمائے اسلام پر قبضہ کرلیا۔ سرحدی گاندھی عبدالغفار خان کے ساتھ ملکر تحریک پاکستان کے خلاف زور لگایا۔ سرحد ریفرنڈم میں بھی اس شخص نے پاکستان کے خلاف جدوجہد کی۔ لیکن جب خان عبدالقیوم خان سرحد کے وزیراعلی بنےٰ تو مفتی محمود سرحد سے بھاگ کر ملتان آگئے۔ ان کے اس معروف فتوے سے آپ ان کی نیت کا اندازہ بخوبی لگا سکتے ہیں جو انہوں نے 1944 ءمیں دیا تھا: ”دنیا کی تمام قوموں سے رشتے ناطے جائز ہیں، لیکن کسی مسلم لیگی کو لڑکی دینا ناجائز ہے“۔ (اخبار آزاد، 5 اگست 1944)۔ اسی مفتی محمود نے پاکستان کی پارلیمنٹ میں کھڑے ہو کر کہا تھا کہ ”شکر ہے کہ ہم پاکستان کے بنانے کے گناہ میں شامل نہیں تھے“۔ آج علامہ شبیر احمد عثمانی کی جمعیت علمائے اسلام کانگریسی ملاﺅں کے قبضے میں ہے کہ جس کی سربراہی آج مفتی محمود کا بیٹا فضل الرحمن کررہا ہے۔ پاکستان کے دیوبندیوں کی سیاسی قیادت، کہ جو آج پاکستان دشمن ہے، انہی ناپاک وجودوں کے ہاتھ میں ہے۔ علامہ شبیر احمد عثمانی اور ان کے طالب علم آنے والے وقتوں میں سیاست سے کنارہ کش ہو کر صرف دینی کاموں میں ہی مشغول ہوگئے۔ لہذا اب یہ بات بالکل واضح ہوجانی چاہیے کہ دیوبند کا پاکستان بنانے میں کردار تو دور کی بات، یہ تو بابا اقبالؒ کی زبان کے وقت کے ”ابولہب“ ہیں۔
”انگریز دشمنی سے یہ کہاں لازم ہے آتا ہے کہ ہم اسلام دشمنی اختیار کرلیں۔ یہ کیا انگریز دشمنی ہے جس سے اسلام کو ضعف پہنچے۔ ارباب دیوبند کو سمجھنا چاہیے کہ اس دشمنی میں وہ نادانستہ اس راستے پر چل رہے ہیں جو انگریزوں کا تجویز کردہ ہے۔“ علامہ اقبال ۔(کتاب: اقبال کے حضور از سید نذیر نیازی)
-7 دیوبندی حضرات یہ بات بھی کرتے ہیں کہ یہ درست ہے کہ ہم نے پاکستان بننے کی مخالفت کی کہ اس بات پر اختلاف ہوسکتا ہے کہ مسجد بنائی جائے یا نہیں، لیکن اگر ایک دفعہ مسجد بن جائے تو پھر اختلاف ختم ہوجاتا ہے اور پھر سب ملکر اس میں نماز پڑھتے ہیں۔ دیوبندی علماءکا یہ اعتراض بھی صرف جھوٹ اور خرافات پر مبنی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہندو مشرکوں کی طرح دیوبند نے بھی آج تک پاکستان کو قبول نہیں کیا، ہندو مشرکوں کے ساتھ ملکر پاکستان کو تباہ کرنے کیلئے باقاعدہ جنگ کررہے ہیں، اور ان کی بدنصیبی کہ آج کے دور کے خوارج بھی انہی کی صفوں سے برآمدہوئے ہیں۔ دیوبند کی پاکستان میں نمائندگی جمعیت علمائے اسلام اور فضل الرحمن کرتا ہے۔ یہی دیوبند کے اصل نمائندہ ہیں اور انہی کا عمل دیوبند کی نیتوں اور اعمال پر حجت سمجھا جائے گا۔ فضل الرحمن کا پاکستان کو تباہ کرنے میں جو کردار ہے اور جہاد کشمیر کو فروخت کرنے میں جو اس کا ہاتھ ہے، اس کا بڑا تعلق اس کی اپنی ذلالت سے بھی ہے مگر اس کی اصل وجہ وہ حسین احمد مدنی کی ”ابولہبی“ سوچ ہے کہ جس سے متاثر ہو کر فضل الرحمن کے باپ نے یہ کہا تھا کہ شکر ہے کہ ہم پاکستان بنانے کے گناہ میں شامل نہیں تھے۔
