اہل بیت اور فرقہ واریت .دور فتن میں خانوادہ رسول ﷺ کا کردار

آج لوگ ہم سے سوال کرتے ہیں کہ آپ شیعہ ہیں یا سنی؟ اپنا عقیدہ بتائیں؟
میں فرقوں اور مسلکوں میں تقسیم حمیت جاہلیہ میں لت پت لوگوں کو کیا بتاﺅں کہ میرا عقیدہ عشق رسولﷺ ہے، اور میرا مسلک ادب رسولﷺ ہے، میرا عمل دفاع رسولﷺ ہے، میری زندگی و موت کا مقصد قرب رسولﷺ ہے۔
قائداعظمؒ سے بھی یہ سوال کیا گیا تھا کہ کیا آپ شیعہ ہیں یا سنی؟
 اس پر قائداعظمؒ نے سوال کرنے والے سے جوابی سوال کیا، کیا سیدی رسول اللہﷺ شیعہ ہیں کہ سنی؟
سیدی رسول اللہﷺ کی امت کا آج المیہ ہی یہی ہے کہ اب یہاں کوئی صرف مسلمان نہیں ہے۔ یا شیعہ ہے، یا سنی ہے، یا دیوبندی ہے، یا بریلوی ہے، عجمی ہے یا عربی ہے۔ 
قرآن پاک میں تو ہمارے رب نے ہمارا نام صرف ” مسلم“ رکھا تھا۔
”۔۔۔یہ تمہارے والدابراہیمؑ کی ملت ہے،اسی (رب) نے تمہارا نام مسلمین رکھا ہے۔۔۔“ (الحج، آیت ۸۷)
جب اللہ نے ہمارے لیے ہمارا دین مکمل کردیا اور اپنی تمام نعمتیں ہمارے لیے ظاہر کردیں تو اس وقت بھی اللہ نے واضح فرما دیا تھا کہ اس نے ہماری جماعت کا نام ”اسلام“ رکھا ہے۔
”۔۔۔ آج میں نے تمہارے دین کو تمہارے لیے مکمل کردیا ہے اور اپنی نعمت تم پر تمام کردی ہے اور تمہارے لیے اسلام کو تمہارے دین کی حیثیت سے قبول کرلیا ہے۔۔۔“ (المائدہ، آیت ۳)
یہ بات اچھی طرح جان لیں کہ اللہ صرف اسلام کو قبول کرتا ہے فرقوں کو نہیں۔
بیشک اللہ کے نزدیک دین تو اسلام ہی ہے۔۔۔“ (اٰلِ عمران، آیت ۹۱)
بلکہ اللہ تو یہ فرماتا ہے کہ جس نے اسلام کو چھوڑ کر اسلام کے اندر فرقے بنانے شروع کردیئے ان کا نہ اللہ سے کوئی واسطہ ہے نہ اللہ کے رسولﷺ سے کوئی تعلق!
”بیشک جنہوں نے اپنے دین میں فرقے بنا لیے اور مختلف مسلکوں میں تقسیم ہوگئے،اے میرے حبیبﷺ آپ کا ایسے لوگوں سے کوئی تعلق اور واسطہ نہیں ہے، ان کا معاملہ تو اللہ کے ہاتھ میں ہے پھر وہی ان کو بتائے گا کہ یہ کیا کرتے رہے ہیں“۔(الانعام، آیت ۹۵۱)……………………
اب ہم قائداعظمؒ کی بات دہراتے ہیں۔ کیا اللہ کے رسولﷺ، خلفائے راشدین اور صحابہ کرامؓ شیعہ کہلاتے تھے، سنی کہلاتے تھے، دیوبندی یا بریلوی کہلاتے تھے یا صرف مسلمان؟ 
کیا قبر میں ہم سے یہ پوچھا جائے گا کہ ہم کس مسلک اور فرقے کے تھے یا یہ پوچھا جائے گا کہ ”ما دین کم“، تمہارا دین کیا ہے“؟ کل جب یوم آخرت ہم دربار نبویﷺ میں پیش کیے جائینگے تو کیا شیعہ سنی دیوبندی بریلوی بن کر پیش ہونگے یا امتی کی حیثیت سے پیش کیے جائینگے؟
کیا جنت میں دیوبندی بریلوی اور شیعہ سنی جائیں گے یا صرف مسلمان امت رسولﷺ جائے گی؟
اس سے بڑا ظلم اور حرام عمل اور کیا ہوسکتا ہے کہ دین ابراہیمؑ پر قائم امت حنیف اور امت وسط کو، کہ جس کا نام مسلمان ہے، ہم فرقوں، مسلکوں اور مدرسوں میں تقسیم کرکے پارہ پارہ کردیں۔
دیوبند اور بریلی ہندوستان کے صرف دو مدرسوں کا نام تھا، ہم نے انہیں بگاڑ کر مسلک و فرقہ بنا لیا۔
شیعان علیؓ تو صرف حضرت علیؓ کے ساتھیوں کا خطاب تھا، آج یہ پورا فرقہ بن گیا ہے۔
کیا اہل بیت، سیدنا علیؓ، سیدہ فاطمہ الزہرہؓ، حسنین کریمینؓ، شیعہ تھے یا سنی؟
سیدی رسول اللہﷺ ہمیں حکم فرماتے ہیں کہ جس کا مفہوم ہے: ” میں اپنے بعد دو چیزیں چھوڑ کر جارہا ہوں، اگر تم ان کو مضبوطی سے تھامے رہو گے تو کبھی گمراہ نہیں ہوگے، قرآن اور سنت۔“
یہ بھی روایت آتی ہے کہ ”قرآن اور اہل بیت“۔
دونوں ہی درست ہیں کہ حقیقت میں اہل بیت ہی اصل سنت رسولﷺ کے محافظ ہیں۔
یہ بات بہت اچھی طرح سمجھ لیں کہ اہل بیت ہونے کی ذمہ داریوں کا مطلب ہے کہ آپ کا تعلق نہ کسی فرقے ہوگا، نہ مسلک سے، نہ مدرسے سے۔ بلکہ آپ دین اسلام پر ہونگے، اس دین پر کہ جو سیدی رسول اللہﷺ، خلفائے راشدین اور اہل بیت کا دین ہے۔
فرقوں اور مسلکوں سے بلند ہو کر دین کی اصل روح پر قائم رہنا ہی اہل بیت کا اصل وقار ہے کہ جس کی وجہ سے اللہ کے رسولﷺ نے امت کو حکم دیا کہ اہل بیت کو مضبوطی سے تھام کے رکھو۔ فتنوں کے ہر دور میں کہ جب امت فرقوں، جماعتوں اور عصبیتوں میں تقسیم ہوگی، تو اس دور میں دین کی حفاظت کرنے والے اصل اہل بیت ہونگے کہ جو اپنے ناناﷺ کے دین کی حفاظت کیلئے سر پر کفن لپیٹ کر امت کے دفاع اور اتحاد کیلئے پرچم بلند کریں گے۔
تاریخ کے ہر دور میں اہل بیت کا کردار امت کے دفاع اور اس میں اتحاد اور اتفاق پیدا کرنے کا ہے۔ وہ ہمیشہ مسلک و فرقہ و سیاست کے اختلافات سے بلند صرف امت کا مفاد دیکھتے ہیں۔ اسی لیے سیدی رسول اللہﷺ نے سیدنا حسنؓ کے بارے میں فرمایا تھا کہ جس کا مفہوم ہے کہ ” میرا یہ بیٹا مسلمانوں کے دو گروہوں میں صلح کروائے گا“۔
اہل بیت میں سے ہونا جہاں ایک اعزاز ہے وہیں ایک انتہائی بھاری ذمہ داری بھی ہے۔ایک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہوتا ہے۔ صرف یہ دعویٰ کرنے سے کہ ہمارا تعلق اہل بیت سے ہے ،نہ کوئی اہل بیت کی سعادت کا حقدار ہوتا ہے، نہ سیدی رسول اللہﷺ کی شفاعت کا۔جیسے اقبالؒ نے فرمایا کہ اگر ہاشمی بیچے آبروئے دین مصطفیﷺ، تو پھر اس کا انجام بھی پسرِ نوحؑ جیسا ہوتا ہے۔”اور جب نوحؑ نے اپنے رب کو پکارا اور فرمایا: ” اے میرے رب میرا بیٹا تو میرے اہل بیت میں سے ہے اور بیشک آپ کا وعدہ سچا اور سب سے بہتر فیصلہ کرنے والے ہیں۔“ جواب میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: ”یہ تمہارے اہل بیت میں سے نہیں ہے،اس کا عمل ناپاک ہے۔۔۔“(ہود، آیت ۵۴۔ ۶۴)
سیدنا ابراہیمؑ سے بھی اللہ تعالیٰ نے یہی فرمایا ہے کہ ان کو متقین کا امام بنائے گا اور جب سیدنا ابراہیمؑ نے اپنی اولاد کے بارے میں بھی پوچھا تو اللہ نے فرمایا کہ میرا وعدہ ظالموں سے نہیں ہے، یعنی اگر کوئی اولاد ابراہیمؑ سے بھی ہو، اور عمل غیر صالح ہو تو پھر اللہ کے وعدے کا حقدار نہیں!
”۔۔۔اللہ نے ابراہیمؑ سے فرمایا کہ میں آپ کو انسانوں کیلئے امام بناﺅں گا۔اس پر ابراہیم ؑ نے اللہ تعالیٰ سے سوال کیا: اور میری اولاد سے بھی؟ تو اس پر اللہ نے جواب عطا فرمایا: میرا وعدہ ظالموں کیلئے نہیں ہے۔۔۔“(البقرہ، آیت ۴۲۱) یعنی اگر اولاد ابراہیمؑ میں بھی اگر کوئی ظالم ہو تو اللہ کی رحمت اور فضل سے محروم کردیا جائے گا۔
سیدنا حسینؓ کے دور میں جب اللہ کے دین پر کڑا وقت آیا تب بھی اہل بیت ہی کھڑے ہوئے۔
۔۔۔دین است حسینؓ، دین پناہ است حسینؓسر داد نداد دست در دست یزید۔۔۔
(مفہوم) اس دور میں حسین ؓکے پاس ہی اصل تھا، وہی دین مصطفیﷺ کے محافظ تھےانہوں نے اپنا سر تو قربان کردیا مگر یزید کے ہاتھ پر بیعت نہ کی اور اس طرح اپنے نانا ﷺ کے دین کی حفاظت فرمائی۔……………………
اس دور میں حضرت علیؓ کے چند ساتھیوں کو شیعان علیؓ کا نام دیا جانے لگا۔یہ اچھی طرح جان لیں کہ اہل بیت اور شیعان علیؓ دو الگ الگ گروہ ہیں۔وہ شیعہ کہلاتے ہی اس لیے تھے کہ وہ اہل بیت نہیں تھے،اہل بیت کے حمایتی ہونے کا دعویٰ کرتے تھے،کہ جن کی اکثریت اس وقت کوفہ میں تھی۔
 یہ بات خلاف تاریخ بھی ہوگی ، خلاف حقیقت بھی اور اہل بیت سے مذاق بھی، کہ اگر کوئی شخص یہ دعویٰ کرے کہ وہ اہل بیت میں سے بھی ہے اور شیعان علیؓ میں سے بھی یا کسی اورفرقے میں بٹا ہوا دیوبندی یا بریلوی۔
اہل بیت میں سے کوئی بھی وجود کسی فرقے کا حصہ نہیں ہوسکتا۔ جو کسی فرقے کا حصہ ہوگا، وہ پھر وہ ہاشمی ہوگا کہ جو بیچتا ہے آبروئے دین مصطفیﷺ!
امت رسولﷺ ایک مکمل وجود کا نام ہے۔اس کی قیادت ، حفاظت اور نگہبانی اسی لیے اہل بیت کے حوالے کی گئی ہے کہ وہ ذیلی فرقوں میں محدود نہیں ہوتے، ان کی فکر و سوچیں صرف ایک مسلک و فرقے پر پابند نہیں ہوتیں، وہ پوری امت کے نگہبان ہوتے ہیں،پوری ملت کے محافظ ہوتے ہیں،ہر قسم کے فرقہ وارانہ ، قومیتی، لسانیتی یا عربی و عجمی کے تعصب سے بالاتر صرف دین مصطفیﷺ کے محافظ ہوتے ہیں۔
سیدنا حسینؓ اہل بیت میں سے ہیں، دین کی حفاظت کیلئے کھڑے ہوئے۔ آپ کی مخالفت وقت کے یزید نے کی، اور آپ کو دھوکہ کوفہ کے شیعان علیؓ نے دیا۔ واقعہ کربلا کے بعد بی بی زینبؓ کا وہ خطبہ کہ جو آپؓ نے کوفہ کے شیعان علیؓ کو مخاطب کرکے دیا تھا، تاریخ کا ایک دردناک حصہ ہے۔
”اے کوفہ کے لوگو!اے دھوکے بازو! اے جنہوں نے ہم سے اپنے کیے ہوئے وعدے توڑے(اور دھوکہ دے کے ) پیچھے ہٹ گئے،تم سب غدار ہو!اللہ کرے کہ اب (قیامت تک)نہ کبھی تمہارا ماتم بند ہونہ کبھی تمہارے آنسو تھمیں۔۔۔“………………..
واقعہ کربلا ہمیں بہت دردناک سبق سکھاتا ہے۔ جب دین مصطفیﷺ پر کڑا وقت آتا ہے تو اہل بیت کو لازماً کھڑا ہونا پڑتا ہے۔ جان و مال و عزت و خاندان کی قربانی دینی پڑتی ہے، اور اس مشکل گھڑی میں سفاک دشمنوں سے بھی واسطہ پڑتا ہے، اور اپنوں کی غداری سے بھی۔ مگر یہ وہ قیمت ہے کہ جو اصل اہل بیت بہت خوشی سے دیتے ہیں، کہ سیدی رسول اللہﷺ نے ان کی ذمہ داری لگائی ہے کہ ہر تاریک دور میں دین کی حفاظت کیلئے کھڑے ہوں۔ جو ان کا ساتھ دیتا ہے خوش نصیب ہوتا ہے، چاہے کربلا میں کاٹ ہی کیوں نہ دیا جائے۔ جو ان کی مخالفت کرتا ہے جہنمی ہوتا ہے، چاہے وقت کا حکمران ہی کیوں نہ ہو۔ جو ان کو دھوکہ دیتا ہے، وہ اپنی دنیا و آخرت تباہ کراتا ہے، چاہے بعد میں کتنا ہی ماتم و توبہ کیوں نہ کرے۔
 یہ اللہ کے ازلی اور ابدی قانون ہیں، یہ تبدیل نہیں ہوتے۔
آج کے اس دور میں امت کو وہی فتنے درپیش ہیں کہ جو سیدنا حسینؓ کے دور میں تھے۔ یزید بھی ہے، کوفی بھی ہیں، بے حس امت بھی ہے، خوارج بھی ہیں، اور اہل بیت بھی۔
آگ ہے، اولاد ابراہیمؑ ہے، نمرود ہےکیا پھر کسی کو کسی کا امتحاں مقصود ہے
یہ بات اچھی طرح یاد کرلیں کہ حسینی ہونے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ آپ شیعہ ہیں یا سنی، یا اہل بیت۔ حسینی ایک عظیم اور جلیل القدر طرز حیات کا نام ہے، کہ جس میں قدم قدم پر قیامت صغریٰ اور کربلا مچتی ہے۔ ہر دور میں دین کی حفاظت کی ذمہ داری اہل بیت کی ہے۔ ان کے چہرے روشن، کردار جلیل القدر اور عمل فرقہ و تقسیم سے بلند ہوتا ہے۔ جو اہل بیت ہونے کا دعویٰ تو کرے مگر چہرہ مکروہ رکھے، کردار بے کردار ہو اور عمل امت رسولﷺ کو فرقوں میں تقسیم کرنے کا ہو تو سمجھ لیں ”پسرِ نوحؑ“ ہے، اس کا عمل غیر صالح ہے۔٭٭٭٭٭

