بھٹو کو امید تھی کہ 65 ءکی جنگ میں پاکستان کو شکست ہوگی اور اس کے نتیجے میں ایوب خان کو اقتدار سے الگ کردیا جائے گا۔ مگر جنگ کا نتیجہ اس کے توقع کے خلاف نکلا۔ نہ صرف یہ کہ پاک فوج نے پاکستان کا بھرپور دفاع کیا بلکہ اس کے نتیجے میں ایوب خان بھی مزید طاقتور اور ہردلعزیز حکمران بن کر ابھرا۔ اب بھٹو کے پاس اور کوئی راستہ نہیں تھا سوائے اسے کے کہ سول نافرمانی کے ذریعے ایوب خان کے خلاف بغاوت برپا کی جائے۔
65 ءکی جنگ کے نتائج صرف بھٹو کیلئے ہی نہیں بلکہ پاکستان کے تمام دشمنوں کیلئے خطرے کی گھنٹی تھے۔ اس سے قبل پاکستان بڑی تیزی سے صنعتی و زرعی انقلاب کی جانب بڑھ رہا تھا۔ اس جنگ کے بعد پاکستان ایک بھرپوری عسکری قوت کے طور پر بھی دنیا کے سامنے ابھرا۔ عالمی طاقتوں کے سامنے اب تین اہداف تھے۔
-1 ایوب خان کو راستے سے ہٹایا جائے، اور ناپاک اور خائن سیاسی حکمرانوں کو اقتدار منتقل کیا جائے۔
-2 پاکستان کو ٹکڑے ٹکڑے کرکے اس کی افرادی اور عسکری قوت کو تباہ کیا جائے۔
-3 پاکستان میں برپا ہونیوالے بھرپور صنعتی و زرعی انقلاب ہر حال میں روکا جائے۔
ان مقاصد کو پورا کرنے کیلئے مشرقی پاکستان میں مجیب الرحمن اور مغربی پاکستان میں بھٹو کو منتخب کیا گیا۔
65 ءکی جنگ کے بعد کہ جب بھٹو پاکستان کا وزیرخارجہ ہی تھا تو پاکستان اور بھارت کے درمیان روس کے شہر تاشقند میں ایک جنگ بندی کا معاہدہ ہوا، کہ جس میں پاکستان کی جانب سے ایوب خان اور بھٹو اور بھارت کی جانب سے وزیراعظم شاستری نے دستخط کیے۔ تاشقند سے واپس پہنچتے ہی بھٹو نے وزارت سے استعفیٰ دے دیا اور اپنی سیاسی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھ دی۔ عین اسی وقت مشرقی پاکستان میں شیخ مجیب الرحمن نے بھارت کے شہر اگرتلہ میں بھارتی فوج اور را سے رابطہ کرکے مشرقی پاکستان میں مسلح بغاوت برپا کرنے کے مکمل پلان پر عمل درآمد شروع کردیا۔ بعد میں یہ سازش پکڑی بھی گئی اور مشہور ”اگرتلہ سازش کیس“ کے نام سے جانی گئی۔ ایوب خان شیخ مجیب پر غداری کا مقدمہ چلانا چاہتا تھا، مگر بھٹو نے اب مغربی پاکستان میں ایک منظم سیاسی بغاوت کا آغاز کردیا تھا اور اس کیلئے اس نے پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں خصوصاً شیخ مجیب الرحمن کے ساتھ اتحاد کرلیا تھا۔ جس طرح حالیہ دور میں صدر مشرف کے خلاف وکلاءتحریک بڑھتے بڑھتے تمام سیاسی جماعتوں کی طرف سے تحریک مزاحمت بن گئی تھی، بالکل اسی طرح سیاسی جماعتیں ایوب خان کے خلاف منظم و متحد ہوتی چلیں گئیں۔
نوابزادہ نصراللہ خان، جماعت اسلامی، عوامی نیشنل پارٹی اور حتیٰ کہ آج کے دور کے شیخ رشید بھی بھٹو کے ساتھ مل کر ایوب خان کے خلاف ملک میں خانہ جنگی اور فساد برپا کرنے لگے۔ تمام سیاسی جماعتوں نے ایوب حکومت پر دباﺅ ڈالا کہ مجیب الرحمن کے خلاف غداری کے مقدمات کوواپس لیا جائے اور ملک میں نئے انتخابات کروائے جائیں۔ 1969ءتک حالات اس قدر خراب ہوچکے تھے کہ ایوب خان کو استعفیٰ دینا پڑا اور اقتدار اس وقت کے آرمی چیف جنرل یحییٰ خان کے حوالے کردیا، کہ جس نے سیاسی دباﺅ میں آکر ملک میں انتخابات کروانے کا اعلان کردیا۔
اب صورتحال یہ بن چکی تھی کہ مشرقی پاکستان مکمل طور پر مجیب الرحمن اور اس کے دہشت گرد گروہ مکتی باہنی کے کنٹرول میں جا چکا تھا اور مغربی پاکستان میں بھٹو کی پیپلز پارٹی سب سے مضبوط جماعت کے طور پر سامنے آچکی تھی۔
1970 ءکے انتخابات کے نتائج بھی وہی سامنے آئے کہ جو متوقع تھے۔ یعنی مشرقی پاکستان میں مکمل طورپر مکتی باہنی کے دہشت گردوں کے ذریعے مجیب نے اکثریت حاصل کرلی، اور مغربی پاکستان میں بھٹو نے اکثریت حاصل کرلی۔
300 کی قومی اسمبلی میں مجیب کے 160 نشستیں اور بھٹو کی 81 نشستیں تھیں۔
اب صورتحال انتہائی خطرناک ہوچکی تھی اور مکمل طورپر فوج کے کنٹرول سے باہر تھی۔ یحییٰ خان فوجی حکمران تو تھا مگر انتخابات کروانے کے بعد مزید مارشل لاءلگانے کا نہ تو کوئی جواز نہ اور نہ ہی فوج ان سیاسی جماعتوں سے تصادم کا راستہ اختیار کرسکتی تھی۔ مجیب الرحمن کو وزیراعظم بنانے کا مطلب صرف یہ تھا کہ اندرا گاندھی کو پاکستان کا وزیراعظم لگا دیا جائے۔ مگر دوسری جانب اپنی اقتدار کی ہوس کی وجہ سے بھٹو بھی کسی صورت میں مجیب کو وزیراعظم بنتے نہیں دیکھ سکتا تھا۔ ان دو غداروں کی آپس کی جنگ اور حصول اقتدار کی ہوس نے پاکستان کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا۔
(جاری ہے۔۔۔)
سقوط ڈھاکہ عیاری وغداری کی شرمناک داستان.. قسط-5 “Bhutto: Born to be Hanged”
اس سے پہلے کہ ہم سانحہ سقوط ڈھاکہ میں بھٹو کی غداری پر بات کریں، مناسب ہوگا کہ بھٹو کی شخصیت اور کردار کے بارے میں پاکستان میں تعینات برطانوی سفیر کی رائے پڑھ لیں۔ حیرت انگیز طور پر مردم شناس برطانوی سفیر بھٹو کے بارے میں جس قدر سفاک انداز میں سچائی بیان کرتا ہے وہ یقینا حیران کن ہے۔
”یقینا بھٹو کے پاس وہ تمام خصوصیات تھیں کہ جو بلندیوں تک پہنچانے میں مددگار ہوتی ہیں: جوش، سحر انگیزی، تخیل، ذہانت، زندگی کی رنگینیوں کا شوق، فصاحت و بلاغت، توانائی، مضبوط اعصاب، رگ ظرافت اور بہت ہی موٹی کھال۔ایسا امتزاج شاذ و نادر ہی کسی میں پایا جاتا ہے اور یہی بھٹو کے اقتدار کے ایوانوں تک رسائی کا باعث تھا۔ مگر ان سب کے باوجود…. میں کیسے کہوں…. اس کے وجود سے آتش جہنم کی غلیظ بدبو آتی تھی۔وہ حقیقتاً انتہائی درجے تک فاسد شدہ شیطان تھا۔
میرے لیے یہ بالکل واضح تھا کہ اس کے دل میں نہ تو کوئی شرم حیاءہے اور نہ ہی دوسرے انسانوں کیلئے کوئی عزت۔اس کی نظر میں سوائے اس کی اپنی ذات کے کسی اور چیز کی کوئی اہمیت نہیں تھی۔مجھے اس کی ذات میں ایسی سفاکی اور ظلم کرنے کی صلاحیت نظر آئی کہ جو غیر معمولی اور غیر فطری تھی۔اس کی تمام تر صلاحیتوں کے باوجودمجھے پورا یقین تھا کہ ایک دن بھٹو اپنے آپ کو تباہ کروالے گا۔ کب؟ یہ میں نہیں بتا سکتا تھا۔
1965 ءمیں برطانوی ہائی کمشنر کی حیثیت سے اپنے ایک مراسلے میں اپنے نقطے کو واضح کرنے کیلئے میں نے لکھا کہ: ”بھٹو پیدا ہی اس لیے ہوا ہے کہ اس کا انجام پھانسی پر ہو۔“
مجھے اس وقت اندازہ نہیں تھا کہ میرا یہ تبصرہ 14 برس کے بعد اس طرح حقیقت کا روپ دھار لے گا۔“
(سر جیمز مورس، پاکستان میں برطانوی سفیر، 1961-1965ء)