-8 آج پاکستان کی ریاست کے خلاف جو سب سے خوفناک مذہبی جنگ لڑی جارہی ہے وہ دیوبندی سوچ اور اس کے خوارج کی جانب سے ہے۔ نہ اس بات سے انکار ممکن ہے نہ مزید کسی ثبوت کی ضرورت، صرف جہالت، بے شرمی اور ڈھٹائی چاہیے اس حقیقت سے انکار کرنے کیلئے۔
-9 برصغیر پاک و ہند کی تاریخ میں، تحریک پاکستان میں، اور اب پاکستان کو نقصان پہنچانے میں دارالعلوم دیوبند اور حسین احمد مدنی کی سوچ کا وہی کردار ہے کہ جو کسی ایسے بدنصیب بے غیرت کا ہو کہ جو سیدی رسول اللہﷺ کو ہجرت سے روکے اور غزوئہ بدر میں ابوجہل کے ساتھ کھڑا ہو۔ اگر دارالعلوم دیوبند پاکستان کی مخالفت نہ کرتا تو مزید لاکھوں مسلمانوں ہجرت کرکے پاکستان کی محفوظ پناہ میں پہنچ جاتے۔ آج ہندوستان میں پندرہ کروڑ مسلمانوں کا یہ حال ہے کہ ان کی روزانہ کی آمدنی 20 روپے روز سے بھی کم ہے۔ مسلمانوں حال کا دلتوں اور شودروں سے زیادہ ذلیل ہوچکا ہے۔ بالکل کیڑے مکوڑوں کی طرح غلاظتوں کے ڈھیروں میں مسلمان اپنی زندگیاں گزارنے پر مجبور ہیں اور یہ سب کچھ ان کے ساتھ اس لیے ہورہا ہے کہ حسین احمد مدنی نے عین ہجرت کے موقع پر، عین میدان جنگ میں، امت رسولﷺ کے ساتھ ایسی خیانت کی کہ تاریخ اب اس کا نام میر جعفر اور میر صادق کے ساتھ نفرت کے ساتھ لیتی رہے گی۔یہ بات کتابوں سے ثابت شدہ ہے کہ علامہ شبیر احمد عثمانی کو سیدی رسول اللہﷺ کی زیارت نصیب ہوئی تھی اور اس کے بعد ہی علامہ عثمانی دیوبند سے مستعفی ہو کر قائد کے خادم بن گئے تھے۔ یہ بات بھی تاریخ سے ثابت شدہ ہے کہ حسین احمد مدنی کو روحانی طور پر یہ بات بتا دی گئی تھی کہ پاکستان کے قیام کا فیصلہ سیدی رسول اللہﷺ فرماچکے ہیں، مگر اس کے باوجود بھی اس بدنصیب و بدبخت نے سیدی رسول اللہﷺ کے فیصلے کے خلاف کھڑے ہو کر جنگ کرنے کا فیصلہ کیا۔
”حسین احمد مدنی نے قیام پاکستان سے قبل ایک رات دو بجے مولانا رشید احمد صدیقی اور انسپکٹر مدارس چوہدری محمد مصطفی کو طلب فرمایا۔ دونوں فوراً حاضر ہوئے تو ارشاد فرمایا کہ بھائی اصحاب باطنی نے ہندوستان کی تقسیم کا فیصلہ کردیا ہے اور پنجاب اور بنگال کو بھی تقسیم کردیا گیا ہے۔ ان دونوں نے سن کر کہا کہ ہم جو تقسیم کے مخالف ہیں اب کیا کریں۔ اس پر حضرت مدنی نے فرمایا کہ یہ فیصلہ تقدیر کا ہے جب کہ ہم جس بات کو حق سمجھتے ہیں اس کی تدبیر میں لگے رہیں گے۔“ ( کتاب: سیرت النبی بعد از وصال النبیﷺ از عبدالمجید صدیقی، حصہ چہارم، صفحہ 298-299 )