مشرق وسطیٰ کی تباہی اور ہمارے حکمران وا شرافیہ

کیا آپ نے کبھی اس بات پر غور کیا ہے کہ یہ اچانک کیا ہوا کہ عراق، شام، لیبیا اور یمن جیسے بڑے مسلمان ملک راتوں رات تباہ و برباد کردیئے گئے؟صدام حسین، حسنی مبارک، بشار الاسد، معمر قذافی یہ سبھی انتہائی طاقتور حکمران تھے۔ان کے ممالک بڑے مضبوط اور خوشحال تصور کیے جاتے تھے۔صرف چند سال کے اندر اندر، صدام حسین اور معمر قذافی سولی چڑھا دیئے گئے،عراق، شام، لیبیا اور یمن تقریباً کھنڈر بن چکے ہیں۔ان ممالک میں اب تک بیس لاکھ سے زائد سے مسلمان ذبح ہوچکے ہیں، اور ہورہے ہیں، ستر لاکھ سے زائد بے گھر اور مہاجرین ہیں۔ مکمل تباہی ہے۔عرب مسلم دنیا کی ایسی عبرتناک تباہی صرف ہلاکو خان کے ہاتھوں ہی ہوئی تھی۔ امت کی بدنصیبی یہ ہے کہ اس تباہی کو لانے میں خود امت کے حکمران شامل ہیں۔صدام، اسداور قذافی تینوں ہی سفاک اور ظالم حکمران تھے۔ اپنی اپنی ریاستوں میں انہوں نے ظلم و جبر کے نظام قائم کیے تھے۔ تینوں ہی لادین اور روس نواز تھے۔ ان بغاوتوں کو برپا کرنے کا مقصد،روس کو مشرق وسطیٰ سے نکالنا، مسلم دنیا کے تیل کے ذخائر پر قبضہ کرنا، مسلم ممالک سے آبادی کا انخلاءاور عظیم تر اسرائیل کا قیام تھا۔اب اسرائیل کے اطراف میں کوئی ایک بھی مسلمان ملک ایسا نہیں رہ گیا کہ جو اسرائیل کیلئے خطرہ بن سکتا ہو۔ مسلم دنیا خود کھنڈر بن چکی ہے۔
عالمی صیہونی طاقتوں کے اس بڑے کھیل میں، ایران اور سعودی عرب بھی کود پڑے، اور یہ جنگ خودبخود فرقہ وارانہ بنیادوں پر تقسیم ہوگئی۔بیشک صدام، بشار الاسد اور قذافی ظالم حکمران تھے، مگر آج جو حال عراق، شام اور لیبیا کا ہے، وہ بہتر ہے یا ان کے حکمرانوں کے دور میں بہتر تھا؟
عراق، شام اور لیبیا کی مرکزی حکومتوں کی تباہی کا انجام یہ ہوا کہ یہاں داعش اور القاعدہ جیسے خوارج نے اپنا خوفناک سر اٹھا کر مزیدلاکھوں مسلمانوں کوذبح کرڈالا۔داعش اور القاعدہ کو براہ راست اسرائیل اور امریکہ سے ہر قسم کی امداد مل رہی ہے۔ بشار الاسد کو ہٹانے کی ضد میں پورے مشرق وسطیٰ کو خوارج کے حوالے کردیا گیا ہے۔شامی حکومت ،داعش، القاعدہ، کردوں، دیگر کرائے کے فوجیوں، امریکیوں، نیٹو، ترکی اور سعودیوں کے خلاف لڑ رہی ہے۔ جبکہ شام اور عراق میں ترک فوجیں ،کردوں، داعش، القاعدہ، اور شامی اور عراقی حکومت کے خلاف لڑ رہی ہیں۔ تیسری جانب شام اور عراق میں ایرانی فوجیں، داعش، القاعدہ، امریکیوں، سعودیوں،ترکوں اور نیٹو کے خلاف لڑرہی ہیں۔امریکہ یہاں بشار الاسد اور داعش کے خلاف لڑنے کا دعویٰ تو کرتا ہے، مگر حقیقت میں داعش اور القاعدہ کو مسلح بھی امریکہ ہی کررہا ہے۔
میری ذاتی پر کوئی ہمدردی صدام حسین ، بشار الاسد یا معمر قذافی کے ساتھ نہیں ہے۔ ماضی میں ان تینوں نے پاکستان کے خلاف بغاوتیں برپا کیں اور دہشت گردی کروائی۔ بینظیر اور اسکے بھائی مرتضیٰ بھٹو کی دہشت گرد تنظیم © © ©الذوالفقار کی تمام تر سرپرستی صدام حسین، بشار الاسد کا باپ اور قذافی کرتے رہے ہیں۔ان تین ظالم حکمرانوں کے تمام تر ظلم و جبر کے باوجود حقیقت یہ ہے کہ ان کو ہٹانے کی جو سازشیں عالمی صیہونی طاقتوں نے بنائیں، اس کے نتیجے میں ایک کروڑ سے زائد مسلمان شہید یا مہاجر ہوچکے ہیں ۔ہماری ہمدردیاں نہ عراقی، شامی اور سعودی حکمرانوں کے ساتھ ہیں، اور نہ ہی داعش، القاعدہ، امریکہ اور روس کے ساتھ۔ ہمارے آنسو ان مسلمانوں کیلئے ہیں کہ جو اس جنگ میں پس گئے۔عراق، شام اور یمن میں ہونے والی جنگوںمیں کوئی فاتح نہیں ہے، صرف کھنڈرات باقی ہیں، گلی سڑی لاشیں ہیں اور رسوا ہوئی امت ۔
ہم بہت کھل کر یہ بات کہتے ہیں کہ ایرانی اور سعودی حکومت نے امت رسولﷺ کو غرق کرکے رکھ دیا ہے۔ خاص طور پر شام اور یمن میں جو ظلم سعودیوں نے کیا ہے اس نے ہلاکو خان کو شرما دیا ہے۔تین کروڑ کی آبادی والے یمن کو مکمل طورپر کھنڈر میں تبدیل کرنے والے امریکی ، اسرائیلی یا داعش نہیں ، بلکہ سعودی تھے۔
دوسر ی جانب ایران کا کردار بھی اتنا ہی شرمناک ہے۔ اسرائیل سے نفرت کا دعویٰ کرنے والے ایرانی، خود ہندو صیہونی بھارتیوں کے بھائی بن کر، پاکستان کی پشت میں خنجر دے رہے ہیں۔
جس جنگ نے اب تک ان بڑے عرب ممالک کو کھنڈر بنا دیا ہے، وہ پچھلے پندرہ برس سے پاکستان کے خلاف بھی جاری ہے، لیکن اللہ کا شکر ہے کہ ہمارے پاس پاک فوج ہے۔
پچھلے دس سال میں پاکستان میں دہشت گردی کے پندرہ ہزار سے زائد واقعات ہوچکے ہیں، کہ جن میں ایک لاکھ سے زائد شہداءیا زخمی ہیں۔مشرف کا دور ہو، زرداری کا یا نواز شریف کا، پاکستان کی تباہی کے ذمہ دار یہ سب حکمران ہیں، کہ جو شرمناک حد تک پاکستان کے دفاع سے غافل رہے۔صرف جنرل راحیل کے دور میں پاکستان نے عسکری دہشت گردی کے کچھ حصے پر قابو پایا۔ مگر اس دوران بھی سیاسی حرام خوروں نے فوج کا جینا حرام کیے رکھا۔جنرل راحیل کے جانے پر ہر دہشت گرد، دشمن اور سیاستدانوں نے اس طرح خوشیاں منائی ہیں، کہ جیسے ان کے نزدیک پاکستان کی تباہی کی راہ میں حائل آخری رکاوٹ ہٹ گئی ہو۔
پوری امت میں یہ فتنوں کا دور ہے، علم اٹھا لیا گیا ہے، فراست اور حکمت ناپید ہوچکی ہے، فرقہ واریت، قومیت اور لسانیت ، بے غیرت حکمرانوں کے ہتھیار ہیں۔امت میں جو ایران کا حمایتی ہے، وہ اس کی محبت میں اندھا، گونگا اور بہرا ہے، جو سعودیوں کا نمک حلال ہے، اس کی بھی آنکھوں اور دلوں پر مہر لگ چکی ہے۔آج پاکستان میں قوم کی ذلالت اور گمراہی کا یہ عالم ہے کہ زرداری، نواز اور الطاف کو لیڈر سمجھتے ہیں، فضلو اور اشرفی کو عالم، حسن نثار اور نجم سیٹھی کو دانشور۔
سب سے زیادہ تکلیف دہ اور خطرناک بات یہ ہے کہ مسلم دنیا کی تباہی کو دیکھنے کے باوجود بھی، پاکستان کے حکمران اور اشرافیہ اپنی بے غیرتی اور بے حیائی سے باز نہیں آرہے۔ہماری آنکھوں کے سامنے اتنے بڑے بڑے مسلمان ملک کھنڈر بنائے جاچکے ہیں، اور ہماری اشرافیہ کی بے غیرتی کا عالم یہ ہے کہ اپنی ہی پاک فوج کو رسواءکرنے پر لگی ہوئی ہے۔اسی لیے ہم بار بار کہہ رہے ہیں، بہت مشکل وقت آچکا ہے۔ ظاہراً بالکل واضح ہے کہ یہ قوم اللہ سے دردناک عذاب طلب کررہی ہے۔ توبہ کے کوئی آثار کہیں بھی نظر نہیں آرہے۔اللہ اس پاک سرزمین پر رحم فرمائے، ہمیں نیک اور صالح حکمران عطا فرمائے کہ جو قوم کی عزت و آبرو کی حفاظت کے ضامن ہوں۔ 
٭٭٭٭٭٭