یہی شیطانی ذہنیت اور غلاظت کی حد تک خوشامد کرنے کی صلاحیت بھٹو کو 1950ءکی دہائی میں ہی اقتدار کے ایوانوں تک لے جاچکی تھی۔ صدر پاکستان سکندر مرزا کو لکھے گئے ایک خط میں بھٹو انتہائی بے شرمی اور ڈھٹائی سے لکھتا ہے:” جب بھی پاکستان کی حقیقی تاریخ لکھی جائے گی، تو اس میں آپ کا نام یقینا مسٹر جناح کے نام سے بھی اوپر لکھا جائے گا۔“اور پھر سکندر مرزا کے اقتدار سے ہٹتے ہی بھٹو نے یہی خوشامد اور بوٹ چاٹنے کا عمل جنرل ایوب خان کے ساتھ شروع کردیا اور جلد ہی ایوب خان کو اپنا ”ڈیڈی“ کہنے لگا۔ ایوب خان کی فوجی کابینہ میں بھٹو واحد سویلین تھا، اور اس کو وزارت خارجہ کے عہدے پر فائز کیا گیا۔ بھٹو کی زندگی کا مقصد وزارت خارجہ پر رکنا نہیں بلکہ وزیراعظم بننا تھا، اور اس مقصد کیلئے اس کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ خود اس کا ”ڈیڈی“ تھا۔
یہ وہ دور تھا کہ جب پاکستان میں صنعتی اور زرعی ترقی میں پوری دنیا کو حیران کررہا تھا۔ چین اور جنوبی کوریا کے انجینئر پاکستان آکر تربیت حاصل کررہے تھے، ڈیم اور نہریں بنائی جارہی تھیں، پاکستان ڈیزل انجن، ٹینک اورہوائی جہاز بنانے جارہا تھا اور پی آئی اے دنیا کی بہترین ایئر لائن تھی۔ یہ سب باتیں پاکستان کی دشمن عالمی طاقتوں کے ذہن میں بری طرح کھٹک رہی تھیں۔ ایوب خان نہ صرف ایک مضبوط فوجی حکمران تھے بلکہ ہر دلعزیز بھی۔ ایوب کو اقتدار سے ہٹانے کا صرف ایک ہی طریقہ تھا کہ ان کے خلاف ایک عوامی تحریک چلائی جائے اور اس کیلئے ایوب خان کو ایک جنگ کی ضرورت تھی۔ اس کا مقصد تھا کہ اگر جنگ میں پاکستان کو شکست ہوجاتی ہے تو پھر ایوب خان کو اقتدار سے ہٹانا آسان ہوجائے گا۔
معروف پاکستانی سفارتکار اکرم ذکی اس حوالے سے اپنی ذاتی معلومات کی بنیاد پر کہتے ہیں:
”بھٹو کہا کرتا تھا کہ صدر ایوب خان کو ہٹانے کا ایک ہی طریقہ ہے اور وہ یہ کہ بھارت سے جنگ چھیڑ دی جائے“۔
1965 کے انہی دنوں میں فوجی ہائی کمان میں کشمیر کی تحریک آزادی کی حمایت اور مسلح جدوجہد کے حوالے سے سوچ پائی جاتی تھی۔ بھٹو نے ایوب کو یقین دلایا کہ اگر پاکستان کشمیر پر چڑھائی کردے تو عالمی طاقتیں مداخلت نہیں کریں گی، اور یہ کہ جنگ صرف کشمیر تک ہی محدود رہے گی۔
آپریشن جبرالٹر کا آغاز اگست 1965 ءمیں کیا گیا کہ جس کے تحت پاکستانی کمانڈو دستوں کو مقبوضہ کشمیر میں اتار دیا گیا اور پاکستانی فوج اکھنور پر قبضے کیلئے آگے بڑھنے لگی۔ عین اس وقت یعنی 3 ستمبر 1965 ءکو بھارت میں موجود پاکستانی ہائی کمشنر ارشد حسین نے وزارت خارجہ کو ایک اہم انتباہی ٹیلی گرام بھیجا گیا کہ بھارت 6 ستمبر کو بین الاقوامی سرحد عبور کرکے پاکستان پر حملہ کرنے جارہا ہے۔ یہ مراسلہ بھٹو نے پڑھا اور خاموشی سے اپنی میز پر ہی چھوڑ دیا اور ایوب خان کو اس کی اطلاع نہیں دی۔
اس شدید ترین غداری کا انجام یہ ہوا کہ 6 ستمبر کی صبح دشمن لاہورپر اور پھر سیالکوٹ پر پوری طاقت سے حملہ آور ہوگیا اور نزدیک تھا کہ یہ دونوں شہر پاکستان کے ہاتھ سے ہی نکل جاتے۔ پاک فوج ان شدید حملوں کیلئے بالکل تیار نہیں تھی کیونکہ بھٹو ایک جانب تو یہ یقین دہانی کرائی ہوئی تھی کہ بھارت بین الاقوامی سرحد کے پار حملہ نہیں کرے گا اور دوسری جانب حملے کی اطلاح بروقت ملنے کے باوجود اسے فوجی قیادت تک نہیں پہنچایا گیا۔ یہ ناقابل معافی اور نہ ناقابل تلافی غداری تھی۔ (جاری ہے۔۔۔)
سقوط ڈھاکہ.. عیاری وغداری کی شرمناک داستان قسط-4 غداری اور سرفروشی
جیسا کہ ہم پہلے بیان کرچکے ہیں کہ 1970 ءکے انتخابات کہ جنہیں جھوٹ اور بدنیتی پر مبنی بیانیے کی وجہ سے ”شفاف ترین“ انتخابات کہا جاتا ہے ہی دراصل پاکستان توڑنے کا سبب بنے۔
پاکستان کی قومی اسمبلی کل 300 نشستیں تھیں۔ اس میں سے شیخ مجیب نے مشرقی پاکستان میں 160 نشستیں جیت لیں۔مغربی پاکستان میں بھٹو نے 81 سیٹیں حاصل کیں۔
اول تو شیخ مجیب کی غداری اور مسلح بغاوت کا پلان 1966 ءمیں واضح ہوجانے کے بعد یہ انتخابات کروانا ہی ملک توڑنے کے مترادف تھا، اور مزید رہی سہی کسر پھر بھٹو نے پوری کردی کہ جس نے مغربی پاکستان میں اعلان کردیا کہ جو ممبر قومی اسمبلی ڈھاکہ جا کر پارلیمان کے اجلاس میں شرکت کرے گا، ”میں اس کی ٹانگیں توڑ دوں گا “۔۔۔ اور پھر مجیب کو مخاطب کرکے جلتی پر مزید تیل یہ کہہ کر ڈال دیا کہ ”ادھر تم، ادھر ہم۔۔۔“
شیخ مجیب جوپہلے ہی بغاوت کرکے ملک توڑنے پر تلا ہوا تھا، اس کیلئے بھٹو کے یہ بھڑکا دینے والے بیانات ہی کافی تھے کہ وہ مارچ کی 15 تاریخ کو مکمل آزادی اور بغاوت کا اعلان کردے۔
اس وقت مشرقی پاکستان میں مغربی پاکستان سے تعلق رکھنے والی فوج کے صرف 9 ہزار افسر اور جوان تھے۔ ان کے مقابلے میں 9 ہزار پاک فوج کی وہ بنگالی رجمنٹیں تھیں کہ جنہوں نے پاکستان سے غداری کرکے بغاوت کردی تھی، اور اب دیگر بنگالی پولیس، رینجرز اور مکتی باہنی کے ڈھائی لاکھ دہشت گردوں کے ساتھ مل کر پورے مشرقی پاکستان میں غیر بنگالیوں کا قتل عام شروع کرچکی تھی۔ یہ تاریخ میں پہلا موقع تھا کہ جب پاک فوج کے دستے خود پاک فوج کے خلاف لڑرہے تھے۔ بنگالی افسروں نے بڑی سفاکی اور بے رحمی سے مغربی پاکستان سے تعلق رکھنے والے افسروں اور جوانوں کو شہید کیا، ان کے خاندانوں اور عورتوں اور بچوں کو بے دردی سے بے حرمت کرکے ذبح کیا گیا۔ 15 مارچ سے لیکر 25 مارچ تک مشرقی پاکستان حکومت پاکستان کے ہاتھ سے نکل چکا تھا۔ لاکھوں کی تعداد میں غیر بنگالی پاکستانی مسلمانوں کو پورے مشرقی پاکستان میں ذبح کیا جاچکا تھا۔ ایسی خطرناک صورتحال تھی کہ پورے مشرقی پاکستان کے دفاع کیلئے صرف 9 ہزار پاک فوج چھوٹی چھوٹی ٹکڑیوں کی شکل میں ہر طرف پھیل کر پاکستان کا دفاع کرنے کی آخری کوشش کررہی تھی۔ ایسے میں مغربی پاکستان سے فوج کے دو ڈویژن تقریباً 24 ہزار فوج مزید بھیجی گئی، کہ جس کے پاس صرف رائفلیں اور چھوٹے ہتھیار تھے۔ بھارت اپنی فضائی حدود بند کرچکا تھا، لہذا اس فوج کو پی آئی اے کے طیاروں میں سری لنکا کے ذریعے ڈھاکہ بھجوایا گیا۔ نہ تو اس فوج کے پاس توپخانہ تھا، نہ ٹینکوں کے دستے اور نہ ہی طیارہ شکن توپیں۔ 25 مارچ کو جب یہ فوج ڈھاکہ پہنچ گئی تب مکتی باہنی کی دہشت گردی کے خلاف پہلی منظم کارروائی شروع کی گئی، کہ جو 22 نومبر تک جاری رہی۔ اس دوران پاک فوج نے انتہائی نامساعد حالات اور محدود ترین وسائل کے باوجود جرا ¿ت اور دلیری کے نئے باب رقم کیے۔ بھارتی فوج مکتی باہنی کی صفوں میں باقاعدہ شامل ہوکر پورے مشرقی پاکستان میں گوریلا جنگ کررہی تھی۔ لاکھوں کی تعداد میں بھارتی فوج اور مکتی باہنی کے گوریلوں کے مقابلے میں 34 ہزار کے قریب پاک فوج کے پیادہ دستے پورے مشرقی پاکستان میں اس طرح پھیلے ہوئے تھے کہ کسی ایک مقام پر بھی ایک مکمل یونٹ یعنی تقریباً 800 سے زائد فوج بھی موجود نہ تھی۔ اس کے باوجود نومبر کے آخر تک پاک فوج نے مکتی باہنی کی تمام تر بغاوت اور مزاحمت پر کافی حد تک قابو پا لیا تھا۔ مگر 22 نومبر کو پانچ لاکھ بھارتی فوج چار اطراف سے مشرقی پاکستان پر حملہ آور ہوتی ہے۔