یہ ایسا گناہ ہے کہ جس کا کوئی کفارہ نہیں ہے، کوئی توبہ نہیں ہے، کوئی امید نہیں ہے کہ سیدی رسول اللہﷺ کی سفارش نصیب ہوسکے۔ عین میدان جنگ میں کہ جب امت رسول ﷺ اپنی تاریخ کی سب سے بڑی جنگ لڑ کر، سب سے زیادہ قربانیاں دے کر، مدینہءثانی کو قائم کررہی تھی، عین اس وقت دیوبند اور اس کے بڑوں نے امت رسولﷺ کی پشت میں خنجر گھونپ کر مشرکین کا ساتھ دیا۔ اب یہ جتنی مرضی توبہ کرنے کا دعویٰ کرتے رہیں، توبہ کے دروازے ان پر بند ہیں۔
ان کی بدنصیبی تو یہ ہے کہ آج مدینہءثانی پاکستان بننے کے ستر سال بعد بھی یہ اپنی غلطی تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔ کسی بھی جماعت یا مسلک کی نمائندگی ان کے علماءکرتے ہیں اور دیوبند کی جمعیت علمائے اسلام کا پاکستان دشمنی میں، بھارت کی حمایت میں، اور خوارج کی پشت پناہی میں کیا کردار ہے اور اس کو اب مزید بیان کرنے کی حاجت نہیں ہے، انا للہ و انا الیہ راجعون۔
آخر میں پاکستان میں ان مسلمان نوجونوں کو ایک اہم نصیحت کرتے چلیں۔ جیسا کہ ہم نے کہا کہ دیوبند اور بریلوی دونوں ہی سنی حنفی مدارس ہیں، دونوں ہی ایک جیسی کتابیں پڑھاتے ہیں۔ دیوبندی یا بریلوی مدرسے میں سنی حنفی مکتبہءفکر کی تعلیم حاصل کرنے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ آپ دیوبند کی سیاسی اور عسکری پالیسی کو بھی اختیار کرلیں۔ پاکستان میں آج کسی بھی دینی طالب علم میں نہ دیوبند دیکھا ہے نہ بریلی۔ اپنے آپ کو دیوبندی اور بریلوی کہنا اتنا ہی احمقانہ ہے کہ جیسے ایم کیو ایم کے پاکستان میں پیدا ہوئے لڑکے اپنے آپ کو مہاجر کہلائیں۔ مہاجر وہ ہوتا ہے کہ جس نے ہجرت کی ہو۔ اصل میں دیوبندی وہ ہوگا کہ جو دیوبند میں پڑھا ہوگا اور اسکے سیاسی و عسکری نظریات سے متفق ہوگا۔ پاکستان میں پڑھنے والے تمام طالب علم سنی اور حنفی ہیں اور ان کو ہر حال میں دیوبند کی سیاسی اور عسکری دہشت گردی سے اپنے آپ کو دور رکھنا ہوگا، ورنہ وہ اسی صف میں کھڑے ہونگے کہ جہاں حسین احمد مدنی جیسے علمائے سُو کھڑے ہیں، دنیا میں بھی جن کا نام کانگریسی مولوی اور آخرت میں بھی یہ نہرو اور گاندھی کے ساتھ ہی اٹھائے جائیں گے۔
اللہ ہمیں ایسے دردناک انجام سے محفوظ رکھے۔ اللہ پاک سرزمین کی حفاظت فرمائے، اللہ پاکستان کو فتنہءخوارج سے بچائے، اللہ ہمیں غزوئہ ہند کا مجاہد بنائے، اللہ پاک فوج کی حفاظت فرمائے اور سبز ہلالی پرچم کی آبرو محفوظ رکھے۔ 
لبیک یا سیدی یا رسول اللہﷺلبیک غزﺅہ ہند٭٭٭٭٭

Design a site like this with WordPress.com
Get started