فتنہءخوارج اور مسلکِ دیوبند

مدینہءثانی پاکستان کے خلاف جو دہشت گردی اور تخریب کاری کی جارہی ہے، وہ عسکری سطح پر بھی ہے اور نظریاتی سطح پر بھی۔مذہبی دہشت گردی کے نام پر ٹی ٹی پی کے خوارج نے ہندو مشرکوں کے کہنے پر پاک سرزمین کے خلاف ایک ناپاک جنگ برپا کر رکھی ہے۔یہ بات ہم پوری شدت اور سختی سے اپنی قوم کو سمجھا چکے ہیں کہ خوارج کا تعلق دیوبند کے مدرسے سے ہے، کہ جن کی پاکستان میں قیادت فضل الرحمن جیسے پلید ملا کررہے ہیں۔قیام پاکستان کے قبل سے ہی دارالعلوم دیوبند مشرکوں کا ساتھی اور مسلمانوں کا دشمن رہا ہے۔ جمعیت علمائے اسلام کے نام سے آج بھی یہ تخریب کاری جاری ہے۔مولوی شیرانی کا حالیہ بیان کہ یہ پاکستان قائداعظم کا نہیں بلکہ یحییٰ خان کا ہے اور انگریزوں کا قائم کردہ ہے، اسی نظریاتی تخریب کاری کا حصہ ہے۔جمعیت علمائے اسلام اور دیوبند کی پوری قیادت آج بھی نہ پاکستان کے وجود کو تسلیم کرتی ہے، نہ تقسیم ہند کو، اور نہ ہی قائدؒ اور اقبالؒ کے نظریات کو۔یہ بات درست ہے کہ ہر دیوبندی مدرسے میں بم بنانے کی تربیت نہیں دی جاتی، مگر یہ نظریاتی تخریب کاری ضرور سکھائی جاتی ہے کہ جس کا اظہار گزشتہ دنوں ملا شیرانی کی ہرزہ سرائی میں ہوا۔پاکستان میں دیوبند کی نمائندگی جمعیت علمائے اسلام کرتی ہے، کہ جن کا پاکستان میں سربراہ مولوی فضل الرحمن ہے۔ فضل الرحمن کی اسلام دشمنی اور پاکستان دشمنی پر کوئی پاگل ہی شک کرسکتا ہے۔ جب ہم دیوبند پر تنقید کرتے ہیں توفیس بک اور سوشل میڈیا پر بیٹھے کم ذہن نوجوان ہم پر زہر اگلنا شروع کردیتے ہیں۔یہ کم ذہن نوجوان، نہ تو دیوبند کی قیادت ہیں اور نہ ہی دیوبند کی نمائندگی کرتے ہیں۔دیوبند کی پالیسی اور نظریہ وہی تسلیم کیا جائے گا کہ جو جمعیت علمائے اسلام اور دیوبند کی قیادت بیان کرے، اور وہ پاکستان دشمنی ہے۔چاہے خوارج کی حمایت ہو یا نظریہ پاکستان کی مخالفت، اور یا پھر فوجی عدالتوں کی مخالفت ، ہر جگہ دیوبند کا موقف مودی کا موقف ہے۔کیا آپ دیکھتے نہیں کہ جہاں دیوبند خوارج کی حمایت کرتے ہیں، وہیں عدالتوں میں انہی خوارج کی حمایت عاصمہ جہانگیر جیسی غدار بھی کرتی ہیں۔عسکری دہشت گرد ہو یا نظریاتی تخریب کار، چاہے سیکولر لبادے میں ہو یا ملا کے روپ میں، اللہ اور اسکے رسولﷺ اور پاکستان کا دشمن ہے۔الطاف حسین ہو، اچکزئی ہو، اسفند یار ہو یا فضل الرحمن ، ظاہر میں سیکولر یا مذہبی لبادہ اوڑھے ہوئے یہ سب ہندو مشرکوں کے ساتھی ہیں۔ہم جب بھی مشرکوں کے ان ساتھیوں کی دھجیاں اڑاتے ہیں تو ان کے پالتو ہم پر فرقہ واریت پھیلانے کا الزام دیتے ہیں۔ واہ….!!!یعنی پاک سرزمین کے خلاف جنگ جائز، مودی کی حمایت جائز، پاک فوج پر حملے جائز، مسلمان کو ذبح کرنا جائز، مگر ان قاتلوں پر تنقید ناجائز!الطاف حسین، اسفندیار اور اچکزئی قومیت کی بنیاد پر امت رسولﷺ کے غدار ہیں۔ دارالعلوم دیوبند مذہب کے نام پر اللہ کے رسولﷺ کے دشمن ہیں۔فضل الرحمن، سمیع الحق اور ملا شیرانی کے مدرسوں میں پڑھنے والا ہر طالب علم نہ توپاکستان کا دشمن ہے ، نہ غدار۔ غدار وہ ہیں کہ جو ان کو دہشت گرد بناتے ہیں۔جب تک فضل الرحمن، سمیع الحق اور ملا شیرانی جیسے کانگریسی مولوی کھل کر ٹی ٹی پی کو خوارج نہیں کہتے، نظریہ پاکستان کو قبول نہیں کرتے، ہم ان کو رسوا کرتے رہیں گے۔یہ بات اچھی طرح سمجھ لیں کہ عسکری دہشت گرد سے زیادہ خطرناک نظریاتی تخریب کار ہے، کہ جو دین و ملت کی جڑیں کاٹتا ہے۔ مثلاً، فضل الرحمن اور اس کے چیلے۔اب آپ کو سیدی رسول اللہﷺ کی ان احادیث مبارکہ کا مفہوم اچھی طرح سمجھ میں آئے گا کہ جب آپﷺ نے خوارج کو ”جہنم کے کتے“ قرار دیا تھا۔یہ ممکن نہیں ہے کہ کوئی شخص عالم دین ہو، یا امت رسولﷺ کا مخلص ہو اور فتنہءخوارج کے خلاف اعلان جہاد نہ کرے۔ صرف منافق یا مشرک خاموش رہے گا۔ہم نے حقیقت بیان کردی ہے، جو قبول کرے گا، خوش نصیب ہوگا۔ جو انکار کرے گا، بدنصیب ہوگا، اپنا شمار جہنم کے کتوں میں کروائے گا۔وہ تمام افراد ہیں کہ جو خود کو دیوبندی کہلواتے ہیں، اچھی طرح جان لیں کہ دیوبندی کہلوانا نہ توقرآن و سنت کا کوئی حکم ہے، نہ شریعت کا تقاضا۔جب یہ بات واضح ہوگئی کہ دارالعلوم دیوبند بھارت اور دیوبند پاکستان اللہ اور اسکے رسولﷺ کی دشمنی میں مشرکوں کے ساتھ کھڑے ہیں، تو پھر اپنے آپ کو دیوبندی نہ کہلوائیں۔دیوبند کسی مسلک یا فرقے کا نام نہیں، صرف ایک مدرسے اور سیاسی جماعت کا نام ہے، کہ جو سیاسی اور نظریاتی طور پر پاکستان کی مخالف اور ہندوﺅں کی حمایتی ہے۔٭٭٭٭٭

سعودی عرب، ایران اور کلبھوشن کے حالیہ انکشافات

آج کے پرفتن دور میں امت پر جو سب سے بڑا عذاب نازل ہوا ہے وہ یہ ہے کہ اب اس امت میں کوئی مسلمان باقی نہیں رہا، جو ہیں وہ یا تو سعودی ہیں، ایرانی ہیں، مصری ہیں، شامی ہیں، یمنی ہیں، عراقی ہیں، شیعہ ہیں، سنی ہیں، سلفی ہیں، اگر نہیں ہیں تو رسولﷺ کے امتی نہیں ہیں۔
حقیقت یہی ہے کہ آج اگر یہ امت تباہ ہوئی ہے تو اس کی بڑی اور بنیادی وجہ سعودی عرب کے سلفیوں اور ایران کے شیعوں کا باہمی تصادم ہے۔ جو سعودیوں کی حمایت کرتے ہیں، وہ ان کوخدا بنا کر کرتے ہیں، ان کا حرام اور حلال معاف کرتے ہیں، اور ہمیشہ متعصب ہو کر بات کرتے ہیں۔
دوسری جانب جو ایران کے حمایتی ہیں، وہ شیعہ پہلے ہیں، پھر ایرانی ہیں، اور پھر کچھ اور۔ انہوں نے ایران کو بت بنایا ہوا ہے، صبح اور شام اس کی پوجا کرتے ہیں، اس کے حرام کو حلال بنا کر پیش کرتے ہیں، اور اپنے مسلک اور فرقے کے علاوہ ان کو پوری امت رسولﷺ میں کچھ اور نظر ہی نہیں آتا۔
جب یہ فقیر سعودی عرب کے گناہوں پر تنقید کرتا ہے تو یہ بے شرم فوراً ہی فتوے داغنا شروع کرتے ہیں کہ یہ تو ایرانی جاسوس ہے، شیعہ ہے، ایران سے پیسے لیتا ہے۔
اور جب یہ فقیر ایران کو اپنی شدید تنقید کا نشانہ بناتا ہے تو وہی شیعہ کہ جو پہلے سعودی عرب کے خلاف بولنے پر واہ واہ کے نعرہ لگا رہے ہوتے ہیں، فوراً ہی پینترا بدل کر سعودیوں سے ریال لینے کا واویلا شروع کردیتے ہیں۔
ایک طویل عرصے سے ایران اور پاکستان کے تعلقات اس بات پر کشیدہ تھے کہ ایران پاکستان کی ریاست اور افواج پر یہ الزام لگاتا رہا ہے کہ ہم سعودی عرب کی حمایت میں پاکستان میں شیعوں کا قتل عام کرواتے ہیں۔ایران کا یہ تاثر تھا کہ چونکہ پاکستان سعودی عرب کے زیادہ نزدیک ہے، اس لیے پاکستان کی ریاست سعودی حمایت یافتہ دہشت گرد گروہ تیار کروا کر شیعوں کو قتل کرواتی ہے۔ہزار دفعہ ہم نے ایران کو یہ سمجھایا کہ ایسا ہرگز نہیں ہے، پاکستان کی ریاست اور افواج کبھی بھی سعودی عرب یا کسی اور کہنے پر اپنے ہی شیعہ شہریوں کا قتل عام نہیں کرواتی، مگر ایرانی مان کر نہ دیتے۔
پھر اللہ کی طرف سے ایسا ہوا کہ کلبھوشن پکڑا گیا اور پھر کھلے سارے راز۔
آپ نے کلھبوشن کا جدید بیان سن ہی لیا ہے۔ آئیں اس کے اہم نکات آپ کو بتائیں:
٭ پاکستان میں شیعوں کا تمام تر قتل عام ایرانی حکومت کے تعاون سے کروایا جارہا ہے، دانستہ تعاون سے اور کچھ نادانستہ تعاون سے، مگر ایران براہ راست اپنے ہی شیعوں کے قتل عام میں شامل ہے۔
٭ کلبھوشن یادیو اور را کا پورا نیٹ ورک ایران کے شہر زاہدان سے کام کرتا ہے، را کے تمام ایجنٹ جو بلوچستان میں دہشت گردی کرتے ہیں وہ ایرانی ویزوں پر، ایران کے راستے، پاکستان میں داخل ہوتے ہیں اور فرقہ وارانہ دہشت گردی کروانے کیلئے شیعوں اور ہزارہ پاکستانیوں کو قتل کرواتے ہیں۔
٭ کلبھوشن نے اس بات کا اقرار کیا کہ پاکستان میں فرقہ وارانہ قتل و غارت کروانے کیلئے یہ باقاعدہ ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور بی آر اے جیسے دہشت گرد گروہوں کو تیار کرتے ہیں، اسلحہ دیتے ہیں، روپیہ دیتے ہیں، تربیت دیتے ہیں، اور ان سب کو ایران میں بیٹھ کر کنٹرول کرتے ہیں۔
٭ کلبھوشن نے اس کا بھی اعتراف کیا کہ ایران کے اندر ہونے والی دہشت گردی بھی انہی دہشت گرد گروہوں سے کروائی جاتی ہے کہ جن کو را پاکستان کے خلاف تیار کرتی ہے، اور جس کے نتیجے میں پاکستان اور ایران کے تعلقات کو بھی خراب کیا جاتا ہے۔ایران ایک جانب تو اسرائیل کا شدید دشمن ہے، اس لیے کہ اسرائیل نے فلسطین پر قبضہ کیا ہوا ہے۔ یہاں ہم ایران سے سوال کرتے ہیں کہ جب آپ یہودی صیہونیوں کے دشمن ہیں تو پھر ہندو صیہونی آپ کے بھائی کیسے ہوگئے، جبکہ انہوں نے کشمیر میں ظلم و ستم کا ایک بازار گرم کیا ہوا ہے؟ یہ کیسے ممکن ہے کہ اسرائیل تو آپ کا دشمن ہو اور ہندو آپ کے بھائی؟
ایران نے آج تک پاکستان کو اس بات کا جواب نہیں دیا کہ کلبھوشن یادیو چا بہار اور زاہدان سے بیٹھ کر پاکستان کے اندر جو دہشت گردی کررہا تھا اس کو ایران کی حمایت کیوں حاصل تھی؟
ہم کئی برسوں سے ایران کو یہ سمجھانے کی کوشش کررہے ہیں کہ پاکستان آپ کا بھائی اور ہندو مشرک آپ کے اور ہمارے مشترکہ دشمن ہیں۔ مگر ایران کو یہ بات سمجھ نہیں آرہی۔
پاکستان نے کبھی بھی کسی بھی مسلمان ملک کے خلاف نہ کبھی جنگ کی ہے اور نہ ہی دہشت گردی۔ اگر پاکستان سعودی عرب کے اتنے ہی تابع ہوتا تو ہم کب کے یمن کی جنگ میں شامل ہوچکے ہوتے۔ مگر پاکستان نے صاف انکار کیا تھا۔ آج بھی پاکستان بڑی مضبوطی سے اس موقف پر قائم ہے کہ وہ سعودی عرب کی حمایت میں نہ تو قطر کے خلاف جنگ کرے گا، نہ ایران کے خلاف، نہ یمن کے ۔تو پھر ہمیں یہ بات سمجھ نہیں آتی کہ ایران ہندو مشرکوں کے کہنے پر ہر وقت پاکستان سے بدگمان کیوں رہتا ہے؟ اب تو یہ بات بھی پوری طرح ثابت ہوگئی کہ پاکستان میں فرقہ وارانہ دہشت گردی کروانے والے، شیعوں کو قتل کرانے والے، ہزارہ پاکستانیوں پر حملے کرنے والے، در اصل را کے وہ کارندے ہیں کہ جن کو خود ایران نے پناہ دی ہوئی ہوتی ہے۔ اب ایران اس کا کیا جواب دے گا؟اس سے قبل عزیر بلوچ جیسے بدترین دہشت گرد کو ایران نے پاسپورٹ بھی دیا، حمایت بھی کی، پناہ بھی دی، اسلحہ بھی دیا۔ کراچی میں ہونیوالی بدترین دہشت گردی میں حیدر عباس رضوی جیسے دہشت گردوں کی مکمل حمایت اور پشت پناہی کی کہ جو خود شیعوں کے قتل عام میں شامل تھا۔
پاکستان امت میں، بھائیوں کی اس لڑائی میں ،کسی صورت میں بھی فریق نہیں بنے گا۔ ہمارے تعلقات عربوں سے بھی اتنے ہی اچھے ہیں جتنے ترکوں اور ایرانیوں سے۔ پاکستان مسلمانوں میں صلح تو کروا سکتا ہے ،فساد کا باعث نہ کبھی نہ بنا ہے نہ کبھی بنے گا!پاکستانی فوجیں سعودی عرب بھیجنے کا مقصد ایران کے خلاف جنگ کرنا نہیں ہے، وہاں موجود لاکھوں پاکستانیوں اور مسلمانوں کا دفاع ہے، اور حرمین شریفین کی حفاظت ہے۔ یہ واضح بات ہے کہ سعودی عرب اور ایران کی اس لڑائی میں فائدہ خوارج اٹھائیں گے، یہودی اٹھائیں گے، اور حرمین کو واضح خطرہ لاحق ہے۔
یہ بدنصیبی کی بات ہے کہ ہم یہ دیکھتے ہیں کہ خود پاکستان میں بھی جو شیعہ ہیں ان میں سے اکثریت پہلے ایران کی وفادار ہے اور پھر پاکستان کی، اور پاکستانی فوج کو سعودی عرب بھیجنے کی شدید مخالفت کررہی ہے۔
سعودی عرب میں تقریباً بیس لاکھ پاکستانی کام کرتے ہیں۔ اگر وہاں فساد برپا ہوا تو پاکستان کی گلی گلی میں ماتم ہوگا۔ پاکستان کے پاس ہر قانونی، اخلاقی، معاشی اور عسکری جواز ہے کہ اپنی فوجوں کو حرمین کی حفاظت کیلئے روانہ کرے۔ جو اس امر کی مخالفت کرے گا وہ فرقہ پرست اور امت کو تباہ کرنے والا تو ہوسکتا ہے، سیدی رسول اللہﷺ کا مخلص امتی ہرگز نہیں!
اور اب آخر میں وہ تمام بدنصیب جو ہماری نصیحتیں سننے کے بجائے اپنے تعصب میں ہمیں سعودی ایجنٹ یا ایرانی ایجنٹ ہونے کا طعنہ دیتے تھے، انہیں چاہیے کہ جا کر دریائے سندھ میں ڈوب مریں۔ ان کی دنیا و آخرت تو پہلے ہی تباہ ہوچکی ہے۔ ایسے لعنت زدوں کی نہ تو اللہ کو ضرورت ہے، نہ اس امت کو، نہ اس پاک سرزمین کو!
ہماری اذان امت رسولﷺ کے دفاع کیلئے ہے۔ جو سمجھے اللہ اس کا بھلا کرے، جو نہ سمجھے اللہ اس کا بیڑہ غرق کرے۔ ہم تو اپنی ڈیوٹی سیدی رسول اللہﷺ کی خدمت میں کرتے رہیں گے، ان شاءاللہ!٭٭٭٭٭