اب جنگ کی صورتحال یہ تھی کہ کئی مقامات پر بھارتی فوج کے ایک ڈویژن (12 ہزار فوج) کے مقابلے میں پاک فوج کی صرف ایک بٹالین (یعنی 800 )کے قریب سپاہی تھے۔ دشمن کے ایک بریگیڈ (یعنی 3000 فوج) کے مقابلے میں پاک فوج کی صرف ایک کمپنی (یعنی صرف150 سپاہی) مزاحمت کررہے تھے۔
جمال پور گریژن کے کرنل سلطان، کمال پور کے کپتان احسن ملک اور ہلی کی پہاڑیوں کا دفاع مشرقی پاکستان کی جنگ کی ایسی رومانوی داستانیں ہیں کہ خود دشمن بھی پاک فوج کی دلیری اوربہادری پر عش عش کر اٹھا۔
بھارتی فوج کے سپہ سالار جنرل مانک شاہ نے بذات خود کپتان احسن ملک کو خط لکھا اور تسلیم کیا کہ کمال پور کا دفاع اتنا شا ندار تھا کہ اس نے پوری بھارتی فوج کو ورطہءحیرت میں ڈال دیا تھا۔کیپٹن احسن ملک نے صرف 40 سپاہیوں کے ساتھ بھارتی فوج کے تین ہزار بھاری فوج کے دستوں کو تین ہفتے تک روکے رکھا۔
ہلی کی جنگ میں ہی مشرقی پاکستان کے محاذ پر پاک فوج کے میجر محمد اکرم کو پہلا نشان حیدر دیا گیا تھا۔ جنرل مانک شاہ پاکستان فوج کی جرات و بہادری کو یوں بیان کرتا ہے:
”پاک فوج مشرقی پاکستان میں انتہائی جانبازی سے لڑی مگر ان کی جیت ناممکن تھی۔ وہ اپنے مرکز سے ایک ہزار میل دور تھے۔میرے پاس تیاری کیلئے آٹھ سے نو ماہ تھے۔ مجھے اپنے حریف پر 50 بمقابلہ 1 کی برتری حاصل تھی۔اس سوال میں ان کے جیتنے کا سوال ہی نہ تھا، مگر پھر بھی وہ جرا ¿ت و بہادری سے لڑے“۔
یہ درست ہے کہ آخر میں ہمیں مشرقی پاکستان میں شکست ہوئی، مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں سب سے زیادہ دلیری اور بے جگری سے لڑنے والی فوج بھی وہی تھی کہ جو مشرقی پاکستان میں اپنے ساتھ پچاس گنا زیادہ بڑے دشمن کے خلاف بڑی بے سروسامانی کے عالم میں یقینی موت کو سامنے دیکھ کر بھی پاکستان کے دفاع کیلئے لڑتی رہی۔
دنیا کی کوئی بھی فوج اپنی صفوں میں غداروں کے ہوتے ہوئے جنگ نہیں جیت سکتی چاہے کتنی ہی سرفروشی اور جانثاری سے کیوں نہ لڑے، اور یہی کچھ پاک فوج کے ساتھ مشرقی پاکستان میں ہوا۔
(جاری ہے۔۔۔)
عیاری وغداری کی شرمناک داستان قسط-3 مشرقی پاکستان.. آگ و خون کا کھیل۔۔۔
آج ہم سقوط ڈھاکہ کے پس منظر میں ہونیوالی اپنوں کی غداریوں اور دشمنوں کی عیاروں پر مزید بات کرتے ہیں۔
آج ایک طائرانہ جائزہ لیں گے کہ اس وقت مشرقی پاکستان اور آج کے بنگلہ دیش میں آگ و خون کا کیا کھیل کھیلا جارہا تھا۔شیخ مجیب کے غنڈوں اور کرائے کے قاتلوں جنہیں دنیا مکتی باہنی کے نام سے جانتی ہے، انہوں نے مشرقی پاکستان میں وہ قتل وغارت گری کی، وہ فساد مچایا، وہ ظلم و ستم کی داستانیں رقم کیں کہ تاریخ ہلاکو خان اور ہٹلر کو بھول گئی۔ ظلم و ستم کی ایسی داستانیں کی جنہیں پڑھ کر انسانیت شرما جائے۔
ایک اور جھوٹ جو پاکستان میں آج تک بولا جاتا ہے وہ یہ کہ 1970 کے انتخابات پاکستان کی تاریخ کے شفاف ترین انتخابات تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ پورے مشرقی پاکستان میں مکمل طور پر مجیب کی دہشت گرد تنظیم مکتی با ہنی کی حکومت تھی اور مجیب کے کسی مخالف کو کھڑا ہونے یا الیکشن جیتنے کی اجازت ہی نہیں دی گئی۔
1966 ءمیں ہی جب اگرتلہ سازش پکڑی گئی تھی توواضح ہوچکا تھا کہ شیخ مجیب ایک کھلا غدار ہے اور مکتی باہنی جیسی دہشت گرد تنظیم بنا کر ریاست پاکستان کے خلاف بغاوت کرنا چاہتا ہے۔ اس کے باوجود مجیب کی جماعت کو اپنے دہشت گرد دستوں کے ساتھ مشرقی پاکستان میں انتخاب لڑوانا ہی ایک ایسی خوفناک غلطی تھی کہ جس کا انجام پھر سقوط ڈھاکہ پر ہی منتج ہونا تھا۔
مکتی باہنی اور مجیب الرحمن نے مارچ 1971 ءکے بعد مشرقی پاکستان میں مکمل طور پر اعلان بغاوت کرکے پاکستان کے خلاف مسلح کارروائیوں کا آغاز کردیا تھا۔ پورے مشرقی پاکستان میں پھیلے ہوئے لاکھوں محب وطن پاکستانی، کہ جن میں بنگالی اور غیر بنگالی دونوں شامل تھے، مکتی باہنی کے ہاتھوں بری طرح سے ذبح کیے جارہے تھے۔ لاکھوں پاکستانیوں کو قتل کیا گیا، ان کی عورتوں کی بے حرمتی کی گئی اورآگ و خون کا وہ شیطانی کھیل کھیلا گیا کہ 1947 کے فسادات بھی ان کے آگے شرما گئے۔ مارچ 1971 ءسے لیکر اور سقوط ڈھاکہ کے کئی ماہ بعد تک مکتی با ہنی کے دہشت گرد پورے مشرقی پاکستان میں چن چن کر پاکستان سے پیار کرنے والوں کو قتل کرتے رہے۔ سقوط ڈھاکہ کے بعد تو خاص طور پر ہزاروں کی تعداد میں ان بنگالیوں اور بہاریوں کو قتل کیا گیا کہ جنہوں نے پاکستان کا ساتھ دیا تھا اور اب ان کی حفاظت کیلئے پاک فوج وہاں موجود نہیں تھی۔
ڈھاکہ ریس کورس گراﺅنڈ میں میلا لگایا جاتا ، جہاں مکتی باہنی کے غنڈے محب وطن پاکستانیوں کو مجمع کے سامنے سنگینیں مار کر قتل کرتے۔ مکتی باہنی کا قصائی قادر صدیقی کہ جس نے 17 ہزار گوریلوں پر مبنی اپنی ایک الگ دہشت گرد فوج بنا رکھی تھی، اور جو براہ راست شیخ مجیب الرحمن سے حکم لیتا تھا کے بارے میں ایک غیر ملکی صحافی لارنس لفشلٹنر کیا لکھتی ہیں، آپ خود ملاحظہ کریں:”مکتی باہنی کے رہنما عبدالقادر صدیقی نے خود بندوق کی سنگینوں سے تین قیدیوں(محب وطن پاکستانیوں) کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔اس پورے واقعے کی غیر ملکی عملے نے فلم بنائی،جس کو صدیقی نے یہ تماشا دکھانے کیلئے خاص طورپر مدعوکیا تھا“۔
یہی درندہ بعد میں نہ صرف بنگلہ دیش کی قومی اسمبلی کا رکن بھی رہا، بلکہ اسے بنگلہ دیش حکومت کی طرف سے سرکاری اعزاز ” بر اتم“ سے بھی نوازا گیا۔
بنگالی ماہر تعلیم پروفیسر ڈاکٹر عبدالمومن مکتی با ہنی کے ظلم و ستم کے حوالے سے کہتے ہیں:
”پاکستان جمہوری پارٹی کے نائب صدراور پاکستان کے سابق وزیر تجارت مولوی فرید احمدکو ڈھاکہ میں نظر بند کیا گیا۔پہلے انہیں کوڑے مارے گئے،پھر ان کی جلد پر تیز بلیڈوں سے کٹ لگائے گئے،اور زخموں پر نمک پاشی کی گئی،اس وحشیانہ سلوک کے بعد انہیں موت کی نیند سلا دیا گیا،جوش و جنون میں ان کی لاش کو مسخ کرکے اس کی بے حرمتی بھی کی گئی۔“
اس طرح کے ہزاروں واقعات تاریخ کی کتابوں میں درج ہیں۔
یہ درست ہے کہ اس جنگ میں کم از کم 5 لاکھ لوگ مشرقی پاکستان میں قتل ہوئے، مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کو مکتی باہنی کے دہشت گردوں اور بھارتی فوج نے قتل کیا۔
سانحہ مشرقی پاکستان کے تقریباً 40 برس بعد ایک بھارتی ہندو بنگالی خاتون شرمیلا بوس نے بالآخر ایک طویل تحقیقی جدوجہد کے بعد اس حقیقت سے پردہ اٹھایا کہ پاک فوج پر لگنے والے تمام الزامات صرف جھوٹ اور پراپیگنڈہ پر مبنی تھے اور ان کا مقصد بھارت کے سیاسی اور عسکری مقاصد کو پورا کرنا تھا۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ یہ تحقیق بھی ایک سچ بولنے والی ہندو عورت نے ہی کی، مگر پاکستان میں سرکاری یا علمی طور پر ایسی کوئی تحقیق کبھی بھی نہیں کروائی گئی۔ پچھلی کئی دہائیوں سے صرف دشمن ہی کے دیئے ہوئے جھوٹے اور خرافاتی بیانیے پر معذرت خواہانہ رویہ اختیار رکھا گیا۔