فرقہ وارانہ سازش، پراپیگنڈہ اور اہل تشیع مسلمان

 شام کی طرح پاکستان میں بھی فرقہ وارانہ جنگ کروانے کی بڑی سازش کا آغاز کردیا گیا ہے۔ہم کئی برس سے آپ کو پانچویں نسل کی جنگ (5GW) کے بارے میں بتاتے آئے ہیں۔ اب پاکستان کے خلاف اس جنگ کے آخری مرحلے کا آغاز کیا گیا ہے۔ یہ جنگ غیر روایتی ہوتی ہے،اس میں ملک کو مذہبی، ابلاغی اور سیاسی جنگوں سے بھی تباہ کیا جاتا ہے۔
پچھلے دنوں کچھ ایسے بڑے واقعات ہوئے کہ جن سے ہمارا مشرک دشمن تلملا کر رہ گیا۔پہلے ان کو ورلڈکپ میں شرمناک شکست ہوئی، پھر کلبھوشن یادیو کی پاکستان میں کی جانیوالی دہشت گردی کے تمام راز دوبارہ آشکار ہوئے۔تیسری جانب نواز شریف کی بھارت نواز حکومت اب شدید خطرات سے دوچار ہے اور اس کو بچانے کیلئے بھارت کو کودنا پڑ رہا ہے۔
اس نئی سازش کے تحت مختلف سمتوں سے بیک وقت پاکستان کی ریاست، پاک فوج، امت کے اتحاد اور نظریات پر ضرب لگائی جانی تھی۔پہلے پارا چنار میں دھماکہ کرایا گیا، پھر وہاں موجود شیعہ نوجوانوں کے غصے کا رخ فوج کی جانب موڑ دیا گیا اور میڈیا پر ایک مکروہ پراپیگنڈے کا آغازہوا۔ ایک طرف الطاف حسین جیسے غدار نے فرقہ وارانہ فساد برپا کروانے کی کوشش کی، تو دوسری جانب سے لبرل، سیکولر بے غیرت طبقہ بھی اس مکروہ کھیل میںسوشل میڈیا کے محاذ پر جھوٹ و مکاری و فریب پھیلانے لگا۔
اس سازش کے آغاز سے ہی براس ٹیکس نے اس کی تمام جہتوں کو بھانپ لیا تھا اور دشمن کی سازشوں کو کھول کر بیان کردیا تھا۔ہماری، دشمن کی اس سازش کو بے نقاب کرنے کے ٹھیک چوبیس گھنٹے بعد خود آئی ایس پی آر نے بھی لفظ بہ لفظ اس سازش کی تصدیق کردی۔پراپیگنڈہ اوروسیع پیمانے پر جھوٹ پھیلانا دشمن کی جانب سے حملے کا سب سے خطرناک وارہوتا ہے۔ براس ٹیکس اسی محاذ پر گزشتہ دس برس سے پاکستان کے غداروں اور ملت کے منافقوں کا مقابلہ کررہا ہے۔ظاہر ہے کہ جب پاکستان میں ہم ہی وہ واحد نظریاتی ادارہ ہیں کہ جو اس جنگ میں پاکستان کا دفاع کررہا ہے تو پھر جوابی حملے بھی ہم پر ہی ہونگے۔
اس محاذ پرہماری ٹویٹس اور فیس بک پوسٹس انگریزی میں تھیں اور پاکستان کی اکثریت یا تو انگریزی سے نابلد ہے یا سوشل میڈیا تک اس کی رسائی نہیں، لہذا دشمنوں کو یہ موقع ملا کہ ہماری انگریزی ٹویٹس کے غلط ترجمے اور سیاق و سباق سے نکال کر اپنی مرضی کا مفہوم پراپیگنڈے کے طور پر پھیلائے۔دشمن کی اس سازش کا اصل ہدف ہمارے اور پاکستان کے شیعہ مسلمانوں کے درمیان اختلاف پیدا کرنا تھا۔
ہماری دس برس کی ابلاغی جنگ اور پاک فوج کی تلوار ہی وہ واحد چٹانیں تھیں کہ جس نے پاکستان میں شیعہ مسلمانوں کے مکمل قتل عام سے ان کو بچایا۔ظاہر ہے دشمن کی سازش یہی ہونی تھی کہ شیعہ مسلمانوں کو ایک جانب پاک فوج اور دوسری جانب زید حامد سے لڑوایا جائے۔۔
سیدی رسول اللہﷺ نے واضح فرمایا ہے کہ انسان کے جھوٹا ہونے کیلئے یہ بات کافی ہے کہ سنی سنائی بات بغیر تحقیق کے آگے بیان کردے۔
یہ بات ڈھکی چھپی نہیں کہ بدقسمتی سے پاکستان میں خوارج کا تعلق سنی حنفی دیوبند سے ہے اور ہم نے ہمیشہ اس بات کو واضح کیا کہ ہم صرف خوارج کے مخالف ہیںنہ کہ تمام دیوبندیوں کے۔اگر کوئی فتنہ گر اسے یوں بیان کرے کہ ”زید حامد نے کہا ہے کہ وہ تمام سنی حنفی مسلمانوں کو جڑ سے مٹا دے گا“، تو ظاہر ہے یہ صریحاً جھوٹ اور زہریلا پراپیگنڈہ ہوگا۔
اسی طرح پارا چنار سانحے کے بعدہم نے شیعہ مسلمانوں اور خصوصاً نوجوانوں کو نصیحت کی کہ محتاط رہیں، کہیں ہمارا دشمن آپ کو استعمال نہ کرلے۔ہماری اس نصیحت کا یہ ترجمہ کیا گیا کہ”زید حامد نے تمام شیعہ مسلمانوں کو’ را‘ کا ایجنٹ قرار دے دیا ہے“۔ بدقسمتی سے پاکستان غداروں اور منافقوں کے معاملے میں خودکفیل ہیں۔ ہمیں ہر سمت، ہر جماعت و فرقے میں جا بجا غدار اور منافق ملتے ہیں۔ اسی طرح اہل تشیع مسلمانوں کی صفوں میں بھی غدارو منافق موجود ہیں۔ یہ ناپاک لوگ نہ شیعوں سے مخلص ہیں، نہ پاکستان سے، نہ اہل بیت سے۔پاکستان کے لبرل سیکولر طبقے اور ایم کیو ایم میں بڑی تعداد میں ایسے ہی شیعوں کے غدار موجود ہیں۔
منافقوں کی جانب سے ہم پر یہ بہتان بھی لگایا گیا کہ جب سے ہم سعودی عرب سے واپس آئے ہیں سعودیوں کے خلاف نہیں بولتے۔یہ تہمت بھی لگی کہ ہم نے اپنی رہائی کیلئے سعودیوں سے ڈیل کی ہے، اور اس کے نتیجے میں ایران اور شیعوں کے خلاف بیان دیتے ہیں۔ صرف چند ہفتے پہلے کی بات ہے کہ ہم نے سعودی عرب، قطر اور ٹرمپ کے معاملے پر سعودی عرب کی پالیسیوں کو اس قدر تنقید کا نشانہ بنایا لوگ ہم پر طنز کرنے لگے کہ شاید اب کبھی دوبارہمارا سعودی عرب جانے کا ارادہ نہیں۔ پاکستان میں موجود سعودی حمایتیوں نے تو ہمیں ایرانی ایجنٹ کے ’خطاب‘ سے بھی نواز دیا۔اور پھر جب ہم نے کلبھوشن کے اعترافات کے بعد ایران پر تنقید کی توایران کی محبت رکھنے والوں نے ہم پر سعودی عرب سے پیسے لینے کا الزام دھر دیا۔ہم پرسعودی یا ایرانی ایجنٹ کا فحش الزام لگانے یا یقین کرنے سے پہلے اگر یہ ہماری دو مہینے کی ٹویٹر پوسٹس ہی پڑھ لیتے تو آج ان احمقوں کو منہ نہ چھپانا پڑتا۔
کلھبوشن یادیو کے اعترافات سے یہ واضح ہوگیا کہ ہزارہ مسلمانوں کے قتل عام میں خوارج کو بھارتی را کی بھرپور حمایت حاصل تھی جو کہ ایران میں بیٹھ کر یہ خون کا کھیل کررہی ہے۔ہر محب وطن پاکستانی پاکستان میں ہونیوالی فرقہ وارانہ دہشت گردی میں ایران کے کردار سے غمزدہ ہے۔
دشمن ،سوشل میڈیا پر شیعہ نوجوانوںکو بھڑکا رہا تھا کہ ان کے قتل عام کی ذمہ داری پاک فوج پر ہے، کہ یہ دہشت گرد گروہ پاک فوج کے تیار کردہ ہیں۔بہت سے نادان شیعہ نوجوان اس جھوٹ کا شکار ہو کر مسلسل پاک فوج کے خلاف زہر اگل رہے تھے ۔ہم نے انہیں سختی سے کہا کہ ’Don’t be Idiots“۔ہماری اس بات کا یہ ترجمہ کرکے پھیلا گیا کہ ” زید حامد نے پوری ملت جعفریہ کو احمق قرار دے دیا ہے“۔ہم نے اس پراپیگنڈے سے متاثر نوجوانوں کو مخاطب کرکے کہا کہ” اگر آپ مخلص ہیں اپنے مطالبات میں، تو ایران سے بھی کلھبوشن کے بارے میں پوچھیں“۔ہمارے اس انگریزی جملے یہ مفہوم کیسے نکال لیا گیا کہ ” زید حامد نے پاکستان کے تمام شیعہ مسلمانوں کو غیر مخلص اور غدار قرار دے دیا ہے“؟
ہمیں یہ بھی خبر ملی کہ دشمن پارا چنار کے شیعہ نوجوانوں کو بھڑکا رہا ہے کہ وہ شیعہ ملیشیا تیار کرکے خود ہی اپنے علاقے کا دفاع کریں۔ ہم نے شیعہ نوجوانوں کو نصیحت کی کہ آپکی محافظ پاک فوج ہے، آپ اگر حزب اللہ جیسی ملیشیا بھی بنا لیں تو ان خوارج سے اپنا دفاع نہ کر پائیں گے۔ہماری اس بات کو اس طرح پیش کیا گیا کہ ”زید حامد شیعوں پر الزام لگا رہے ہیں کہ وہ حزب اللہ بنا کر بغاوت کرنا چاہتے ہیں“۔
اسی طرح اہل تشیع مسلمانوں کی صفوں میں موجود غداروں کو ہم نے مخاطب کرکے کہا کہ پاک فوج پر حملے بند کریں ورنہ ہم آپ کو ختم کردیں گے۔ہماری اس بات کا یہ ترجمہ کرکے پھیلا گیا کہ: ” زید حامد نے کہا ہے کہ وہ پاکستان سے تمام شیعوں کو ختم کردیں گے“۔دشمن کی جانب پھیلائے گئے اس زہر آلود پراپیگنڈے سے تھوڑی بہت غلط فہمیاں ضرور پیدا ہوئیں، مگر اللہ کے فضل سے جلد ہی اہل تشیع کے ذمہ داران و علماءاس سازش کو سمجھ گئے۔پارا چنار میں پاک فوج کے حق میں نعرے لگے، اور ذاتی طور پر ہم سے اہل تشیع کے ذمہ داران نے رابطے کرکے ہمارے موقف کی تائید کی۔ان شاءاللہ ،مستقبل میں اہل تشیع مسلمان اور بھی کھل کر خوارج، ہندو مشرکوں اور پاکستان دشمنوں کے خلاف پاک فوج اور ہمارے ساتھ کھڑے ہونگے۔ 
ہر مسلمان جو اس پاک سرزمین سے پیار کرتا ہے، پاک فوج کا احترام کرتا ہے، ہمارا بھائی ہے اور قابل احترام ہے۔ اور اس پاک سرزمین کا ہر دشمن منافق اور غدار ہمارا دشمن ہے۔اللہ نے ہماری ڈیوٹی اس مدینہءثانی کے دفاع کی لگائی ہے، ہم صرف سیدی رسول اللہﷺ کے آگے جوابدہ ہیں۔ہم اس مدینہءثانی کے کسی دشمن یا احمق کا لحاظ نہیں کریںگے۔
پاکستان کی تقدیر غزوئہ ہند ہے۔ یہ بشارت پاک فوج اور پاکستان کے تمام مسلمانوں کیلئے ہے۔جن کو اللہ چاہے گا، وہ اس مقدس مشن میں ہمارے ساتھ کھڑے ہونگے، دست بازو ہونگے، اور بلا شبہ ایسے لوگ بہت خوش نصیب ہونگے۔جن کو اللہ تباہ کرنا چاہے گا وہ اس پاک سرزمین و پاک فوج کو نقصان پہنچائیں گے، اور تکمیل پاکستان کے مشن خلاف کھڑے ہونگے۔ ٭٭٭٭٭