1974 ءمیں پاکستان کے ایک معروف سفارتکار قطب الدین عزیز صاحب نے مشرقی پاکستان سے آنے والے سینکڑوں خاندانوں اور افراد کا ذاتی طور پر انٹرویوکرکے ایک کتاب کی شکل میں وہ پورا ریکارڈ تیار کردیا تھا کہ جس میں مکتی باہنی کے مظالم اور نسل کشی کو مکمل طور پر بے نقاب کیا گیا تھا۔ مگر اس کے باوجود نہ تو اس کتاب کو کوئی سرکاری پذیرائی دی گئی اور نہ ہی اس کی بنیاد پرکوئی قومی بیانیہ ترتیب دیا گیا، بلکہ آج یہ کتاب ہی تاریخ کے اوراق سے غائب کردی گئی ہے۔
جاری ہے۔۔۔
سقوط ڈھاکہ ..عیاری وغداری کی شرمناک داستان قسط-2
پچھلے کالم میں بات ہورہی تھی کہ 71 ءکی جنگ کے بعد کس نے اورکیوں افواج پاکستان کے قیدیوں کی تعداد کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا۔ اس پر مزید بات کرتے ہیں۔
جیسے کہ بتایا جاچکا ہے کہ مشرقی پاکستان میں پاک فوج کی صرف ایک کور تھی۔ عام حالات میں ایک کور میں 50 ہزار کے قریب فوج ہوتی ہے، مگر مشرقی پاکستان میں ٹینکوں اور توپخانے کے دستوں کی غیر موجودگی کی وجہ سے یہ ایک کور بھی پوری نہ تھی۔ اس کے علاوہ پاک فوج میں موجود کئی بنگالی رجمنٹوں نے بغاوت بھی کردی تھی اور بھارتی فوج اور مکتی باہنی کے ساتھ ملکر پاک فوج کے خلاف ہی لڑنا شروع ہوگئے تھے۔ اس صورتحال میں پاک فوج کی زیادہ سے زیادہ تعداد صرف 32 ہزار سے 35 ہزار تک تھی۔ 8 ماہ کی جنگ میں اس میں سے بھی کوئی 5 ہزار کے قریب شہید یا زخمی ہوچکے تھے۔ لہذا کسی صورت میں بھی پاک فوج کی تعداد 30-35 سے زیادہ نہ تھی۔ اگر ان کے خاندانوں، عورتوں اوربچوں اور حکومت پاکستان کے دیگر سویلین ملازمین کو بھی شامل کرلیا جائے تو کل ملا کر قیدیوں کی تعداد 40-45 ہزار کے درمیان ہی بنتی تھی۔ دشمن، عالمی طاقتیں اور خود ذوالفقار علی بھٹو بھی اس حقیقت سے بہت اچھی طرح واقف تھے۔
”اگر پاکستان میں جمہوریت جاری رہتی تو اسلام آباد کو اس سانحے سے گزرنا ہی نہ پڑتا کہ جس کے نتیجے میں مشرقی پاکستان میں 40 ہزار فوجیوں کو ہتھیار ڈالنے پڑے۔“ کرشن چندر پنت ، سابق بھارتی وزیر دفاع
”1971 ءمیں ڈھاکہ میں 35 ہزار پاکستانی فوجیوں کا 2 لاکھ بھارتی فوجیوں اورا ن کے تربیت یافتہ ایک لاکھ سے زائد بنگالیوں کے خلاف لڑنا، یقینی طور پر ناممکن تھا“چارلس ولسن ، رکن امریکی کانگریس
اب سوال یہ ہے کہ بھارت کی جانب سے ”90 ہزار“ قیدیوں کا پراپیگنڈہ تو سمجھ میں آتا ہے، مگر اس وقت کی حکومت کیوں اس جھوٹ کولیکر آگے پھیلاتی رہی۔
پاکستان میں اس وقت بھٹوکی حکومت تھی کہ جو خود سقوط ڈھاکہ کا ایک مرکزی مجرم تھا۔اس کی زندگی کا مقصد ہی پاکستان کو توڑ کر اور پاک فوج کو رسوا کرکے اقتدار پر قبضہ کرنا تھا۔ لہذا بھارت کے شرمناک بیانیے کے جواب میں حقیقت اور سچائی پر مبنی بیانیے کو پیش کرنا ہی بھٹو کے ذاتی و سیاسی مفادات کے خلاف تھا، چنانچہ پاکستان میں سانحہ مشرقی پاکستان پر ایک طرح سے سرکاری خاموشی اختیار کرلی گئی، نہ تو حقیقت بیان کی گئی، نہ ہی دشمن کے بیانیے کو رد کیا گیا اور نہ ہی سرکاری طور پر سانحہ مشرقی پاکستان کے مجرموں کو کوئی سزا دی گئی۔ حمود الرحمن کمیشن رپورٹ بھٹو نے صرف اس لیے بنوائی تھی کہ اپنے پسندیدہ جج کے ذریعے شکست اور ذلت کا سارا ملبہ پاک فوج پر گرا کر اپنے اوردیگر سیاسی جماعتوں کے ناپاک کردار پر پردہ ڈال سکے۔
بھٹو اور مجیب کا پاکستان توڑنے میں ناپاک کردار 1965 ءکی جنگ کے بعد ہی شروع ہوچکا تھا۔ یہ وہ دور تھا کہ جب پاکستان پوری دنیا میں عزت ووقار کے ساتھ ایک عظیم ترعالمی صنعتی طاقت کے طور پر ابھر رہا تھا۔ ایوب خان کا سنہری دور حکومت پاکستان میں زرعی اور صنعتی انقلاب برپا کرچکا تھا۔ دس سے زائد ڈیم بنائے جاچکے تھے، دنیا کا سب سے بڑا نہری نظام تعمیر کیا جارہا تھا اور پاکستان کی صنعتیں اس قدر ترقی کرچکی تھیں کہ ہم ملک میں ہی ڈیزل انجن اور ٹینک بنانے جارہے تھے۔ 65 ءکی جنگ میں پاکستان نے پوری دنیا کو حیران بھی کیا تھا اور دشمنوں کوپریشان بھی۔ اسی لیے اس جنگ کے خاتمے کے فوراً بعد ہی عالمی طاقتوں نے پاکستان کے خلاف بھرپور سازشوں کا آغاز کردیا تھا کہ جن کا مقصد یہ تھا:
-1 ایوب خان کو فوری طورپر اقتدار سے ہٹا کر ایسے افراد کو طاقت میں لایا جائے کہ جو پاکستان کی صنعتی ترقی کو تباہ وبرباد کرسکیں۔
-2 مشرقی پاکستان کو پاکستان سے علیحدہ کردیا جائے۔
-3 65 ءکی جنگ میں افواج پاکستان نے جو دنیا میں عزت کمائی تھی اسے مٹی میں ملا کر قوم کے سامنے اسے رسوا کیا جائے۔
اس مشن کو پورا کرنے کیلئے بھارت، روس، امریکہ اور اسرائیل نے ذوالفقار علی بھٹو اور شیخ مجیب الرحمن کا انتخاب کیا۔ 65 ءکی جنگ کے فوراً بعد ہی ذواالفقار علی بھٹو کہ جو ایوب خان کو اپنا ”ڈیڈی“ کہتا تھا، اور ایوب حکومت میں وزیر خارجہ تھا، حکومت سے الگ ہوکر سوشلسٹ نظریات پر پاکستان پیپلز پارٹی قائم کرتا ہے اور پورے ملک میں ایوب خان کو ہٹانے کیلئے تحریک کا آغاز کردیتا ہے۔
دوسری جانب مشرقی پاکستان میں اگرتلہ سازش پکڑی جاتی ہے کہ جس میں واضح ہوجاتا ہے کہ شیخ مجیب الرحمن بھارت کے ساتھ ملکر مشرقی پاکستان میں مسلح بغاوت برپا کرنا چاہتا ہے اور ا س کیلئے مکتی باہنی جیسے دہشت گرد گروہ کو تیار کیا جارہا تھا۔اب کھیل بالکل واضح ہوچکا تھا، مشرقی پاکستان میں مسلح بغاوت برپا ہونی تھی، اور مغربی پاکستان میں ایوب خان کی حکومت کا تختہ الٹنے کا کام بھٹو کو دیا جاچکا تھا، تاکہ اسے اقتدار میں لا کر پاکستان کی تمام صنعتوں کو حکومتی ملکیت میں لے کر تباہ کردیا جائے۔واضح رہے کہ بھٹو نے اقتدار میں آنے کے فوراً بعد ہی پاکستان کی تمام صنعتوں کو قومیا کر مکمل تباہ و برباد کردیا کہ جس بربادی سے آج تک پاکستان نکل نہیں سکا ہے۔
جاری ہے۔۔۔
سقوط ڈھاکہ.. عیاری وغداری کی شرمناک داستان
قسط-1
سقوط ڈھاکہ ہماری تاریخ کا ایک المناک اورعبرتناک باب ہے۔ غیروں اور دشمنوں کی مکاری اور سازشوں سے تو ہمیں کوئی شکایت نہیں کہ ان کا تو قیام پاکستان سے ہی یہی کردار رہا ہے، مگر دکھ تو اپنوں کی غداری اور حماقتوں کا ہے کہ جس کے سبب پاک سرزمین کو اس قدر گہرا زخم برداشت کرنا پڑا کہ مشرک دشمن بھی اپنے تکبر میں بول پڑا کہ ”آج ہم نے مسلمانوں کے ہزار سالہ دور حکمرانی کا بدلہ لے لیا ہے“۔
سقوط ڈھاکہ کا دکھ تو اپنی جگہ، مزید تکلیف دہ امر یہ ہے کہ سانحہ کے تقریباً نصف صدی کے بعد بھی ہم بحیثیت ریاست اور قوم نہ تو اس سانحے سے کوئی سبق سیکھ سکے اور نہ ہی ریکارڈ ہی درست کرسکے کہ وہاں ہوا کیا تھا۔