آئی ایس آئی …. ہمارے خاموش سپاہی

ہماری قوم مجموعی طور پر نادان، سادہ لوح، محسن کش اور احسان فراموش ہے۔ ہم اپنے محسنوں اور مجاہدین بھلا دینے اور رسوا کرنے میں بڑے ماہر ہیں۔آج جب میں میڈیا میں ریمنڈ ڈیوس کے حوالے سے جنرل پاشا کے خلاف ایک غلاظت کا طوفان دیکھتا ہوں تو برملا میری آنکھوں کے سامنے ماضی کی وہ خونریز تصویر آجاتی ہے کہ جب ۷۰۰۲ءمیں پاک فوج عملی طور پر اس پانچویں نسل کی جنگ میں شکست کھاچکی تھی۔ لیفٹیننٹ جنرل مشتاق بیگ جیسے سینئرافسر جی ایچ کیو کے گیٹ پر شہید کیے جاچکے تھے، فوج کے افسروں کو اس قدر خطرات لاحق ہوچکے تھے کہ خود جی ایچ کیو میں وردی پہن کر داخلہ منع کردیا گیا تھا،پورے ملک میں خود کش حملوں کی خونریز لہر تھی، سوات ہمارے ہاتھ سے نکل چکا تھا، تمام قبائلی علاقوں بغاوتوں اور دہشت گردی کی لپیٹ میں تھے اور پاکستان کا کوئی کونہ حتیٰ کہ خود پاک فوج، آئی ایس آئی اور اسلام آباد بھی محفوظ نہ تھا۔پورے ملک پر خود اور دہشت کی فضا طاری تھی،قوم اور پاک فوج کے درمیان ایک وسیع دراڑ ڈالی جاچکی تھی،قوم مایوس اور فوج ذہنی طور پر منتشر تھی۔ ایسے میں پاکستان کے دفاع کی سب سے بڑی جنگ کا آغاز کیا گیا اور میدان جنگ میں اتنی جگہ بنائی گئی کہ پاک فوج دوبارہ صف بندی کرکے آپریشن راہ راست، راہ نجات اور سوات آپریشن جیسے جوابی حملے شروع کرسکے۔یہ تمام جوابی حملے اور فوج کیلئے راہ ہموار کرنے کا کام اس دور میں آئی ایس آئی نے کیا، کہ جس کی قیادت اس وقت پاکستان کا ایک خاموش مجاہد جنرل پاشا کررہا تھا۔
یہ ۵۰۰۲ءکا ذکر ہے۔ صدر مشرف اپنے سیاسی اقتدار کے عروج پر تھے۔یہی وہ وقت تھا کہ جب سی آئی اے نے را کے سا تھ مل کر پاکستان کے حصے بخرے کرنے کی ایک گھناﺅنی سازش گھڑی، کہ جس کے مطابق آنے والے دس سالوں میں یعنی ۵۱۰۲ءتک پاکستان کو یوگو سلاویہ کی طرز پر توڑ دیا جانا تھا۔ سی آئی اے کے پاس اپنے اس منصوبے کی کامیابی کے یقین کیلئے ٹھوس وجوہات موجود تھیں۔ سچ تو یہ ہے کہ جنرل مشرف نے بھی پاکستان کو دانستہ یا نادانستہ طور پر سی آئی اے اور را کے حوالے ہی کردیا تھا۔ اس دور میں تحریک طالبان پاکستان کے خوارج کی ملک میں دہشت گردی کی کارروائیاں زور پکڑ رہی تھیں۔ بلوچستان غیر ملکی دہشت گردی کی زد میں تھا۔کراچی میں ایم کیو ایم سب سے طاقتور مافیا بن چکی تھی۔ پاک فوج کی کوئی واضح سمت نہ تھی اور وہ اکیسویں صدی کے جدید خطرات کو سمجھ نہ پارہی تھی۔ قوم تقسیم در تقسیم ہوتی چلی جارہی تھی۔ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار پاک فوج اور عوام میں دراڑ واضح نظر آرہی تھی۔صوبہ سرحد میں جمعیت علمائے اسلام اور جماعت اسلامی اقتدار میں تھیں، اور سوات اور دیگر قبائلی علاقہ جات میں تحریک طالبان کے جڑیں پھیلانے میں پوری طرح ان کی مدد کررہی تھیں۔ جیو گروپ اور سیفما نے پاک فوج اور آئی ایس آئی کے خلاف ایک انتہائی جارحانہ اور زہریلی میڈیا جنگ چھیڑ رکھی تھی کہ جس کا مقصد پاکستان کی روحانی اساس یعنی دو قومی نظریے اور اسلام بطور ِنظریہءحیات کو ختم کرنا تھا۔ شوکت عزیز جیسا اقتصادی غارتگر غیر ملکی بھیڑیوں کے ہاتھوں پاکستان کا سودا کررہا تھا۔صدر مشرف کا مشیر خاص طارق عزیز، کہ جو ایک قادیانی تھا، مملکت پاکستان کا ہر راز سی آئی اے اور MI-6 تک پہنچا رہا تھا۔حقیقت تو یہ ہے کہ سی آئی اے اور را کا ۵۰۰۲ءمیں قائم کیا گیا یہ منصوبہ بہت کامیابی سے روبہ عمل تھا۔ ۷۰۰۲ءمیں مشرف کو سی آئی اے اور را کی امداد سے چلنے والی وکلاءتحریک کے ذریعے ہٹا دیا گیا۔ بینظیر بھٹو کو قتل کیا گیا اور پھر اقتدار پوری طرح سے زرداری، رحمن ملک اور حسین حقانی پر مشتمل غدار ٹولے کے ہاتھ میں آگیا۔ اسی دور میں ٹی ٹی پی نے سوات میں اور ایم کیو ایم نے کراچی میں پورے زور و شور سے بغاوت برپا کردی۔ بی ایل اے پہلے ہی بلوچستان میں گیس پائپ لائنوں ، بجلی کے نظام اور مسلح افواج پر حملے کررہی تھی۔ اس وقت پاکستانی فوج کا سپہ سالار جنرل کیانی تھا۔لیکن سب سے بڑا کھیل سپریم کورٹ میں کھیلا گیا کہ جہاں افتخار چوہدری کو عدلیہ کے ذریعے ریاست کے انہدام کی ذمہ داری سونپ دی گئی، اور اس انہدام کیلئے جو ہتھیارافتخارچوہدری نے استعمال کیا وہ تھا ”سوموٹو“! 
پھر جیسے کہ توقع تھی ،مشرف کا زوال شروع ہو گیا۔ خودپاکستان بھی ایک ناکام ریاست بننے کی طرف تیزی سے بڑھنے لگا۔ پھر ۷۰۰۲ءکا سال آیا اور یہ بات صاف نظر آنے لگی کہ مشرف اب چند ماہ کے ہی مہمان ہیں اور اگلی حکومت پیپلز پارٹی کی ہوگی۔جنرل پاشا اس وقت آئی ایس آئی کے سربراہ تھے اور انہیںطاقت کے ایوانوں میں موجودمہا غداروں کے باعث شدید ترین مشکلات کا سامنا تھا۔ہمیں یہ نظر آرہا تھا کہ آئی ایس آئی کو یہ جنگ جیتنے کیلئے نہ صرف یہ کہ ہماری راہنمائی کی ضرورت ہے بلکہ معلوماتی اور نفسیاتی جنگ میں ہمیں بذات خود اتر کر صف اول پر اس کو لڑنا پڑے گا۔ لہذاہم نے تہیہ کیا کہ ہم اس جنگ میں پوری قوت سے جنرل پاشا اور آئی ایس آئی کا ساتھ دیں گے۔ہماری اس اذان کی بدولت آئی ایس آئی کو ایک ولولہءتازہ ملا اور انہوں نے ایک نئے جوش و خر وش سے جوابی کارروائی کا آغاز کیا،جبکہ براس ٹیکس نے معلومات کی جنگ میں پاکستان کے دفاع کا محاذ سنبھال لیا۔ پاکستان کے محب وطن مجاہدین کے اس غیر رسمی اشتراک کی برکت سے نہ صرف یہ کہ پاکستان کی طرف بڑھنے والی تباہی کوروکا گیا بلکہ آگے بڑھ کر دشمن پر جوابی کارروائی کا بھی آغاز ہوگیا۔
 یہ ایک نہایت ہی کڑا وقت تھا۔تین صوبوں میں خونریز بغاوت برپا تھی۔ پورے ملک میں خونریز دہشت گردی اور نظریاتی اور فکری انارکی پھیل چکی تھی، مایوسی اس درجے پر تھی کہ پاکستان زندہ باد کے بجائے ”پاکستان سے زندہ بھاگ“ کے نعرے عام کیے جارہے تھے۔ پاک فوج کو ”ناپاک فوج“ کہہ کر رسوا کیا جارہا تھا۔ اس وقت پاکستان حقیقتاً ڈوب رہا تھا۔ دشمن کو یقین کامل تھا کہ اب پاکستان نہ بچ پائے گا اور چند ہی برس میں دوسرا یوگو سلاویہ بن جائے گا۔
اس جنگ میں کہ جہاں پاک فوج پاکستان کی جغرافیائی سرحدوں کے دفاع میں مصروف تھی، وہیں براس ٹیکس ملک کی نظریاتی اور معلوماتی جنگ میںخوارج، جیو، سیفما اور سیاسی دہشت گردوں سے پاک فوج کی پشت محفوظ کررہے تھے۔
 پاکستان کی حالیہ تاریخ میں ہمیں چند ہی اتنے محب وطن، دلیر اور قابل آئی ایس آئی کا سربراہ ملے ہونگے کہ جتنے جنرل پاشا تھے۔ اس ایک فرد نے ہاری ہوئی جنگ کو فتح میں تبدیل کیا، مگر آج نہ وہ اپنا دفاع کرسکتے ہیں، نہ کوئی راز کھول سکتے ہیں۔
ریمنڈ ڈیوس کے حوالے سے یہ بات سمجھ لیں کہ اسکی رہائی کا فیصلہ صدر پاکستان، وزیراعظم پاکستان، نواز شریف اور جنرل کیانی کا تھا۔جنرل پاشا کو صرف اس فیصلے پر عملدرآمد کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ ان پر الزام لگانا ایسے ہی ہے کہ جیسے جیل سپرنٹنڈنٹ پریہ الزام لگایا جائے کہ اس نے اس قیدی کو رہا کردیا کہ جس کی رہائی کا حکم سپریم کورٹ اور صدر پاکستان کی جانب سے آئے۔
بے معنی اور فضول باتوں سے اتنے محب وطن اور پاکستان کے مجاہد افسر کو بے عزت کرنا کسی خاص بے غیرت کا ہی کام ہوسکتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ ریمنڈ ڈیوس نے پورا سچ نہیں لکھا، نہ وہ تصویر کے پورے رخ سے کبھی واقف ہوا۔ ہمارے لیے اتنا کافی ہے ہمیں یہ معلوم ہے کہ جنرل پاشا اور آئی ایس آئی کبھی بھی پاکستان کے مفادات کے خلاف کام نہیں کرسکتے۔اور الحمدللہ، میں اس بات کا عینی شاہد ہوں۔٭٭٭٭٭

مخلص افراد پر مشتمل صدارتی نظام!

آج ہم جس دور سے گزر رہے ہیں یہ فتنوں کا دور ہے، علم اٹھا لیا گیا ہے، امت فرقوں اور مسلکوں میں تقسیم ہے، نہ کوئی مرکزی دینی قیادت ہے نہ سیاسی۔پاکستان کے اندر فکری انتشار اور سیاسی و مذہبی تعصب اس قدر شدید ہے کہ حقیقت میں قوم کی اکثریت کی تو عقل ہی ماری گئی ہے۔قرآن ایسے لوگوں کے بارے میں فرماتا ہے کہ ایسے اندھے گونگے اور بہرے کہ جن کو اب ہدایت نہیں دی جاسکتی، صم بکم عمی۔
پاکستان میں جن افراد کا تعلق سیاسی و مذہبی جماعتوں سے ہے، وہ سب سے زیادہ پاکستان میں نظام خلافت راشدہ کی مخالفت کررہے ہیں۔جب ہم نظام خلافت راشدہ کی بات کرتے ہیں تو یہ ذہنی معذور یہ تک نہیں جانتے کہ خلافت راشدہ اور نظام خلافت راشدہ میں کیا فرق ہے؟فوراً ہی احمقانہ سوالات داغنے شروع کردیتے ہیں، خلیفہ کون ہوگا؟ کس فرقے سے ہوگا؟ کونسا مسلک نافذ کیا جائے گا؟ خلیفہ کا انتخاب کون کرے گا؟ وغیرہ وغیرہ۔
ان تمام افراد کو کہ جو نظام خلافت راشدہ کے بارے میں شک کا شکار ہیں ہم تاکید کریں گے کہ ہماری کتاب ”خلافت راشدہ“ کا مطالعہ کریں۔
نظام خلافت راشدہ پاکستان کو ایک اسلامی فلاحی ریاست بنانے کیلئے ہے کہ جس میں ہر ذی روح کی جان،مال و عزت کی حفاظت کی جائے گی۔ نظام خلافت راشدہ کا مطلب ہے کہ حکمران نیک اور محب وطن ہوں، عوام کی فلاح کا خیال کریں، اللہ اور اسکے رسولﷺ کے آگے جوابدہ ہوں۔حضرت علیؓ نے جو خط مالک اشتر کو لکھا تھا، وہ نظام خلافت راشدہ کی شاندار ترین مثال ہے۔ اس خط میں کونسی فرقہ وارانہ یا مسلکی بات تھی؟
 پچھلے دنوں ہم نے نوجوانوں کے ایک گروہ سے ایک سوال کیا۔ اگر آپ کے سامنے سور کا گوشت، کتے کا گوشت یا مردہ مرغی رکھی جائے تو آپ کیا کھائیں گے؟کیا آپ یقین کریں گے کہ ہمارے سوال کے جواب میں تقریباً تمام ہی نوجوانوں نے کہا کہ وہ مردہ مرغی کھا لیں گے۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔یہی ہماری قوم کا المیہ ہے، کہ حرام اور حلال کی تمیز مکمل طور پر ختم ہوچکی ہے۔ حلالی اور حرامی کی تمیز بھی مٹ چکی ہے، اور قوم حرام پر راضی ہے۔جب بتایا جاچکا ہے کہ جمہوریت حرام ہے،مارشل لاءمسئلے کا حل نہیں، تو پھر بھی اس سوال کا کیا مطلب ہے ”تو پھر ہم کیا کریں….؟“کچھ مسخرے کہتے ہیں کہ جمہوریت کو ایک چانس اور ملنا چاہیے کہ کیونکہ ابھی تک عمران خان کو باری نہیں ملی۔ کیا پاکستان کوئی کرکٹ میچ ہے کہ سب باری باری بیٹنگ کرینگے؟
آج دشمن ہمیں کھنڈر بنانے کیلئے کھلی جنگ مسلط کرچکا ہے، یہ جمہوریت قوم کیلئے بدترین ”انتقام“ ثابت ہوئی ہے، پھر بھی یہ ظالم اسرار کررہے ہیں کہ اسی ناپاک جمہوریت کو جاری رکھا جائے۔
پاناما کا فیصلہ نزدیک ہے، سب کو نظر آرہا ہے کہ حکومت فارغ ہونیوالی ہے۔ صدر سمیت تمام پارلیمان کو فارغ کرکے نئی عبوری حکومت اور عبوری صدر فوری طور پر لایا جائے۔
اب پاکستان کو ایک فوری طور پر نیشنل سیکورٹی کاﺅنسل کی ضرورت ہے، کہ جس میں ایک جانب فوج اور دوسری جانب نئی سول عبوری حکومت بیٹھے۔ سربراہ ملک کا نیا طاقتور صدر ہو۔یہ نیشنل سیکورٹی کاﺅنسل، سول اور فوج ملکر، عبوری حکومت کے دور میں سخت ترین احتساب کرتے ہوئے تمام سیاسی جماعتوں کو حرام خوروں سے پاک کرے۔یہی عبوری حکومت اور نیشنل سیکورٹی کاﺅنسل ملک میں نئے صدارتی نظام، نئے انتخابی طریقہ کار اور نئے سیاسی عمل کیلئے پورے نظام کا ڈھانچہ تبدیل کرے۔اس پورے نظام کو تبدیل کرنے اور ملک کو استحکام بخشنے کیلئے عبوری حکومت اور نیشنل سیکورٹی کاﺅنسل کو کم از کم دو سال کا عرصہ درکار ہے۔دو سال کے اندر یہ عبوری حکومت اور نیشنل سیکورٹی کاﺅنسل ملک کو مستحکم کرے گی، احتساب کرے گی، نظام تبدیل کرے گی، اور پھر سیاسی عمل کو دوبارہ جاری کیا جاسکتا ہے۔نیا نظام صدارتی طرز پر ہو، پوری قوم ملکر صدر کا انتخاب کرے کہ جیسے ایران، امریکہ، فرانس یا فلپائن میں ہوتا ہے۔ صدارتی امیدواروں کا انتخاب فوج اور سپریم کورٹ کرے۔کیا پاکستان کے بیس کروڑ عوام میں سے ہمیں 100 ایسے محب وطن، قابل اور صاف ستھرے لوگ نہیں ملیں گے کہ جن سے عبوری حکومت قائم کی جاسکے؟کیا بیس کروڑ عوام میں ہمیں 5 ایسے قابل، مدبر، سنجیدہ، صاحب علم اور صاحب نظر افراد نہیں ملیں گے کہ جن سے ملک کے صدر کا انتخاب کیا جاسکے؟منتخب صدر فوج اور سپریم کورٹ کے مشورے سے اپنی ٹیکنوکریٹک حکومت قائم کرے، نیشنل سیکورٹی کاﺅنسل اس بات کی ضمانت ہوگی کہ تمام فیصلے سول اور فوج کی مرضی سے ہونگے۔
پاکستان اپنی تاریخ میں جمہوری حکومتیں اور مارشل لاءدونوں ہی دیکھ چکا ہے۔ اب وقت ہے کہ فوج کو حکومت میں آئینی حصہ دے کر نیشنل سیکورٹی کاﺅنسل کے ذریعے ایک سول فوجی مخلوط نظام حکومت ترتیب دیا جائے۔اب پاکستان کو اپنے سیاسی نظام کو از سر نو جدید ترین خطوط پر دوبارہ تخلیق کرنا ہے۔ قائداعظمؒ نے بھی صدارتی نظام کے حق میں اپنا فیصلہ سنایا تھا۔مگر اس کام کو کرنے کیلئے کوئی مرد آزاد چاہیے۔ جمہوریت کے فرسودہ نظام اور انگریزوں کے غلاموں سے نہ یہ کام ہونے لگا ہے اور نہ ہی وہ اس کو کرنا چاہتے ہیں۔پاکستان کی تاریخ یہ ثابت کرچکی ہے کہ نہ تو سیاستدانوں کو مادر پدر آزادی دی جاسکتی ہے، نہ فوج کو آمریت قائم کرنے کی اجازت۔صدارتی نظام، نیشنل سیکورٹی کاﺅنسل، ٹیکنوکریٹک حکومت، غیر سیاسی پارلیمان کہ جس کے پاس مجلس شوریٰ کا اختیار ہو، مال بنانے کا نہیں۔پارلیمان کی شکل بھی نئی ترتیب دی جائے گی۔ اس میں پاکستان کے تمام قومی اداروں کی نمائندگی ہوگی۔ قومی فیصلہ سازی میں بھوکے ننگے عوام نہیں بلکہ صاحب رائے لوگ اور قومی ادارے شامل ہونگے۔آج پاکستان کی پارلیمان میں وہی لوگ ہیں کہ جن کو ملک کی جاہل اور بھوکی ننگی اکثریت ووٹ دے کر بھیجتی ہے۔ بھیجنے والے بھی جاہل اور اندر پہنچنے والے بھی خائن۔
نئے نظام میںپارلیمان کا کام صرف شوری اور قانون سازی کا ہوگا۔ کسی قسم کے کوئی ترقیاتی فنڈ ممبران پارلیمان کے پاس نہیں ہونگے۔ یہ ذمہ داری ہوگی نہ کہ کاروبار۔اس نظام میں تمام اہم ملکی فیصلے، چاہے دیگر ممالک سے معاہدات ہوں، یا قومی اداروں کے سربراہان مقرر کرنا ہوں، سب کچھ نیشنل سیکورٹی کاﺅنسل میں طے کیا جائے گا۔صدر با اختیار بھی ہوگا، مگر مادر پدر آزاد بھی نہیں۔ حکومت ٹیکنوکریٹس کی بھی ہوگی مگر فوج کو ساتھ لے کر چلے گی، پارلیمان بھی ہوگی مگر سیاسی جماعتوں سے پاک۔
پاکستان کے آج کے سیاسی نظام میں جتنی بھی خرابیاں ہیں، ملوکیت ہے، خاندانی قبضے ہیں، کرپشن ہے، سول ملٹری تصادم ہے، سب کچھ اس نظام سے حل ہوجاتا ہے۔
پاناما کیس اب ایسے مقام پر آچکا ہے کہ جس کے بعد حکومتوں کو تحلیل ہی ہونا ہے، اور نئے انتخابات سے قبل عبوری حکومت نے بننا ہی ہے۔یہاں فوج اور سپریم کورٹ کو فیصلہ کن کردار ادا کرنا ہوگا۔ یہ فیصلہ کرنا پڑے گا کہ وہ اسی غلیظ کینسر زدہ جمہوریت کو چلانا چاہتے ہیں یا ملک کے سیاسی نظام کو ہمیشہ کیلئے ٹھیک کرنا چاہتے ہیں۔اگر فوج اور سپریم کورٹ آج اپنی ذمہ داری کو پورا نہیں کرتے تو کل جب یہ ملک و قوم جلے گی، تو فوج اور سپریم کورٹ بھی اس کے ساتھ ہی جلے گی۔آج اختیار اور طاقت سپہ سالار اور چیف جسٹس کے ہاتھ میں ہے۔ سیاسی جماعتوں اور جمہوریت کی غلاظت پوری طرح ابل کر باہر آچکی ہے۔ اب وقت ہے کہ اس کو دفن کردیا جائے۔مکمل مارشل لاءاور مکمل سیاسی انارکی و تباہی کے درمیان اب صرف یہی ایک واحد راستہ پاکستان کے سامنے رہ گیا ہے…. مخلص افراد پر مشتمل صدارتی نظام!
٭٭٭٭٭

لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت ک

آج جس دور سے ہم گزر رہے ہیں، وہ دور بہترین بھی ہے اور بدترین بھی، خوش نصیب ترین بھی ہے اور بد بخت ترین بھی، تاریک ترین بھی ہے اور روشن ترین بھی…. ہم رات کے اس آخری پہر میں سے گزر رہے ہیں کہ جس کے بعد فجر طلوع ہوتی ہے۔
امت مسلمہ جس کڑے دور سے پچھلے دو ڈھائی سو سال سے گزررہی ہے، اس کی مثال مسلمانوں کی تاریخ میں نہیں ملتی۔ ۷۵۷۱ءکی جنگ پلاسی سے لیکر خلافت عثمانیہ کے خاتمے تک،اور پھر اکیسویں صدی میں پوری امت مسلمہ پر مسلط ایک نئی صلیبی جنگ کہ جس نے ہلاکو و چنگیز کی خونریزی کو شرما دیا ہے، ایک ایسی تاریک رات کی مانند ہے کہ جس میںکلیجے حلق کو آتے ہیں، مومنین زلزلے کی طرح ہلائے جاتے ہیں اوروہ بے اختیار پکار اٹھتے ہیں کہ ”متیٰ نصر اللہ“….؟
آج امت مسلمہ میں کوئی مسلمان ریاست ایسی نہیں بچی کہ جو یا تو تباہ نہ کردی گئی ہو یا پھر بری طرح سے کفار کے نرغے میں نہ گھری ہو۔پوری امت مسلمہ میں کروڑوں کی تعداد میں مسلمان لٹے پٹے یا تو ہجرت پر مجبور ہیں، یا بے رحمی سے قتل کیے جارہے ہیں، یا ان کی جان و مال و حرمت کو سفاکی سے پامال کیا جارہا ہے۔ قحط الرجال کا ایسا دور ہے کہ دور دور تک نہ تو کوئی صلاح الدین ایوبیؒ نظر آتا ہے اور نہ ہی کوئی احمد بن حنبلؒ۔ مسلمان امت خلافت کی چھتری سے محروم ہو کر ایک یتیم گھرانے کی طرح سفاک دشمنوں کے رحم و کرم پر ہے،کہ جس پر چاروں طرف سے بیک وقت صیہونی، مشرک ، خوارج اورملحد اس طرح حملہ آور ہورہے ہیں کہ جیسے بھوکے دستر خوان پر ٹوٹتے ہیں۔ امت مسلمہ کی تمام سیاسی قیادت فاسق و فاجر ہے، الہ ما شا ءاللہ۔ اور امت کا حال یہ ہے کہ” حب الدنیا “ میں لتھڑی ہوئی اور” کراہیت الموت“ کے مرض میں گرفتار، انتہائی بے بسی سے اپنی تباہی کا تماشا دیکھ رہی ہے۔ علمائے سُو اس طرح امت میں فساد مچا رہے ہیں کہ الاامان الحفیظ! فتنے انہی علماءمیںسے اٹھ کر انہی میں داخل ہورہے ہیں اور آج زمین کے اوپر اور آسمان کے نیچے بدترین مخلوق یہی علماءسُو ہیں کہ جن کے بارے میں سیدی رسول اللہﷺ نے ہمیں پہلے ہی آگاہ فرمادیا تھا۔
 بیسویں صدی کے آغازپر خلافت کی تباہی کے بعد امت رسولﷺ پر جو کڑا وقت پڑا تھا، اس پر الطاف حسین حالیؒ کا یہ مرثیہ امت مرحوم کی بے بسی کی ایک دردناک تصویر ہے:
اے خاصہ ءخاصان رسل، وقت دعا ہےامت پہ تیری آکے عجب وقت پڑا ہے
لیکن تاریخ کی یہی اندھیری راتیں ان شیروں اور دلیروں کو پیدا کرتی ہیں کہ جن کی اذانوں سے لرزتا ہے شبستان وجود!وہ اللہ کے دست و بازوہوتے ہیں، اس کی تقدیر ہوتے ہیں، اس کے راز دار ہوتے ہیں، خدا ان سے پوچھتا ہے کہ بتا تیری رضا کیا ہے،ان کی نگاہوں سے تقدیریں بدلتی ہیں، وہ سیدی رسول اللہﷺ سے وفا کرنے والے ہوتے ہیں، کہ پھرمالک ان کو لوح و قلم عطا کرتا ہے۔یہ غلامی کے دور میں مرد آزادہوتے ہیں۔
بابا اقبالؒ بھی ایسے ہی خوش نصیب وجود ہیں کہ جو امت کے ایک بدنصیب دور میں اللہ کی طرف سے تحفے کے طور پر بھیجے گئے۔یہ وہ موذن ہیں کہ جنہوں نے شب تاریک میں وہ اذان دی کہ جس نے شبستان وجود کو لرزا کے رکھ دیا۔ایسا صور پھونکا کہ ایک مردہ قوم قبروں سے اٹھ کر وسعت افلاک میں تکبیر مسلسل دینے لگی۔
اقبالؒ اپنے دور کے ایسے وجود تھے کہ جوصدیوں تک امت مسلمہ کی راہنمائی اور قیادت فرماتے رہیں گے۔یہ بندئہ فقیر ایک ”زندہ رود“ ہے، کہ جس کا فیض ایک تیز بہتے چشمے کی مانند ، ماضی میں بھی جاری تھا، آج بھی جاری ہے اور آنے والے وقتوں میں بھی پوری قوت کے ساتھ جاری و ساری رہے گا۔یہی فیض ایک مردہ قوم میں دل مرتضی اور سوز صدیق پیدا کرے گا۔
آج امت مسلمہ جس پستی و ذلت کا شکار ہے اس کا علاج نہ معاشی ترقی ہے، نہ عسکری طاقت، نہ تکنیکی تعلیم ہے، نہ علوم و فنون۔ امت کی اصل بیماری روحانی ہے، کہ جس کا علاج کیے بغیرنہ تو یہ اپنے ضمیر میں ڈوب سکتی ہے اور نہ ہی اسے سراغ زندگی ملے گا۔زمین و آسماں و کرسی و عرش کی تمام سلطنت انسان کی خودی کی زد میں ہے۔اس خودی کے اسرار و رموز جانے بغیر مادی اور معاشی ترقی انسان کووہیں پہنچائے گی کہ جہاں آج مغرب کی اخلاق باختہ اور انسان سوز تہذیب پہنچی ہے، کہ جس کے بارے میں اقبالؒ بابا بہت پہلے فرما چکے تھے کہ:
تمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خودکشی کرے گیجو شاخِ نازک پہ آشیانہ بنے گا ،ناپائیدار ہوگا
اسی لیے آج کے دور میں اقبالؒ ایک مرد بحران کی حیثیت سے امت کیلئے روشنی کا ایک عظیم مینار ہیں۔پوری امت مسلمہ میں اس پائے کا کوئی درویش، صاحب نظر، صاحب بصیرت، صاحب فقر وجود نہ ماضی قریب میں تھا، نہ آج ہے، کہ جوعہد حاضر کے تمام فتنوں کواس شرح صدر کے ساتھ جانتا ہو اور ان کا حل تجویز کرتا ہوکہ جیسے اللہ نے بابا اقبالؒ کو عطا فرمایا ہے۔ وہ قوم انتہائی بدنصیب ہوگی کہ جواس چشمے سے سیراب ہونے سے محروم رہ جائے۔امت کے عروج کا سفراسی خیر سے جاری ہوتا ہے کہ جو اللہ نے اس مرد درویش کو عطا کی ہے۔
 اقبالؒ کے دور میں بھی آج کی سی ہی صورتحال تھی۔ اس وقت کہ جب مسلمان پوری دنیا میں غلام بنائے جارہے تھے اور خود ہندوستان کے مسلمانوں کا مستقبل تاریک نظر آتا تھا، اقبالؒ نے امت کو اس طرح زندہ کردیا کہ مسلمانوں نے ایک براعظم کو توڑ کر ایک نئی اسلامی سلطنت قائم کرلی۔
اقبالؒ کی اصل ڈیوٹی تو اس نسل کیلئے ہے کہ جس نے آج کے دور میں پیدا ہونا ہے۔ تعمیر پاکستان اقبالؒ کی سعی تھی، اب تکمیل پاکستان اقبالؒ کی بشارت ہے۔ آگے آنے والی تقدیر اتنی شاندار ہے کہ یہ شیروں اور دلیروں میںایک جذبہ مستانہ پیدا کردیتی ہے۔اور دوسری جانب شک اور وسوسے میں غرق منافقین کو ایک بے یقینی کے ہیجان میں مبتلا رکھتی ہے۔ظاہراً یہ بشارتیں ناممکن نظر آتی ہیں،مگر ہر صاحب بصیرت، صاحب نظر، کہ جو خدا کا راز دار ہے،ان کی صداقت کی تصدیق کرتا ہے۔
سبق پھر پڑھ صداقت کا، عدالت کا،شجاعت کالیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا٭٭٭٭٭

عشق و ادب رسولﷺ

اپنے تمام تر باہمی اختلافات کے باوجود امت رسولﷺ اگر کسی ایک نقطے پر اکٹھی ہوسکتی ہے تو وہ ہے ادب رسولﷺ ، عشق رسولﷺ۔ ملت پاکستان کا بھی یہی معاملہ ہے۔اللہ جب بھی اس امت کو یا پاکستان کو ایک صالح قیادت دے گا ، اس کی سب سے بڑی نشانی یہ ہوگی کہ وہ قیادت مودب رسولﷺ اور عاشق رسولﷺ ہوگی۔چاہے کوئی کتنا ہی بڑا حاکم یا لیڈر کیوں نہ سمجھا جائے، اگر وہ ا دب و عشق رسولﷺ کے معاملے میں بے ادب اور کمزور ہے تو جلد یا بدیرخود بھی رسوا ہوگا اور ملت کو بھی رسوا کرے گا۔ہمارے دین، تمام قرآن و سنت و شریعت کی بنیادی اساس ہی یہ واحد نقطہ یعنی” ادب رسولﷺ“ ہے۔
معنی حرفم کنی تحقیق اگربنگری با دیدہ ی صدیق اگرقوت قلب و جگر گردد نبیاز خدا محبوب تر گردد نبی
جو بات میں تم سے کہہ رہا ہوں اگر تم بہت غور سے اس پر تحقیق کرو،اور اگر اللہ تمہیں حضرت ابوبکرصدیقؓ کی نگاہ عطا کرے،تو پھرتم اس بات کو جان جاﺅ گے کہ تمہارے قلب و جود کی اصل قوت اور طاقت ہی نبی کریمﷺ ہیں،
 اور جب تم یہ حقیقت جان لو گے تو پھر اللہ کے رسول ﷺکو تم اللہ سے بھی زیادہ محبوب بنا لو گے۔
یہ معرفت قرآن کا سب سے بڑا راز ہے کہ اللہ کے رسولﷺ سے محبت کرنا ہی اصل میں اللہ سے محبت کرنا ہے۔اللہ کے رسولﷺ کی اطاعت کرنا ہی ، اللہ کی اطاعت کرنا ہے۔ اللہ کے رسولﷺ کی بیعت کرنا ہی ، اللہ کی بیعت کرنا ہے۔ اللہ کے رسولﷺ کو اذیت دینا ہی ، اللہ کو اذیت دینا ہے۔ اللہ کے رسولﷺ کو راضی کرنا ہی ، اللہ کو راضی کرنا ہے۔ جو اللہ اور اسکے رسولﷺ میں فرق کرتا ہے ، وہ کفر کرتا ہے ، شرک کرتا ہے،ظلم کرتا ہے۔اللہ سے محبت کرنا صرف ایک زبانی دعویٰ ہے، اس کا اظہار اللہ کے رسولﷺ سے محبت کرنا ہے۔ اللہ کے رسولﷺ کے ادب اور عشق کے بغیر اللہ سے محبت کا دعویٰ لغو اور بے بنیاد ہے۔
قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایمان والے اللہ سے شدید محبت کرتے ہیں۔سیدی رسول اللہﷺ نے اس آیت مبارکہ کی تشریح میں وہ مشہور حدیث شریف بیان فرمائی کہ جس کا مفہوم ہے کہ ” تم میں سے کوئی شخص ایمان کو نہیں پا سکتا جب تک میں تمہارے لیے تمہارے ماں باپ، بیوی بچوں اور مال و دولت سے بڑھ کر محبوب نہ ہوجاﺅں۔“
اسی لیے صحابہ کرامؓ جب بھی سیدی رسول اللہﷺ کی خدمت مبارکہ میں حاضر ہوتے توفرماتے ”فداک امی و ابی یا رسول اللہﷺ“، یعنی یا رسول اللہﷺ ! آپﷺ پر ہمارے ماں باپ قربان ہوجائیں۔
اقبال ؒ بھی اس حقیقت پر اصرار فرماتے ہیں کہ سیدی رسول اللہﷺ کا وجود مبارک ہی اس امت کو تھامے ہوئے ہے، آپﷺ ہی اس امت کی روح رواں ہیں، اس امت کا مرکز ہیں، اس کی حیات ہیں۔
 قلب مومن را کتابش قوت استحکمتش حبل الورید ملت است
مومن کے قلب کیلئے سیدی رسول اللہﷺ کا کلام ہی قوت ہے،آپﷺ کی بیان کردہ حکمتیں ا س ملت کی شہ رگ ہیں۔
 سورة جمعہ میں قرآن سیدی رسول اللہﷺ کے وہ احسانات بیان کرتا ہے کہ جو آپ ﷺ اپنی امت پر فرمارہے ہیں کہ جس کا مفہوم ہے : ”آپ قرآن کی آیتیں تلاوت فرمارہے ہیں، امت کا تزکیہ فرمارہے ہیں، امت کو الکتاب اور حکمت کی تعلیم عطا فرمارہے ہیں، اور ان کو بھی اپنا فیض عطا فرمارہے ہیں کہ جو ابھی آپ سے ظاہری طور پر ملے بھی نہیں ہیں۔“
یہ سیدی رسول اللہﷺ کا خاص الخاص معجزہ ہے کہ آپﷺ خاتم النبینﷺ ہیں۔ آپ کے بعد کسی اور نبی کی اس لیے بھی ضرورت نہیں ہے کہ آپ ﷺ اللہ کے رسول تھے نہیں، ہیں! آج بھی ہیں!آج بھی آپ کا فیض اسی طرح جاری ہے کہ جس طرح آپ کے اطراف میں صحابہ کرامؓ آپ سے فیض لیا کرتے تھے۔آپ آج بھی امت کا تزکیہ فرمارہے ہیں، کتاب و حکمت کی تعلیم عطا فرمارہے ہیں، آیتیں تلاوت فرمارہے ہیں، اور ان کو بھی فیض پہنچا رہے ہیں کہ جو ابھی ظاہری طور پر آپ سے ملے بھی نہیں۔ یہ قرآن کا اعلان بھی ہے اور سیدی رسول اللہﷺ کا احسان بھی۔اس حقیقت ازلی کی تصدیق اللہ اور اسکے رسولﷺ اور ملائکہ بھی کرتے ہیں اور مومنین بھی۔ یہ حقیقت و معرفت کا سر الاسرار ہے۔
اقبالؒ ہمیشہ اسی بات پر زور دیتے رہے ہیں کہ نبی کریمﷺ سے اپنا ایک روحانی تعلق قائم کرلو۔ رسول اللہﷺ کو اپنا مرشد بنا لو اور ان سے فیض لو۔ اور رسول اللہﷺ سے آج بھی اسی طرح فیض لیا جاسکتا ہے کہ جس طرح صحابہ کرامؓ لیا کرتے تھے۔ اقبالؒ نے ایک دفعہ اپنے ایک دوست کو خط لکھا۔ یہ خط آپ کو فیروز سنز کی چھپی ہوئی مشہور کتاب ”زیارت نبیﷺ بحالت بیداری“ میں ملتا ہے۔اقبالؒ لکھتے ہیں: ”حضورﷺ کی زیارت آپ کو مبارک ہو، میرا یہ عقیدہ ہے کہ آج بھی ہم حضورﷺ سے ویسے ہی فیض لے سکتے ہیں جس طرح کہ صحابہؓ لیا کرتے تھے، لیکن چونکہ اس قسم کے خیالات کا اظہار بھی بعض دماغوں کو ناگوار گزرتا ہے، لہذا میں چپ رہتا ہوں۔“
اقبالؒ کی روحانی جہت کے راز ان کے بیٹے نے اپنی کتاب زندہ رود میں بھی لکھے ہیں۔ اقبالؒ کا حال یہ تھا کہ جب حضورﷺ کا اسم مبارک ان کے سامنے لیا جاتا ،تو فرط جذبات سے آپ کی آنکھوں سے آنسو رواں ہوجاتے۔ایک آدمی مدینے کی زیارت کرکے اقبالؒ سے ملنے آیا، تو اقبالؒ جذبات سے مغلوب ہوگئے اور اس سے کہنے لگے کہ تم اپنے پاﺅںمیرے چہرے پر پھیر دو، تاکہ مدینہ کی وہ پاک مٹی میری آنکھوں پر بھی لگ جائے۔ اس درخواست کو سن کر وہ شخص بھی رویا اور پوری محفل بھی زار و قطار رونے لگی۔دربار نبویﷺ میں گستاخی کی سزا بھی بہت سخت ہے۔گستاخ کا چہرہ مکروہ ہوجاتا ہے، اس کا دل سخت ہوجاتا ہے، اس کی دعا قبول ہونا بند ہوجاتی ہے، ساری زندگی کے نیک اعمال ضائع ہوجاتے ہیں،اس کی بات کی تاثیر ختم ہوجاتی ہے، دربار نبویﷺ سے دور کردیا جاتا ہے،دنیا میں بھی رسوائی، آخرت میں بھی رسوائی۔
سیدی رسول اللہ کو یاد کرکے نکلنے والے آنسوﺅں کے چند قطرے ایک عاشق کیلئے دنیا و مافیہا سے زیادہ قیمتی خزانہ ہوتے ہیں۔٭٭٭٭٭