پچھلے پچاس برس سے ایک شرمناک پراپیگنڈہ دشمن کی جانب سے کیا جاتا رہا ہے کہ جسے ہماری صفوں میں موجود غدار اور جاہل دونوں ہی بغیر سوچے سمجھے آنے والی نسلوں کے ذہنوں میں زہر کی طرح گھولتے رہے ہیں۔ نہ توریاست پاکستان نے، نہ حکومتوں نے، نہ میڈیا نے اور نہ ہی دانشوروں نے تاریخ و دلیل کی بنیاد پر دشمنوں کے ناپاک پراپیگنڈے کا جواب دیا۔ حیرانی اور ا فسوس کی بات تو یہ ہے کہ خود پاک فوج نے بھی سرکاری طور پر مشرقی پاکستان کی تاریخ اور حقائق پر کوئی مستند بیانیہ قائم نہیں کیا۔دو نسلیں گزر گئیں اور ابھی تک جھوٹ، افواہ، پراپیگنڈہ اور خرافات پر مبنی بیانیہ نسل در نسل آگے لے جایا جارہا ہے۔
سقوط ڈھاکہ کے بعد حکومت پاکستان اور پاک فوج کے تمام ریکارڈ اورکاغذات دشمن کے قبضے میں چلے گئے تھے۔ دنیا نے پھر وہی بیانیہ قبول کیا کہ جو جنگ میں کامیابی حاصل کرنے والے مکار دشمن نے پیش کیا۔ مشرقی پاکستان کے حوالے سے بھارت کا سب سے ناپاک پراپیگنڈہ کہ جو آج تک جاری ہے وہ یہ ہے:
٭ 92 ہزار پاکستانی فوجیوں نے ہتھیار ڈال دیئے۔
٭ پاک فوج نے 30 لاکھ بنگالیوں کا قتل عام کیا۔
٭ پاک فوج نے دس لاکھ بنگالی عورتوں کی عصمت دری کی۔
حقیقت یہ ہے کہ مشرقی پاکستان میں پاک فوج کی صرف ایک ”کور“ تھی کہ جس کی کمانڈ ایک لیفٹیننٹ جنرل کررہا تھا۔ مشرقی کمانڈ میں موجود اس کور میں بھی مکمل نفری نہیں تھی۔ توپخانے اور ٹینکوں کی رجمنٹوں کے بغیر صرف انفنٹری (پیادہ فوج) کے تین ڈویژن تھے، کہ جن میں سپاہ کی کل تعداد 36 ہزار سے بھی کم تھی۔ جب فوج کی مکمل تعداد ہی 36 ہزار سے کم تھی تو 92 ہزار سپاہیوں نے کس طرح ہتھیار ڈال دیئے؟
یہ ایک ایسی تاریخی گمراہی ہے کہ جسے نسل در نسل خود پاکستانی قوم میں ایک منظم سازش کے تحت پھیلایا جاتا رہا کہ جس کا مقصد قوم میں احساس ذلت و رسوائی بڑھانا اور پاک فوج کو ذلیل کرنا تھا۔ حیرانی کی بات تو یہ ہے کہ آج تک سرکاری طور پر پاکستان کی جانب سے اس جھوٹے بھارتی بیانیے کو رد کرکے تاریخ کو از سر نو بیان ہی نہیں کیا گیا۔ کیوں حکومتیں اور فوج اس جھوٹے بیانیے پر خاموش رہے، اس کا جواب تو انہی کو دینا ہے، مگر حقیقت وہی ہے کہ جو ہم بیان کررہے ہیں۔
32 سے 35 ہزار عسکری جنگی قیدیوں کے ساتھ چند ہزار سویلین بھی تھے کہ جو حکومت پاکستان کے ملازم تھے کہ جو مشرقی پاکستان میں اپنے فرائض سرانجام دے رہے تھے اور اپنے خاندان، عورتوں اور بچوں کے ساتھ وہیں رہائش پذیر تھے۔ کل ملا کر یہ تعداد 45 ہزارکے قریب تھی۔ 45 ہزار کو بڑھا چڑھا کر 92 ہزار کیوں بنایا گیا، اس کی وجوہات کیا ہیں؟ اس شرمناک پراپیگنڈے کو پاکستان میں پروان کس نے چڑھایا؟ اگلے کالم میں بیان کریں گے۔
جاری ہے۔۔۔
بیاباں کی شب تاریک میں قندیل رہبانی۔۔۔
۔تحریر: سید زید زمان حامد
آج
سے جمعیت علمائے ہند کی پاکستانی شاخ نے پورے ملک کو بند کرنا شروع کردیا
ہے۔ ملک میں فساد اور خانہ جنگی کروانہ مودی اور ددول کے اس پلان کا حصہ ہے
کہ جس کے تحت کشمیر پر قبضے کے بعد ہندو مشرکوں نے آزاد کشمیر اور باقی
پاکستان پر قبضے کیلئے راہ ہموار کرنی ہے۔
جوکچھ
ہورہا ہے وہ نہ تو اتفاق ہے اور نہ ہی غیر متوقع۔ ہم 5 اگست کے بعد سے ہی
لمحہ بہ لمحہ بدلتی دشمن کی حکمت عملی اور ہماری صفوں میں موجود غداروں کی
بد عملی و سازش کے بارے میں قوم کو آگاہ کرتے آئے ہیں۔مگر افسوس! نہ حکومت
کے کان پر جوں رینگی، نہ اہل اقتدار اشرافیہ کے۔۔۔!وہ جنگ جس کو ہم نے
مقبوضہ کشمیرکے اندر اور بھارت کی سرحدوں کے پیچھے لڑنا تھا، اب ہماری صفوں
کے درمیان اور ہماری سرحدوں کے اندر لڑی جائے گی۔اوروں کی عیاری بھی ہے
اور اپنوں کی غداری بھی!آج سے ملک بند ہونا شروع ہوجائے گا۔
تاریخ ہمیں یہ تکلیف دہ سبق دیتی ہے کہ تباہ ہونیوالی ریاستوں کے حکمران تقریباً ایک ہی جیسی صفات رکھتے ہیں۔-1 کم علم اور غیر تجربہ کار۔-2 کمینے اور گھٹیا مشیر-3 غداروں کو ڈھیل-4 عمل میں تذبذب و تاخیر کے شکار۔
تاریخ
انسانی میں جتنی بھی عظیم الشان سلطنتیں تھیں، بالآخر انہی وجوہات کی بنا
پر گلنے سڑنے لگیں اور پھر سمٹتی سمٹتی دنیا کے نقشے سے ہی تحلیل
ہوگئیں۔چاہے رومن امیپائر ہو، سلطنت فارس ہو، خلافت عثمانیہ ہو یا پھر
سلطنت مغلیہ۔ ان کے زوال کے اسباب آج مکمل طور پر پاکستانی معاشرے میں بھی
موجود ہیں۔
5 اگست کے بعد کہ جب ہمارے مشرک
دشمنوں نے کشمیر پر قبضے کے بعد پاکستان کے خلاف ایک نئی جنگ کا آغاز کیا،
آج تک ریاست پاکستان نے انتہائی دفاعی، معذرت خواہانہ اور شکست خوردہ رویہ
اختیارکیے رکھا ہے۔ ہر میدان میں دشمن ہی پہل کررہا ہے اور ہم صرف خوفزدہ
انداز میں آگ بھجانے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔آج بات یہاں تک پہنچ چکی ہے
کہ کرفیو کو تقریباً 100 دن ہونے والے ہیں اور جان و مال و عزت کے نقصان سے
زیادہ شدید ترین نقصان جو پاکستان کو اٹھانا پڑا ہے وہ اس اعتبار کا ٹوٹ
جانا ہے کہ جو کشمیریوں کو حد سے بڑھ کر پاکستان پر تھا۔ مایوسی اور بے
یقینی کی ایسی خوفناک فضاءکشمیر میں پہلے کبھی نہ تھی۔
بہرحال،
اب حالات ایسے نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ اب وہ نہ تو حکومت پاکستان کے
کنٹرول میں ہے، اور نہ ہی فوج کے۔ دشمن آگے بڑھ کر ایک سے ایک خطرناک چالیں
چل رہا ہے اور اپنی مرضی سے میدان جنگ کے مقام اور وقت کا تعین کرتا ہے۔یہ
بہت خطرناک صورتحال ہے۔
اگر ہم قوم کو خطرات سے
آگاہ کریں تو بے غیرت کہتے ہیں کہ آپ قوم کو خوف میں مبتلا کررہے ہیں۔اگر
خطرات سے آگاہ نہ کریں اور قوم بے خبری میں ماری جائے تو کہیں گے کہ پہلے
کیوں نہیں بتایا تھا۔۔۔؟
ہم نے جس جنگ سے بچنے
کیلئے ذلت و رسوائی کا راستہ اختیارکیا، وہ جنگ تو اللہ اوراسکے رسولﷺ نے
ہمارے نصیب میں ہمیشہ سے لکھی ہوئی ہے۔ ہم جتنا بچنے کی کوشش کریں گے، پہلے
اتنے ہی ذلیل کیے جائیں گے، یہاں تک کہ اللہ ہمیں مجبور کردے گا کہ اپنے
دین، جان و مال و عزت کی حفاظت کیلئے اعلان جہاد کریں۔
یہ
فقیر پچھلے 10 برس سے اس قوم کو خطرات سے پہلے آگاہ کرتا چلا آیا ہے۔ اللہ
نے ہمیشہ عزت رکھی کہ ہماری کہی ہوئی کوئی ایک بات بھی غلط ثابت نہیں
ہوئی۔جب ہماری بات پر عمل کیا تو اس میں ملک و قوم کیلئے خیر ہوئی۔ جب
ہماری بات کو رد کیا تو اس میں ملک و قوم کا نقصان ہوا۔
آنے
والا وقت اب پاکستانیوں کیلئے بہت سخت ہوگا۔ اس کشتی میں ہم سب اکٹھے سوار
ہیں۔ غدار کسی بھی کونے میں سوراخ کرے، ڈوبیں گے سبھی۔ حکمران وقت نے بہت
دیر کردی۔ بہت دیر کردی۔۔۔اب کفارہ آگ و خون کے دریا سے گزر کر ہی ادا
ہوگا۔
اب بھی ہم آپ کو بتارہے ہیں کہ گو کہ بہت
دیر ہوچکی ہے، مگر پھر بھی حکومت وقت عزت و غیرت کا راستہ اختیار کرے تو
حکومت بھی عزت پائے گی، اور اسکے خلاف ہونیوالی سازشوں کا بھی خاتمہ ہوجائے
گا۔ کرنا کیا ہے۔ وہ ہم سینکڑوں دفعہ پہلے بتا چکے ہیں۔ پھر بتا دیں گے
اگر حکومت میں کوئی سنجیدہ ہو تو۔۔۔!