صادق اور امین

مفہوم:”اورجب ہم کسی بستی یا قوم کو ہلاک کرنے کا ارادہ کرتے ہیں تو وہاں کی اشرافیہ ہمارے احکامات رد کردیتی ہے اور پھر ان پر حجت تمام ہوجاتی ہے اور اللہ کا عذاب ان پر واجب ہوجاتا ہے اور پھر وہ بالکل ہی تباہ کردیئے جاتے ہیں۔“(بنی اسرائیل، ۶۱)
ایمانداری کے حوالے سے سیدی رسول اللہﷺ نے فرمایا ہے اور اس کا مفہوم ہے کہ جو مسلمانوں کو دھوکا دیتا ہے وہ امت رسولﷺ سے خارج کردیا جاتا ہے۔لفظ ”ایماندار“ کا مطلب ہی یہی ہے کہ”ایمان والا‘ کہ جو ایماندار نہ ہو وہ’ ’بے ایمان“ ہوتا ہے۔نبوت کی ذمہ داری عطا ہونے سے بھی پہلے اللہ نے سیدی رسول اللہﷺ کو دنیا کے سامنے” صادق“ اور” امین “کے طور پر متعارف کروایا تھا، کہ یہی ایمان کی نشانیاں بھی ہیں، کردار کی بلندی بھی اور قیادت کا معیار بھی۔اسی لیے پاکستان کے آئین میں بھی حکمرانوں کیلئے صادق اور امین کی شرط لازماً رکھی گئی ہے۔ایک مومن بزدل تو ہوسکتا ہے، اجتہادی غلطی تو کرسکتا ہے، گناہ اس سے سرزد ہوسکتے ہیں،مگر جھو ٹا کذاب، خائن، بددیانت اور مسلمانوں کے مال کو چوری کرنے والا کبھی نہیں ہوسکتا۔جو یہ کرتا ہے سیدی رسول اللہﷺ کی حدیث شریف کے مطابق امت رسولﷺ سے خارج ہے۔
جب بھی کوئی ملک، قوم یا تہذیب تباہی کی جانب بڑھنا شروع ہوتی ہے تو اس کا اظہار سب سے پہلے اس معاشرے کی اشرافیہ میں نمودار ہونے والے زوال سے ہوتا ہے۔عوام الناس یا جہلاءکے زوال سے قومیں تباہ نہیں ہوتیں۔قوموں کی تباہی ان کی اشرافیہ لاتی ہے۔اشرافیہ اس طبقے کو کہتے ہیں کہ جو اس تہذیب میں معیارات متعین کرتا ہے،کہ جو معاشرے کے نظریاتی، سماجی، سیاسی ، مذہبی ، اخلاقی اور قانونی سمت کا تعین بھی کرتا ہے اور معاشرے کی قیادت بھی۔ ان میں امرائ، بھی ہیں اورسیاستدان بھی، علماءبھی ہیں اور صوفیاءبھی، بیوروکریٹ بھی اور عسکری قیادت بھی، دانشور بھی ہیں ا ور وہ رائے ساز افراد بھی کہ جو آج عوام کی ذہن سازی میں بہت اہم کردار ادا کررہے ہیں۔اشرافیہ ہمیشہ ایک اقلیتی طبقہ ہوتا ہے، مگر انتہائی طاقتور اور ریاست، قوم، ملک و سلطنت کے وسائل پر قابض۔کسی بھی قوم کی تعمیر یا تخریب میں اسی اشرافیہ کا فیصلہ کن کردار ہوتا ہے۔تاریخ گواہ ہے کہ مسلمان معاشرے اپنے روحانی، اخلاقی، دینی و دنیاوی عروج پر اس وقت پہنچے کہ جب مسلمانوں کی اشرافیہ اعلیٰ ترین اخلاق و کردار کی حامل تھی۔ اور تاریخ اس کی بھی گواہ ہے کہ مسلمان تہذیب اس وقت زوال پذیر ہوئی کہ جب مسلمان معاشروں میں سب سے گمراہ اور ذلیل طبقہ اشرافیہ کا ہوا۔
سیدنا صدیق اکبرؓ کی جب وفات کا وقت آیا تو آپؓ نے وصیت فرمائی کہ جو وظیفہ انہوں نے بطور خلیفہ بیت المال سے اب تک لیا تھا، وہ واپس کردیا جائے، کیونکہ وہ منصب خلافت کو ایک امانت اور سیدی رسول اللہﷺ کی خدمت سمجھتے تھے اور اس فرض کی اجرت کو اپنے لیے ناجائز۔ جب سیدنا ابوبکرصدیقؓ کے صاحبزادے اس رقم کو لیکر نئے خلیفہ سیدنا عمرؓ کی خدمت میں پہنچے تو سیدنا عمرؓ بھی رونے لگے اور فرمایاکہ اے ابوبکرؓ! آپ نے ہمارے لیے بہت بڑی مشکل کھڑی کردی ۔
سیدنا عمرؓ کے دور میں جب مسلمان فوج نے ایک علاقہ فتح کیا تو وہاں سے بہت سا مال و دولت بطور مال غنیمت دارالخلافہ آیا۔ یہ مال و اسباب اس قدر بیش قیمت تھا کہ اس کو دیکھ کر حضرت عمرؓ آبدیدہ ہوگئے اور حیران ہو کر فرمانے لگے کہ اس فوج کی صداقت اور دیانت کا کیا معیار ہوگا کہ جو یہ بیش قیمت خزانے بغیر کسی خیانت کے جوں کے توں بیت المال میں جمع کرانے لے آئی ہے؟سیدنا علیؓ نے سیدنا عمرؓ یہ بات سن کر فرمایا”امیر المومنین، یہ فوج اس لیے امانتدار ہے کہ آپ صادق اور امین ہیں اس لیے آپ کے ماتحت بھی صادق اور امین ہیں۔“
سیدنا عمر بن عبدالعزیز ؒ اموی خلیفہ تھے۔ بیت المال سے اپنے لیے صرف اتنا وظیفہ مقرر کیا کہ بمشکل دو وقت کی روٹی پوری ہوسکتی تھی۔ایک مرتبہ گھر میں بیوی نے میٹھا بنا لیا۔ آپ نے حیران ہو کر پوچھا کہ یہ میٹھا کہاں سے آیا؟ ان کی زوجہ محترمہ نے جواب دیا کہ جو گھر کا خرچ آپ مجھے دیتے ہیں، میں روز اس میں سے تھوڑا تھوڑا بچا کر رکھتی تھی، یہا ں تک کہ بہت عرصے بعد آج تھوڑا سا میٹھا بھی بنا لیا۔ سیدنا عمر بن عبدالعزیزؒ نے یہ بات سن کر اپنے روز کے خرچ میں سے وہ رقم کم کروادی کہ جتنی ان کی بیوی نے روز میٹھے کیلئے بچائی تھی۔
قائداعظمؒکو ان کے اے ڈی سی نے ایک مرتبہ ڈیڑھ روپے کی جرابیں لا دیں۔ یہ وہ وقت تھا کہ جب قائداعظمؒ زیارت میں مرض الموت میں مبتلا تھے اور آپ کی طبیعت انتہائی ناساز تھی۔ اس حالت میں بھی جب قائداعظمؒ کو معلوم ہوا کہ ان کیلئے بیت المال کے خرچ سے ڈیڑھ روپے کی جرابیں خریدی گئی ہیں تو آپ نے بہت دکھ سے فرمایا کہ غریب مسلمان ملک کے سربراہ کو یہ زیب نہیں دیتا کہ اتنی مہنگی جرابیں استعمال کرے۔ لیاقت علی خان نواب گھرانے سے تعلق رکھتے تھے لیکن تاریخ گواہ ہے کہ جب اس جدی پشتی کروڑ پتی رئیس کو شہید کیا گیا تو اس وقت انہوں نے جو بنیان پہن رکھی تھی ، اس میں بھی چھید تھے، اور ان کی جرابیں بھی پھٹی ہوئی تھیں۔
قائداعظم اور لیاقت علی خان کے انتقال کے بعد یہ پاک سرزمین بھی آج تک یتیم ہی ہے۔بے شرم اور بے غیرت اشرافیہ قیام پاکستان کے آغاز سے ہی ننگ ملت، ننگ قوم، ننگ دین کے مصداق آبروئے امت مرحوم نیلام کرتی چلی آئی ہے۔
سیدی رسول اللہﷺ نے ایسی ہی ناپاک اشرافیہ اور حکمرانوں کے بارے فرمایا تھا ،کہ جس کا مفہوم ہے: کہ وہ ایسے حکمران ہونگے کہ جن سے تم نفرت کرتے ہوگے اور وہ تم سے نفرت کرتے ہونگے۔
آج پاکستان میں صاحب اختیار صرف دو منصب ہیں۔ سپہ سالار اور چیف جسٹس۔ آج اللہ نے ان دونوں کو یہ اختیار اور طاقت دی ہے کہ ملک و قوم و ملت پر سے خائن اور کذاب حکمرانوں کا عذاب دفع کریں۔ اگر تو یہ دونوں اپنی ذمہ داری پوری کر گئے تو ہماری آنے والی نسلیں امت کی ذمہ داریاں اٹھانے کے قابل ہوسکیں گی۔ اور اگر تو یہ دونوں طاقتور عہدے، ماضی کی طرح، خائنوں، غداروں اور کذابوں کو ملک میں برداشت کرتے رہے، تو یہ اللہ اور اسکے رسولﷺ اور اس مدینہ ءثانی پاک سرزمین سے خیانت کے مرتکب ہونگے۔ ہم تاریخ کے اس موڑ پر کھڑے ہیں کہ جب اللہ نے ناپاک اور پلید حکمرانوں کو سر بازار رسوا کرکے رکھ دیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس قحط الرجال کے دور میں اہل ایمان میں سے کون ایسا شیر اور دلیر اٹھتا ہے کہ جو اللہ کی طرف سے دیئے گئے اس موقع کو بھرپور استعمال کرکے اس ملت پاکستان کو اس کی تقدیر ”تکمیل پاکستان“ کی جانب لے چلے۔
فطرت افراد سے اغماض بھی کرلیتی ہےکبھی کرتی نہیں ملت کے گناہوں کو معاف٭٭٭٭٭

Design a site like this with WordPress.com
Get started