امتی ھیں جو باعث رسوای پیغمبر ھیں۔
ھم
پاکستانی اب صرف ایک ھجوم آبادی بن چکے ھیں۔ تین نسلوں نے آنے والی نسلوں
کی تربیت کے لیے کچھ بھی نہ کیا۔۔۔ ھر آنے والی نسل پچھلی نسل کے مقابلے
میں زیادہ جاھل، بے ادب، بد تہذیب اور اپی روحانی و نظریاتی اساس سے دور
ھے۔ بہت بھاری نقصان ھو چکا ھے اور ھو
رھا ھے مگر حکومت و اشرافیہ کی توجہ اور سطحی معاملات پر ھے۔
اس قدر جہالت عام ھو چکی ھے، اس قدر بے حسی اور بیغیرتی ھے کہ خوف آتا ھے کہ اللہ اس قوم کو کہیں تبدیل ھی نہ کر دے۔
ایسا قحط الرجال کا دور ھے کہ نہ سیاست میں نہ علما میں نہ معاشرے
میں۔۔ کوی مرد کا شیر دلیر بچہ، نگاہ بلند، سخن دلنواز اور جاں پرسوز نظر
ھی نہیں آتا۔۔۔ کیوں ھماری ماوں نے ایسے بیٹے پیدا کرنے بند کر دیے ھیں اور
اب صرف بلاول و مریم ھی اس قوم کی قیادت ریہ گیء
ھے؟ اس تصور سے ھی ایک غیرت مند قوم کو ابکای آ جانی چاہیے تھی کہ اگر
اسکو موجودہ سیاسی قیادت میں سے ھی رہنما چننے پڑیں مگر ھم اسی غلاظت کو
عزت دیکر اسی پر راضی ھیں۔ پھر ذلت و رسوای و بھوک و خوف کے عذاب ھم پر
کیوں مسلط نہ ھوں؟
ھم تو وہ مسلماں ہیں کہ جنھیں دیکھ کر شرمایں یہود اور ایسے امتی ھیں جو باعث رسوای پیغمبر ھیں۔۔۔۔ استغفراللہ۔۔۔
اس قوم نے نہ عظیم قیادت دیکھی ھے نہ عظمت رفتہ کے جلال سے واقف ھے۔
جاھل قیادت، جاھل قوم، علماء سو، آوارہ دانشور، منتشر معاشرہ۔۔۔۔اللہ
کے نظام عدل و شریعت سے نفرت کرنے والوں کا پھر یھی انجام ھوتا ھے۔
پاکستانی اب اپنی خیر منایں۔۔۔اس پاکستان پر تو سایہ خداے ذوالجلال ھے۔ اسکی خیر ھے، مگر پاکستانیوں کی سختی آ گیء ھے۔۔۔
براس ٹیکس کی کہانی
آئیے
ہم آپ کو ایک ایسی دا ستان سنائیں کہ جو اس سے قبل آپ نے کبھی نہیں سنی
ہوگی۔ یہ تحریک پاکستان کے احیاءاورپاکستان کے دفاع کے مشن کی عشق و جنون
سے لبریز ایک ایسی حکایت ہے کہ جس میں خونِ جگر بھی ہے اور قوت حیدری
بھی،وسعت وفلاک میں تکبیر مسلسل بھی ہے،اور رزم و حق و باطل بھی!یہ عشق و
مستی کی ایک ایسی رومانوی داستان ہے کہ جو حقیقت سے زیادہ ایک دیومالا لگتی
ہے، مگراس کی رگ رگ سے حقیقت کا سوز ٹپکتا ہے۔
یہ
۵۰۰۲ءکا ذکر ہے۔ صدر مشرف اپنے سیاسی اقتدار کے عروج پر تھے۔یہی وہ وقت
تھا کہ جب سی آئی اے نے را کے سا تھ مل کر پاکستان کے حصے بخرے کرنے کی ایک
گھناﺅنی سازش گھڑی، کہ جس کے مطابق آنے والے دس سالوں میں یعنی ۵۱۰۲ءتک
پاکستان کو یوگو سلاویہ کی طرز پر توڑ دیا جانا تھا۔ سی آئی اے کے پاس اپنے
اس منصوبے کی کامیابی کے یقین کیلئے ٹھوس وجوہات موجود تھیں۔ سچ تو یہ ہے
کہ جنرل مشرف نے بھی پاکستان کو دانستہ یا نادانستہ طور پر سی آئی اے اور
را کے حوالے ہی کردیا تھا۔ اس دور میں تحریک طالبان پاکستان کے خوارج کی
ملک میں دہشت گردی کی کارروائیاں زور پکڑ رہی تھیں۔ بلوچستان غیر ملکی دہشت
گردی کی زد میں تھا۔کراچی میں ایم کیو ایم سب سے طاقتور مافیا بن چکی تھی۔
پاک فوج کی کوئی واضح سمت نہ تھی اور وہ اکیسویں صدی کے جدید خطرات کو
سمجھ نہ پارہی تھی۔ قوم تقسیم در تقسیم ہوتی چلی جارہی تھی۔ پاکستان کی
تاریخ میں پہلی بار پاک فوج اور عوام میں دراڑ واضح نظر آرہی تھی۔صوبہ سرحد
میں جمعیت علمائے اسلام اور جماعت اسلامی اقتدار میں تھیں، اور سوات اور
دیگر قبائلی علاقہ جات میں تحریک طالبان کے جڑیں پھیلانے میں پوری طرح ان
کی مدد کررہی تھیں۔ جیو گروپ اور سیفما نے پاک فوج اور آئی ایس آئی کے خلاف
ایک انتہائی جارحانہ اور زہریلی میڈیا جنگ چھیڑ رکھی تھی کہ جس کا مقصد
پاکستان کی روحانی اساس یعنی دو قومی نظریے اور اسلام بطور ِنظریہءحیات کو
ختم کرنا تھا۔ شوکت عزیز جیسا اقتصادی غارتگر غیر ملکی بھیڑیوں کے ہاتھوں
پاکستان کا سودا کررہا تھا۔صدر مشرف کا مشیر خاص طارق عزیز، کہ جو ایک
قادیانی تھا، مملکت پاکستان کا ہر راز سی آئی اے اور MI-6 تک پہنچا رہا
تھا۔سی آئی اے پہلے ہی مشرف کو ہٹا کر زرداری، رحمن ملک، حسین
حقانی اور افتخار چوہدری کو لانے کا منصوبہ بنا چکی تھی، کہ جس کے بعد
چوتھی اور پانچویں نسل کی اس جنگ (4th & 5th Generation Warfare) کے
آخری مرحلے میں اقتصادی دہشت گردوں، سیاسی غداروں، جیو، ٹی ٹی پی، بی ایل
اے اور ایم کیو ایم کی مدد سے ۵۱۰۲ءتک پاکستان کے حصے بخرے کیے جانے تھے۔
حقیقت
تو یہ ہے کہ سی آئی اے اور را کا ۵۰۰۲ءمیں قائم کیا گیا یہ منصوبہ بہت
کامیابی سے روبہ عمل تھا۔ ۷۰۰۲ءمیں مشرف کو سی آئی اے اور را کی امداد سے
چلنے والی وکلاءتحریک کے ذریعے ہٹا دیا گیا۔ بینظیر بھٹو کو قتل کیا گیا
اور پھر اقتدار پوری طرح سے زرداری، رحمن ملک اور حسین حقانی پر مشتمل غدار
ٹولے کے ہاتھ میں آگیا۔ اسی دور میں ٹی ٹی پی نے سوات میں اور ایم کیو ایم
نے کراچی میں پورے زور و شور سے بغاوت برپا کردی۔ بی ایل اے پہلے ہی
بلوچستان میں گیس پائپ لائنوں ، بجلی کے نظام اور مسلح افواج پر حملے کررہی
تھی۔ اس وقت پاکستانی فوج کا سپہ سالار جنرل کیانی تھا،کہ جو پاکستان
کیلئے تباہی کی ایک اور بڑی علامت تھا۔لیکن سب سے بڑا کھیل سپریم کورٹ میں
کھیلا گیا کہ جہاں افتخار چوہدری کو عدلیہ کے ذریعے ریاست کے انہدام کی ذمہ
داری سونپ دی گئی، اور اس انہدام کیلئے جو ہتھیارافتخارچوہدری نے استعمال
کیا وہ تھا ”سوموٹو“!
ہم(براس ٹیکس) نے ۲۰۰۲ء
میں ہی اس ساری صورتحال کو بھانپ لیا تھا۔ اگلے پانچ سال تک ہم نے مشرف کے
ساتھ کام کیا اور اس دوران ہم انہیں سی آئی اے اور را کے عزائم اور منصوبوں
سے آگاہ کرنے کی کوششیں کرتے رہے، مگر انہوںنے ہماری باتوں پر کوئی خاص
کان نہ دھرا۔ ۴۰۰۲ءمیں آرمی ہاﺅس پنڈی میں مشرف سے ہونیوالی اپنی چار
گھنٹوں پر مشتمل طویل ملاقات میں، میں نے پاکستان کو لاحق خطرات کے تمام
پہلوﺅں کو اجاگر کیا اور مشرف کو خبردار کیا کہ وہ تباہی کی طرف بڑھ رہے
ہیں اور حالات جس سمت میں جارہے ہیں وہ ان کی حکومت کے خاتمے اور ان پر
مقدمات قائم ہونے پر اختتام پذیر ہونگے۔ وہ اس تجزیے پر چونکے تو ضرور، مگر
اس کو خاطر خواہ سنجیدگی سے نہ لیا۔ یہ مشرف سے ہونیوالی میری آخری ملاقات
تھی۔بعد ازاں میرے اور مشرف کی ملاقات کی راہ میں طارق عزیز اور شوکت عزیز
حائل رہے،اور میں کبھی دوبارہ مشرف سے ملاقات نہ کرسکا۔
پھر
جیسے کہ توقع تھی ،مشرف کا زوال شروع ہو گیا۔ خودپاکستان بھی ایک ناکام
ریاست بننے کی طرف تیزی سے بڑھنے لگا۔ پھر ۷۰۰۲ءکا سال آیا اور یہ بات صاف
نظر آنے لگی کہ مشرف اب چند ماہ کے ہی مہمان ہیں اور اگلی حکومت پیپلز
پارٹی کی ہوگی۔جنرل پاشا آئی ایس آئی کے سربراہ تھے اور
انہیںطاقت کے ایوانوں میں موجودمہا غداروں کے باعث شدید ترین مشکلات کا
سامنا تھا۔ہمیں یہ نظر آرہا تھا کہ آئی ایس آئی کو یہ جنگ جیتنے کیلئے نہ
صرف یہ کہ ہماری راہنمائی کی ضرورت ہے بلکہ معلوماتی اور نفسیاتی جنگ میں
ہمیں بذات خود اتر کر صف اول پر اس کو لڑنا پڑے گا۔ لہذاہم نے تہیہ کیا کہ
ہم اس جنگ میں پوری قوت سے جنرل پاشا اور آئی ایس آئی کا ساتھ دیں گے۔ہماری
اس اذان کی بدولت آئی ایس آئی کو ایک ولولہءتازہ ملا اور انہوں نے ایک نئے
جوش و خر وش سے جوابی کارروائی کا آغاز کیا،جبکہ براس ٹیکس نے معلومات کی
جنگ میں پاکستان کے دفاع کا محاذ سنبھال لیا۔ پاکستان کے محب وطن مجاہدین
کے اس اشتراک کی برکت سے نہ صرف یہ کہ پاکستان کی طرف بڑھنے والی تباہی
کوروکا گیا بلکہ آگے بڑھ کر دشمن پر جوابی کارروائی کا بھی آغاز ہوگیا۔
۷۰۰۲ءمیں
ہم نے خانقاہوں سے نکل رسم شبیری ادا کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ قوم کو
”یوگوسلاویہ ڈاکٹرائن“ کے تحت پاکستان کے حصے بخرے کیے جانے کے ناپاک
منصوبے سے آگاہ کریں۔ ہم نے اس اذان کا آغاز پاکستان ٹیلی ویژن سے کیا اور
بعد ازاں نیوز ون چینل سے اپنا پروگرام ”براس ٹیکس“ کے نام سے شروع کیا۔
ہمارا
پہلا پروگرام دہشت گردی کے خلاف جنگ کی آڑ میں امریکہ کے خفیہ منصوبے اور
خطے میں امریکہ کے چھ بڑے تزویراتی عزائم پر تھا۔ ہم نے ڈنکے کی چوٹ پر
امریکہ کے گھناﺅنے منصوبے افشا کیے۔ یہ عوامی سطح پر سی آئی اے اور را کے
عزائم کو نیست و نابود کرنے کے ہمارے مشن کا پہلا مرحلہ تھا۔ اب آپ کو اس
خطرناک صورتحال کا اندازہ ہورہا ہوگا۔ یہ ایک نہایت ہی کڑا وقت تھا۔ دشمن
اقتدار کے ایوانوں پر قابض ہوچکا تھا۔ فوج، عدلیہ اور میڈیا آستین کے
سانپوں سے بھرے ہوئے تھے۔ تین صوبوں میں خونریز بغاوت برپا تھی۔ پورے ملک
میں خونریز دہشت گردی اور نظریاتی اور فکری انارکی پھیل چکی تھی، مایوسی اس
درجے پر تھی کہ پاکستان زندہ باد کے بجائے ”پاکستان سے زندہ بھاگ“ کے نعرے
عام کیے جارہے تھے۔ پریس کلب میں سرعام پاکستانی پرچم جلایا جارہا تھا،
اور پاک فوج کو ”ناپاک فوج“ کہہ کر رسوا کیا جارہا تھا۔اس تاریکی کے دور
میںہم نے تن تنہا اس مشن کا آغاز کیا اور تمام تر نامساعد حالات کے باوجود
ہم نے یہ تکبیر بلند کی! اس وقت پاکستان حقیقتاً ڈوب رہا تھا۔ دشمن کو یقین
کامل تھا کہ اب پاکستان نہ بچ پائے گا اور چند ہی برس میں دوسرا یوگو
سلاویہ بن جائے گا۔
را اور سی آئی اے کو اپنے
منصوبوں کی کامیابی کا پورا یقین تھا کہ جس کی تکمیل کیلئے انہوں نے مندرجہ
ذیل عناصر کو پاکستان میں کام پر لگا رکھا تھا۔
۱۔ ٹی ٹی پی کے دیوبندی خوارج اور جے یو آئی، سپہ صحابہ پاکستان، لشکر جھنگوی وغیرہ کی طرح کی دیوبندی سیاسی جماعتیںاور فسادی گروہ۲۔ بی ایل اے۳۔ ایم کیو ایم اور الطاف حسین۴۔ جیو اور نشریاتی دہشت گرد۵۔ سیفما اور میڈیا میں موجود غداری۶۔ زرداری بطور صدر۷۔ رحمن ملک بطور وزیر داخلہ۸۔ حسین حقانی بطور پاکستانی سفیر برائے امریکہ۹۔ افتخار چوہدری بطور چیف جسٹس آف پاکستان۰۱۔ جنرل کیانی بطور چیف آف آرمی سٹاف
ان
تمام غدار عناصر سے یہ فقیر، اللہ کے فضل سے، تن تنہا لڑرہا تھا۔اس تاریک
وقت میں کہ جب مایوسی اور افراتفری اپنے عروج پر تھی ،پاکستان ہمارے ہاتھوں
سے نکل رہا تھا اور قوم مایوس ہوچکی تھی! پاک فوج چاروں اطراف سے گھر چکی
تھی اورروزانہ کے حساب سے بھاری نقصان اٹھارہی تھی۔ فوج کی سپاہ کے حوصلے
کیانی جیسے بے شرم اور بزدل جرنیل کی قیادت میں پست پڑ گئے تھے۔ لیفٹیننٹ
جنرل مشتاق بیگ ایک خودکش حملے میں جی ایچ کیو کے دروازے پر شہید کیے گئے۔
ایک دوسرے موقع پر دہشت گرد تقریباً جی ایچ کیو میں داخل ہونے میں ہی
کامیاب ہوگئے۔ سیکورٹی کی صورتحال اس قدر خراب ہوچکی تھی کہ خود فوجی
افسروں کو منع کردیا گیا کہ وہ وردی پہن کر جی ایچ کیو میں داخل نہ ہوں۔جب
ملک کی فوج اپنے ہیڈ کوارٹر میں باوردی داخل نہ ہوسکے تو یہ اس نازک ترین
صورتحال کی نشانی تھا کہ پاکستان کیلئے کھیل اب تقریباً ختم ہونے کے نزدیک
ہے۔
یہ وہ وقت تھا کہ جب ہم نے اپنی اذان بلند کی،اور پاکستان کے تمام دشمنوں کو بیک وقت منہ توڑ جواب دیا۔
۷۰۰۲ءسے
۰۱۰۲ءکے سالوں میں ہم نے چوتھی نسل کی جنگ، بھارت کی سرد آغاز حکمت عملی
،امریکہ کی ایف۔پاک جنگی حکمت عملی، تحریک طالبان افغانستان اور تحریک
طالبان پاکستان میں فرق، ایم کیوایم کے شہری علاقوں میں بطور دہشت گرد
تحریک کردار، بی ایل اے کی حقیقت، ٹی ٹی پی کی بطور خوارج شناخت سے متعلق
پاک فوج اور قوم کو تفصیل سے آگاہ کیا۔ علاوہ ازیں اپنے مشہور سلسلے وار
پروگرام ”معاشی دہشت گردی“ میں شوکت عزیز کے بطور اقتصادی دہشت گرد کردار
کو طشت از بام کیا۔ بابا اقبالؒ کے پیغام کو دوبارہ زندہ کیا، تحریک
پاکستان کے جنون کو اپنے پروگرام ”پاکستان ایک عشق، ایک جنون“ اور ”ویک اپ
پاکستان“ میں تازہ کیا۔ عشق رسولﷺ کی شمع پھر سے روشن کی اور قوم میں پھیلی
مذہبی اور سیاسی فرقہ واریت کی جڑوں پر کاری ضرب لگائی۔
پاک
فوج کی حمایت اور دفاع میں سینکڑوں پروگرام کیے۔ اپنی فوج کوغزوئہ ہند کا
تصور دے کر ان کے پست پڑتے حوصلوں کو پھر سے بلند کیا۔ ہم نے ملک کے طول و
عرض میں دورے کیے کہ جن میں ہم طالبعلوں، رائے ساز شخصیات، کاروباری حضرات
اور افواج کے لوگوں سے ملے، مختلف جامعات میںلیکچر دیئے اور ملک میں جاری
جنگ کی اصل نوعیت سے متعلق انہیں آگاہ کیا، اور ایک پریشان اور مایوس قوم
کو ولولہ تازہ دیا۔ آرمی کے اداروں میں چوتھی نسل کی جنگ اور اس سے متعلق
عسکری حکمت عملی پر لیکچر دیئے، تمام محاذوں پردشمن پر کاری ضرب لگائی،
خواہ میڈیا ہو، خواہ سپریم کورٹ یا پھر مشرکوں اور خوارج کے خلاف لڑائی۔
جیو اور سیفما کے خلاف سپریم کورٹ میں غداری کے مقدمات لے کر گیا جہاں ایک
اور غدارافتخار چوہدری ان کے دفاع کیلئے پہلے سے موجود تھا۔اس کے باوجودہم
نے میڈیا کے ان غداروں کیلئے ایک اچھا خاصا بحران پیدا کردیا۔ہم اکبر بگٹی
کا کیس سپریم کورٹ میں لے کر گئے تاکہ بی ایل اے کے بگٹی کے قتل سے متعلق
جھوٹی کہانی کے خلاف پاک فوج کا دفاع کیا جاسکے، لیکن ایک دفعہ پھر
ہمیںغدار افتخار چوہدری کا سامنا کرنا پڑا کہ جو بی ایل اے کے غداروںکا
حمایتی تھا۔تاہم ہم نے بی ایل اے کی اس جھوٹی کہانی کا پردہ ضرور فاش
کیااور یہ ثابت کیا کہ اکبر بگٹی نے خود کشی کی تھی۔چوتھی اور پانچویں نسل
کی جنگ ، کولڈ سٹارٹ، ایف۔پاک ، نیزمذہبی اور سیکولردہشت گردی پر ہمارے
تحقیقاتی مقالے،کو افواج میں نہایت سنجیدہ پالیسی امور کے طور پر لیا گیا
اور ان کے مد نظرجنگی حکمت عملی بھی ترتیب دی گئی۔
الحمدللہ،
اللہ نے ہماری اذان میں بے پناہ برکت دی اور پہلی بار افواج پاکستان اور
قوم میں موجود محبان وطن نے اپنے آپ کو سنبھال کر اپنی تنظیم نو کی اور پھر
۵۱۰۲ءتک پاکستان کو توڑنے کے منصوبے پر جوابی حملے کاآغاز کیا۔ بلاشبہ اس
وقت ملکی اور بین الاقوامی میڈیا میں اپنے دشمن کومنہ توڑ جواب دینے کیلئے
صرف براس ٹیکس کے پاس ہی پاکستان کی طرف سے ایک جوابی بیانیہ موجود تھا۔ہم
نے دشمن کی طرف سے پھیلائے گئے جھوٹے پراپیگنڈے اور غلط بیانی کے خلاف پاک
فوج ، آئی ایس آئی اور پوری قوم کے دفاع کیلئے ایک سیسہ پلائی دیوار کھڑی
کردی۔اب دشمن پر جوابی حملے کے دور کا آغاز ہوچکا تھا۔
۰۱۰۲ءتک
ہم پاکستان کی یقینی شکست کو روکنے میں کامیاب ہوچکے تھے، الحمد للہ۔ قوم
اور افواج پاکستان کو اب یہ نظر آنے لگا تھا کہ وہ دشمن کو منہ توڑ جواب دے
کر دوبارہ اٹھ سکتے ہیں۔ اب وقت ہمارے ساتھ تھا۔ہماری اس معلوماتی جنگ کے
پس منظر میں آپریشن راہ راست، آپریشن راہ نجات اور عزم نو کی فوجی
مشقیںشروع ہوئیں۔
پاکستان کو اس نازک صورتحال میں
اس خطے میں اتحادیوں کی اشد ضرورت تھی۔ ایک غدار حکومت کی موجودگی میںہمیں
پس منظر میں رہتے ہوئے سفارتی روابط بھی خود ہی بڑھانے پڑے۔ہم نے اس مقصد
کیلئے سعودی عرب، ترکی اور ایران کے دورے کیے اور اس کے علاوہ افغان حکومت
میں موجود پاکستان نواز عناصر سے خفیہ روابط بھی قائم کیے۔ ہم ان ممالک میں
موجود پالیسی سازوں سے ملے، تاکہ ان ممالک اور پاکستان کے مابین دفاعی
تعاون کو مزید بہتر بنایا جاسکے۔ ہماری ان خفیہ سفارتی کوششوں نے اپنا رنگ
دکھایا اورخطے میںپاکستان مسلمان ہمسایہ ممالک کے ساتھ مضبوط دفاعی روابط
قائم کرنے کے قابل ہوا۔
مگر ان سب کے ساتھ ہی
ساتھ ہمارے مشن کو دشمنوں کی طرف سے شدید حملوں کا سامنا بھی درپیش رہا۔
دیوبندی ملاﺅں ، جیو، ایم کیو ایم، زرداری، سیفما…. سب کو سی آئی اے اور
را نے ہمارے مشن کے خاتمے کے کام پر متعین کردیا۔
اس
فقیر کی اذان سے دشمنوں کے بلین ہا ڈالروں کے منصوبے داﺅ پر لگ گئے تھے۔
تکمیل پاکستان کا مشن سی آئی اے اور را کے منصوبوں کی موت تھا اور اس
کوروکنا ان کیلئے ہر قیمت پر لازم تھا۔ افسوس کا مقام ہے کہ انہی دیوبندی
ملاﺅں کو کہ جنہیں قیام پاکستان کے وقت ہندوﺅں نے قائداعظمؒ کے مشن کو
روکنے کی غرض سے کام پر لگایا تھا، کو اب تکمیل پاکستان کے مشن کو روکنے کا
کام سونپ دیا گیا تھا، وہ بھی اس دور میں کہ جوہماری تاریخ کا نازک ترین
دور تھا۔فضل الرحمن اور سمیع الحق جیسے دیوبندی ملاﺅں کی یہ غداری امت کے
خلاف ان کے ناپاک جرائم کی فہرست میں ایک اور اضافہ تھا۔مگر ان دشمنوں کو
شاید یہ معلوم نہیں تھا کہ اس مشن پر اللہ اور سیدی رسول اللہﷺ کا سایہ ہے۔
الحمد للہ، ہم باوجود اپنی جان، مال، خاندان اور عزت و آبرو کو لاحق خطرات
کے، موت کی دھمکیوں، قتل کی جھوٹی ایف آئی آر، اور پاکستان کے ہر شہر میں
ہم پر قائم کیے گئے مقدمات اور قاتلانہ حملوں کے باوجود مسلسل لڑتے رہے۔
مشرک نواز دیوبندی ملاﺅں اور جیو نے ہر قسم کا گھٹیا حربہ ہمارے مشن کو
روکنے کیلئے استعمال کیا، مگر اللہ نے انہیں رسوا کیا۔
ہم
تنہا اس مدینہءثانی کے دفاع کی جنگ میں جنوں کی حکایت لکھتے رہے۔ بالآخر
قوم اور افواج بھی چوتھی اور پانچویں نسل کی جنگ اور اس کی نوعیت کو جان
گئی اور معاشی، سیاسی، مذہبی اورنشریاتی و صحافتی دہشت گردی کے کردار سے
آگاہ ہوئی۔ تمام مسلمانوں نے ٹی ٹی پی کو خوارج قرار دے دیا اور جیو کی
ناپاک اصلیت کا پردہ چاک ہوا۔
بالآخر ۳۱۰۲ءمیں
اللہ نے ہمیں جنرل راحیل اور جنرل رضوان جیسے محب وطن جرنیلوں سے نوازا۔ اب
بازی ہمارے دشمنوں کے خلاف پوری طرح پلٹنے لگی۔ ہماری اذان بالآخر قومی
دفاعی پالیسی بن گئی۔ ٹی ٹی پی کے خلاف بے رحمانہ آپریشن کا آغاز ہوا،دہشت
گردوں کو سزائے موت دی جانے لگی، فوجی عدالتیں قائم ہوئیں، ایم کیو ایم اور
ٹی ٹی پی کی دہشت گردی کے خلاف باقاعدہ اعلان جہاد کیا گیا۔ جیو کو قومی
سلامتی کیلئے خطرہ قرار دے دیا گیا، معاشی دہشت گردوں کی شناخت کرکے انہیں
حراست میں لیا جانے لگا۔ را اور افغان این ڈی ایس کے ملک میں موجود عناصر
کے خلاف کارروائیاں تیز ہوگئیں، اور یوںسی آئی اے ا ور را کے تمام ناپاک
عزائم کو خاک میں ملایا جانے لگا۔
اِس وقت سیاسی
جماعتوں میں ایک افراتفری کا عالم ہے۔ الطاف حسین کو شدید ترین خطرات لاحق
ہیں، زرداری ملک چھوڑ کر بھاگ چکا ہے، نواز شریف کو بھی نیب اور ایف آئی
اے کی روز بروز تنگ ہوتی گرفت کے باعث اپنے گلے میں پھانسی کا پھندا پڑتا
محسوس ہورہا ہے۔ گو کہ اب معاشی دہشت گرد اس وقت گرفت میں ہیں، لیکن ابھی
تک ان کا پوری طرح صفایا نہیں ہوا۔ پاک فوج کو اب بھی پانچویں نسل کی اس
جنگ کو جیتنے کیلئے طویل فاصلہ طے کرنا ہے۔سمت بہرحال متعین ہوچکی ہے، اب
محبان وطن دفاعی پوزیشن سے نکل کر جارحانہ انداز میں دشمن پر حملے کررہے
ہیں۔ ہمارا مشن اسی عشق اور جنون سے جاری ہے۔
اس
جنگ میں کہ جہاں پاک فوج پاکستان کی جغرافیائی سرحدوں کے دفاع میں مصروف
تھی، وہیں براس ٹیکس ملک کی نظریاتی اور معلوماتی جنگ میںخوارج، جیو، سیفما
اور سیاسی دہشت گردوں سے پاک فوج کی پشت محفوظ کررہے تھے۔
جون
۵۱۰۲ءمیں ہمارے بدحواس اور شکست خوردہ دشمن نے براس ٹیکس کو اپنے راستے سے
ہٹانے کی ایک اور کوشش کی۔ مجھے سعودی عرب میں ایک منصوبے کے تحت گرفتار
کروادیا گیا۔ اس پر سی آئی اے سے لیکر را تک،اور خوارج سے لیکر سیفما تک،
میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ بھارت کے دفتر خارجہ نے سعودی عرب سے مجھے ان کے
حوالے کرنے کا مطالبہ کردیا۔ اب وہ پاکستان کے خلاف پانچویں نسل کی جنگ کا
نئے سرے سے آغاز کرسکتے تھے۔ مگر اللہ کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ چار ماہ کے
اندر ہی میں رہا ہوا اور ان بدمعاشوں کے شکار کے کام میں دوبارہ جُت
گیا۔سعودی عرب کی جیل سے میری رہائی پاکستان کے تمام دشمنوں کیلئے نہ صرف
قابل یقین تھی بلکہ دہشت کا باعث بھی۔ دشمن کی اس اذان کو دبانے کی سب سے
بڑی کوشش بھی بری طرح ناکام ہوچکی تھی۔
پاکستان
ابھی بھی شدید خطرات میں گھرا ہوا ہے۔مشرک، خوارج اور سیاسی دہشت گرد مکمل
طور پر تباہ نہیں کیے جاسکے ہیں،اور ان کی جانب سے جوابی حملے اب بھی جاری
ہیں۔براس ٹیکس پاکستان کے دفاع کیلئے لڑی جانیوالی اس جنگ کا خط اول بھی ہے
اور محافظ چھتری بھی۔اسی لیے پاکستان کے تمام دشمن اس بات کو اچھی طرح
جانتے ہیں کہ اب انہیں اگر پاکستان کو نقصان پہنچانا ہے تو اس سے پہلے
پاکستان کے دفاع کی اس چٹان کو اپنے راستے سے ہٹانا ہوگا۔
یہ
داستان اس طرح سے، اس سے قبل، کبھی بھی بیان نہیں کی گئی۔ وہ لوگ کہ جو اس
مشن کا اہم حصہ رہے ہیں، وہ تو آگاہ ہیں، مگر باقی قوم اب سے پہلے یہ سب
نہیں جانتی تھی۔ آج ہم نے تاریخ کے اس حیرت انگیز باب سے پردہ اٹھا دیا ہے۔
موت اور یقینی تباہی پاکستانی قوم کو چھو کر گزر گئی۔ دشمن آج بھی ہمارے
بچ جانے پر ورطہءحیرت میں ہے۔
۰۱۰۲ءمیں ایک
ریٹائرڈ چیف آف جنرل سٹاف نے پنڈی میں ہمارے دفتر میںہم سے ایک ملاقات کے
دوران بتایا کہ انہیں امریکیوں نے ۸۹۹۱ءمیں ہی بتایا دیا تھا کہ” جلد ہی
پاکستان ایک بڑے طوفان کی زد میں ہوگا۔ پاکستانی اس طوفان کو آتے تو دیکھیں
گے، پر اسے روک نہ پائیں گے۔“ پھر ان جرنل صاحب نے مزید کہا کہ ”بلا شبہ
پاکستان کی جانب وہ طوفان تو ضرور آیا، مگر اس مرتبہ وہ امریکی تھے کہ جو
براس ٹیکس کو آتے ہوئے نہ دیکھ پائے۔“ !!!
اللہ اکبر!!
کیا آپ سیدی رسول اللہﷺ کی خدمت میں یہ تحفہ پیش کرسکتے ہیں؟
فداک ابی و امی یا سیدی یا رسول اللہﷺ۔آپ پر میرے ماں ، باپ قربان یا سیدی یا رسول اللہﷺ
فداک مالی و اعمالی و کلُ متاع الحیاتی، یا سیدی یا رسول اللہﷺ
آپ پر میرا مال قربان، میرے نیک اعمال قربان، زندگی کی ساری متاع قربان ، یا سیدی یا رسولﷺ۔